
تبدیلی چاہتی عوام کے لئے نئی حکومت بننے سے پہلے ہی زبر دست قسم کی تبدیلی مہنگائی کے طوفان کی صورت میں آگئی ہے جس کے بارے میں وہ سوچ رہے ہیں کہ ہم نے تو کچھ اور ہی خواب آنکھوں میں سجائے تھے مگر وہ ۔۔۔ خواب کیا ہوئے؟۔اورنئی منتخب ہونے والی حکومت کو بھی ورثے میں بے پناہ مسائل ملے ہیں جن کے حل کی تلاش اور امید میں عوام الناس نے اپنے ووٹ کا آزادانہ استعمال بے خوف وخطر کیا تھا، حالانکہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے خوف کی ایک ایسی فضا قائم تھی کہ لوگ ڈرے اور سہمے تھے کہ کہیں کچھ ہو نہ جائے مگر اس کے باوجود عوام کی اکثریت تبدیلی چاہ رہی تھی، ایسی تبدیلی جس سے ملک کی معیشت ترقی کرے اور لوگوں کے مسائل جن میں مہنگائی، بیروزگاری، بیماریاں، سرفہرست ہیں کا علاج ہو سکے۔
لوگوں نے چہرے بدلنے کو تبدیلی نہیں مانا اور اسی لئے ماضی کے مشہور ومعروف چہروں کو مسترد کر دیا۔ پہلی بار لوگوں نے برادری ازم، لسانیت اور دیگر وابستگیوں کو پس پشت ڈال کر ووٹ کاسٹ کیا لیکن ابھی تک سیاسی صورتحال جو سامنے آرہی ہے ۔ لگتا ہے عوام کی زندگیوں اور ان کے مسائل میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئے گی اور ان کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جائیں گے، اس کا ایک بڑا اشارہ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے دے دیا گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے گزشتہ حکومت بار بار یہ باور کراتی رہی کہ ہم عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے اسی لئے حکومت پٹرولیم مصنوعات پربھاری سب سڈی دے رہی ہے تاکہ عوام کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو، لیکن ساتھ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں بھی اس کی قیمت بڑھائی جا سکتی ہے جس کا اطلاق گزشتہ روز قیمتوں میں اضافے کے ذریعے کر دیا گیا ہے، اخباری اطلاعات کے مطابق پٹرول پر 5 روپے فی لٹر، ڈیزل پر 3.50 روپے لٹر اور بجلی 70 پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے۔ اس اضافے سے دیگر اشیاء ضرورت اور روزمرہ کے معمولات میں کتنا اضافہ ہو گا یہ سوچ کر ہی عوام کے رونگٹے کھڑے ہونے شروع ہو گئے ہیں کیونکہ جو چیزیں ہم کھاتے اور استعما ل کرتے ہیں ان سب کا تعلق بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے کسی نہ کسی طریقے سے جڑا ہوا ہے، آئندہ دنوں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو گا، اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بڑھیں گی غرض کہ ہر چیز پر اس کا اثر پڑے گا، جس سے خودکشیوں کی تعداد میں مزید اضافہ اور کرائم بڑھے گا۔ اس کے ساتھ ہی لوگوں کے معمولات زندگی بھی بری طرح متاثر ہونگے۔
جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ آئندہ نئی بننے والی حکومت کو جو ورثے میں مسائل ملے ہیں ان میں اضافہ پٹرولیم اور بجلی کی مصنوعات کی قیمتوں کے بڑھنے سے مزید ہو گا۔ وہ خدشات حقیقت کا روپ دھار کر سامنے آ چکے ہیں ،نئی حکومت ان مسائل سے کس طرح نبردآزما ہو گی ابھی غالباً اسے خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ اگر نئی حکومت نے ان مسائل پر فوری قابو نہ پایا جن سے عوام کی زندگیاں جڑی ہوئی ہیں تو اس کے لئے آسانی سے حکومت کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔
نئی حکومت پر یہ مثال بھی صادق آتی ہے کہ سرمنڈواتے ہی اولے پڑ گئے یعنی ابھی حکومت سازی کا عمل جوڑ توڑ سے آگے نہیں بڑھا اور اس کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا، پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ایک رائے یہ بھی سامنے آئی ہے کہ موجودہ حکومت نے ایک ایسے وقت میں ان کی قیمتوں میں اضافہ صرف اس لئے کیا ہے کہ نئی حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو اور جو اتحاد بن رہے ہیں وہ بن نہ پائیں کیونکہ کوئی بھی جماعت اپنے کاندھوں پر عوام کے مسائل کا بوجھ لئے آگے نہیں چلنا چاہے گی اس لئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب حکومت سازی کے عمل میں شاید بعض سیاسی جماعتیں اس لئے شامل نہ ہوں کہ وہ یہ گناہ اپنے سر لینا نہیں چاہیں گی کہ ان کے دور حکومت میں عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ نئی حکومت عوام کے مسائل کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے گی جس کا ظاہری نتیجہ یہ نکلے گا کہ نئی حکومت چند ہفتوں یا مہینوں میں غیر مقبول ہو کر عوام میں اپنا وقار کھو بیٹھے گی اور اپوزیشن کی جماعتیں اس ’’سنہری‘‘ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گرتی ہوئی دیوار کو زور سے دھکادینے کی بہتر پوزیشن میں آ جائیں گی۔ اس ساری صورتحال سے نئی حکومت کیسے بچ سکتی ہے اس کیلئے اسے ابھی سے پیش بندی کرنا ہو گی کیونکہ مہنگائی ایک ایسا ایشو بن چکا ہے جب تک اس کا حل تلاش نہیں کیا جاتا کسی کیلئے بھی حکومت کرنا آسان کام نہیں ہو گا۔
نئی حکومت کیلئے نہ صرف یہ ایک چیلنج ہے بلکہ اس کے وعدوں کا امتحان بھی جو اس نے عوام سے کر رکھے ہیں، ماہرین معاشیات قیمتوں میں اضافے کے اسباب بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے غیر ضروری ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اس کے ساتھ حکومتی اہلکاروں، وزیروں، مشیروں، ایوان صدر، ایوان وزیراعظم اور وزراء اعلیٰ ہاؤسوں اور گورنر ہاؤسوں کے بے پناہ اخراجات بھی مہنگائی کا ایک بڑا سبب ہیں۔ اگر نئی حکومت ان اخراجات اور غیر ضروری ٹیکسوں میں کمی لانے میں کامیاب ہو گئی تو وہ ایک کامیاب ترین اور دیرپا حکومت ہو سکتی ہے اور اگر اس نے بھی حسب سابق جیسے ہے اسے ویسے ہی رہنے دیا تو پھر اس کی ناکامی بہت دور کی بات نہیں، حکومت اپنے شہریوں کیلئے ماں باپ کا درجہ رکھتی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو کیسے نبھاتی ہے اور مہنگائی کے اس نئے طوفان سے عوام کو کیسے نجات دلاتی ہے کیوں کہ عوام کے خواب ٹوٹے تو بہت کچھ ٹوٹ جائے گا۔
















