Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'Khawar King'

Pages: 1 2 3 ... 29

سلام بازار ۔ تحریر ۔ خاور کھوکھر

August 10th, 2008 · No Comments

اردو بلاگر کی دنیا میں خاور کھوکھر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے جب بھی لکھتے ہیں کھلا لکھتے ہیں۔خاور کھوکھر نے اپنی زیادہ زندگی دیارِ غیر میں گزاری ہے اور دنیا کے بہت سے ملکوں کی خاک چھاننے کے بعد تقریباً دنیا کی بہت سی زبانیں اہل زبان کی طرح بول لیتے ہیں۔ آجکل جاپان میں مقیم ہیں۔باہر رہتے ہوئے بھی پاکستان کا درد پاکستانیوں سے زیادہ ہے شاید اس لئے ان کی تحریروں میں چبھن سے زیادہ تلخی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔آپ ان کی تحریریں ان کے ذاتی بلاگ پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔

آج یہاں جاپان میں پاکستان ایمبیسی کے زیر اہتمام سلام بازار کے نام سے ایک میلہ منعقد کیا گیا تھا یا یہ کہہ لیں کہ مل بیٹھنے کا ایک بہانہ سا تھا۔ سلام ،آداب، مرحبا، ست سری اکال ، کونی چیحا، ہیلو یا پھر نمستے کہہ لیں ، بس جی آداب کے طریقے ہوتے ہیں ہر مذہب اور معاشرے کے ، لیکن مقصد سب کا ملتا جلتا ہے کہ ملنے والے دوسرے پر سلامتی کا پیغام ،
یہاں ایک باریکی کی بات ہے کہ یہ سلام بازار تھا نہ کہ اسلام بازار ۔
اسلام کو بازار لگا کر پیچنا ایک اور بات ہے اور سلام بازار لگا کر اس بات کو اجاگر کرنا کہ کاروباری سب کی سلامتی مانگتے ہیں ، ایک اور بات ہے کہ اس کو جاپانی میں کونی چی ھا بازار کہہ لیں یا پھر انگریزی میں ہیلو بازار ،
ایک دوست زبیر صاحب کی میل سے مجھے معلوم ہوا کہ طوکیو کے مشہور پاک وینو پارک میں پاکستان ایمبیسی نے سلام بازار کا اہتمام کیا ہے ۔ یہ پارک میرا جانا پہچانا ہے اس لیے میں کسی سے پوچھے بغیر ہی آج صبح میں یہاں پہنچ گیا ویسے تو كافی بڑا پارک ہے یہ ہے جی اس بازار کی سامنے سے تصویر ،

اس تصویر میں
سامنے والے تنبو کے پیچھے درختوں کی قطار میں جو چھت نظر آرہی ہے وہ ہے طوکیو کا نیشنل میوزیم ، موسیقی کا پروگرام تھا

جس میں یہ فنکار لوگ
پاکستان سے تشریف لائے تھے میرے زیادہ ہی سویرے پہنچ جانے کی وجہ سے موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے ان فارغ بیٹھے والوں کی ایک تصویر بنا لی ، یہ تھا جی پاکستان ایمبیسی کا
سٹال
جس میں فروخت کے لیے رکھے ہوئے تھے
آلو چھولے اور کباب

یہ ایک ریسٹورینٹ والوں کا سٹال تھا
جس میں خاتون
سیلز گرل بڑی عجیب سی لگ رہی تھی کیونکہ ابھی جاپان میں پاکستانی خواتین کام کرتی نظر نہیں آتییں اور اس تصویر میں ایک خاتون جاپانی لوگوں کو
مہندی لگا رہی ہے
جاپانی معاشرے میں مہندی ایک انوکھی چیز ہے ، مہندی سے جاپانی پچھلی دو دہائیوں ہی میں واقف ہوئے ہیں ۔ہو سکتا ہے کہ تاریخ کے کسی اور دور میں بھی جاپانی اس چیز سے واقف ہوں مگر ہم نے جب جاپان میں قدم رکھا تو ان لوگوں کو مہندی سے ناواقف ہی پایاتھا۔ یہ ایک
تصویر
میں نے بچپن میں اپنے نصاب میں کہیں دیکھی تھی اب یاد نہیں کہ چوتھی جماعت میں تھی غالباً؟ بازار کے داخلے کے فوراً بائی طرف طوکیو کا چڑیا گھر ہے
اس تصویر میں
میں نے پاکستانی جھنڈے کے ساتھ چڑیا گھر کو اس لیے دکھایا ہے کہ جب ہم جاپان میں آئے تھے اور سٹے ہوا کرتے تھے اس وقت کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم اس لائق ہو جائیں گے کہ یہاں کوئی پروگرام کر لیں ، نیچے والی تصاویر میں ڈانسر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔
پس منظر میں فوارہ چل رہا ہے


یہاں شیرو بھی آیا ہواتھا
شیرو

یہ صاحب جو کیمرے کے ساتھ ہیں ان کا نام ہے
شیخ فیاض حسین
یہ صاحب جب بھی تصویر بناتے تھے اپنا ہیٹ کسی کو پکڑوا دیتے تھے ، غالباً عام طور پر ان کے ساتھ ہیلپر ہوتا ہے لیکن اس دن شیخ صاحب اکیلے تھے ۔ دو تین دفعہ میں نے بھی ان کا ہیٹ سنبھالنے کا شرف حاصل کیا ہے ۔

یہ جی مفت مشروبات کی سبیل لگائی ہوئی تھی شہزاد علی بہلم صاحب نے اور اس پر کھڑے تھے
طلعت بیگ اور بٹ صاحب
لیکن یہ بٹ صاحب اصل میں خواجہ صاحب تھے اور بٹ صاحب نہیں کہلوانا چاہتے تھے ، طلعت بیگ صاحب پاکستان ایسوسی ایشن (منتخبہ)کے نائب صدر ہیں ۔ ان کو گلہ تھا کہ ایمبیسی والے کچھ لوگوں کو کچھ لوگوں پر ترجیع دیتے ہیں جو کہ نہیں ہونا چاہیے
ایمبیسی والوں کو سب ہی لوگوں کو ایک آنکھ سے دیکھنا چاہیے ،
اور یہ ہیں جی
زبیر بھائی صاحب
ان کا تعلق صحافت سے ہے اورجاپان سے یہ انٹر نیٹ آن لائین پوڈکاسٹ نیوز نکالتے ہیں زبیر بھائی اردو کو نستلیق میں ہی لکھنا پسند کرتے ہیں اس لیے ان کی سائٹ ایمجیز کی شکل میں ہوتی ہے ۔

یہ ایک ویڈیو ہے جی ذرا ہلا گلا کا ، میرے کیمرے سے کچھ ایسا ہی بنتا ہے

امید ہے کہ آپ پسند کریں گے ۔

Tags: Articles , Khawar King