
جبران کا ایک شکر پارہم کچھ یوں ہے ( ہر رات کے بعد دن ضرور طلوع ہوتا ہے اور جو رات صبر کرکے گزاری جائے اسکی سحر نہایت حسین ہوتی ہے۔ پاکستان اپنی ساٹھ سالہ زندگی کے پر اشوب دور سے دوچار ہے۔سابق دور کے مشرفی اقاوں نے پاکستانی سیاست معاشرت اور حریت کا کچومرنکال دیا۔معاشی انقلاب کے بھاشن دینے والوں نے ڈکیٹ ٹائپ مالیاتی جادوگروں نے ملکی خزانے کو طوائف کی طرح یوں نچوڑا کہ طوائف قریب المرگ ہوگئی۔سابقوں نے ریاستی سلامتی کو بنا سنوار کر اغیار کے سفید محلات میں محو استحرا ہت ابلیسوں کے چرنوں میں واہ کردیا۔وہ خدا خدا کرکے شاہی رہداریوں سے نکلے تو خزانے میں بچے کھچے روپے بھی ساتھ لے گئے۔پی پی سربرائے سلطنت ٹھری تو اسے ورثے میں ٹوٹی پھوٹی کوڑیاں اور سانپ کی طرح پھن پھیلائے ہوئے ہوشربا و زہرناک مسائل کا انبار نصیب ہوا۔پی پی کے دونوں مہاراج گیلانی اور زرداری اپنے ہمنواوں مشیروں اور وزیروں کی فوج ظفر کے ہمراہ مسائلستان کے سمندر میں ڈولنے والے ریاستی جہاز کو تابہ ساحل بنانے کی مساعی جلیلہ میں غرقاب ہیں۔دور حاظرہ میں ایک طرف حکومت کو امریکی جارہیت اور اسکے کتھارس کے طور پر برسنے والے خود کش حملوں کی بہیمت کا سامنا ہے تو دوسری طرف ریاستی کشتی معاشی بحران کی منجھدہار میں ڈوبنے کے قریب ہے۔پی پی کے ولی عہد و صدر مملکت نے پاکستان کی بگڑی بکھری تصویر کو دوبارہ لازوال بنانے جمہوری اقدار کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے اورسیاسی استحکام کے لئے ملک بھر کی تمام اہم ترین سیاسی جماعتوں کو حکومتی اتحاد میں شامل کیا۔مخلوط سیاسی اتحاد کی ایک اہم ترین سیاسی جماعت ن لیگ نے جذباتیت کی رو میں بہہ کر مخلوط اتحاد کو خیر باد کہہ دیا کیونکہ وہ معزول ججز کی بحالی کے ایشو پر پوائنٹ سکور کرنے کے لئے بے قرار تھے۔سیاسی حلقوں میں ایک اور بازگشت بھی زور شور سے کانوں میں کڑوا رس گھول رہی ہے کہ موجودہ سرکار کی ایک اور اتحادی جماعت متحدہ بھی بہت جلد حکومتی بنچوں کو داغ مفارقت دینے والی ہے۔دونوں جماعتوں پی پی اور متحدہ کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔متحدہ کے کاروان کا کابینہ کی توسیع کے دوران حکومتی کشتی پر سوار نہ ہونا یا بادبانوں کی طرف سے سوار نہ کیا جانا نئے مسائل کا پتہ دیتے ہیں۔ متحدہ کے دیوانوںنے پی پی کے ساتھ اپنے شراکتی فارمولے کی بنیاد پر چھ اراکین پارلیمنٹ کے عوض ایک وزیر کا تقاضہ کیا یوں متحدہ کے وزرا کی تعداد چھ بنتی ہے۔باخبر زرائع کے مطابق حکومت نے اتحادیوں کو دو دو وزارتوں کا قلمدان سونپنے کی افر کی جو متحدہ و جے یو ائی نے مسترد کردی۔متحدہ نے اپنے سابق باس مشرف دور کی ان وزارتوں کا مطالبہ کیا جن پر متحدہ کے اراکین مختیار کل بن کر فروزاں تھے۔ان وزارتوں میں مواصلات شپنگ ہاوسنگ و ورکس ایسی پر کشش وزارتیں شامل ہیں مگر حکومتی منصوبہ سازوں نے یکسر انکار کردیا یوں اکتالیس رکنی کابینہ کی تشکیل کے وقت متحدہ کے کسی پروانے نے حلف نہ اٹھایا۔