Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'Dr Ashfaq Rehmani'

Pages: 1 2 3 ... 38

سماجی شعور اور خوش اخلاقی کے فروغ میںنوجوانوں کا کردار ۔ تحریر ۔ڈاکٹر اشفاق رحمانی

August 12th, 2008 · No Comments

Dr.Ashfaq Rehmani

تاریخ شاہد ہے، معاشرہ میں اعلیٰ بصیرت کو قائم و دائم رکھنے والوںنے جو دراصلاس مقصد کے لئے اٹھے کہ انسانی عقل و فکر ، سائنس ، فلسفہ ، ریاضی، فلکیات، ارضیات،معاشی ، معاشرتی،لسانی، تمدنی زندگی پر طاری جمود کو توڑ کر، علم و فکر کے بہتے ہوئے دریا کی سطح پر جم جانے والی کائی کا دور کر یں اور اس معاشرے میں رائج ان رسموں، عادات اوررواجوں کی زنجیروں کو توڑیں جن کی نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ ہی کوئی مقبولیت، انہی افراد نے شعوروآگاہی کی تحریکوں سے سماجی شعور اور خوش اخلاقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے معاشرہ کی جامد عقلوںکو جھنجھوڑا اور اقوام بالخصوص نوجوانوں کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کیا۔ نوجوانوںاور معاشرے کے ذمہ دار افراد میں سماجی شعور اور خوش اخلاقی کے فروغ کو نمایاں کرنے والے افراد کے ہاتھوں ہی عظیم الشان سلطنتوں کی بنیادیں پڑیں، فلسفہ وعقل کی جلوہ آرائی ہوئی، علم و فن نے ترقی کی، بیسیوں نئے علوم اختراع ہوئے۔ معاشرے میں امن، محبت، بھائی چارہ اور اخوت کی راکھوں بے مثال مثالیں سامنے آئیں۔ اپنی باشعور افراد نے یہ بھی ثابت کیا کہ عقل و شعور والی نوجوان نسل ہی اپنے زمانے کو اور زمانہ کی مشکلات کو سمجھ سکتی ہے، زمانہ کی ،صحیح اور معقول تقاضوں کی تکمیل کر سکتی ہے۔ زمانہ کا ساتھ دے سکتی ہے اور صرف ساتھ ہی انہیں بلکہ اپنے زمانہ کی قیادت و رہنمائی کر سکتی ہے اور اس بات کا عملی ثبوت پیش کر سکتی ہے کہ وہ ہر زمانے کے سوالات کا جواب،مشکلات کو حل اور ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی اور ہر دور میں قیادت کی صلاحیت رکھتی ہے۔ زیر نظر مقالہ وزارت امور نوجوانان کے زیر اہتمام قومی مقابلہ مضمون نویسی برائے نوجوانان بعنوان’’سماجی شعور اور خوش اخلاقی کے فروغ میں نوجوانوں کے کردار‘‘کے سلسلے میں آپ کی خدمت میں حاضر کئے۔ صاحب، زندہ قوموں کی بعض خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ماضی اور حال پر نظر دوڑاتی ہیں اور تنقید کرتی ہیں ،تنقید کرنے کا شوق ہر انسان کو ہوتا ہے لیکن عموماً ایک فرد دوسرے فرد یا افراد پرتنقید کر کے خوش ہوتا ہے اور ایک قوم دوسری قوم پر تنقید کرکے اور خصوصاً اس کے عیوب کی نشاندہی کر کے خوش ہوتی ہے۔ تنقید ہر صورت میں ایک اہم خواہش ہے لیکن بہترین اور سب زیادہ مفید تنقید وہ ہوتی ہے جو دوسروں پر نہیں بلکہ خود اپنے آپ پر کی جائے ، دوسروں کا محاسبہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود اپنی نسل ، قوم کا محاسبہ کیا جائے۔ باشعور افرادکے نزدیک کسی قوم کے ذہنی طور پر’’بالغ‘‘ ہونے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو، اپنے ماضی اور حال کو تنقید کا موضوع بنائے اور اگر خود میںکوئی خامی نظر آئے تواس کی ذمہ داری دوسرے افراد یا کسی قوم پر ڈالنے کی بجائے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ اس شکست (ناکامی) میں خود اس کا اور اس کی قوم کے دیگر افراد کا کیا حصہ ہے۔زندہ قومیں اور خاص طور پر نوجوان نسل اس قسم کے تجزیے اور تنقید سے اہم نتائج اخذ کرتی ہیں اورماضی و حال کی خامیوں اور غلطیوں کو سمجھ کر مستقبل کے لئے صحیح راستے تلاش کرتی ہے۔ کہنے کامقصد یہ ہے کہ مغربی ممالک اور خصوصاً یورپ کے مفکرین نے ان تین صدیوں، چار صدیوں میں اسی قسم کی کوششیں کی ہیں اور حاصل رہنمائی کی روشنی میں اپنی قوم کی بے راہ روی،جذباتی نوجوان طبقہ اور شعور وفکر سے عاری افراد کے اسباب کی نشان دہی کر کے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی تلافی کر کے ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے۔ معاشرے میں سماجی شعور اور خوش اخلاقی کے فروغ میں نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے خاص طورپر میں عرض کرتا چلوں کہ الہامی صحیفوں اور خصوصاً قرآن مجید، فرقان حمید میں قوموں کے عروج و زوال اور اخلاقی اقدار و سماجی شعور و آگہی کے بارے میں نہایت واضح اشارے ملتے ہیں، جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اخلاق کا اعلیٰ ترین نمونہ بنایا گیا اور اسلامی تعلیمات نے ہی معاشرے میں رہن سہن اور ایک دوسرے کے حقوق کے بارے میں آسان لفظوں میں آگاہ کیا۔ جبکہ حکمائے یونان، افلاطون، ابن خلدون ، ارسطو نے بھی معاشرے میں سماجی شعور اور خوش اخلاقی کے فروغ میں نوجوانوں کے کردار پر طویل بخش کر کے انہیں درست سمت لاکھڑا کرنے کی بھر پور وکامیاب کوششیں کی۔

