
عالمی برادری کی اس سے زیادہ بے حسی کیا ہوگی کہ گزشتہ کئی دنوںسے اسرائیل اپنے طاقت کے زعم میں نہتے فلسطینیوں پر میزائلوں اور بموں سے حملہ آور ہیں اور سوائے بیانات اور قرار دادوں کے کچھ نہیں ہورہا بلکہ سلامتی کونسل کی قرارداد کو تو اسرئیل نے نہ پہلے کبھی گاس ڈالی ہے اور نہ اس پر کچھ اثر ہورہا ہے ۔کیونکہ سلامتی کونسل امریکہ اور اس کے حواریوں کی باندی بنی ہوئی ہے جو وہ چاہتے ہیں اس پر فورا عمل درآمد ہوجاتا ہے جسے ان کے ابرو کا اشارہ نصیب نہ ہو وہ تڑپ تڑپ کر ایڑیا رگڑ رگڑ کر جان دیتا چلا جائے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔جوں جوں عالمی برادری زبانی کلامی اسرائیل کی بدمعاشی کی مذمت کرتی جاتی ہے اس کی شیخی میں اضافہ ہوتا چلا جارہاہے اور وہ عالمی برادری کے منہ پر طمانچے رسید کرتا ہوا اب فلسیطین پر تین اطراف سے زمینی حملے بھی کررہا ہے ۔اور اب تک سیکنڑں فلسیطینی جاں بحق اور ہزاروں شدید زخمی ہوچکے ہیں جو عالمی ضمیر پر سوایئ بد نما داغ کے کچھ حثیت نہیں رکھتا کیونکہ عالمی سامراجی قوتوں کا سر غنہ امریکہ اس کی پشت پر ہے ۔جو نہ صرف اسے اسلحہ بارود فراہم کر رہا ہے بلکہ بش ملعون کے تازہ بیان کے مطابق اس ساری صورت حال کی ذمہ دار حماس کو ٹھہرایا جارہا ہے ۔عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھی اس صورت حال کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کے ساتھ ساتھ اس کی اس جارحیت کو بند کرائے جو اس نے نہتے فلسیطنیووں پر مسلط کر رکھی ہے ۔اسی طرح امام کعبہ سمیت تمام مسلمان حکمرانوں نے بھی اس جارحیت کی شدید مذمت کی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس مذمت اور زور دار بیانات سے اسرئیل پر کیا اثر پڑا ہے ۔حال ہی میں ممبئی دھماکوں کے بعد سلامتی کونسل نے لشکر طیبہ اور جماعت لدعواہ اور اس کے راہنماؤں پر جس طرح پابندی لگا کر اس پر عمل درآمد کرانے میں سرعت کا مظاہرہ کیا ہے اسی طرح بھارت اور اسرائیل کو بھی پابند کیوں نہیں کیا جاتا کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کریں اور جب وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو جوتے کی نوک پر رکھ کر مذاق اڑاتے ہیں تو پھر ان کے خلاف سلامتی کونسل راس اقدامات کیوں نہیں کرتی اور اگر وہ اس میں بے بس ہے تو اسے ان کیخلاف ایسی قراردادیں پاس کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ا صولی طور پر سلامتی کونسل کو اب چائیے کہ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کونسل کوتوڑنے کا رسمی اعلان کر ہی دے اس سے کم از کم اس کی تو ہیں اور سبکی تو نہ ہوگی ۔اور پھر کمزور اقوام اس کی چھتری کے نیچے ہاتھ بندھے ہوئے مار کھانے سے تو بچ جائیں گے ۔حالانکہ ان کمزور اقوام کو یہ باور ہو چکا ہے کہ ان کی بقا اسی میں ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی حفاظت کے لیئے کوئی اور راستہ تلاش کریں ۔لیکن ان کمزور اقوام خصوصا عرب ممالک اور مسلمان ریاستوں پر مسلط نااہل ،بذدل اور مفاد پرست حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے امریکہ اور اس کے حواریوں کا جادو سر چڑ ھ کر بول رہا ہے ۔حالاںکہ ان طاقتوں کے جنگی جنون نے عالمی سطح پر کساد بازاری کے جس طوفان کو جنم دیا ہے اس کی وجہ سے ان کی حکمرانیوں کے سورج کے غروب ہونے میں دیر ضرور ہوسکتی ہے لیکن اندھیر ہونے کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں ۔راقم متعدد بار ان ہی کالموں میں اس بات کا اظہار کر چکا ہے کہ ان عالمی سامراجیوں کی الٹی گنتی اب شروع ہوچکی ہے ۔جو ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود رکنے کا نام نہیں لے رہی لیکن اب سوال ان کمزور اقوام خصوصا مسلمان ریاستوں کا ہے جو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے ستم بالائے ستم کا نشانہ بنتی چلی آرہی ہیں ۔مسلمان ممالک پر مشتمل او آئی سی کا کردار بھی نہ ہونے کے برابر ہے اگر یہ تنظیم اور اس کے رکن ممالک مشترکہ مفادات کے کم از کم ایجنڈے پر بھی متفق ہوکر امریکہ اور اس کے حواریوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلادیں اور ان سمراجی طاقتوں کے ظلم کا شکار دیگر اقوام کو بھی ساتھ ملا لیں تو یہ سفر آسان ہوسکتا ہے ۔اور دنیا میں میں موجود جنگ و جدل کی اس آندھی کو روکنا ممکن نہ بھی ہو تو اسے کم کیا جاسکتا ہے ۔ورنہ دوسری صورت میںظلم اور بربریت کے خلاف جاری مذاحمتی تحریکوں کو انقلاب کی طرف آنے کے لیئے اکھٹا ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں سکے گی ۔ جنھیں یہ سامراجی طاقتیں دہشت گردی کا نام دے کر اب تک اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیئے استعمال کر رہی ہیں ۔جس میں بھارت اور اسرئیل کرائے کے غنڈوں کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔اسی لیئے تو مظلوم اقوام کے عوام میں یہ سوچ بڑی شدت کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے ۔کہ ایسی اقوام متحدہ سے اب جان چھڑوا ہی لی جائے تو بہ بہتر ہے ۔ جو کمزورںکے لیئے وبال جان اور طاقتوروں کے لیئیے ڈھال کا کام کررہی ہے ۔کیونکہ جس تیسری عالمی جنگ کو روکنے کے لیئے اس کی تشکیل ہوئی تھی اس کی طرف خود اقوام متحدہ دنیا کو لے جانے میںمعاون ثابت ہورہی ہے ۔ اس لیئے غیر جانبدار ممالک کا یہ فرض بنتا ہے اور وقت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ اس صورت حال میں آگے آہیں اور انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیئے اپنا کردار ادا کریں ۔تاکہ دنیا کو کسی بڑے سانحے سے دوچار ہونے سے بچایا جاسکے ۔کیونکہ یہ طے ہے کہ اب کے ہونے والی عالمی جنگ روائتی نہیں ہوگی ۔بلکہ روائتی ہتھیاروں سے مات کھانے والی وہ کمزور ریاستیں جو اعلانیہ یا غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں کبھی بھی بے موت مرنے کا رسک نہیں لیں گی ۔جس کا زیادہ نقصان ان طاقتور ریاستوں کو ہو گا جو طاقت کے نشے میں چور ہو کردنیا میں بند امنی کا سبب بن رہی ہیں ۔
