صدر زرداری اور متحدہ کے وفد جن میں گورنر عشرت العباد اور سٹی ناظم کراچی شامل تھے کے درمیان تمام متنازعہ امور کو باہمی گفت و شنید سے حل کرنے کے لئے دبئی میں مذاکرات ہوئے جب زرداری سعودی عرب کا دورہ کررہے تھے۔ تو پی پی اور متحدہ کی نامزد ٹیموں کے درمیان مزاکرات کا ابتدائی راونڈ بھی کھیلا جانا تھا۔دبئی میں طرفین کے درمیان تین امور پر بات چیت ہوئی جن میں بلدیاتی حکومتوں کو برقرار رکھنے یا پنجاب کی طرز پر سابق کمشنری نظام کو بحال کرنے، متحدہ کی کابینہ میں شمولیت اور وزارتوں کی بندر بانٹ اور تعداد پر بحث ہوئی۔تیسرا اہم ایشو سندھ میں بھرتیوں کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔کراچی میں امن و سکون قائم کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے جائیں اور کراچی میں روز افزوںطالبانائزیشن کو کس طرح روکا جائے۔متحدہ پی پی دبئی مزاکرات سے قبل دونوں جماعتوں کی ابتدائی میٹنگ وزیراعلی ہاوس میں منعقد ہونا تھی مگر عین موقع پر متحدہ نے رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی اڑ کا غچہ دیکر شرکت سے معذرت کر لی۔ جس پر قائم علی شاہ فوری طور پر گورنر ہاوس پہنچے جہاں سندھ حکومت کے ان دو بڑے راجکماروں کے مابین ون ٹو ون میٹنگ ہوئی جس میں قائم علی شاہ نے گورنر کو تمام معاملات و مطالبات کو حل کروانے کی یقین دہانی کروائی اور گورنر سندھ سے درخواست کی کہ متحدہ پی پی کی حمایت جاری رکھے۔ایسی یقین دہانیوں کے بعد ہی متحدہ کا وفد دوبئی روانہ ہوا۔متحدہ بلدیاتی حکومتوں کو قائم و دائم رکھنے کا عندیہ دے چکی ہے اگر زرداری نے بلدیاتی حکومتوں کو گھر بھیجا تو متحدہ حکومتی مخالفت کیلئے فوری طور پر بے خطر اتش نمرود میں کودنے کا پروگرام مرتب کرچکی ہے۔ جس رات عشرت العباد اور سٹی ناظم دوبئی روانہ ہوئے تو اسی روز متحدہ کے یوسی ناظم اور درجن بھر ورکر کے خلاف اورنگی ٹاون میں پی پی کے دوکارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج ہوا۔پاکستان بازار میں پانچ اکتوبر اور چھ نومبر کی رات پی پی کے بائیس سالہ ورکر محمد ساجد اور تیتیس سالہ عبدالغفار سکنہ منظور گڑھ کو قتل کردیا گیا جس کی ایف ار درج ہوگئی ہے۔مقتول کے ورثا نے یوسی ناظم اکرم و ایم کیو ایم کے صدیقی،جاوید کالیا، معصوم حیدر،وحید ،صابر اور متحدہ کے دیگر نامعلوم ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند کے دفعہ302 کے تحت پر چہ درج کروا دیا۔متحدہ اپنے ورکروں کے خلاف قتل کے مقدمات قائم ہونے پر بھی پی پی سے شاکی ہے۔سندھ کے وزیر بلدیات اغا سراج درانی نے بار ہا مرتبہ کہا کہ ناظمین کے حوالے سے کئی ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ اس نظام کو ہی ختم کردینا بہتر ہوگا۔ضلعی حکومتوں کا مشرفی نظام خامیوں سے لبا لب بھرا ہوا ہے۔وزیربلدیات اسے دوچار مہینے میں دفنانے کا اعلان کررہے ہیں۔