Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'Akram Khan Faridi'

Pages: 1 2 3 ... 23

ریلوے کی کرپٹ انتظامیہ ‘ تجزیہ ‘ محمد اکرم خان فریدی

November 14th, 2008 · No Comments

Muhammad Akram khan fridi

بیروزگاری، اغواء ،ڈاکے ،چوریاں ،قتل و غارت،گینگ ریپ،سیاستدانوں کا مفادات کے لئے ہمدردیاں بدلنا اور نجانے کون کون سی اذیتیں ہیں جو پیارے پاکستان کو نہیں دی گئیں ۔ملکی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو اسکی تاریخ سیاسی و محلاتی سازشوں اور ریشہ دوانیوں اور طالع آزماؤں کی مہم جویانہ سرگرمیوں سے بھری پڑی ہے ۔افسوس صرف اِس بات کا ہے کہ ماضی کی داستانوں سے عوام اور سیاستدانوں نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے جسکے نتیجہ میں قائد اعظم کا بنایا ہوا ملک دو ٹکڑے ہو گیا بلکہ اندرونی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے باعث قائد اعظم نے پاکستان کے بارے میں جو خواب دیکھا تھا وہ بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ۔علامہ اقبال نے اِس پیارے پیارے پیارے پاکستان کا خواب دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ


آسمان ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمتِ رات سیماب ہو جائے گی

اے اقبال! تو کہا کرتا تھا کہ یہ قوم دوسری قوموں کو راہ دکھلایا کرے گی ،زرا دیکھ تیری مملکت میں کیا ہو رہا ہے ۔ذاتی خزانے بھرنے کے لئے ملکی مفادات کو نظر انداز کرنے کے علاوہ نظریاتی ہمدردیاں چھوڑ دی گئی ہیں ۔اے اقبال!تو اگر سُن سکتا ہے تو سُن کہ تیری مملکت سے محبت کرنے والے چہرے آج یہاں میسر نہیں ہیں ،اقتدار اور پیسے کے لالچ نے ہم سب کو اندھا کر دیا ہے ۔ہمیں معاشرے میں ہونے والی بے انصافیاں نظر ہی نہیں آرہیں۔ہر محکمہ کرپشن کا گڑہ بنتا جا رہا ہے۔مجھے چاہئے کہ میں تمام محکموں کی کرپشن کا زکر بھی کروں لیکن معذرت کے ساتھ قارئین کی توجہ آج پاکستان ریلوے کی طرف مبذول کرنے جا رہا ہوں ۔معزز قارئین ! مجھے پاکستان سے بہت زیادہ پیار ہونے کی وجہ سے میری اکثرو بیشتر کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے پیارے پیارے پیارے پاکستان میں ہونے والی خرابیوں کی وجوہات ڈھونڈھوں۔گزشتہ دو ماہ سے میرے زہن میں ایک سوال مجھے تنگ کر رہا تھا کہ پاکستان ریلوے خسارے میں کیوں ہے۔مجھے تنگ کرنے والے اِس سوال نے مجھے اتنا زیادہ تنگ کر دیا کہ میں مجبور ہو گیا کہ ریل پر بار بار سفر کرکے اِس سوال کا جواب ڈھونڈا جائے ۔میں نے لاہور سے فیصل آباد سیکشن میں سفر کرنا شروع کر دیا۔میں اکثرو بیشتر شیخوپورہ سے بیٹھتا اور فیصل آباد کے لئے ٹرین میں بیٹھ جاتا۔میں یہاں صرف ایک دِن کے سفر کے حالات قارئین کو بتاؤں گا۔

