Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'Malik Ahmed'

امریکہ کی تباہی نوشتہ دیوار ہے ‘ کالم ‘ ملک احمد محمود برار

September 25th, 2008 · No Comments

نائن الیون کے سانحے کے بعد امریکہ نے جس بے رحمانہ طریقے اور استعماری انداز سے مسلم دنیا کو جنگوں کی جہنم میں دھکیلا تو اس کے نتیجے میں خود امریکہ کو درجنوں ہوشربا مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔بے پناہ جنگی اخراجات نے ایک طرف امریکہ کو معاشی بربادی کی دہلیز پر لاکھڑا تو دوسری طرف امریکہ کے کئی شعبے روبہ زوال ہوگئے۔بش کمپنی کے جنگی جنون نے امریکہ کی اندرونی۸ یکجہتی کو پارہ پارہ کردیا۔کمزور معیشت کے ہمراہ کوئی ملک اپنی سلامتی برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔امریکہ کا معاشی بحران روز افزوں بہ مائل زوال ہے۔امریکہ کے چوتھے بڑے مالیاتی ادارے لی ہیمن برادرز نے اپنے دیوالیہ پن کا اقرار کیا ہے جس کی وجہ سے سپرپاور کا سارا مالیاتی ڈھانچہ لڑ کھڑا دیا۔واشنگٹن کے ایک اور بڑے اداریمیرل لینچ کو بنک اف امریکہ نے پچاس ارب ڈالر کے عوض خرید کر معاشی نظام کو سہارا دیا ہے۔ امریکہ کی سٹاک مارکیٹ وال سٹریٹ 2001 کے بعد گھمبیر مندی کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔امریکہ کے معروف معاشی ماہرین نے ہزار ہا مرتبہ حکومتی فرزانوں کو تنبیہ کی تھی کہ امریکہ نے فوجی مہموں کی اڑ میں جن ناروا پالیسیوں کا اجرا کر رکھا ہے وہ ایک روز معاشی بربادی کا سندیسہ لائیں گی۔وقت نے ثابت کردیا ہے کہ ایسی پشین گوئیاں حرف بحرف درست ثابت ہوئی ہیں۔امریکہ کے علاوہ ایک اور روز روشن مثال سوویت یونین کی شکل میں درس عبرت کا کام دے رہی ہے۔سویت یونین جب تک جارہیت کرنے سے باز رہا تو انکی معیشت اسمانوں سے باتیں کررہی تھی لیکن جب ماسکو نے توسیع پسندانہ پالیسیوں کی راہ اپنائی اور افغانستان پر قبضہ کرلیا تو پھر انکا معاشی دیوالیہ نکل گیا اور دنیا کی دوسری سپر پاور کا شیرازہ ہی بکھر گیا۔امریکہ کی مالیاتی تباہی صرف اسکی چار درجن ریاستوں تک محدود نہ رہے گی بلکہ اسکے مضراثرات پوری دنیا پر مرتب ہونگے۔دنیا پہلے ہی غربت بے روزگاری غذائی قلت اور تیل کی مصنوعات کی شدید کمی کا سامنا کررہی ہے.امریکی تباہی سے ان معاملات کا رقص بسمل مذید خوانخوار بن کر انسانیت کو تنگ کرے گا جس کی ساری زمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔پینٹاگون کی انتہاپسندی کے خلاف شروع کردہ جنگ نے دہشت گردی کے عفریت کو اور بڑھاوا دیا ہے۔امریکہ نے دہشت گردی کے نام پر سامراجی و گھناوئنے مقاصد کی تکمیل کے لئے جس جابرانہ جنگ کا الاو دھکارکھا ہے اسے اگر جلد از جلد بجھانے کی سعی حاصل نہ کی گئی تو یہی الاو شعلہ جوالا بنکر امریکہ کی سلامتی کو قیصر و کسری ایسی سپرپاورز کی طرح راکھ کے ڈھیر میں بدل دے گا۔

