Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'Ejaz Ahmed'

Pages: 1 2 3 ... 48

ہمارے حکمران۔۔ پاکستانیوں کے معاشی قاتل ‘ کالم ‘ اعجاز احمد

November 18th, 2008 · No Comments

Ejaz Ahmed

پاکستان کے معرض وجود میں آئے61 سال گز ر گئے ۔ پاکستان کی61سالہ تاریخ میں 20وزرائے اعظم ، 16 صدوراور تقریبا 14 فوجی جرنلز اقتدار پر برا جمان رہے۔ مگر یہ ہماری بد بخت قوم کی بد قسمتی ہے کہ 61 سال گزرنے کے با وجود بھی زندگی کی اعلی ضروریات کیا ہم بنیادی ضروریات بھی حا صل نہ کر سکے۔ یہ بھی 17 کروڑ قوم کی بد بختی اور بد قسمتی ہے کہ ہمارے موجودہ حکمران اتنے کر پٹ، بد عنوان ، لا لچی خود عرض اور ملک اور قوم کو لو ٹنے والے ہو تے ہیں کہ ہم ماضی ۔۔اور ماضی قریب ۔۔کے حکمرانوں کی کرپشن، بد عنوانی اور لوٹ کھسوٹ کو نہ صرف بھول جاتے ہیں بلکہ ُان حکمرانوں کو یاد کر تے اور انکی تصویریں گاڑیوں اور ٹرکوں پر لگا تے ہیں۔دنیا کی مختلف اقوام ترقی، کا مرانیوں اور کامیابیوں کی منزلیں طے کر رہی ہیں اور ہم اکیسوی صدی میں بھی سوئی گیس بجلی، پینے کے صاف پانی، پرائمری تعلیم اور اس طرح کی بے تحا شا بنیادی ضروریات کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ اگر ہم دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو ساؤتھ کو ریا، چین ، اسرائیل، انڈو نیشیاء ہمارے ساتھ ایک ہی وقت میں دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے تھے اور اسکے علاوہ کئی اور ممالک جس میں کویت، بحرین، مسقط اور ملائشیاء ہم سے 10 اور 20 سال بعد وجود میں آئے مگر دوسری بہت ساری اچھی سماجی اور اقتصادی نشانیوں کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی فی کس آمدنی پاکستان سے کئی چند زیاد ہ ہے۔ مثلاً ساؤ تھ کو ریا کی فی کس آمدنی ایک لاکھ 23 ہزار روپے ، اسرائیل کی فی کس آمدنی ایک لاکھ 30 ہزار روپے اور انڈونیشیاء کی فی کس آمدنی 10500 ہے۔ اسکے علاوہ کویت کی فی کس آمدنی 2لاکھ 2 ہزار، متحدہ عرب امارات کی فی کس آمدنی65ہزار روپے، بحرین کی فی کس آمدنی ایک لاکھ ایک ہزار، قطر کی فی کس آمدنی 2 لاکھ 95 ہزار روپے اور ملائیشاء کی فی کس آمدنی 38ہزار روپے ہے۔ اسکے بر عکس ہم پاکستان کی فی کس آمدنی دیکھیں تو یہ بمشکل 5000 روپے ہے اور وہ بھی صدر آصف علی زرداری، شریف برادران، سہگل اور لاکھانی گروپ اور دوسرے بڑے بڑے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، کا خانہ داروں اور وڈیروں کے وسائل کو پاکستان کے 17 کروڑ غریب عوام پر تقسیم کر کے فی کس آمدنی بنائی جاتی ہے۔اگر ہم ان وڈیروں ، کا رخانہ داروں، جاگیر داروںکے وسائل کو ایک طر ف کر دیں اور پاکستان کے وسائل سے اشر افیہ کے وسائل کو نکال کر اصل لوگوں پر تقسیم کر دیں تو پاکستان کی فی کس آمدنی بمشکل دو ڈھائی ہزارکے درمیان ہوگی۔ حکمران بتائیں کہ مہنگائی کے اس دور میں جب ایک روٹی پانچ روپے کی، دال 80 روپے کلو ، چینی 40 کلو، گاڑی کے سٹاف ٹو سٹاف کرایہ 12 روپے اور رہنے کے لئے ایک 8ضرب8فٹ کا بھیٹک 5 ہزار کا ہے، 6 عدد افراد کا ایک خاندان کس طرح اسپر گزارہ کر سکتا ہے؟۔