یہ کہ میں ایک روز فیصل آباد جانے کے لئے شیخوپورہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچا جہاں سب سے پہلے اکانومی کلاس کا ٹکٹ لیا جسکے چارجز 80روپے لئے گئے۔ٹکٹ لے کر جونہی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پہنچا تو ایک سٹال پر عوام کا ہجوم دیکھا ۔آگے بڑہ کر دیکھا کہ کیا ماجرہ ہے تو دیکھنے میں یہ آیا کہ لوگ وہاں سے نان اور پکوڑے خرید رہے ہیں ۔قارئین ! میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی گندگی نہیں دیکھی جتنی اُس سٹال پر تھی یا پھر اُس سٹال پر غیر معیاری اشیائے خوردونوش تھیں۔بہر حال وہاں موجود ایک صاحب سے سوال کیا کہ بالآخر اتنی غیر معیاری اشیاء فروخت ہو رہی ہیں اسکا زمہ دار کون ہے تو انہوں نے میری بات کاٹتے ہوئے جواب دیا کہ اسکی تمام تر زمہ دار ریلوے پولیس اور شیخوپورہ کے اسٹیشن ماسٹر ہیں۔بہر حال گاڑی کے انتظار میں اسٹیشن پر گھومنا پھرنا شروع کر دیا، اسٹیشن کے ارد گرد نظر دہرائی اور دیکھا کہ لوگوں نے سرکنڈے لگا کر ریلوے کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں کے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اِن سرکنڈوں کی وجہ سے وہاں بہت ساری ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی ہیں ۔ڈاکو شام کے وقت ریلوے کی زمین پر موجود اِن سرکنڈوں میں چھپ جاتے ہیں اور موقع ملنے پر راہگیروں کو لوٹ لیتے ہیں۔مقامی لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ اے ای این ریلوے شیخوپورہ اِس معاملے کی جانب بالکل توجہ نہیں دے رہے۔ریلوے اسٹیشن پر میں نے ایک سٹال پر چند نوجوانوں کو چرس والے سگریٹ پیتے بھی دیکھا لیکن معلوم نہیں کہ متعلقہ پولیس اہلکار اُن کے خلاف کاروائی سے کیوں گریزاں تھے۔اسی طرح ریلوے اسٹیشن شیخوپورہ پر گندگی کے منظر بھی خوب تھے اور صفائی کا نام ونشان بھی نہ تھا۔میں یہ سارے مناظر دیکھ رہا تھا کہ فیصل آباد جانے والی ٹرین آگئی جس میں بہت سے مسافر سوار ہوئے۔سوار ہونے کی دیر تھی کہ ٹرین میں گندگی دیکھنے کے ساتھ ساتھ بھکاریوں کی ایک لمبی قطار سے واسط پڑا ۔ایک بھکاری آ رہا ہے اور دوسرا جارہا ہے ۔عجیب و غریب آوازیں کستے ہوئے مسافروں کے سفر کو مزید تھکا دینے والا سفر بنانے میں موثر کردار ادا کر رہے تھے۔پولیس والے ٹرین میں گشت کر رہے ہیں لیکن بھکاریوں کو نیچے نہیں اتار رہے۔بہر حال ٹرین چلتی رہی ایک طرف بھکاریوں کی آوازیں اور دوسری جانب غیر معیاری جوس ،بوتلیں اور سموسے بیچنے والے مسافروںکوپریشان کرنے میں مصروف ہیں۔مجھے محسوس ہونے لگا کہ ٹکٹ میں نے صرف سفر کرنے کا لیا ہے اور یہ پریشانی مفت میں مِل رہی ہے۔دریں اثناء ٹکٹ چیکر صاحب تشریف لائے لوگوں سے ٹکٹ چیک کر رہے ہیں لیکن حیران کُن بات یہ ہے کہ وہ بغیر ٹکٹ مسافروں سے آدھے پیسے لے کر اُنہیں بغیر ٹکٹ سفر کرنے کی اجازت دے رہے تھے۔ٹرین میں گھوم کر دیکھا تو حیران کُن بات یہ تھی کہ جوس اور بوتلیں فروخت کرنے والوں نے آٹھ آٹھ سیٹوں پر بوتلیں اور برف رکھی ہوئی تھی جنکو روکنے والا کوئی نہ تھا۔ٹرین کو وقتِ مقررہ کی بجائے جگہ جگہ روک کر لیٹ کیا جا رہا تھا ۔بھکاریوں کی عجیب و غریب گونج سنتے سنتے کان تھک چکے تھے۔سیلز مینوں کے گندے لباس اور غیر معیاری اشیاء دیکھ کر میں اندر ہی اندر سے بہت کُڑھ رہا تھابہر حال ایک گھنٹہ لیٹ میں اپنی منزلِ مقصود فیصل آباد پہنچ گیا ۔اُسی روز میں نے فیصل آباد سے واپسی کی اور ابھی ریلوے اسٹیشن پر پہر پہنچا ہی تھا کہ بھکاریوں نے اسٹیشن پر ہی ڈیرے ڈال رکھے تھے۔وہ اسٹیشن پر موجود مسافروں کو بے انتہا تنگ کر رہے تھے لیکن وہاں کی انتظامیہ اِن بھکاریوں کو دیکھ کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔میں ٹکٹ لینے کے لئے ونڈو پر گیا جہاں ایک لمبی قطار میں مرد تو کیا خواتین بھی پریشان ہو رہی ہیں ۔شیخوپورہ سے فیصل آباد کے ٹکٹ کی قیمت 80روپے دے کر آیا تھا لیکن فیصل آباد ونڈو والے نے 90روپے چارج کئے ۔فیصل آباد اسٹیشن پر جتنا مسافروں کا رش تھا تو مجھے سکیورٹی بالکل نظر نہ آئی جبکہ وہاں بھی گندگی کا وہی عالم تھا جو شیخوپورہ میں ۔بہر حال ٹرین میں سوار ہونے کے بعد ویسے ہی حالات نظر آئے جو آتے وقت تھے ۔ابھی آدھا سفر طے کیا تھا تو میرا دِل کیا کہ ائر کنڈیشنر بوگیوں کا جائزہ بھی لیناچاہئے۔میں پارلر کار میں گیا جہاں ایک حیران کُن منظر یہ تھا کہ تمام ٹکٹ چیکر اور پولیس اہلکار پارلر کار میں گپیں لگا رہے ہیں ۔مجھے پولیس اہلکاروں کی وہاں موجودگی دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی ۔وہ اِس لئے کہ ٹرین میں بھکاری مسافروں کو تنگ کر رہے ہیں اور شائد کوئی دہشت گرد بھی تو بھکاری کے روپ میں آسکتا ہے لیکن اُنہیں کوئی پرواہ نہ تھی۔واپس شیخوپورہ پہنچا جہاں پلیٹ فارم پر موجود ٹکٹ چیکر سکندر جو مسافروں سے ٹکٹ وصول کر رہاتھا میں اُسے ٹکٹ دینے لگا جو ہجوم کی وجہ سے میرے ہاتھ سے گر گیا۔جس پر سکندر نامی ٹکٹ چیکر نے میرے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا جسکی تحریری شکائیت متعلقہ ریلوے پولیس اور اسٹیشن ماسٹر کو بھی کی لیکن افسوس کہ اُس کو اسکی کوئی بھی سزا نہ دی گئی ہے۔

