Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'Zubair Ahmed Zaheer'

Pages: 1 2 3 4 ... 19

ممکنہ پاک بھارت جنگ: امریکا مشکل میں پھنس گیا ‘‘ کالم ‘‘ زبیر احمد ظہیر

December 27th, 2008 · No Comments

zubair ahmed

کیا پاک بھارت جنگ ہوگی ؟یہ سوال اس وقت جنوبی ایشیا کی خاص طور پر اور پوری دنیا کی عمومی طورپر تشویش کا باعث ہے۔ دنیا دو ریاستوں کی علاقائی جنگ سے کبھی تشویش میں مبتلا نہیں ہوتی۔ دوسو بیالیس ممالک کی اس دنیا کی ہزاروں ریاستوں میں چھوٹی موٹی علاقائی جنگیںاور سرحدی جھڑپیںکسی نہ کسی شکل میں جاری رہتی ہیں ۔پاک بھارت ممکنہ جنگ کے حوالے سے یہ تشویش اس لئے زیادہ ہے کہ یہ دونوں ممالک جنوبی ایشیاء کی دو اہم ایٹمی قوتیں ہیں ۔یہ دو ایٹمی قوتیں روس اور چین جیسی دوبڑی طاقتوں کے درمیان میں واقع ہیں۔ خطے میں دو ایٹمی ممالک کی روایتی جنگ بھی اگر ہو تو اس جنگ کا دھواں اور بارود کی بو، روس اور چین تک جائے گی اور اگر پاک بھارت کی ایٹمی جنگ ہو جاتی ہے تو تابکاری اثرات رہے ایک طرف ۔دنیا ان دو ممالک کی ایٹمی جنگ کے معاشی اثرات سے نکل نہیں سکے گی۔ ان وجوہات کی بنا ء پر دو ٹوک لفظوں میںکہا جاسکتا ہے کہ پاک بھارت ممکنہ جنگ میں پیدا ہونے والی تشویش صرف جنوبی ایشیا ہی کی نہیں پوری دنیا اس تشویش کی لپیٹ میں ہے۔ ساری دنیا بھر کی تشویش سے بڑھ کر دنیا کی واحد سپر طاقت امریکابھی اس کشیدگی سے تشویش میں مبتلا ہے ۔امریکہ کی تشویش پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ممکنہ جنگ کی صورت میں اس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ موقوف ہو کر رہ جائے گی۔ امریکہ اپنی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بڑا محاذ افغانستان اور اس سے متصل سرحد کو قرار دیتا ہے ۔افغانستان سے پاکستان کی متصل سرحد2 ہزار500 کلو میٹر طویل ہے اور یہ پاکستان کی سب سے بڑی سرحد ہے۔ اس وقت پاکستان نے اس سرحد پرایک لاکھ20ہزار فوج تعینات کر رکھی ہے۔ یہ تعداد پاک فوج کی کل5لاکھ فعال فوج کا حصہ ہے ۔ممکنہ جنگ کی صورت میں پاکستان اس فوج کو بھارت سے متصل سرحد پر لگانے پر مجبور ہوگا۔ پاکستان کی کل فعال فوج بھارت کی کل فعال فوج کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ بھارت کی فعال فوج 18لاکھ ہے ۔دونوں ممالک کی فوجوں کی تعد ادمیں اتنا واضح فرق بھی پاکستان کو اپنی فوج انڈیا سے متصل سرحد پر لگانے پر مجبور کرے گا ۔دوسری وجہ پاکستان اور بھارت کے مابین سرحد کا طویل ہونا ہے ۔پاکستان کی انڈیا سے متصل بین الاقوامی سرحد16سو کلو میٹر ہے اور اس کا مقبوضہ کشمیر سے متصل لائن آف کنٹرول کا حصہ7سو 43 کلو میٹر ہے ۔جنگ کی صورت میں پاکستان کی انڈیا سے کل متصل بارڈر 2ہزار 43 کلو میٹر تک طویل ہوجائے گئی ۔ اور اس بارڈر کا طویل ہونا بھی پاکستان کو قبائلی علاقوں سے اپنی فوج بلانے پر مجبور کریگا ۔ان اعداد وشمار کی بنیاد پر جنگ کی صورت میں پاکستانی فوج کے قبائلی علاقوں سے انخلاء کو کسی صورت روکا نہیں جاسکتا ۔امریکا اس معاملے میں لاکھ دباؤ ڈالے ممکنہ جنگ ازخود پاکستان کو فوج بلانے پر مجبور کر دے گی۔ یہ ہی وجہ ہے جوں ہی بھارت نے لائن آف کنٹرول پر نفری میں اضافہ کرنا شروع کیا تو اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں سے بتدریج پاک فوج کا انخلاء شروع ہو گیا ہے ۔ قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی کا دوسرے لفظوں میں مطلب نکلتا ہے کہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متاثر ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا ۔ قبائلی علاقوں سے پاک فوج کے انخلاء سے بھی بھارت کے مفادات کو دھکچہ لگے گا ۔