Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'Mumtaz Ahmed Bhatti'

Pages: 1 2 3 ... 37

مصطفی کمال اتاترک اور ترکی کی ترقی ‘ کالم ‘ ممتاز احمد بھٹی

November 5th, 2008 · No Comments

Mumtaz a bhatti

مصطفی کمال اتاترک ایک عظیم لیڈر کے طور پر سامنے آئے انہی کی کوششوں سے 29اکتوبر 1923میں جمہوریہ ترکی وجود میں آیا کمال اتاترک کے لغوی معنی ترکوں کاباپ ہے۔ مصطفی کمال اتاترک ترکی کے پہلے صدر بنے ۔ وہ ترکی کو ترقی یافتہ اور دنیا میں نمایاں مقام کا حامل دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنی قوم کو چھ اصول دیئے ۔ مصطفی کمال اتاترک کی انتھک محنت، وطن سے محبت اور قوم کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کی سچی لگن کی وجہ سے جمہوریہ ترکی ترقی کی راہ پر چل پڑا ۔ جمہوریہ ترکی 1949ء میں کونسل آف یورپ کارکن بنا اور 1952میں نیٹو کارکن بننے میں کامیابی حاصل کی اور یورپی یونین کا ممبر بننے کیلئے اپنی کوششیں تیز کر دیں یاد رہے کہ جمہوریہ ترکی دوسرا ملک ہے جس نے 1963ء میں یورپی تنظیم بنانے کے متعلق معاہدے پر دستخط کیے تھے اسی بنیاد پر یورپی کونسل اور ترکی کی کسٹم یونین بنی۔ اور دونوں کے درمیان کسٹم قوانین کے متعلق ایک معاہدہ ہوا جو یکم جنوری 1996کو نافز کر دیا گیا 1999کے بیلسنکی اجلاس میں ترکی کو یورپی یونین کا امیدوار تسلیم کر لیاگیا۔ ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کے متعلق 13اکتوبر 2005کو مذاکرات شروع ہوئے اور12دسمبر2005 کو جمہوریہ ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کا فیصلہ ہوا۔اور23دسمبر 2005کو یہ فیصلہ نافذکر دیا گیا۔ مصطفی کمال اتاترک 1938میں انتقال کر گے مگر ترکی کو ایسی مستحکم بنیاد فراہم کر گئے جس سے ملک ترکی نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں پوری ترک قوم مصطفی کمال اتاترک کے تصورات کی محافظ بنے عظیم ترک لیڈر مصطفی کمال اتاترک 1888ء میں سالو نیکا کے کیڈٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کی اور 1905میں سٹاف کیپٹن بن گئے مصطفی کمال اتاترک بچپن سے ہی انتہائی زہین اور باوقار شخصیت کے حامل تھے اور بہت اچھے مقرر تھے۔استنبول کے دوران قیام میں خلیفہ عبدلحمید کی حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے پر کچھ عرصہ قید رہے جیل سے رہا ہوئے تو فوجی ملازمت اختیار کو اور دمشق میں پانچویں فوج کے ہیڈ کواٹر پر تعینات ہوئے اس دوران میں ان کا رابطہ خفیہ تنظیم مجلس اتحاد و ترقی سے ان کا رابطہ قائم ہوا۔ اوروہ نوجوان ترک رہنماؤںسے مل کر ترکیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لئے کام کرنے لگے۔ 1908کے انقلاب ترکیہ کے بعد کچھ عرصہ کے لئے سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی۔جنگ اطالیہ اورجنگ بلقان میں مختلف محازوں پر فوجی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اوراپنی حاضر دماغی اور جرات کے سبب شہرت حاصل کی۔ پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو صوفیہ میں ملٹری اتاشی کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کی درخواست پر انھیں جنگی خدمات سپرد کی گئیں انھوں نے 1915ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے خلاف آبنائے فاسفورس کی کامیابی مدافعت کی اس پر انھیں جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔1916ء میں روسی فوج کو شکست دے کر ترکی کا مقبوضہ علاقہ آزاد کرا لیا۔ 5جولائی 1917ء کو ساتویں فوج کے کمانڈر مقرر ہوئے۔ 30اکتوبر 1918کو معاہدہ امن پر دستخط ہوگئے جس کے بعد ساتویں فوج توڑ دی گئی اور مصطفی کمال پاشا واپس اسنتبول بلا لئے گئے اس وقت خلیفہ وحید الدین سر پر آرائے سلطنت تھا ملک میں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی سلطان وحید الدین کوان کے ا رادوںکا علم نہ تھا۔ اس نے انھیں نویں فوج کا انسپکٹر جنرل مقرر کر دیا۔ جس کا کام باقی ماندہ فوج سے ہتھیار واپس لینا تھا۔ لیکن انھوں نے اس کے برعکس تحریک مقادمت کی تنظیم شروع کر دی انہوں نے اس تحریک کے دوسرے رہنماؤں سے رابطہ قائم کیا اور اپنے وطن کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل ہوگئے اسی دوران ان کی قیادت نے متوازی عارضی حکومت قائم ہوگئی۔1920ء میں اتاترک انگورہ میں ترکی کی پہلی اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے اورپھر 1921ء میں ان کی قیادت میں ترکوں نے یونانیوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔جنھوں نے ایشیائے کو چک کے بہت بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا تھا۔ ایک سال کے اندر اندر یونانی فوج ترکی کی سرحدوں سے باہر نکال دی گئی ترکوں اورانگریزوں کے درمیان براہ راست جنگ چھڑ جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا لیکن کمال اتاترک نے اپنی فراست سے یہ خطرہ ختم کر دیا 29اکتوبر 1923ء میں ترکیہ میں خلافت ختم کرنے اورملک کو جمہوریہ قرار دینے کا اعلان ہوا اور کمال اتاترک اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔انھوں نے اقتدار سنبھالتے ہی دورس اصلاحات نافذ کیں اور ترکیہ بڑی تیزی سے شاہراہ ترقی پر قدم بڑھانے لگا۔1934ء میں قوم کی طرف سے انھیں اتاترک (بابائے ترک)کا لقب دیاگیا۔تر ک قوم نے مصطفی کمال اتاترک کے تصورات اور چھ اصولوں کو اپنا مقصد بنا کر ملک کو ترقی کی طرف لے جانے کی کوشش شروع کی آج ترکی تیز ترین ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور کسی بھی لحاظ سے ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے نہیں جو قومیں اپنے عظیم لیڈر کے اصولوں اور تصورات کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیتی ہیں انہیں دنیا میں ترقی کرنے اور نمایاں مقام حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Tags: Columns , Mumtaz Ahmed Bhatti