قارئین! یہ تو تھی ریل کے زریعہ ایک چھوٹے سے سفر کی داستان،بہر حال میں انشاء اللہ اپنی تحقیقات مکمل ہونے پر آپکو اِن مذیدحقائق کے ساتھ ضرور آگاہ کروں گا جسکی وجہ سے ریلوے خسارے میں جارہا ہے۔بہر حال یہاں جنرل مینجرز ریلوے کو یہی کہہ سکتا ہوں کہ کچھ خوف خدا رکھتے ہوئے اپنے ملک کے ساتھ ہمدردی کریں اور اس کشتی کو ڈوبنے سے بچائیں ۔اسکے ساتھ آپ لوگوں نے جو سلوک کرنا تھا کر لیا اب اِس ملک کو معاف کر دیں اور ریلوے میں ہونے والی بد عنوانیاں ختم کر دیں ورنہ شائد کوئی وقت ایسا نہ آجائے کہ متاثر عوام آپ لوگوں پر پتھروں اور ٹماٹروں کی بارش کر دیں ۔کیونکہ اآب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔خدا راہ ٹرینوں کے ماحول کو بہتر کریں۔ٹرینوں میں اشیائے خوردونوش کا معیار بہتر کریں ۔اسٹیشنوں پر اسٹالز پر رکھی جانی والی اشیاء کے لیبارٹری ٹیسٹ کروائیں،اوورچارجنگ رکوائیں،ریلوے کی زمین واگزار کروائیں بلکہ کرپشن کا موجب بننے والے تمام عناصر کا احتساب کریں ۔لیکن یہ سب کچھ اُس وقت ہی ممکن ہو سکتا ہے جب آپ خود کرپٹ نہ ہوں گے۔

Tags: Akram Khan Faridi , Columns