بھارت کی افغانستان میں ساری سرگرمیوں کا مقصد ہی پاک فوج کو طویل افغان سرحد پر مصروف رکھنااور قبائلیوں کے خلاف آپریشن تیز کرنا ہے تاکہ قبائلی کشمیر کا رخ نہ کرلیں۔بھارت اگر جنگ مسلط کریگا تو یہ قبائلی پاکستان کی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے ۔جب سے جنگ کے آثار پیدا ہوئے ہیںتوتب سے قبائلیوں نے پاک فوج کو ایسے تعاون کا یقین بھی دلاناشروع کردیا ہے۔ اگر امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ کو روکنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اورپاک بھارت جنگ کوخطے کی زمینی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے پر تیار ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دہشت گردی سے امریکا کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔اس لئے امریکا اپنی ملکی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہو گیاہے ۔اگر یہ بات سچ ہے تو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سارا پول دنیا کے سامنے کھل جائے گا۔ چونکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اپنے ملک کی سلامتی کو خطرہ میں بھی نہیں ڈال سکتا ۔اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اس جنگ کو رکوانے میں کردار ادا کریگا ۔جیسا کے امریکا سمیت چین سعودی عرب اور ایران نے سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں ۔ممبئی بم دھماکوں سے اب تک امریکہ نے اپنی ساری حمایت بھارت کے پلڑے میں ڈالی۔ جس کا بھارت نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور ثبوت دیئے بغیر الزام تراشی شروع کر دی اور اب بھارت اس کشیدگی کو جنگ کے دہانے تک لے آیا ہے۔امریکا اگر ثالث کا کردار ادا کرتا تو بھارت کو ضرورت سے زیادہ عیاری دکھلانے کی نوبت نہ آتی ۔بھارت نے آو دیکھا نہ تاؤ اور پاکستان پر الزامات کی بارش شروع کر دی۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ 26نومبرسے26 دسمبر تک بھارت دنیا کو ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہا ۔ اب اگر جنگ ہوگی تو اس کی ساری ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔ جنگی تیاریوں اور دھمکیوں کو دباؤ کے لئے استعمال کر نایہ کسی ذمہ دار ایٹمی ملک کی علامت نہیں ۔بھارت کے اس طرز عمل سے یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ دو ایٹمی ملکوں کی جنگ نہ ہوئی گلی محلے میں بچوں کا جھگڑا ہو گیا۔ جو منہ میں آیا بچوں نے کہہ دیا ۔اورجو ہاتھ لگا دے مارا۔ بھارت کے حکمران الیکشن کی تیاری ضرور کریں۔ اس کے لئے انہیں لاکھوں ایشو مل سکتے ہیں ۔سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی کو وزیراعظم بنانا ہو یا بی جے پی آئندہ اقتدار میں آنا چاہتی ہو یہ سارے شوق بے شک پور ے کیے جائیں مگر جنگ کے حالات کے پیدا کیے بغیر بھی ان مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ راہول گاندھی جنگ کے بعد وزیراعظم نہیں بن سکتے اور جنگ کی صورت میں بی جے پی کو کبھی اقتدار نہیں ملے گا ۔رہ گئی بات امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی یہ بھی امتحان میں مبتلاء ہو گئی ہے۔ اب گیند لڑکھک کرامریکہ کی عدالت میں آگئی ہے۔ دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ امریکاکی دہشت گردی کے خلاف جنگ حقیقت تھی یا ڈرامہ؟ ممکنہ پاک بھارت جنگ یہ فیصلہ کرے گی کہ امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کتنی سنجیدہ ہے ۔امریکہ اپنی لاکھ حمایت بھارت کے پلڑے میں ڈال دے۔اگر اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنی ہے تو اسے لوٹ کر پاکستان کی جانب ہی آنا ہوگا اور بھارت کو پاکستان پر جنگ مسلط کرنے سے روکنا ہوگا۔

Tags: Columns , Zubair Ahmed Zaheer