Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'Rizwan Ahmad Sagar'

Pages: 1 2 3 ... 61

ذمہ دا ر وہ نہیں ۔ کالم’’سنسر‘‘۔ رضوان احمد ساگر

May 21st, 2008 · No Comments

rizwan ahmed sagar

ہمیں برسراقتدار کسی جماعت سے کوئی شکوہ نہیں کہ گندم کا ریٹ 625روپے مقرر ہے مگر مارکیٹ میں 700روپے پر فروخت کیوں ہورہی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید کم کیوں ہو رہی ہے ؟۔ ۔ ۔ غیر ملکی قرضوں کا حجم بڑھ گیا کوئی بات نہیں ۔ غریب عوام کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں کوئی بات نہیں۔ سرکاری ملازمین کے بچوں کی فیسیں ادا نہیں ہو رہیں ۔ نئے موسم کے کپڑے نہیں بن رہے ۔ متوسط طبقہ غریبی کی حدوں کو چھونے لگا ہے ۔ کوئی بات نہیں ۔ کیوں کہ جو بھی حکومت برسراقتدا آتی ہے وہ تمام مسائل کا بوجھ یا گند ماضی کی حکومت پر ڈال دیتی ہے ۔ بے زبان عوام کسی سے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ وزراء اور مشیر تو چل گئے مگر ان کے ماتحت تو موجود ہیں جو اس ملک کے اصل حکمران ہیں جن کی گردن میں اختیارات کا سریا پڑا ہوا ہے ۔ جو ہر شخص کو اپنا غلام سمجھتے ہیں ۔ جہاں چاہیں اور جسے چاہیں بے عزت کرتے چلیں۔ کیا اس پوچھنے کی رسم بھی کبھی شروع ہو گی۔ کیا ان کا احتساب بھی ہوگا۔

حکمران کوئی بھی ہو انتظامیہ تو یہی رہتی ہے۔ کیا وزیراعلی بندوق اٹھا کر شہروں میں پہرہ دیتا ہے ۔ کیا کوئی وزیر بازار میں ریٹ لسٹیں چیک کرتا ہے ۔کیا کوئی مشیر چوریاں ٹریس کرنے میں لگا رہتا ہے اگر ایسا نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان ذمہ داران کو کوئی کسی غلطی کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا۔پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں 19064دنوں کے دوران مختلف مقامات سے 256لاشیں برآمد ہوئیں جن میں سے35لاشیں خواتین کی تھیں ۔ ان میں 3خواتین کی شناخت ہو سکی جب کہ 28کنواری ماؤں نے نومولودہ بچوں کو کوڑے دانوں ‘ پارکوں اور ہسپتالوں میں پھینک دیا جو اپنی زندگی کی بہار نہ دیکھ سکے ۔ ایدھی فاؤنڈیشن نے 52نعشوں کو کفن دفن کا انتظام کیا اور باقی بد نصیبوں کا پتہ نہیں کیا بنا۔

ہم یہ یاد نہیں دلاتے کہ 1999ء کو صدر پرویز مشرف نے کمانڈو ایکشن کے بعد جو کئی منادیاں کروائیں ان میں ایک پولیس اصلاحات اور عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنے اور انصاف مہیا کرنے کا اعلان بھی تھا۔22جون 2006جسٹس افتخار چوہدری ‘ عبدالحمید ڈ۷گر اور سعید اشہد پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے پولیس کو ایسے تمام عقوبت خانے بند کرنے کا حکم دیا جن میں با اثر لوگوں کے کہنے پر ملزموں یا بے گناہوں کو اذیت دی جاتی ہے ۔

کیا یہ بات کسی سے پوشید ہ ہے کہ مختلف اداروں نے پورے ملک میں خفیہ ٹارچر سیل قائم کر رکھے ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں ہر برس اوسطاً 50افرادپولیس حراست اور اوسطاً دو سو سے زائد مشکوک مقابلوں میں مارے جاتے ہیں ۔ مارچ2008مظفر گڑھ میں با اثر افراد نے ایک خاندان کو گھر سے نکال کر قبضہ کر لیا اس خاندان نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا ۔ سمندی میں تین بچوں کے باپ نے بے روزگاری اور طعنوں سے تنگ آکر خود کشی کر لی ۔ کراچی میں ایک قرض دہندہ دل کے دورے سے اس وقت ہلاک ہوگیا جب ایک نجی بنک کے غنڈوں نے اس کی محلے والوں کے سامنے بے عزتی کردی۔ کراچی کے صنعتی علاقے کورنگی میں فیکڑی مزدوروں نے اپنے ایک ساتھی جگدیش کو مارمار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ منو بھیل نامی شخص دس برس سے حیدر آباد پریس کلب کے سامنے ہڑتا ل کئے بیٹھا ہے ۔ اس کا خاندان بازیاب نہیں ہو سکا ۔

