Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'Abu Suffian'

Pages: 1 2 3 ... 6

چند گزارشات ۔۔۔میاں شہباز شریف کے نام ‘ کالم ‘ محمد ابو سفیان ملک

November 13th, 2008 · 1 Comment

محترم جناب شہباز شریف صاحب…….آپکواللہ تبارک و تعالیٰ نے دس سال بعد عوام کی خدمت کا موقع دیا ہے اور ہمیشہ کیطرح اِس بار بھی پوری قوم کی نگاہیں آپ پر لگی ہیں، اللہ آپ کو ہمت دے، حوصلہ دے اور لمبی عمر دے تا کہ آپ زیادہ سے زیادہ اِس عوام کی خدمت کر سکیں۔

جب کبھی میں مسلمان حکمرانوں کی تاریخ کے اوراق اُلٹتا ہوں تو کئی ایسے عظیم لوگوں کے واقعات نظر سے گزرتے ہیں جو انسان کے دل و دماغ پر اَن مِٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں، ایک واقعہ جو خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت کا ہے ذرا غور کریں’’ رات کا وقت ہے امیر المومنین رضی اللہ عنہ کچی آبادیوں میں پیدل گشت کر رہے ہیں چلتے چلتے ایک جنگل میں پہنچتے ہیں، کیا دیکھتے ہیں ایک بدو خیمے کے باہر پریشانی کی حالت میں بیٹھا ہے، امیر المومنین رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ائے اللہ کے بندے پریشان کیوں ہو؟ بدو جواب دیتا ہے جناب میری بیوی پیٹ سے ہے اُسکا بچہ ہونیوالا ہے پر اُس کیساتھ کوئی داہی تک نہیں ہیں اور اُسکو شدید تکلیف ہے، امیر المومنین رضی اللہ عنہ واپس مٹرے اور گھر پہنچ کر اپنی بیوی سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کو اُٹھایا(آئیے زر ااَپنے دل پر ہاتھ رکھیے اور سنیے یہ کون ہے اُم کلثوم رضی اللہ عنہا ؟ محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی، حضرتِعلی ، و فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کی لختِ جگر، شہید کربلا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی بڑی بہن)،امیر المومنین رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کیساتھ بدو کے گھر پہنچتے ہیں، امیر المومنین رضی اللہ عنہ حضرت اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا کو خیمے میں بھیج کر خود بدو کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، اور اُس سے باتیں شروع کر دیتے ہیں، اور کہتے ہیں آپ نے امیر المومنین رضی اللہ عنہ سے شکایت کیوں نہیں کی؟ بدو بولا جناب وہ کہیں اپنے محل میں سکون کی نیند سو رہا ہوگا، اُسکو کیا پتا کہ جنگل میں بسنے والا بدو کس حال میں زندگی بسر کر رہا ہے، بدو نے کہا امیر المومنین رضی اللہ عنہ آپ جیسے شخص کو ہی ہونا چاہیے، آپ اتنے اچھے ہیں مجھ جیسے غریب تک کا خیال ہے آپکو ، رات کے گھپ اندھیرے میں آپ میری مدد کرنے آگئے۔ بدو! رکا اور بولا آپ کیا کرتے ہیں فرمایا جب تم شکایت لیکر امیر المومنین رضی اللہ عنہ کے دربار میں آؤ گے تو مجھے بھی وہیں پاؤ گے، اِسی اثناء میں سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا نے آواز دی ائے امیر المومنین رضی اللہ عنہ بدو کو مبارک دو اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہو ا ہے، بدو نے جب یہ سنا کہ جس کو وہ ایک گھنٹے سے برا بھلا کہہ رہا تھا، وہی خلیفہ وقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں تو ششدر ہو کر رہ گیا۔اللہ اکبر۔کیسا حکمرآن تھا۔

یہ کیسے حکمرآن ہیں جنکے ہاتھوں میں دو دو کتے ہیں اور کمال اتا ترک جیسے اسلام دشمن ،یہودیت کے چاشتے دماشتے کو اپناآئیڈیل کہتے ہیں، اسلامی مملکت اور اٹامک پاور ملک کے صدر اور وزیراعظم ہو کر امریکہ اور برطانیہ کے تلوے چاٹ رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کا آئیڈیل تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، عمرفاروق رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے عظیم لوگوں کو ہونا چاہیے تھا، مگر بد قسمتی کہ ہم اپنی تاریخ بھلا بیٹھے ہیں۔

لگتا ہے ہم اپنے اصلی موضوع سے بہت دُور نکل گئے ہیں ، میرا اِس کالم لکھنے کا اصل مقصد میاں شہباز شریف تک چند گزارشات کو پہنچاناتھا، جو درج ذیل ہیں۔

١۔ اِس وقت پورے پاکستان خاص کر پنجاب کے دل لاہور میں پچھلے کئی سالوں سے ساؤتھ افریقن بڑی تعداد میں آئے ہیں، جو زیادہ تر مکہ کالونی، مدینہ کالونی، غوثیہ کالونی، والٹن موڑ، چونگی امر سندھو، برکت مارکیٹ، فیصل ٹاؤن فلیٹ، دھلہ فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں، وہ جس مقصد سے پاکستان آئے ہیں اللہ جانتا ہے مگر پچھلے کئی سالوں سے جو اُنکے کارنامے نظر سے گزرے ہیں ، وہ ہمارے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ سے کم نہیں ۔۔۔چند دن پہلے پولیس نے مکہ کالونی کی گلی نمبر 13میں چھاپہ مارا جہاں پر چند افریقن کرائے پر رہائش پذیر تھے، پولیس نے تلاشی کے دوران ہیروئین برآمد کی جو کہ فٹ بالز کے اندر بھر کر رکھی گئی تھی، وہ لوگ ہیروئین کو فٹ بالز کے اندر بھر کر باہر سمگل کرتے تھے، اسے سے پہلے ماڈل کالونی میں پولیس نے اِس طرح کے چھاپوں میں کئی بار اِن سے شراب، چرس، افیون اور اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔

مکہ کالونی گلبرگ کے مین بازار میں اِن افریقن نے ایک پورا پلازہ کرائے پر لے رکھا ہے جس میں انہوں نے نیٹ کیفے اور بار کھول رکھے ہیں جہاں پر کھلے عام چوبیس گھنٹے شراب، چرس، افیون وغیرہ باآسانی مل سکتی ہیں۔

اِن لوگوں نے اپنے ساتھ کچھ افریقن اور رشین لڑکیا ں بھی رکھی ہوئی ہیں جن سے چوبیس گھنٹے دھندا کراتے ہیں، جس سے پورے علاقے کے لوگ بہت پریشان ہیں،کچھ نے تو یہاں پر شادیاں کر رکھی ہیں اور اُنکے بچے بھی ہیں۔ یہ سب کچھ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے مکمل تعاون سے ہو رہا ہے، کیونکہ اُنکو اُنکا حصہ وقت پر پہنچ رہا ہے، کسی کی اولاد برباد ہو رہی ہے تو پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا کیا جاتا ہے۔

ہمارا میڈیا بھی سب کچھ جانتے ہو ئے ایک خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے، میڈیا کو چاہیے کہ معاشرے سے اِسطرح کے ناسور کے خاتمے میں حکومت اور عوام کی مدد کرے، اگر یہ سب کچھ میڈیا نے حکمرانوں تک پہنچایا ہوتاتو آج شاید حالات یہاں تک نہ پہنچتے۔

٢۔ میاں صاحب میری دوسری گزارش آپ سے یہ ہے کہ اِس وقت لاہور کے ہر گلی، محلے، مارکیٹ میں نیٹ کیفیز کی بہتات ہے،خداراہ یہ مت سمجھنا کہ میں انٹر نیٹ کے استعمال کے خلاف ہوں، میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نیٹ کیفے والوں نے اِس کا مقصد اور بنا لیا ہے۔ 200GBکے سرور لگا کر اُن پر بلیو پرنٹ فلمیں رکھی ہوئی، ہر کمپیوٹر کیلئے ایک علیحدہ کیبن بنا ہوا ہے۔ اور تمام کیبن اند ر سے لاک ہو جاتے ہیں آپ سارا دن، ساری رات جو مرضی کرتے رہیں آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔

اکثر سکول اور کالج کے لڑکے لڑکیاں سارا سارا دن کیبنز میں بیٹھے بلا خوف فلمیں دیکھتے رہتے ہیں۔ ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍجس سے اُن کے مستقبل تاریک ہو رہے ہیں۔ اور ذہنی و جسمانی بیماریوں کا شکار بن رہے ہیں۔آپ سے گزارش ہے کہ اس بے حیائی کے تدارک کیلئے آپ ایک اسپیشل فورس تشکیل دیں۔

٣۔ آ ج کل پراپرٹی ڈیلرز نے جگہ جگہ دوکانیں کھول کر لوٹ مار کر کا بازار گرم کر رکھا ہے جس کی وجہ سے مکانوں کے کرائے بھی آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ یہ لوگ ایک تو کرائے پر لینے والے سے کرایہ کا ہاف لے لیتے ہیں اور دوسرا مکان مالک سے کرائے کا ہاف لے لیتے ہیں۔ اِن کی کوشش ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ کرائے پر مکان لگے تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو، آپ سے گزارش ہے کہ آپ اِن کیلئے کوئی قانون سازی کریں۔ ایک تو یہ لوگ بلا ٹیکس ہزاروں روپے کما رہے ہیں، اور کچھ پراپرٹی ڈیلرز تو ایسے بھی ہیں جو قبضہ گروپ کے شکل اختیار کر چکے ہیں، پہلے گھروں کو کرائے پر لیتے ہیں پھر قبضہ کر لیتے ہیں اور غریب بچارے گھر سے بے گھر گلیوں میں مارے مارے پھرتے رہتے ہیں جنکا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ کوئی پولیس والاFIR کا ٹنا تو دور کی بات ہے اُنکی بات تک نہیں سنتا۔

میاں صاحب مجھ ناچیز میں جتنی ہمت تھی اور جتنا میں کر سکتا تھا، اپنے قلم سے وہ سب کچھ آپ تک پہنچا دیا ہے، اَب اگر روزِ قیامت مجھ سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ نے اِس کیلئے کیا تھا تو میں کم از کم یہ تو کہہ سکوں گا کہ یا اللہ میں نے اِس بے حیائی کے خلاف آواز اُٹھائی تھی اور اُس وقت کے خادم اعلیٰ تک اِس عوام کا پیغام پہنچایا تھا۔ پھر آپ سے سوال ہو گا میاں صاحب آپ حاکم وقت تھے آپ نے کیا کیا؟ اَب آپ اپنا جواب خود ڈھونڈ لیں۔

Tags: Abu Suffian , Columns