
ایک صاحب روزی روٹی کمانے برطانیہ چلے گئے،انہوں نے یہ سُن رکھا تھا کہ گوروں کے دیس میں کوئی بھوکا نہیں سوتا،یہ صاحب کورے ان پڑھ تھے اور انگریزی سے درست واقفیت بھی نہ تھی۔اس وجہ سے وہ پہلے تو کئی دن تک بھوکے رہے۔پھرایک دن اس نے اپنے ایک دوست کو اپنی مشکل سے آگاہ کیا اور تمام حال گوش گزار کر دیا۔اس کے دوست نے مشورہ دیا کہ کسی ریستوران میں جاکرویٹر سے کہوکہ ’’پا ٹیٹو چپس ‘‘۔چنانچہ وہ تقریباًایک ماہ تک ’’پا ٹیٹو چپس ‘‘ کھا کر گزارا کرتا رہا۔لیکن مسلسل ایک ہی چیز کھانے سے اسکا دل اکتا گیا۔اس نے پھر اپنے دوست کو اپنا حال سنایا اور کہا کہ یار ’’اب کسی اورکھانے کی چیز کانام بتاؤ‘‘،اسکے دوست نے کہا کہ ’’چکن سوپ‘‘۔وہ صاحب ریستوران پر گئے اور ویٹر سے کہا کہ’’چکن سوپ‘‘،ویٹر نے انگریزی میں پوچھا کہ (چھوٹا کپ یا بڑا)۔وہ آدمی تھوڑا سوچنے کے بعد بولا کہ ’’پا ٹیٹو چپس ‘‘۔
معزز قارئین !ان صاحب کی طرح کچھ ایسا ہی حال ہمارے مقتدر معیشت دانوں(مشیروں و وزیروں) کا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ وہ صاحب صرف ان پڑھ تھے جبکہ ہمارے معیشت دان پڑھے لکھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں۔ابتداء میں تو ہمارے معاشی ماہرین اور وزیر وزراء آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ) سے قرض لینا فرضِ عین سمجھتے رہے۔ لیکن انکی من مانی اور سخت شرائط کی وجہ سے اب ہمارے معاشی ماہرین آئی ایم ایف سے قرض لینے سے اکتاہٹ کا شکار ہیں،ایسے میں انہوںنے اپنے دوست احباب(سعودی عرب اورچین) کو پاکستانی معیشت کا حال گوش گزار کیاتو انہیں مشورہ دیا گیا کہ’’فرینڈز آف پاکستان‘‘سے امداد لیں،جب انہوں نے ’’فرینڈز آف پاکستان‘‘کو اپنا حال سنایا توعالمی مالیاتی بحران کے سبب امریکی نائب صدر رچرڈ باؤچر نے کہا کہ ’’فرینڈز آف پاکستان‘‘ کنسورشیم سے پاکستان کسی قسم کی نقد امداد کی امید نہ رکھے لیکن یہ ممالک پاکستان کو فنی امدادیامعاونت دیں گے۔اس ردِّعمل پر ’’فرینڈز آف پاکستان‘‘کی تلاش میں ناکام ہوکر اب شوکت ترین کے محبوب بنک آئی ایم ایف (پاٹیٹو چپس) کی طرف ہی جانا پڑے گا۔
جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ کشکول پکڑنا ہمارے حکمرانوں کی عادت بن چکی ہے،آج تک کسی بھی پاکستانی حکمران یا طالع آزما نے پاکستانی خزانے یامعیشت کی فکر کرنے کی بجائے صرف اپنی جیب اور پرسنٹیج کوسب سے پہلے ترجیح دی ہے۔جتنی امداد (بھیک)اب تک پاکستان کو مختلف اقسام کی مَد میں مل چکی ہے اگر اسکا صرف 50%بھی درست منصوبہ بندی کے ذریعے خرچ کیا جاتا توآج پاکستان کا حال پھٹے پرانے کپڑے پہنے بھکاری جیسا نہ ہوتا،دنیا کا اعتماد ہم سے اٹھ چکا ہے۔اس سے زیادہ ہماری بے عزتی کیا ہوگی کہ’’فرینڈز آف پاکستان‘‘ نے یہ کہہ کر ہمارے مقتدر طبقے کو ’’لڑکھا‘‘دیا ہے کہ جناب ’’فنی امداد یا معاونت لے لو ،نقد سے ہم معذرت(توبہ) کرتے ہیں۔‘‘۔
جتنی امداد (بھیک)اب تک پاکستان کو مختلف اقسام کی مَد میں مل چکی ہے اگر اسکا صرف 50%بھی درست منصوبہ بندی کے ذریعے خرچ کیا جاتا توآج پاکستان کا حال پھٹے پرانے کپڑے پہنے بھکاری جیسا نہ ہوتا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانی قوم دنیاکی وہ قوم ہے جسکے
١۔ اپنے افراد کے بیرون ملک اثاثے 120بلین ڈالر سوئیزر لینڈ اور امریکی بنکوں میں ہیں۔
٢۔ پاکستان کا ایک ایسا بینکرہے جسکے پاس بیرون ملک2.5بلین ڈالر ہیں۔
ایک سروے کے مطابق ؛
٣ ۔ جنابِصدر آصف علی زرداری پاکستان کی دوسری امیر ترین شخصےّت ہیں۔جنکی ذاتی دولت 1.8بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
٤ ۔ شریف برادران اس فہرست میں چوتھے نمبر پر براجمان ہیں ۔ان تمام صاحبِثروت لوگوں کی دولت کے باوجودہم صرف 5بلین ڈالر کی بھیک کے لئے دَر دَر پر صدائیں لگا رہے ہیں۔
گزشتہ روز پنجاب کے وزیرِاعلیٰ شہباز شریف نے ایک ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ
’’ آج مہنگائی کے طوفان نے پوری قوم کو لپیٹ رکھا ہے،گرانی ہم سب کا مسئلہ ہے، لوگوں کو بنیادی ضروریاتِ زندگی اور دال روٹی مہیا کرنا ہمارا اوّلین فرض ہے۔اگر ہم ایساکرنے میں ناکام ہوگئے توانکا چولہا ٹھنڈا ہو جائے گا اور یہ لوگ بڑی ،خوبصورت سڑکوں اور عالیشان عمارتوں سے نفرت کرنے لگیں گے اور انہیں آگ لگا دیں گے،اس لئے ہم نرم انقلاب لائیں گے تاکہ خونی انقلاب سے بچیں۔‘‘۔
جناب صدر آصف علی زرداری ، شریف برادران اور چوہدری برادران 25%ہی اپنے خزانوں کے منہ پاکستانی معیشت کو بچانے کے لئے کھول دیں ۔
اس بیان سے اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ الحمدُلِاللہ میاں شہباز شریف کو اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ عوام انقلاب کی طرف دھیرے دھیرے سِرک رہی ہے۔اس لئے انہوں نے نرم اور دبّے دبّے الفاظ میں یعنی نرم انقلاب کا نام لیا تاکہ سرخ انقلاب کی آندھی نہ آنے پائے(حالانکہ انقلاب میں نرم وغیرہ کی تخصیص نہیں ہوتی ہے)لیکن یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ اگر ہمارے حکمران ، سیاستدان اور صاحبِثروت طبقہ لمبی لمبی تقریریں جھاڑنے اور عالیشان صوفوں پر براجمان ہونے کی بجائے اپنی ذاتی امداد کے ذریعے مثالیں رقم کریں کیونکہ مستقبل میں پاکستانی نوجوان اور پاکستانی قوم نے انکی لاحاصل تقریروں کی تعریف نہیں کرنی بلکہ انکے عملی اقدامات کا ذکر کرنا ہے۔
جس طرح ایک بار پھر زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے پوری قوم متّحد ہو چکی ہے اس طرح آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ حکمران طبقہ اپنے اختلافات ختم کر کے یکجا اور متّحد ہو کر صرف پاکستان کیلئے کام کرے۔
فرینڈز آف پاکستان‘‘ نے یہ کہہ کر ہمارے مقتدر طبقے کو ’’لڑکھا‘‘دیا ہے کہ جناب ’’فنی امداد یا معاونت لے لو ،نقد سے ہم معذرت(توبہ) کرتے ہیں۔
میرا مشورہ تو یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ، حکمران طبقہ اور صاحبِثروت افراد ملک کو دیوالیہ یا مزید قرضہ لینے سے بچانے کے لئے اپنے اپنے حصّے سے امداد دیں توکچھ شک نہیں کہ ہم دنیا کے اس نام نہاد ’’چوہدری‘‘ کویہ باور نہ کراسکیں کہ ہم ہر مشکل اور کڑے سے کڑے امتحان میں بھی ایک ہیںاور ہم‘ حالات چاہے کیسے بھی ہوں‘انکا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔جناب صدر آصف علی زرداری ، شریف برادران اور چوہدری برادران 25%ہی اپنے خزانوں کے منہ پاکستانی معیشت کو بچانے کے لئے کھول دیں تو وہ وقت دور نہیں جب ایک طرف ہم ’’کشکول توڑ انقلاب‘‘ لے آئیں،ملک قرضوں کے چنگل سے آزاد ہو جائے ۔’’اپنی مدد آپ کے تحت‘‘ ملک میں ہر سو خوشحالی کا دور دورہ ہو اور دوسری طرف درج بالا تمام صاحبان کو پاکستانی ڈانواڈول معیشت کو سہارا دینے کے لئے دی گئی امداد بمعہ سود واپس بھی مل جائے، لیکن میرے خیال میںیہ اس وقت ہی ممکن ہے جب عوام اور حکمران غیروں کی طرف کشکول اٹھائے احسان طلب نظروں سے دیکھنے کی بجائے ،خود میدانِعمل میں کارِفرما ہو جائیں۔محنت اور فول پروف منصوبہ بندی کو اپنا شعار بنائیں تاکہ میاں شہباز شریف والا (نرم انقلاب ) یعنی کشکول توڑ انقلاب ممکن ہو سکے۔
اگرمحنت اور فول پروف منصوبہ بندی کو اپنا شعار بنائیں تاکہ میاں شہباز شریف والا (نرم انقلاب ) یعنی کشکول توڑ انقلاب ممکن ہو سکے گا۔
میری اربابِ اختیار سے اپیل ہے کہ خداراخود آگے بڑھیں اور پاکستان کو بچانے کے لئے عوام کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم کھڑے ہو جائیں پھر نہ کوئی میلی آنکھ پاکستان کو دیکھ سکتی اور نہ ہی کسی امداد کی ضرورت ہوگی۔آج اگر ضرورت ہے تو کشکول توڑ انقلاب کی ضرورت ہے پھر کسی سرخ انقلاب کی پاکستان کو ضرورت نہیں رہے گی اور اس تاریخی باب کو نوجوان نسل بھی یاد رکھے گی اور مورخ تاریخ کے اوراق پر‘ملک کے حکمرانوں کے نام‘ سنہری حروف سے رقم کرنے میں ذر ابھر بھی گریز نہیں کرے گا۔
