اس وقت پاکستان کی ستر فیصد سے زائد آبادی دو ڈآلر روزانہ سے کم پر زندگی گزار رہی ہے ۔ جبکہ یہاں کی قیمتیں ڈالر سے ہی منسلک ہیں ۔ اگر مہنگائی ڈالر سے منسلک ہے تو تنخواہیں بھی اسے حساب سے مقرر کی جائیں جب مہنگائی بڑھے تو تنخواہوں میں بھی اضافہ ہو جائے مگر یہ حسین خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اس وقت جیلوں میں گنجائش سے 114%زائد قیدی موجود ہیں ۔ جن میں سے 60فیصد کے مقدمات زیرسماعت ہیں ۔ اس پس منظر میں جب کراچی اور لاہور میں مشتبہ ڈاکوؤں کو زندہ جلانے کی کوشش ہوتی ہے تو یہ کوئی بڑا ردعمل نہیں ہے۔بھوک ‘ ننگ ‘ بے روزگاری اور محرومی انسان کو انسان نہیں رہنے دیتی۔

جب بچے بھوک سے بلک رہے ہوں ۔ کرنے کو کوئی کام نہ ہو ۔ ٹھیکیدار کام کروائے مگر مزدوری کم دے۔ دکاندار کم تولے اور ریٹ بھی زیادہ لگائے ۔ ڈاکٹر تڑپٹے مریض کو فیس کے بغیر ہاتھ نہ لگائے۔ سرکاری ہسپتالوں میں لال دوائی کے علاوہ کچھ میسر نہ ہو۔عام آدمی کو انصاف کی جگہ مظالم اور ناانصافی چکی میں پسنا پڑے تو پھر مدرسوں سے چاہئے جہادی نکلیں ۔ یونیورسٹیوں سے چاہئے انجینئر اور ڈاکٹر نکلیں اس معاشرے میں ڈاکوؤں کا راج ہو گا۔ جن کو میرٹ پر نوکریاں نہیں ملتیں۔ سفارش کے بغیرحق نہیں ملتا۔ رشوت کے بغیر قرضے نہیں ملتے ۔ کون ہے جو اس کا ذمہ دار ہے ۔

یہ وہی ہیں جو ہر دور میں حکومت کرتے ہیں ۔ جن کی اکھاڑ پچھاڑ کوہی صرف ان کی سزا سمجھ لیا جاتا ہے ۔حالانکہ اختیار ات کے جال میں پھنسے پاکستانیوں کو شکارکرنے کا انہیں چسکا پڑ چکا ہے انہیں سمندر کی لہریں گننے پر لگا دو پھر بھی دیہاڑی لگا کر رہیں گے۔سابق حکومت کو معتوب بنانے کی بجائے ان افسران کی کھچائی کیجئے۔ دھلائی کیجئے جنھوں نے گزشتہ دور میں بھی عوام کو انصاف نہیں ملنے دیا ۔ صاف پانی میسر نہیں آنے دیا۔ لاوارث بچوں کو تحفظ کی چھت مہیا نہیں ہونے دی۔ جو سب اچھا کا راگ الاپ کر خود اپنی تجوریاں بھرتے رہے۔ جو فائلیں دباتے اور نوٹ بناتے رہے۔ جن کی وجہ سے پنجاب کی نہروں پر 40جگہ بجلی بنانے کے منصوبے شروع نہیں ہو سکے۔ جن کی وجہ سے انڈیا ڈیم پر ڈیم بنا رہا ہے مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

احتساب تو ان کا ہونا چاہئے جو حکمرانوں کی جی حضوری کر کے اپنی چاندی کرتے ہیں اور اس ملک کے باسیوں کا جینا یونہی دوبھر رہتا ہے جس طرح حکومت بدلنے کے بعد بھی عوام سانس لینے کیلئے ترس رہی ہے ۔زندہ لاشوں کو کفن میسر نہیں ۔ مرنے والوں کو قبریں میسر نہیں ۔ اب تو کرسی کے کھیل میں سے چند لمحے ان بد نصیبوں کیلئے نکالیں جو آپ کو یہاں تک لے کر آئے ہیں۔ جنھوں نے خیرات کے پندرہ سو رپوں کے بدلے اپنا ووٹ نہیں بیچا۔ جنھیں آپ سے امید تھی کہ آپ ان کی تقدیر بدلیں گے۔ آپ اپنے وعدے پورے کرنے کیلئے نظام بدلتے ہیں یا کسی کی اوقات ۔ جلدی کیجئے اس سے پہلے کے غربت کی دیوی فاقوں کی سوغات بانٹتے بانٹتے تھک جائے ۔ زندہ رہنے کا جرم کرنے والوں کو فانی دنیا سے نجات مل جائے۔ مزار پر دےئے جلانے سے گھر روشن نہیں ہوتے ۔ گھروں کو آباد کیجئے ۔ شہرِ خاموشاں کے مکینوں کو آپ کی ضرورت نہیں ۔

Tags: Columns , Rizwan Ahmad Sagar