یہ ہمارے لئے کتنی شرم کی بات ہے کہ جنوبی ایشیاء میں ہم بھارت، مالدیپ، بھوٹان، فلپائن اور دوسرے کئی ممالک سے فی کس آمدنی میں پیچھے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کی فی کس آمدنی 6000 روپے، بھوٹان کی 10 ہزار روپے، فلپائن کی فی کس آمدنی11 ہزار روپے،جبکہ مالدیپ کی فی کس آمدنی 19000 روپے ہے۔ ایک جو ہری اور میزائیلی طاقت ہو کے بھی ہم جنوبی ایشیاء میں بُہت سارے ممالک سے پیچھے ہیں۔ دراصل بات یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس قدرتی اور دوسرے وسائل نہیں ، مگر بد قسمتی سے ہماری قیادت اتنی کرپٹ، بد عنوان اور نااہل ہے کہ ہم قوموں کی برادری میں بے تحا شا وسائل کے با وجود بھی کوئی قابل ذکر مقام نہ بنا سکے۔جسکا نتیجہ یہ ہے کہ کبھی ہم ورلڈ بینک، آئی ایم ایف ، ایشئن بینک ، فرانس کلب سے قرضے مانگتے ہیں، کبھی اپنے لوگوں کو خود دہشت گر د اور انتہا پسند قرار کراُجرتی قاتل بنکر انکو مار کر امریکہ اور دوسرے مغربی دوسرے ممالک کو زبر دستی فرینڈ آف پاکستان بناکر اُسکو بھٹورنے اور بھیک مانگنے کی کو شش کر تے ہیں۔ایک مختا ط اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 6000 ارب ڈالر کا کوئلہ، 5000 ارب ڈالر کا سونا، 50 ہزار میگا واٹ تک پانی سے بجلی پیدا کر نے کی صلا حیت، ایک ہزار میل سا حلی علاقہ جس پر ہزاروں ونڈ ملز لگا کر بجلی پیدا کر نے کی صلا حیت، 45ملین جانوار جس سے گھریلو سطح پر ایندھن پو را کر نے کی استعداد اور اسکے علاوہ ایسے بے تحا شا وسائل ہیں جس سے استفادہ یا جا سکتا ہے۔علاوہ ازیں پاکستان میں گندم ، مکئی، چاول، کپاس، آم اور اسکے علاوہ بے شمار فصلیں ہو تی ہیں مگر ہمارے حکمران ن وسائل سے فا ئدہ اُٹھانے میں ناکام رہے۔ہمارے حکمران اتنے کر پٹ اور بد عنوان ہیں جو ملکی وسائل کو لوٹ لوٹ کر اپنی تو تجو ریاں بھر لیتے ہیں مگر اُنکو کبھی بھی اپنے عوام کا خیال نہیں ہو تا۔ انکی عیاشیوں کے لئے جب کبھی پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے تو یہ پھر ملک کی کمزار اقتصا دیات کا بھانہ بناکر ورلڈ بینک آئی ایم ایف اور اور دوسرے کئی مالیاتی ایجبسیوں سے بے تحا شا قر ضے انتہائی بھاری سود اور انتہائی سخت اور مشکل شرائط پر لیتے ہیں اور اس طرح اپنی تجو ریاں اور فارن کرنسی کے اکاؤنٹ بھر دیتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو ملکی وسائل کو انتہائی ایمانداری اور دیانت داری سے استعمال کر نا ہوگا ۔ اور جن جن سیاست دانوں جسمیں سابق وزرائے اعظم، صدور ، فوجی جرنلز، بیورو کریٹس ملوث ہیں اُ ن سے لوٹی ہوئی رقم واپس لیکر ملکی خزانے میں جمع کر نا ہوگا اور نکا کڑا احتساب کر نا ہوگا کیونکہ اس ملک کے غریب عوام اب مزید کسی اور امتحان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اب ہمارے موجودہ حکمرانوں نے ایک رَٹ لگائی ہوئی ہے کہ ہم مفاہمت کی سیا ست پر یقین رکھتے ہیں اور ہم نے ماضی کودفن کر دیا۔ مگر اسکا یہ مقصد قطعاً نہیں ہو نا چاہئے کہ ہمارے جنِ جنِ حکمرانوں اور بالخصوص صابق صدر پر ویز مشرف نے جو پیسے لوٹے ہیں انکو معا ف کیا جائے۔یہ ملک کسی کے با پ دادا کی جاگیر نہیں ۔ یہ ملک17کروڑ یتیموں ، غریبوں، بیواؤں، مسکینوں، لاچاروں کا ملک ہے جس کے لئے یہ غریب لوگ اپنی خون پسینے کی کمائی میں ٹیکس دے کر ملک کا نظام چلتا ہے۔

Tags: Columns , Ejaz Ahmed