
کیا اوباما بش ثابت ہونگے؟ اوباما کے انتخاب کے بعدجس طرح پے درپے میزائل حملے ہوئے اس سے سرحدی خلاف ورزی میں کمی کی امیدایک بار پھر دم توڑ گئی ہے۔اس امریکی جنگ نے ہمارے سارے عوامی مسائل کو دبا کر رکھ دیا ہے ۔اس جنگ نے ہمیں خود کش اورمیزائل حملوں میں مقابلے کا تحفہ دیا۔امریکہ نے 2001ء میں افغانستان پر قبضہ کیا اور نیٹو افواج نے افغانستان پر ہلا بول دیا ۔ پاکستان نے راہداری دی۔ فرانس اتحادی تھا۔ پاکستان میں پہلا خود کش حملہ فرانسیسی انجینئروں پر 2002میں ہوا ۔اس سے قبل کسی پاکستانی نے خودکش حملہ نہیں کیا تھا۔اس کے بعد نیٹو نے دوستانہ فائر کا سلسلہ شروع کردیا ۔یہ سرحدی مداخلت جنگجوؤں کے تعاقب سے شروع ہوئی اور ہمارے سپاہیوں کی اموات تک پہنچ گئی۔جون 2004 سے امریکا نے میزائل حملو ں کا آغاز کیا۔تب سے اب تک خود کش اور امریکی میزائل حملے ایک ددسرے پربازی لے جانے کو ہیں ۔خود کش حملوں کی تعداد سو سے تجاوز کرگئی ہے اور سرحدی خلاف ورزی کے واقعات میں بھی خطرناک اضافہ ہوگیاہے ۔ امریکی بمباری اورخود کش حملے یہ دو ایسے ایشو ہیں جن کی وجہ سے پانچ چھ سال سے ہر اہم قومی مسئلہ دب جاتا ہے جس طرح برگد کا درخت اپنی گھنی چھاوں میں کسی پودے ،پیڑ کو اگنے نہیں دیتا ۔اس ہی طر ح خود کش اور امریکی میزائل حملے ہمارے ملک کا وہ گھنا سایہ دار برگد بن چکے ہیں جن تلے ہمارے سارے مسائل دبتے چلے آرہے ہیں۔ایک دن امریکی میزائل حملہ ہوا۔ یہ خبرتمام اہم خبروں پر بھاری ہو جاتی ہے۔ اگلے دن حملے میں مارے جانے والوں کی تعداد میںاضافہ ہوتا ہے اور زخمیوں کی تفصیلات سمیت سیاسی ردعمل شروع ہوجاتا ہے ۔یوں پورا ہفتہ میڈیا اس صدمے سے باہر نہیں نکل پاتا ۔میڈیا میںجاری احتجاج کی بازگشت ابھی دھیمی نہیں ہوتی کہ ایک اور خود کش حملہ ہوجاتا ہے یہ خبر پھر نمایاں ہوتی ہے ۔ اس کی بدبو ابھی فضا میں ہوتی ہے نیا میزائل داغ دیاجاتاہے اورعوامی مسائل کی تمام اہم خبریں ان دھماکوں کے ملبے تلے دب جاتی ہیں ۔جون2004ء میں کمانڈر نیک محمد کی موت کا سبب بننے والے امریکی میزائل حملے سے لے کراب تک جاسوس طیارے ڈارون کی سرحدی خلاف ورزی تک ۔ اور 2002 ء میں کراچی شیرٹن کے پہلے خود کش حملے سے لے کر اب تک کوئی دن میزائل اور خود کش حملوں کی خبروں اورتبصروںسے خالی نہیں ۔خودکش اور امریکی میزائل حملوں کے مقابلے کا نتیجہ یہ ہے کہ اشیاء خوردو نوش سے لیکر ادویات تک مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے یہ اوراس جیسے دیگر عوامی ایشو زان حملوں،دھماکوں کی تہہ میں دبتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ مہنگائی جیسا قومی مسئلہ بھی ان دھماکوں کے ملبے تلے دفن ہوگیا۔
اگرخودکش اور میزائل حملے نہ ہوتے ۔حکومت پر مہنگائی کم کرنے کا دباو سب سے زیادہ ہوتا ۔ سارا ملک احتجاج کرتا ۔ کم ازکم مزدور اور ملازم پیشہ احتجاج کرتے یہ لوگ آبادی کی اکثریت ہیں جن کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا مگر مہنگائی انکے بجٹ سے باہر ہوگئی ہے۔ سارے مزدور سڑکوں پر نکلتے ۔ حکومت مجبور ہوجاتی ۔عذائی قلت کا مصنوعی بحران ختم ہوتا ۔ مہنگائی ختم ہوتی اور اشیاء خوردو نوش معمول پر آجاتیں ۔مشرف حکومت سے لیکر اب تک حکومتی بے حسی کو ہر بار خود کش حملوں اور امریکی بمباری نے سہارادیا۔اوریوں عوامی حکومت بھی عوامی مسائل سے لاتعلق سی ہوکررہ گئی۔