دوسری طرف متحدہ کی قیادت اور گورنر سندھ بلدیاتی نظام کو تاریخ ساز کہہ کر اسے برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔پی پی کی قیادت بظاہر اس کوشش میں غرق ہے کہ متحدہ کے ساتھ موجودہ حالات میں کوئی محاز کھولنا درست نہیں کیونکہ ملکی حالات افراتفری انتشار اور غیرملکی سازشوں کی دلدل میں گھرے ہوئے ہیں یوں حکومت اس موقع پر کسی دوسری لڑائی کی متحمل نہیں ہوسکتی مگر سچ تو یہ ہے کہ متحدہ کی سیاست اور انداز حکومت پر گہری نظر رکھنے والے تجزیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ اپنے اصل رنگ کی طرف لوٹ رہی ہے اور انے والے دنوں میں پی پی کو ایک بدلی ہوئی متحدہ سے واسطہ پڑے گا ویسے تو اتحادی جماعتوں، حکومتوں سے منٹوں میں طوطا چشمی و احسان فراموشی کے تناظر میں متحدہ کا دامن داغدار ہے۔متحدہ جتنی محبت و عقیدت سے کسی پارٹی کی حلیف بنتی ہے اور جب دل بھر جائے تو وہ اتحادیوں کے ساتھ تلخ ترین نفرت کا اظہار کرنے میں برق رفتاری کا وہ رقص کرتی ہے کہ ساری دنیا حیران و پریشان ہوجاتی ہے۔ہمارا ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔معاشی شعبہ گل سڑ رہا ہے۔سیاسی انتشار اسمانوں سے باتیں کررہا ہے۔غیر ملکی طاقتیں پاکستان کی سالمیت پر میزائل برسا رہی ہیں۔امریکی اور یہودی ہمارے ایٹمی پروگرام پر تباہی نازل کرنے کی سازشیں کررہے ہیں۔ایسی گھمبیر و قابل نفریں پوزیشن میں اتحادی جماعتوں کے جھگڑے دشمنان پاکستان کے مذموم مقاصد کی راہ ہموار کرنے میں ممدون بن سکتے ہیں یوں ارباب اختیاران سے لیکر صدر اور وزیراعظم تک اور سیاسی جماعتوں و مذہبی پارٹیوں سے لیکر بیوروکریٹوں اور عوام تک کا مقدس ترین فرض تو یہ ہے کہ وہ بالغ نظری و فراخ دلی کو اپنا کر اختلافات کو دور کریں۔بیرونی اور اندرونی خطرات کا مل کر مقابلہ کریں اور اتحاد و ایقان کے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر دشمنان پاکستان اور حاسدین جمہوریت کی گردنیں کاٹ کر رکھ دیں۔سیاستدانوں کو ملک بچانے کی فکر کرنی چاہیے ورنہ ایک اور سقوط پھن پھیلا کر ہمارے پیچھے بھاگ رہا ہے۔پورا ملک متحدہ پی پی شکررنجیوں کی خبریں پڑھ کر ہواس باختہ ہوچکا ہے۔کراچی کے ساحلی علاقوں پر رہنے والا مچھیرا اور جنوبی پنجاب کا کسان سرحد کا پٹھان اور بلوچستان کا مزدور اور بے حسی کی چادر تان کر سویا ہوا سولہ کروڑ اہل پاکستان کا لشکر پی پی اور متحدہ کے درباروں میں ہاتھ جوڑ جوڑ کر فریاد کررہا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے سجادہ نشین خلیل جبران کے جملے کی روشنی میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اتفاق و اتحاد کے پلیٹ فارم پر جمع ہوکر ایک ملت کی تصویر بن جائیں تو ہمیں خدا کی برکات اور اتحاد کی نوازشات سے مستفید ہونے کا موقع ضرو ملے گا شائد جبران نے اسی موقع کے لئے کہا تھا کہ ہر رات کے بعد دن ضرور طلوع ہوتا ہے اور جو رات صبر سے گزاری جائے اسکی صبح و سحر بہت رنگین و حسین ہوتی ہے۔
















