Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'Rizwan Ahmad Sagar'

Pages: 1 2 3 4 5 ... 61

اتنی بھی جلدی کیا تھی؟ کالم’’سنسر‘‘۔ رضوان احمد ساگر

May 16th, 2008 · No Comments

rizwan ahmed sagar

خالد مقبول کو جانا ہی تھا مگر ایک ایسے متنازع شخصیت کو اپنی جگہ سونپ کر جانا شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔مسلم لیگ ن کی جانب سے سلمان تاثیر کی نامزدگی پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔ ن لیگ یہ سمجھتی ہے کہ سلمان تاثیر کو گورنر پنجاب نامزد کر کے ایوان صدر اور حکمران اتحاد کی سب سے بڑی جماعت اپنی اتحادی مسلم لیگ (ن) کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ ان کی نظر میں موجودہ ملکی، سیاسی، داخلی صورتحال میں سلمان تاثیر کسی بھی صورت اس اہل نہ تھے کہ انہیں گورنر پنجاب تعینات کیا جاتا۔ سلمان تاثیر کی شخصیت ایک متنازعہ حیثیت رکھتی ہے جو کہ مسلم لیگ (ن) کیلئے ناقابل قبول اور لمحہ فکریہ ہے۔ ایک طرف ان کی اتحادی جماعت ان کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کی بات کر رہی ہے لیکن دوسری طرف جس کمٹمنٹ کا اظہار کیا جانا چاہئے تھا وہ نہ کیا جا رہا ہے جس پر انکی جماعت کے تحفظات ہیں ۔مسلم لیگ (ن) نہ تو کمزور جماعت ہے اور نہ ہی وہ کسی کمزوری کا مظاہرہ کرے گی اگر مسلم لیگ (ن) آٹھ سال تک آمرانہ طرز عمل رکھنے والی حکومت کے خلاف مسلسل جدوجہد جاری رکھ سکتی ہے تو سلمان تاثیر اس کے سامنے کوئی حیثیت نہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ چھ ہفتوں سے مسلسل نو منتخب حکومت کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں اور حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ نئے گورنر پنجاب کی تقرری بھی انہی سازشوں کا تسلسل ہے۔ لیگی رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات ممکن نہ ہے کہ آصف علی زرداری یا وفاقی حکومت کو سلمان تاثیر کی بطور گورنر پنجاب تقرری کا علم نہ ہو۔ ملک کو ایک بار پھر گھمبیر معاملات میں الجھایا جا رہا ہے تاکہ ایک بار پھر آمریت کا راستہ ہموار ہو سکے۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں موجود بعض عناصر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔

اطلاعات و نشریات کی وفاقی وزیر شری رحمان کا بدستو یہی دعوی ہے کہ پنجاب کے نئے گورنر سلمان تاثیرکی تعیناتی پر مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اﷲ بابربھی مصر ہیں کہ سلمان تاثیر کو مسلم لیگ(ن)کے ساتھ مشاورت کے بعد پنجاب کا گورنر مقرر کر دیا گیا ہے اور وہ اس عہدے کیلئے مجوزہ تمام ناموں میں سے زیادہ موزوں شخصیت تھے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سلمان تاثیر کو گورنر پنجاب مقرر کرنے سے قبل مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ سے مشاورت کی تھی۔