صاحبو، سماجی شعور اور اخلاقیات وہ معاشرتی علوم ہیںجو فلسفہ، تاریخ ، نفسیات، عمرانیات سیاسیات اور علوم انتظامیہ کی مکمل آگہی کے بغیر ممکن نہیں۔ تاہم میں لہاں چند مذکورہ نقاط کے بارے میں عرضکرنا اہم سمجھتا ہوں جیسے ’’فلسفہ‘‘ زمانے میں ہونے والے حادثات کو عقل کی کسوٹی پر پر کھنے کے نتیجے میں جو علم انساننے حاصل کیا اسے علم فلسفہ کہا جاتاہے۔ فلسفے کی وسعت اور گہرائی میں تحقیق و تدوبن، مشاہدے کے نتیجے میں سائنس کو راہ ملی اور مطالعے کے ذریعے حقیقت کا سراغ لگانے کے لئے مادہ، نباتات اور حیاتیات کے علم ذخیرہ کئے تاہم مطالعے سے سماجی شعور اور اخلا قیات جیسے علوم کے بارے میں راہ کھل سکتی ہے جبکہ شعور (سوچ)اور اخلاق(عمل)میں تضاد ہو تو آپ مکمل اور با عمل انسان نہیں بن سکتے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں اور دنیا بھر کے انسانوں کو اخلاقی اقدار اور فکر و عمل کا ایسا درس دیا کہ اس کی نظر نہیںملتی،سوچ کی ابتداء اس دور سے شروع ہوئی جب انسان نے شعور کو استعمال کرنا شروع کیا۔ انسان اور اس کی نسل نے تجسس، دریافت اور ایجادات کو جنم دیا، اس نے اپنے دینی اعمال ، عقل، ودانش،اور فکر و جستجو کے نتیجے میں کیوں اور کیسے کے جواب تلاش کر کے بہت سے علوم ایجاد کئے،اس ساری تمہیدکا مقصد ایک ہزار سال تک قائم رہنے والی مملکت روما کے زوال کا سبب سننے والی سب سے اہم علامت کا ذکر کرنا ہے جب تعلیم غلاموں کے سپردکر دی گئی۔اگر نوجوانوں میں سماجی شعور پیدا کرنا اور ان کو اخلاقی اقدارکے تحفظ اور عملی زندگی میں معاون بنانا ہے تو تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں ہو سکتا،قارئین محترم! عظمت اور طویل عرصہ حکومت کے لحاظ سے اہل روما کا صرف مسلمانوں ہی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے جن کی حکومت کم و بیش اسی قدر طویل عرصہ تک مہذب دنیا کے مختلف حصوں میں قائم رہی۔ مملکت روما اور مسلمانوں کی حکومت میں ایک تاریخی تسلسل یوں بھی عام نظر آتا ہے۔ کیونکہ مملکت رومانے یونانی تہذیب کے زووال کے تہذیبی خلا کو پر کیا اور اسلام نے اسی تہذیبی خلا کو پر کیا جو مملکت روما کے زووال سے پیدا ہوا۔ دنیا عالم میں بغداد کے بعد دو بڑی عظیم الشان سلطنتوں کا ذکر ملتا ہے ایک اسلامی سلطنت سے پہلے اور ایک اس کے بعد، ان تہذیبوں میں ایساکیا تھا کہ ہم نوجوانوں کو مثال کے طور پر پیش کر سکیں اور اپنے اندر موجودہ عہد میں سماجی شعور اور اخلاقی اقدار کو پروان چڑھا سکیں، بغداد کی بات کرنے سے پہلے میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان دونوں مملکتوں (دلی اور روما) کی اعلیٰ قدار جو فلسفہ، تاریخ، نفسیات، عمرانیات،سیاسیات اور علوم انتظامیہ) کا زووال ان کا تقابل اور ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کو در پیش مسائل، چیلنجز اور ان کا تدارک اور خاص طور پر نوجوانوںمیں سماجی شعور اور خوش اخلاقی کے فروغ میںمعاونت کرنا ہے۔ کیونکہ تمام الہامی مذاہب میں اسلام نے عقل و شعور اور اخلاقی اقدار کا جو درس دیا کن وجوہات کی بنیاد پر اس کا عملی مظاہرہ آج نظر نہیں آتا کا بھی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کرونگا ۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تاریخ کی عظیم سلطنت میں اقوام نے وہ اکھاڑے بھی دیکھے ہیں جہاں رومن انسانوں کو انسانوں سے لڑواتے تھے اور ان طرح لڑواتے تھے کہ دو آدمی اس وقت تک لڑتے تھے جب تک ایک دوسرے کو قتل نہ کر دیں اور ایسے مقامات بھی دیکھے ہیں جہاں انسانوںکو شیروں کے آگے ڈال دیا جاتا تھا اور وہ فورم بھی دیکھے ہیں جہاں روما کے اہم سیاسیمسائل پر بحث ہوتی تھیں اور عوام کے نمائندے ایسی موثر تقریریں آتے تھے جو تاریخ اور ادب کا حصہ بن چکی ہیں(مملکت روما حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے ذرا پہلے قائم ہوئی اور آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے قبل زووال آمادہ ہو کر ختم ہو گئی) میں نوجوان ساتھیوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اہل روما اپنے زوال کے دور میں علم و حکمت میں کم دلچسپی رکھتے تھے اور کھیل تماشے کی طرف زیادہ راغب ہو گئے تھے۔ چنانچہ تعلیمی پیشہ جو یونانی تہذیب میں چند وقیع ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا تھا اب ایک حقیر پیشہ تصور کیا جانے لگا تھا۔ جب علم ہی کی قدر کم ہو گئی تو تعلیم کی قدر کیا رہتی ، لہٰذ اہل روما کے بہترین افراد کھلاڑی بن گئے اور تعلیم و تدریس کا کام غلاموں کے سپرد کر دیا گیا۔ جی ہاں اس زمانے میں ہر کھاتے پیتے گھر میں غلام ہوتے تھے اور یہی غلام حلم ہوتے تھے اور شب و روز اپنے آقا کی خدمت کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کو پڑھاتے بھی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے یہاں اس وقت تعلیم کا نظام کس قدر تاقص تھا۔ بات یہ تھی کہ مملکت روما میں ایک جا گیر دارانہ اور غیر مجبوری نظام رائج تھا۔ قدرومنزلت کے حقداروہی تھے جو ایسے معاشریمیںپروان چڑھتے ہیں۔ ایسے افراد کی قدر کی جاتی تھی جو امراء کو آسانی سے خوش کر سکیں، مغربی مورخیں گبن سے بے کر مائیکل گرانٹ اور جو نزتک متنیق ہیںکہ مملکت روما کے زووال میں نوجوانوں کی تعلیم اور عملی مشاغل میںکم دلچسپی تھی جس سے نوجوانوں میں فکری شعور کی کمی آتی گئی۔ موجودہ عہد کے نوجوانوں میں سماجی شعور اور خوش اخلاقی کے فروغ کے لئے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ نوجوان ساتھیوں کو برہی مملکتوں کے افراد اور خاص طور پر نوجوانوں کے حالات سے اگاہ کیا جائے اور ان نوجوانوں کے نظام تعلیم اور معاشرت کے بارے میں حقائق سے مطلع کیا جا ئے۔ اسلامی سلطنت سے پہلے کی سلطنت روما کے ساتھ ساتھ اگر اسلامی سلطنت کے مرکز بغداد کا ذکر نہ کیا جائے تو انصاف نہ ہوگا۔ بغداد کے نوجوانوں نے وہ دور بھی دیکھا تھا جب عنان حکومت ہارون الرشید ، جیسے علم دوست فرما نروا کے ہاتھوں میں تھی جس نے دانشوری کی قدر افزائی کی اور اس دور کے حکومت میں اہل علم و دانش نے علوم و فنون میں ایسے ایسے شاہکار تخلیق کئے جن سے یورپ کے فلسفی اور سائنس دان صدیوں تک استفادہ کرتے رہے۔ پھر ایسا دور بھی آیا جب اسی بغداد میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں ایک حاکم نے ایک جہد عالم اور سائنس دان کو کسی معقول وجہ کے بغیر قید کر دیا اور پندرہ سال تک یہ دانشور قیدوبند کی سعوجتیں برداشت کر رہا یہ عظیم انسان محقق خواجہ لضیر الدین طوسی تھا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہیکہ ہمارے مغل بادشاہوںکے زمانے میں بڑے بڑے محل، مسجدیں، مقبرے تعمیر کروائے جن کی شان و شوکت کی دنیا معترف ہے، لیکن نو گر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لیجئے۔ کیا ہمارے اس سنہری دور میںکوئی یونیورسٹی بھی قائم ہوئی؟یا عوام کی اعلیٰ تعلیم کے لئے کوئی اسکیم مرتب ہوئی ؟کوئی ایسا عالم بھی پیدا ہوا جس کے اکفارنے دنیا کو متاثر کیا ہو، اکبر کے نورئن کا ادارہ قائم کیا لیکن وہ جلد ہی رتنوں کے مرنے کے بعد ختم ہو گیا۔ موجودہ عہد تک ما سوائے سر سید احمد خاں کی ہی گڑھ یونیورسٹی کے 2-3سو سالوں میں کوئی ایسا عظیم علمی ادار موجود نہیں آیا جو قوم میں صحیح نظر و بصیرت کی تخلیق کرنا، سنجیدہ فکر و تحقیق کی حوصلہ افزائی شاذہی کی گئی ، صاحبو، علم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور شعور کے بغیر نوجوان نسل تب ہی کے دھانے پر ہوتی ہے اور نوجوان نسل کسی ملت کا نام و نشان ہوتی ہے۔

