Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4

Entries Tagged as 'ABDUL JABBAR NASIR'

Pages: 1 2 3

فلاحی و رفاہی ادارے عتاب میں ‘ کالم ‘ عبدالجبار ناصر

December 13th, 2008 · No Comments

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی 3 فلاحی تنظیموں اور 3 پاکستانیوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرکے پابندی عائد کردی ہے ۔ جس کے بعد حکومت پاکستان نے بھی ان تنظیموں اور افراد پر نہ صرف پابندی عائد کی بلکہ کریک ڈاؤن کرکے سیکڑوں دفاتر ‘ا سکول ‘ طبی مراکز ‘ مدارس اور دیگر اداروں کو سیل جبکہ سیکڑوں افراد کو گرفتار کرلیاہے ۔ جس پھرتی سے حکومت نے یہ کام کیا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ اگر جلدی نہ دکھائی جاتی تو شاید کوئی بڑا طوفان آجاتا ۔ حالانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے پابندی عائد کرنے سے پہلے حکومت پاکستان کا موقف تک معلوم یا اس کی اطلاع تک دینا گوارا نہیں کیا اس کی تصدیق امریکا میں پاکستان کے مستقل مندوب حسین عبداﷲ ہارون نے خود کی ہے ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پابندی بھارتی درخواست پر لگائی گئی اور صرف 12 گھنٹے میں فیصلہ ہوا ۔ اب پاکستانی سفیر یا مستقل مندوب کی نا اہلی کہیں یا سلامتی کونسل کی کمیٹی کی ظالمانہ سوچ کہ قرار داد کی منظوری تک پاکستان کومعاملے کا علم ہی نہیں ہوا ۔

جن تین رفاہی تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں جماعۃ الدعوہ پاکستان ‘ الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ جبکہ 3 پاکستانی شخصیات میں جماعۃ الدعوہ کے امیر حافظ محمد سعید ‘ کالعدم لشکر طیبہ کے مبینہ چیف ذکی الرحمن اور حاجی محمد اشرف اور ایک سعودی باشندہ محمد احمد بازک شامل ہیں ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حاجی محمد اشرف کئی سال قبل انتقال کر چکے ہیں اور ان کی قبر اندرون سندھ کے علاقے گولارچی میں ہے جبکہ سعودی باشندے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 3 سال سے سعودی عرب میں قید ہے ان پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے۔اب یہ تو سعودی حکومت سے معلوم کرنا چاہیے کہ جیل میں رہتے ہوئے وہ دہشت گردوں کو فنڈز کیسے فراہم کرتا ہے ۔ کچھ یہی حال دیگر تنظیموں کا بھی ہے ۔ الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ پر حکومت پاکستان بیرونی دباؤ پر18فروری 2006 ء میں پابندی عائد کر چکی ہے اس کے بعد ان اداروں کا عملاً وجود ہی ختم ہوچکا ہے اور اس نام کے ادارے کہیں بھی کام نہیں کر رہے ہیں اور ان کے اکاؤنٹس تک منجمد کر دیئے گئے ہیں غالباً اس حوالے سے بعض کیسز اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان اداروں پر پابندی کے باعث ایک اندازے کے مطابق مجموعی طور پر 7 لاکھ افراد بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہوئے اور ان اداروں کا کسی دہشت گرد یا جہادی تنظیم سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا البتہ ان کا ایک جرم یہ تھا کہ یہ ادارے بے لوث انداز میں مستحقین کی مدد کر رہے تھے جس کی واضح مثال 2005ء کے تباہ کن زلزلہ اور دیگر مواقع ہیں ۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی ان اداروں کی خدمات کا اعتراف کیاہے شاید وجہ پابندی بھی یہی بنی ہو کیونکہ ان دینی فلاحی اداروں کی گرانقدر مثالی خدمات کے بعد غیر ملکی فنڈز اور ایجنڈے پر کام کرنے والی این جی اوز اور ان کے اربوں روپے کے بجٹ ایک سوالیہ نشان بن چکے تھے ۔