سرمایہ باہر منتقل ہو ا۔روپے کی قدر میں کمی آئی ۔قرضوں میں بے تحاشا اضافے سے ملکی معیشت حالت نزع میںچلی گی ۔مشرف کو حالات کی مجبوری لائی تھی ۔مکافات عمل انہیں واپس لے گیا۔ ان کا سیاست میں ماضی تھا نہ مستقبل ۔خالی ہاتھ آنے کے باوجود وہ بہت کچھ لے کر چل دیے مگر پی پی کا ماضی بھی ہے اور اس کا مستقبل بھی۔ یہ قوم سے بھاگ نہیں سکتی ۔ مشرف کے انداز حکومت کی نقالی پی پی کوکبھی راس نہیں آئے گی ۔حکومت نے ارب پتی اورلکھ پتی قسم کے انتہائی غریب ارکان پارلیمنٹ کو کابینہ میں شامل کیا۔ اس سے ملک کے 80لاکھ بے روزگاروں میں 40کی کمی ہوئی ہے ۔ حکومت مزید ایسے ہی پانچ دس غریب مالداروںکو کابینہ کاروزگار دے گی ۔اب سولہ کروڑ عوام ایک طرف ہوگی ۔ وزیروںمشیروںکی موجودہ اورآنے والی یہ70 رکنی حکومت ایک طرف ہوگئی۔ عوام کے مہنگائی کے پروپیگنڈے میں حکومت نہیں آئی گی ۔سولہ کروڑ عوام کو صرف 70وزیرمشیر جھوٹا ثابت کردیں گے ۔یہ کہیں گے کوئی مہنگائی نہیں ،کوئی مسئلہ نہیں ۔یہ انوکھاطرزحکمرانی مشرف متعارف کرواگئے ۔ پوری قوم ایک طرف رہی۔ انکی کابینہ ایک طرف رہی ۔آٹھ سال تک ان کاجھوٹ سچ بنا رہا اور سولہ کروڑ عوام کا سچ جھوٹ بنا رہا ۔جس معیشت کووہ بلندیوں تک پہنچا گئے تھے ۔وہ آٹھ ماہ میں دھڑام سے گر پڑی۔ وہ بھی آخر تک امریکی مدد کے منتظررہے ۔جن ارکان نے عوام کے لیے بولنا تھا اب ان کے اپنے منہ سل گئے ہیں ۔جس طرح مشرف حکومت کی ’’اصل کارکردگی۔۔‘‘ ا ب سامنے آنے لگی ہے۔ اسی طرح موجودہ حکومت کی’’ عوام دوست کارکردگی‘‘ ن لیگ کی اگلی مخلوط حکومت میںسامنے آئے گی۔ یہ ایک تسلسل ہے ۔ہم نے کبھی مستقبل کا سوچا نہیں ۔اس کی ہمیں سپر طاقتوں کے بھروسے میں ضرورت نہیں رہی ۔جب سے ہمارے حکمران وائٹ ہاوس کے سنگ مرمر پرچلنے کے قابل ہوئے ہیں۔ وہ اپنے ملک کے سنگ ریزوںپر چلنا بھول گے ہیں ۔ہم نے ہمیشہ سپر طاقتوں جیسی عالمی سیاست کی ۔پاکستان بنا ۔سپر طاقت برطانیہ کا زوال ہوا ۔ ہمار ے جد امجد قائد اعظم محمد علی جناح سپر طاقت برطانیہ کے سامنے ڈٹے رہے اورپاکستان بنوا کرادم لیا۔بھارت کو برطانیہ کی طاقت وراثت میں ملی ۔یہ طاقت اسے خطے میںبالادستی کے خبط میں مبتلاء کرگئی۔ ہم نے برطانیہ کی جانشین اورخطے کی ابھرتی قوت بھارت سے تین جنگیں لڑکر اسے خطے کا بدمعاش بننے سے روکے رکھا ۔ہم نے سپر طاقت روس کو ناکوں چنے چبوائے اور اسے ہیرو سے زیرو بنا دیا ۔اس معرکہ آرائی سے دنیا کی واحد سپر طاقت امریکانے جنم لیا ۔روس کے ٹوٹنے سے دوعالمی طاقتوںکا توازن بھی ٹوٹ گیا اور امریکا کو کھل کراپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا ۔امریکا نے 2001ء سے اس کھیل کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کانام دیا۔ تب بھی ہم نے سپر طاقت کی ضرورت بن کر دکھلایا ۔کل کی سپر طاقت چین ہے اورہمیں فخرہے کہ چین ہمار ا گہرادوست ہے ۔ کل دنیابھر کے جھگڑے پاکستان میںبیٹھ کر حل ہوںگے ۔چین سے بہترتعلقات کے لیے دنیا کے 2 سو 43ممالک کے سر براہ پاکستان میں ڈیرے ڈالے ہونگے ۔پاکستان کو چین سے سفارشیں کرانے میں فرصت نہ ملے گئی ۔چین کا بدترین دشمن مصالحت کے لیے پاکستان کو ثالث بنانے پر مجبور ہوگا ۔یہ سب کچھ ممکن ہے ۔ہم اپنی جغرافیائی اہمیت پر جتنا فخر کر لیں کم ہے ۔مگر ان وقتی سہاروں سے ہمیں کیا ملے گا ، اس سوال کا جواب آج سے دس بیس سال بعد بھی نفی میں ہوگا ۔ پاکستان کی 61 سالہ تاریخ میں برطانیہ سے روس ،امریکا تک ۔دنیا کی کوئی سپر طاقت ایسی نہیں گزری ،پاکستان جس کا دشمن یا ضرورت نہ رہا ہو۔ اس سے کم پر پاکستان کے سپر طاقتوں سے کبھی تعلقات نہیں رہے ۔روس کو ہم نے توڑا اور امریکا کے لیے ہم نے راہ ہموار کی ۔عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں ہم نے پاکستان کوہمیشہ ماضی میں دھکیل دیا۔ پاکستان کی سیاست کو چھوڑ کر جب سے ہم نے سپر طاقتوںکی سیاست کی۔ کندھا ہمارا رہااور بندوق سپر طاقت کی رہی ۔گولی سپر طاقت پر چلتی رہی ۔چھلنی ہمارا بدن ہوتا رہا ۔عجیب بات ہے روس جیسی سپر طاقت کو ہم نے مات دی ۔یہ کھلی دشمنی تھی مگر مجال ہے کہ روس نے ہماری سرحدی خلاف ورزی کی جرات کی ہو ۔کے جی بی اورخاد جیسی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں خودکش حملوں جیسی تخریب کاری کی جرات نہ کرسکیں۔ آج ہم امریکاکو توڑنے نہیں بلکہ جوڑنے کے لیے جنگ لڑرہے ہیں۔ہم پر خودکش حملوں کا اضافہ ہوتا گیا اور میزائل حملوں میںبھی شدت آتی گئی ۔جب یونین کونسل اور گلی محلے کی سیاست کو نظر انداز کرکے قومی اسمبلی کی سیاست میں حصہ لیاجائے تو انجام میںضمانت ضبط ہو جاتی ہے ۔جب سے ہم نے اپنی یونین کونسل کی سیاست کو خیر باد کہا اور عالمی سیاست کی بھول بھلیوں میںبھٹکے ۔تب سے ہماری ضمانت عالمی سطح سے ضبط ہوتے ہوتے یونین کونسل کی سطح تک گرتی آرہی ہے ۔برگد کا درخت اپنے سائے تلے کسی پیڑ کو بڑا ہونے نہیں دیتا ۔سپر طاقتوں کی مثال برگد جیسی ہوتی ہے ان تلے کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔جب تک ہمارے حکمران پاکستان کو سپر طاقتوں کے دوست کی نظر سے دیکھیں گے اور اس بناوٹی برابری کے لیے قومی خزانے کا منہ شاہ خرچیوں کے لیے کھلا رکھیں گے۔ ہم غربت ختم کرسکتے ہیں نہ قرضے اتارسکتے ہیں اورنہ کبھی ترقی نہیں کرسکتے ہیں ۔ایک ترقی پزیر ملک کا اپنے آپ کو سپر طاقت کا دوست سمجھنا دنیا کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے ۔امریکا نے اپنے فرنٹ لائن اتحادی کو اپنے دنیا بھر کے دشمنوں کے سامنے لا کھڑا کردیا ہے ۔ اس کے سارے دشمن پاکستان دشمن بن گئے ہیں۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ میزائل حملوںکی بارش نے پوری کردی ہے۔لہذاجب تک خودکش حملوں اور میزائل حملوں میںمقابلہ جاری رہیگا۔ مہنگائی سمیت ہمارا ہرقومی ایشو دبا رہے گا ۔ جب عالمی طاقتوں کا توازن ٹوٹ جاتا ہے اورسپر طاقت کے مقابل کوئی دوسری طاقت نہیں رہتی ۔تب اوباما کوبھی بش بننے میںدیر نہیں لگتی۔
