امریکہ کے ممتاز مو رخ ہاورڈڈزین نے الجزیرہ ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں اس کڑوی سچائی کو تسلیم کیا ہے کہ امریکی حکمرانوں نے ملک کو ناقص پالیسیوں کی راہ پر ڈال دیا ہے جس کا نتیجہ صرف تباہی کی شکل میں نوشتہ دیوار ہے۔یوں امریکہ سے تعلق رکھنے والے دانشور اور تجزیہ نگار امریکہ کی تباہی اور بربادی کے نوحے پورے سوز و گداز سے پڑھ رہے ہیں۔ہاورڈزین نے اپنے انٹرویومیں بتایا ہے کہ امریکی بہت پریشان ہیں۔امریکہ کا عزت و وقار خاک میں مل چکا ہے۔انسانی وسائل کی زبردست قلت پیدا ہوگئی ہے۔تعلیم و صحت کے شعبے تنزلی کی طرف رواں دواں ہیں۔corporate power نے سیاسی نظام کا بیڑہ غرق کردیا۔نوجوانوں کو سطوت و جبروت سے فوجی محاذوں پر بھیجا جارہا ہے۔عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔یہ تمام بے چینیاں ایک تحریک کو جنم دیں گی۔ویت نام جنگ کے خلاف باغیانہ تحریک شہری حقوق کی تحریک اور محنت کشوں کی تحریک ماضی کی نشانیاں ہیں۔اگر حالات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو ایک اور باغیانہ تحریک شروع ہوجائے گی۔اور صرف اسی صورت میں امریکہ کی بقا کی امید رکھی جاسکتی ہے کہ کوئی تحریک جنم لے۔ ورنہ تباہی پوری تاریخ کے ہمراہ ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔وائٹ ہاوس نے اپنی ہٹ دھرمی یا جنگی جنون ختم نہ کیا تو ہمارا وجود شائد برقرار نہ رہ سکے۔ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو ابتدائے افرینش سے لیکر سویت یونین کی شیرازہ بندی تک کئی عظیم و شان عالمی طاقتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ایک سوال کہ وہ وقت کب ائے گا؟ کے جواب میں موصوف نے کہا کہ ہم اس نہج تک پہلے ہی پہنچ چکے ہیں اور امریکی عوام نے بے حس بنکر حالات کو اس نہج تک پہنچانے کی ڈھارس مہیا کی ہے۔الیکشن میں امریکہ کی ادھی ابادی نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا تھا۔پچاس فیصد امریکی بش کی پالیسیوں کے طرف دار ہیں جنہیں سب کچھ حاصل ہے۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ نظام یوں ہی چلتا رہے تاکہ انکی عیش و عشرت برقرار رہے۔امریکہ میں اپوزیشن بھی موجود ہے جسے کچل دیا جاتا ہے۔دنیا والے صرف حکمرانوں کی بات سن سکتے ہیں اپوزیشن کی نہیں۔عراق میں جو کچھ ہورہا ہے وہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ہمیں اپنی جارہیت پسند تاریخ پر شرم ہے۔امریکہ کی سامراجی تاریخ بہت پرانی ہے۔ امریکہ نے پہلے ریڈانڈینز کی نسل کشی کی انکی زمینوں پر قبضہ کیا۔میکسیکو کے ساتھ جنگ کی پھر ہسپانوی جنگ کا اغاز ہوا۔یوں امریکہ ابتدا سے ہی دیگر قوموں کو روند نے کی زہرناک پالیسیوںپر کاربند ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں نے کہا کہ جب شہری حقوق کی تحریک چل رہی تھی تو اس وقت اسکی کامیابی کے اثار نہ تھے۔لیکن بعد میں وہی تحریک اپنے مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔امریکہ کے مستقبل کے حوالے سے پوچھے جانیوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے ہاورڈ زین نے کہا کہ ہمیں نئی قیادت کی ضروت ہے جو جنگوں کی بجائے امن و شانتی اور مساوات کا بول بالا کرے،امریکیوں کی ضروریات کا پاس رکھے۔امریکہ کی طاقت اور سرکاری مشینری کا زوال روز بروز بڑھ رہا ہے۔عراق جنگ نے امریکی قوت کی ہنڈیا کے سچ کا بھرم بیچ چوراہے میں توڑ دیا۔امریکہ کی فوجی قوت کتنی مضبوط کیوں نہ ہو لیکن اصل طاقت فوج نہیں بلکہ اخلاقی حقانیت ہوتی ہے۔ایک اخلاقی قوت و نظام کی ہوتی ہے جس سے امریکہ محروم ہوچکا ہے۔امریکہ اگر اپنا وجود قائم رکھنا چاہتا ہے تو پھر اسے جنگی جنون ترک کرنا پڑے گا۔غیروں کی دولت ہتھیانے کا سلسلہ روکنا ہوگا.چھوٹے ممالک کا استحصال ختم کرنا ہوگا ورنہ ایک روز امریکہ بھی گلے سڑے پتوں کی طرح وقت کے کوڑے دان میں گل سڑجائے گا۔بصیرت و شعور اور زمینی حقائق سے عاری بش کو کم ازکم امریکہ سے تعلق رکھنے والے بالغ نظر دانشوروں اور ہاورڈ زین کے زریں خیالات سے استفادہ کرنا چاہیے۔

Tags: Columns , Malik Ahmed