اس بار پاکستان کی ایک بڑی دینی رفاہی جماعت ‘ جماعۃ الدعوہ کو بیرونی اور اندرونی عتاب کا شکار بنایا گیا ہے ۔ اس جماعت پر پابندی کے باعث ایک اندازے کے مطابق ساڑھے چار لاکھ افراد متاثر ہونگے ۔ مختلف ذرائع سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1986ء میں قائم ہونے والی اس جماعت کے تحت ملک بھر میں 250 سے زائد دفاتر ‘ 5 بڑے اسپتال اور کراچی سمیت ایک درجن شہروں میں زیر تعمیر، 150 میڈیکل سینٹرز یا ڈسپنسریاں ‘60 شہروں میں ایمبولینس سروس ‘ 52 بڑے اور 800 سے زائد چھوٹے مدارس، 300 سے زائد مساجد ‘ 150 الدعوہ ماڈل اسکول اور دیگر ادارے کام کر رہے ہیں جبکہ اردو ‘ عربی ‘ انگلش اور سندھی زبانوںمیں ایک درجن کے قریب رسائل و جرائد اور شعبہ کتب کے تحت سیکڑوں کتابیں شائع ہوتی ہیں ۔ شعبہ صحت کے تحت سالانہ 20 لاکھ مریضوں کا علاج کیاجاتا ہے اور اب تک مختلف دیہی اور شہری علاقوں میں 2 ہزار میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں جن سے 15 لاکھ 14 ہزار افراد نے استفادہ کیا ۔ تھرپارکر میں 300 سے زائد ہینڈ پمپ یا کنویں کام کر رہے ہیں ۔ 52 بڑے مدارس میں20 ہزار کے قریب طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں جن میں سے 15 ہزار مستقل رہائشی ‘ 800 چھوٹے مدارس میں 70 ہزار سے زائد اور 150 الدعوہ ماڈل اسکولوں میں 24 ہزار طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ پابندی کے باعث 2005 ء اور 2008 ء کے 2 لاکھ سے زائد متاثرین زلزلہ متاثر ہونگے ۔ جماعۃ الدعوۃ کے تحت آزاد کشمیر اور صوبہ سرحدی میں 800 زلزلہ متاثرخاندانوں کو ماہانہ راشن اور 2500 بیواؤں کو ماہانہ وظائف دیئے جاتے ہیں جبکہ بلوچستان کے حالیہ تباہ کن زلزلے میں ہزاروں افراد ریلیف نہ ملنے پر متاثر ہونگے ۔ جماعۃ الدعوہ کو پاکستان میں جماعت اسلامی کے بعد بڑا دینی اور رفاہی نیٹ ورک رکھنے والی فلاحی تنظیم بتایا جا تا ہے ۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق حکومت نے اس کے مکمل نیٹ ورک کو جام کردیا ہے جس میں دفاتر ‘ طبی مراکز ‘ مساجد ‘ مدارس ‘ اسکول ‘ شعبہ نشرو اشاعت اور دیگر تمام شعبوں کو سیل کر دیا ہے اگر صورتحال یہی ہے تو یہ انتہائی افسوسناک عمل ہوگا کیونکہ معاشی بدحالی اندرونی خلفشار اور بیرونی خطرات میں گھرے پاکستان کے لوگوں کو اس طرح متاثر کرنا یا ان کا معاشی اور تعلیمی قتل عام کرنا مزید مسائل پیدا کردینے کے مترادف ہوگا ۔ اس لئے حکومت پابندی کے ساتھ ساتھ ان مسائل پر بھی غور اور ان اداروں کو بند کرنے کی بجائے حکومت اپنی نگرانی میں چلائے مزید یہ کہ ان جماعتوں پر پابندی کے بعد ملک میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا ہے ۔ ماضی کے واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ اس طرح کی پکڑ دھکڑ اور بندش حالات کو بہتر کرنے کی بجائے بگاڑنے کا باعث بنی ہے اس لئے سوائے ان لوگوں کے جن سے پاکستانی قوانین کے مطابق تحقیقات کی ضرورت ہے دیگر لوگوں کو بے جا تنگ کرنے سے گریز کیا جائے ۔

