
کہا یہ جا رہا ہے کہ دنیا پر جو بش کی نحوست کے سائے ہیں ان کے چھٹنے کا وقت آگیا ہے اور دنیا تبدیلیوں کی زد میں آنے والی ہے ،بارک حسین اوباماکو تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے اور کہنے والے تو یہاںتک کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک سیاہ فام کو منصب صدرات نصیب ہوا ہے جو واضع تبدیلی کی علامت ہے ،چلیں اس اچھی علامت کو ہم بھی تھوڑی دیر کے لئے قبول کر لیتے ہیں کہ یار لوگوں کی دل آزاری نہ ہو مگر اس حقیقت سے کیسے منہ پھیرا اور آنکھیں چرائی جاسکتی ہیں کہ امریکہ میں ہی حقیقی تبدیلی لانے والوں کا قتل تک کر دیا جاتا ہے اور ابراہم لنکن جیسے صلح جو اور انسانی حقوق کے ترجمان اوران کی حفاظت کرنے والے شخص کو قتل کرنے والے قاتل نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ “جنوب نے اپنا انتقام لے لیا ہے” یہ امریکن تعصب کی ایک ایسی بد ترین مثال ہے جس سے امریکہ آج تک پیچھا نہیں چھڑا سکا، کیا امریکن معاشرہ ایسے شخص کو قبول کر لے گا جو سیاہ فام ہونے کے ساتھ کسی نہ کسی حوالے سے وہاں کے کلچر اور مذہب سے بھی میل نہ کھاتا ہو ؟ہمارے خیال میں بارک حسین اباما امریکہ کا ایک نہایت کمزور صدر ثابت ہو گا اور اس جیسا صدر امریکہ کی تاریخ میں کوئی اور نہ ہو گا جس پر ہر وقت تعصب کی تلوار لٹکتی رہے گی جس سے وہ جان چھڑانا بھی چاہے گا تو نہیں چھڑا پائے گا ۔امریکہ کے اندر اور باہر بارک اباما کے ذریعے جس تبدیلی کی جانب اشارہ کیا جا رہا ہے دراصل یہ تبدیلی امریکن اشرافیہ کی ضرورت ہے اور اپنی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے امریکن اشرافیہ نے یہ “کڑوا گھونٹ” اس لئے پیا ہے کہ امریکہ اپنی پالیسیوں خصوصاً جنگوں کے جنوں کے حوالے سے اقوام عالم میں بہت زیادہ بدنام ہو چکا ہے جس کی وجہ سے امریکن عوام بھی سفر کر رہی تھی جس کا حل وہاں کی اشرافیہ نے یہ نکالا کہ کوئی اس طرح کی تبدیلی لائے جائے جس سے دنیا کی نظروں میں امریکہ کا گرتا ہو ا امیج بحال ہو سکے جس کے لئے بارک حسین اباما کی بلی چڑھائی گئی اور اسے کامیاب کرانے کے لئے خزانوں کے منہ کھول دئے گئے،امریکہ کی تاریخ میں اتنا مہنگا الیکشن اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ، اس حقیقت کو اب دنیا کو مان لینا چاہیے کہ جس تبدیلی کی وہ خواہش رکھتی ہے اس کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے کیونکہ دنیا ابھی انسان دوست اور انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے انسانوں کے وجود سے خالی ہے اور جب تک ایسے افراد نہیں آتے دنیا میں کوئی حقیقی تبدیلی بھی نہیں آئے گی ،چہروں کے بدلنے سے تبدیلیاں نہیں آیا کرتیں بلکہ سوچ اور فکر کے بدلنے سے تبدیلی منصہ شہود ہوتی ہے اور ایسی سوچ جو انسانیت کے حقیقی دکھ اور درد کو محسوس کر سکے ہمیں نظر نہیں آرہی اس لئے فلحال اس وقتی تبدیلی کو ہی غنیمت جانتے ہوئے یہ خواہش ضرور کرنی چاہیے کہ شائد اس کی کوکھ سے ہی کوئی حقیقی تبدیلی جنم لے لے ۔ ورنہ وائٹ ہاوس کو تو نظر بد سے بچا ہی لیا گیا ہے