عزیز!، انسانی تاریخ میں اسلام کی حیثیت ایک دین فطرت ہی کی نہیں، ایک عظیم ذہنی اورماشرتی انقلاب کی بھی ہے۔ اسلام کے ظہور کے وقت دنیا شدید تہذیبی انحطاط سے دو چار تھی، آج کا تہذیب یافتہ یورپ قرون وسطیٰ کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا، وادی نیل، وادی دجلہ و فرات، وادی سندھ ،کی قدیم معاشی، معاشرتی، ہندوستان میں ویدوں، یونان میں طالیس، میشاغورت سے لے کر افلا طون اور ارشطو کے دور تک، یونانی اکفار کے سنہری دور کے خاتمہ اور کسی طرح مشرق اور مغرب میں تہذیب کا ایک خلا پیدا ہو گیا، اس خلا کو اسلام نے نہایت کامیابی سے پر کیا چھٹی صدی عیسوی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، چالیس سال کے غوروفکر ، عبادت اور عملی زندگی گزارنے کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کو اپنے قوم و عمل اور آسمانی صحیفہ’’قرآن مجید‘‘کے ذریعے انسان سے متعارف کرایا۔ اپنے قول و معل کے عملی مظاہرے کی وجہ سے ہی ایک قدامت پرست پسماندہ اور غیر منظم قوم کو روحانی اورمادی ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اور ایک صدی سے کم عرصہ میں ہندوستان سے لے کر سپین اور جنوبی فرانس تک کا علاقہ اس عملی تعلیمات کے زیراثر آگیا۔ اہل مغرب نے مسلمانوں کے کارناموں سے بے انتہا استفادہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل مغرب نے یونانی فکر وفلسہ کو بھی مسلمانوں کی مدد سے سیکھا۔