حکومت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امریکا ‘ بھارت ‘ا سرائیل اور دیگر اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستانی حکومت ،قومی سلامتی کے اداروں اور دینی قوتوں کے مابین ٹکراؤ پیداکیا جائے کیونکہ جب بھی پاکستان پر برا وقت آیا دینی قوتوں نے ہی ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے ۔ اس لئے پاکستان دشمن قوتیںملک کی اس فرنٹ لائن کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور پاکستان پر ایک ہانکا لگایاگیا ہے۔ بیرونی دشمن جوپاکستان کے خلاف سازشوں میں شب وروزمصروف ہیں ممبئی حملوں نے یہ موقع فراہم کیا ہے اور اب اقوام متحدہ بھی ان کی فریق بن گئی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے ہے بالخصوص مبینہ واحد زندہ بچ جانے والا ملزم اجمل امیر قصاب ‘ اسی کے مبینہ بیانات کی بنیاد پر بھارت اور امریکا پاکستان کے خلاف بھرپور سازش کر رہے ہیں ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اجمل قصاب کا کہنا ہے کہ 2002ء کے بعد وہ اپنے گھر نہیں گیا جبکہ مبینہ طور پر کالعدم لشکرطیبہ کے چیف ذکی الرحمن نے اس حملے کے بعد اس کے اہلخانہ کو ڈیڑھ لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اجمل قصاب 2002 ء کے بعد 6 سال کہاں تھا اور اگر کوئی شخص ڈیڑھ لاکھ روپے کے لالچ میں اتنی بڑی کارروائی کر سکتا ہے تو پھر وہ اس سے زیادہ رقم یا جان کی امان کے لالچ میں کیانہیںکرسکتا؟ ۔اب تک جتنی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں وہ اجمل قصاب کی ہیں‘سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تصاویر کس نے بنائیں ؟اور اگر جدید کیمروں کے ذریعے بنائی گئی ہیں تو دیگر ملزمان کی تصاویر کیوں نہیں بنیں؟ ۔ صرف زندہ رہنے والے کی ہی تصاویر کیوں بنیں؟ اور صرف 3 گھنٹے کے دوران ہی بھارت کو اس قدرمعلومات کہاں سے ملی؟ اسی طرح کے مزید درجنوں سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ بھارت نے مزید جن 9 مبینہ ملزمان کے بارے میں معلومات دی ہیں ان کے بارے میں تحقیقات کرنا ضروری ہے کہ کہیں یہ وہ لوگ تو نہیں جو بھارتی جیلوں میں قید تھے یا ان لوگوں کو کسی نے استعمال تو نہیں کیا تاکہ پاکستان کے خلاف جواز فراہم کیا جائے ۔

حکومت صرف دینی رفاہی اداروں اور ملک دوست اداروں یا شخصیات پر ہی نظر نہ رکھے بلکہ روشن خیالی ‘ دوستی یا غیر جانبداری کے نام پر کام والے صحافیوں ‘ دانشوروں اور دیگر آستین کے سانپوں پر بھی نظر رکھے یہ ہر پاکستانی کی خواہش ہے کیونکہ حقیقی پاکستانی اسلام اور پاکستان کی بقاء کے لئے ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ اس وقت بیرونی خطرات سے بچنے کا واحد راستہ اندرونی خلفشار کا دانشمندانہ طریقے سے خاتمہ ‘ قومی اتحاد اور یکجہتی ہے ۔ کیونکہ دشمنوں کو صرف مسلمان یا پاکستانی ہی دہشت گرد نظر آتے ہیں ۔ بال ٹھاکرے ‘ بجرنگ دل ‘ آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند ہندو شخصیات اور تنظیمیں نظر نہیں آتیںجو بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خاتمے کا نعرہ کھلے عام لگاتی ہیں اب تو بال ٹھاکرے مسلمانوں ‘ عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے علاوہ پاکستان کے خلاف 10 ہزار خودکش حملہ آور تیار کرنے کا اعلان بھی کر چکا ہے ۔ معلوم نہیں اقوام متحدہ کو یہ دہشت گرد نظر کیوں نہیں آتے ہیں ۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں بھارت کے خلاف ثبوت پیش کرے کہ بھارتی تنظیمیں بھارت کے اندر اور بھارت سے باہر مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف کیا کر رہی ہیں ۔ افغانستان میں بھارت پاکستان کے خلاف کونسی سازش میں مصروف ہے ۔ بلوچستان میں بھارت کا کیا کردار ہے اور دیگر مقامات پر بھارت کیا کر رہا ہے ۔ یہ وقت دب کر رہنے کا نہیں بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا ہے اسی میں ہماری بقاء اور سلامتی ہے ۔

Tags: ABDUL JABBAR NASIR , Columns