بہر حال اگر یہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں ججوں کی بحالی پر اختلاف کے بعد پنجاب میں سلمان تاثیر کی بطور گورنر تعیناتی کے فیصلے کو پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کی پہلی بڑی مشترکہ جارحانہ سیاسی پیش قدمی قرار دیا جارہا ہے تو غلط نہ ہوگا۔سلمان تاثیر ایک سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ لاہور کی ایک بڑی کاروباری شخصیت بھی ہیں اور سیاسی حلقوں میں انہیں جوڑ توڑ کا بادشاہ اور سابق گورنر پنجاب خواجہ طارق رحیم کی کچھ ایسی ہی صلاحیتوں کا نعم البدل سمجھا جاتا ہے۔ سلمان تاثیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں قاسم ضیاء اورمیاں یوسف صلاح الدین کے عزیز اور برصغیر کے نامور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی اہلیہ ایلس فیض کے بھانجے ہیں۔ 1988ء میں جب بے نظیر بھٹو پہلی باراقتدار میں آئیں تو سلمان تاثیر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبے کی نواز شریف حکومت کی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد جب نواز شریف نے وفاق کا اقتدار سنبھالا تو سلمان تاثیر حکومت مخالف پیپلز پارٹی کی لانگ مارچ میں پیش پیش رہے اور گرفتار ہوکر جیل گئے۔اس زمانے میں کہا گیا کہ انہیں جیل میں خاص طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کا اور نواز شریف کا تعلق تلخیوں سے بھرا ہوا ہے۔ 1993ء میں سلمان تاثیرنے پاکستان کرکٹ بورڈ میں خزانچی کے فرائض انجام دیے اور بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات کے مالی امور کے انچارج بھی رہے۔ اکاؤنٹنسی کی اعلی تعلیم سے آراستہ سیاستدان سلمان تاثیر نے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار پر بھی خصوصی توجہ دی،آج بھی لاہور میں ان کی آڈٹ فرم اچھی ساکھ رکھتی ہے، متمول علاقوں میں ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا سلسلہ ’پیس‘، ’ورلڈ کال‘ ٹیلی فون اور کیبل نیٹ ورک، ’ڈیلی ٹائمز‘ روزنامہ ’آج کل‘ اور ٹی وی چینل ’بزنس پلس‘ ایسے تجارتی و صحافتی ادارے ہیں جن کی کامیابی میں بڑا ہاتھ سلمان تاثیرکی انتظامی صلاحیتوں کا ہے۔ نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد بزنس پلس وہ پہلا ٹی وی چینل ہے جس کی ٹیم کی نواز شریف سے ان کے ایک انٹرویو کے معاملے پر بدمزگی ہوئی اور ٹی وی چینل کی ٹیم نے الزام عائد کیا کہ ان کی ٹیپ چھین لی گئی تھی۔نواز شریف کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور ان الزامات کو ایک سازش قرار دیا تھا۔ اس واقعہ کے کچھ عرصے بعد جب مسلم لیگ قاف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو سلمان تاثیر وفاقی نگران کابینہ کے رکن اور ان کے چینل کے ایک میزبان پنجاب کابینہ کے نگران وزیر بنے۔ سیاسی حلقوں میں انہیں جوڑ توڑ کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے اپنی انہی صلاحیتوں کی بدولت پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی برقرار ر کھتے ہوئے وہ صدر پرویز مشرف کے بھی قریب ہوئے، نگران دور میں وفاقی وزیر بنے اور اب گورنر پنجاب کے عہدے کے لیے اس طرح نامزد ہوئے کہ مسلم لیگ نون کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی پسند ہیں یا صدر پرویز مشرف کا انتخاب۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی تعیناتی ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کا رنگ پھیکا پڑچکا ہے اور وفاقی کابینہ سے مسلم لیگ نون کے مستعفی ہونے کے بعد یہ سوال بار بار اٹھایا جارہا ہے کہ کیا جواباً پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت کو نقصان پہنچائے گی؟ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر کہیں کسی مقتدر حلقے میں یہ سوچ موجود ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کا تختہ الٹ کر پیپلز پارٹی مسلم لیگ قاف اور دیگر جماعتوں کی حکومت قائم کی جائے تو پھر اس مقصد کے لیے پنجاب کے گورنر ہاؤس میں سلمان تاثیر کی موجودگی موزوں ترین ہے۔ ایک مرتبہ پھر آصف علی زرداری کی خوابیدہ صلاحیتوں کا نیا جوہر کھل کر سامنے آیا ہے ایک طرف انہوں نے پنجاب میں حکومت سے الگ نہ ہونے کا عندیہ دیکر خود کو ن لیگ کا سب سے بڑا ‘سچا اور ہمدرد اتحادی ثابت کرنے کی کوشش کی اور دوسری طر ف سلمان تاثیر کو گورنر نامزد کر کے ثابت کر دیا کہ سیاستدانوں کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔

سلمان تاثیر کی نامزدگی کو محض حکومت گرانے کے تناظر میں دیکھنا درست ہیں ۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ حال ہی میں جب وزیر اعظم یوسف گیلانی نے پنجاب کا دورہ کی تھا تو ان کے کسی پروگرام میں وزیراعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے شرکت نہیں کی بلکہ خالد مقبول ان کے ہمراہ رہے ۔ اس طرح بدگمانی اگر کوئی پیدا ہوئی ہے تو اس کی ابتدا خو دن لیگ کی جانب سے ہوئی ہے ۔ جسے سلمان تاثیر کی صورت میں مزید بڑھاوا دیا گیا ہے ۔ایک ایسے موقع پر جب کہ پیپلز پارٹی عدلیہ کے حوالے سے آئینی پیکج لانا چاہتی ہے گورنر کی تبدیلی محض تبدیلی نہیں ہے بلکہ یہ صوبے میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر نظر رکھنے اور وکلاء کے متوقع احتجاج میں ن لیگ کی شمولیت کو کنڑول کرنے کے ابتدائی اقداما ت کا حصہ ہو سکتا ہے ۔

دیکھنا یہ ہے کہ گورنرسلمان تاثیر خالد مقبول کی طرح صوبائی معاملات سے لا تعلق ہو کر کام کرتے ہیں یا مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے وزراء کی معاونت بھی کرتے ہیں ۔ چوہدری برادران نے تو خالد مقبول کو صوبائی معاملات میں دخل دینے سے روکے رکھا لیکن اتحادی حکومت شاید ایسا کرنے میں ناکام رہے ۔وزیراعظم کا تعلق بھی کیونکہ صوبہ پنجاب سے ہی ہے اور انہیں اپنے حلقہ انتخاب میں بہر حال بار بار آنا ہوگا اگر ماضی قریب کی طرح وزیراعلی پنجاب ان کے ہمراہ نہ ہوئے اور گورنر نے ان کے پروگراموں میں شرکت کی تو پھر صوبائی معاملات میں ان کے ملوث ہونے کے امکان کو کسی صورت رد نہیں کیا جا سکے گا۔آصف زرداری نے یہ نامزدگی کر کے بہت بولڈ اقدام کیا ہے جس طرح وہ ن لیگ کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ فی الحال اپنے تمام بڑے فیصلوں میں اپنے اتحادیوں کی آراء کو بھی شامل کریں ۔ تاکہ یہ حکومت بھی اپنی مدت پوری کرکے ایک بار پھر مثال بن جائے۔

Tags: Columns , Rizwan Ahmad Sagar