دنیا کے ہر پیغمبر نے اپنی امت کے سامنے حیرت انگیز معجزے پیش کئے، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت موسی علیہ السلام ، حضرت عیسٰی علیہ السلام مگر ایک ایک ایسا پیغمبر بھی آیا جس نے عملی مظاہرہ (تعلیم، اخلاق، شعور، رہن سہن)سے عقل کے اندھوںکو بینا اور بنی آدم کی جمعیت کو غفلت و بے ہوشی کی نیند سے جگا کر ہوشیار اور کفر کی ہلاکت سے بچا کر زندہ کیا۔

عزیز !ساتھیوں !ہمارے سامنے عظیم ہستیاں آپ کے سیکھے، سمجھنے اور عملی زندگی گزارنے کے لئے انتہائی اہمیت رکھتی نہیں۔ کسی قوم یا ملک کا سرمایہ نوجوان نسل ہوا کرتی ہے۔یہی وہ طبقہ ہے جو کچھ کرنے کا جذبہ رکھتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیںجو بڑے سے بڑا معرکہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور یہی وہ نسل ہے جو معاشرے میںمعاشی و سمانی ، اخلاقی انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے کہ دنیا میں جب بھی جہاں کہیں بھی کوئی اخلاقی انقلاب برپا ہوا اس میں نوجوانوں نے بھر پور کر دار ادا کیا۔

لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب نوجوان نسل کی تر بیت اچھے اسلوب پر کی جائے، فرد قوم سرمایہ اورملت کا سرمایہ ہوتا ہے اور اگر یہ فرد نوجوان ہوتو اس میںہر سطح کے شعوری و اخلاقی فیصلے بڑی اہمیت رکھتے ہیں جوان کی تر بیت و تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔

تحقیق اور جستجو، نوجوانوں کا شعار ہونا چاہئے۔ مختلف میدانوں اور شعبوں میں اپنی تحقیق اور جستجو کو بروکار لا کر کامیابی وکامرانی کی مثالیں قائم کر نا ہونگی تاہم کسی بھی میدان یا شعبے میں زیادہ مہارت ایسے ہی نوجوانوں کو حاصل ہوتی ہے جو اخلاقی اعتبار سے مستحکم ذہنیت کے حامل ہوں۔ اور یہی صفت غوروفکر کی صلاحیت کو اچاگر کرتی ہے۔ معاشی حوضوعات کی کتب جہاں حقیقت اور معاشی مسائل کے ادراک کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں وہاں شعور و آگہی اور اخلاقی تر بیت کے لئے بڑوں سے مکالمہ اور اسلام کی اعلیٰ روحانی و اخلاقی قدروں کا دلی نوجوانوں کو ہی نہیںملت کے ہر فرد کے لئے نہایت ضرورت ہے۔ ہم ایک بہترین قوم کے بہترین نوجوان اسی صورت بن سکتے ہیں جب ہم باشعور اور بلند اخلاقی اقدار کے حامل ہونگے اور بلند اخلاقی پیدا کرنے کا ایک اہم نسخہ حضرت علی رضی اللہ عنہ استہ وجہ نے بیان فرمایا’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے’’ اپنے آپ کو ایماندار بنا لو اور سمجھ لو کہ دنیا سے ایک بے ایمان کم ہو گیا ہے۔

انسان کی عملی زندگی کا بیشتر حصہ اس کی سوچ ہی کا نتیجہ ہوتا ہے اور فکر کے تین اہم پہلووں میں پہلے نمبر پر ایسے اکفار ہیں جن کی بنیاد زیادہ تر عقیدے پر ہوتی ہے، دوئم ایسے افکار ہیں جن کی بنیاد زیادہ تر جذبات پر ہوتی ہے جبکہ سوئم ایسے افکارجن کی بنیاد زیادہ تر عقل پر ہوتی ہے۔ایک صحت مند انسان کے لئے یہ تینوں انداز فکر ضروری ہیں اور انکی اپنے اپنے مقام پر مساوی اہمیت ہے۔ یہ تین اندازے فکر ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔اسلام کی ایک اہمیت خصو صیت یہ بھی ہے کہ اس نے ان تینوں انداز فکر میں توازن قائم رکھنے کی تعلیم دی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ علم و حکمت کی اہمیت کو واضح فرمایا اور حکمت ، اخلاق، شعور کی بیداری کو’’خیراً کثیراًکہا ہے۔ مختصر یہ کہ اسلام اور قرآن نے انسان کو ہدایت کی کہ ذہنی جمود اور تنگ نظری کو ختم کیا جائے اور ذہن کو آمادہ کیا جائے کہ وہ تمام تعصبات سے آزاد ہو کہ ذہن کو نئے افکار، نئے تقاضوں اور نئے مسائل کو سمجھنے کے لئے تیار کرے۔ نوجوانوں ساتھیو!اصل چیز کر دار ہے۔ اعلیٰ اخلاق اور باشعور نسل ہی کسی ملک و قوم کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔ اور وہی ملک و ملت ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکتی ہے جس کے افراد اور نوجوان نسل با ہمت، جدوجہد اور باشعور اور سماجیات میں بھر پور عملی مظاہرہ کا حامل ہوں۔ اگرکسی قوم کے نوجوان بد اخلاقی اور شعوری بے راہ روی کا شکار ہو جائیں یا کر دئیے جائیں تو اس ملک و ملت کے دشمنان کو ان پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں اور اس نسل کو بھی شکست اور پستی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ آئیے عہد باندھیں کہ سماجی شعور کی بلند سطحیں اورخوش اخلاقی کے فروغ دیں تاکہ معاشرے میں امن ، بھائی چارہ، اخوت، مساوات، غربت کا خاتمہ، اُنچ نیچ کا فرق اور طبقاتی نظام کا خاتمہ ہو سکے اور ملک و قوم دن دگنی رات چگنی ترقی کر سکے۔

Tags: Articles , Dr Ashfaq Rehmani