کل رات امریکہ میں ایک تاریخ ساز رات تھی جب امریکہ کے تاریخ ساز صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوگئے ۔ نصف شب کے قریب جب یہ واضح ہو گیا کہ امریکہ میں نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے باراک اوباما نے شکاگو میں ایک بہت بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’طویل عرصے بعد ہی سہی لیکن آج امریکہ میں تبدیلی آ گئی ہے۔‘ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے باراک اوباما کو ٹیلی فون پر مبارک باد دی اور انہیں ہر طرح کی حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے اپنے ووٹروں سے بھی کہا کہ وہ اختلافات بھلا دیں اور نئے صدر کی حمایت کریں۔ زیادہ تر ریاستوں میں ابھی ووٹوں کی گنتتی جاری ہے لیکن رجحانات کی بنیاد پر اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ جان مکین پر وہائٹ ہاؤس کے راستے بند ہوگئے ہیں۔ اوباما کی کامیابی کو امریکہ میں سیاہ اور سفید فاموں کے درمیان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جارہا ہے۔جان مکین کے لیے ضروری تھا کہ اپنے امکانات زندہ رکھنے کے لیے وہ پینسلوینیا اور اوہایو میں کامیابی حاصل کریں لیکن دونوں ریاستوں نے اپنا فیصلہ اوباما کے حق میں سنایا۔ ان خبروں کے بعد کہ اوباما فلوریڈا، ورجنیا اور کولوراڈومیں بھی جیت گئے ہیں، ڈیموکریٹ کیمپ میں زبردست ہلچل مچ گئی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ تینوں ریاستیں دو ہزار چار کے انتخاب میں صدر بش نے جیتی تھیں۔ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بجے تک باراک اوباما نے 51 فیصد سے زیادہ جبکہ ان کے حریف جان مکین نے 47 فیصد پاپولر ووٹ حاصل کیے تھے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ووٹروں کے لیے بہت بڑا مسئلہ معیشت تھا۔ کئی ریاستوں میں ٹرن آؤٹ بہت زیادہ رہا۔مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں ’بریڈلی افیکٹ‘ کا کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔ یعنی یہ خطرہ بے بنیاد ثابت ہوا کہ کچھ سفید فام ووٹر جو انتخابی جائزوں میں اوباما کی حمایت کی بات کر رہے تھے، وہ بالآخر سفیدفام امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ ایوانِ نمائندگان میں 435 نشستوں اور سینٹ کی سو میں سے 35 نشستوں پر انتخاب ہوا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کو امید ہے کہ وہ سینٹ میں اپنی اکثریت کو 60 ووٹوں تک بڑھا لے گی۔
بتایا جا رہا ہے کہ باراک اوباما کو سبقت ضرور حاصل تھی لیکن ان کی کامیابی کا دارومدار کافی حد تک اس بات پر تھا کہ سفید فام ووٹروں نے اپنا فیصلہ کرتے وقت کس حد تک ان کی جلد کے رنگ کو نظر انداز کیا۔ امریکی تاریخ کی اس طویل ترین اور سب سے مہنگی انتخابی مہم نے ووٹروں میں زبردست جوش و خروش پیدا کیا ہے اور ماہرین کے مطابق ساٹھ کی دہائی میں جان ایف کینیڈی کے انتخاب کے بعد سے ایسا انتخابی ماحول پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد باراک اوباما نے کہا کہ’ انتخابی سفر تو اب ختم ہو جائیگا، لیکن اپنی بیٹیوں کے ساتھ ووٹ ڈالنا، یہ میرے لیے ایک اہم بات تھی۔‘ امریکن سیاست کی یہ ایک بات اچھی ہے کہ ہارنے والے امیدوار اپنی ہار کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے جیتنے والے کو مبارک باد کے ساتھ اپنے تعاون کا بھی یقین دلاتے ہیں ۔اور یہی جمہوریت کی خوبصورت ہے ۔
















