هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات ‘‘ کالم ‘‘ ممتاز بھٹی

Mumtaz a bhatti

دنیا میں دو طبقے موجود ہیں ایک سرمایہ دار اوردوسرا مزدور ، سرمایہ دار کا غذ کے ٹکڑوں کے بل بوتے پرکچھ نہ کرتے ہوئے دنیا کے تمام عیش و آرام حاصل کرتے ہیں اوران کی جائیداد روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ مزدورطبقہ کی محنت اور خون پیسنے سے سرمایہ داروں کوعیش وآرام بھی مل رہاہے دولت بھی بڑھ رہی ہے ،جس کی محنت سے یہ ہورہاہے اسی مزدورطبقے کا بدترین استحصال بھی جاری ہے ۔محنت کر نے والے مزدورکے پاس چھت ہے نہ دووقت کی روٹی میسرہے۔وہ بچوں کوتعلیم دلواسکتاہے نہ اپنا رہن سہن بہتربناسکتا ہے ۔ پاکستان میں مزدور طبقہ جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزاررہاہے ۔آئے دن آ پکو غربت سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کی خود کشیوں کی خبریں اخبار میںنظر آئیں گی جبکہ سرمایہ داروں کے کتوں کی خوراک بھی باہرسے منگوائی جاتی ہے بھٹہ مزدوروں کے خاندانوں کے خاندان بھٹہ مالکان کے قبضے میں ہیں جوغلاموں کی زندگی گزاررہے ہیں ان پرتشد د بھی کیا جاتاہے اور ان سے جانوروں کی طرح کام بھی لیا جاتاہے ۔ آج بھی بھٹہ مالکان سب کے سامنے کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بھٹہ کیلئے اتنے خاندان خریدے ہیں ۔سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم خاموش ہیں ہماری بے حسی کااندازہ لگانامشکل ہے۔ اور پاکستان میں محنت کشوں کی جہری کی امید یں لگاناہی عبث ہے کیونکہ حکومت میں شامل لوگ سرمایہ دار اورجاگیرادارہیں۔ وہ کبھی بھی نہیں چاہتے کہ مزدورتھوڑا سا بھی خوشحال ہو مزدوراورغریبوں کو پیپلز پارٹی کی حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں جو بہت جلد دم توڑ چکی ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت سے تو اتنا ہی نہیں ہوسکا کہ پہلے مزدور ڈے پرکنونشن سنٹر میں کئے گے وعدے پورے کرتی مزدورکی کم ازکم 6000 روپے تنخواہ پرہی عمل درآمد کرادیتی ، مگروہ اعلان اعلان ہی رہا آج بھی اسلام آباد میں لوگ 2000 اور 2500 روپے ماہوار پر مزدور ی کررہے ہیں ۔ مجھے جب معلوم ہوا کہ مزدوروں کا ایک وفد فیصل آباد سے پیدل چل کر اسلام آبادآیاہے۔ سرمایہ دار کے ظلم واستحصال سے پریشان مزدوروں نے انصاف کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی زنجیر ہلائی ہے لیکن مجھے معلوم نہیں کہ ازخود نوٹس لے لیاگیا ہے یا نہیں ، انصاف کب اورکیسے ملتا ہے مگرپانچ روز سے بھو ک ہڑتال پر بیٹھے مزدوروں کی حالت خراب ہوتی جارہی ہے لیکن کسی حکمران سیاستدان کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ان کے پاس آکران کوحوصلہ ہی دے دیں اب میں ان مزدوروں کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ یہ فیصل آبادکی نشاط ٹیکسٹائل ملزسے نکالے گئے مزدورہیں جنہیں نشاط ملز کی مینجمنٹ نے حکم دیا ہواتھا کہ کوئی یونین وغیر رجسٹر ڈ نہیں کرانی ورنہ تمہیں فارغ کردیا جائے گا۔ یہ سرمایہ دار کبھی بھی نہیں چاہتے کہ مزدورکی یونینز بنیں کیونکہ مزدوروں کی تنظیمں وجود میں آنے سے مزدوراپنے حقوق کیلئے موثر آواز اٹھاسکتے ہیں اورمجبوراً سرمایہ داروں کوکچھ حقوق دینا بھی پڑتے ہیں اس لیے ان کی، ملز مینجمنٹ کو واضع ہدایات ہوتی ہیں کہ ایسا کرنے والوں کو فوراً ملز سے نکال دو ۔ ان مزدوروں نے کوئی غیر قانونی کام نہیںکیا اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے یونین بنانے کیلئے، این آئی آر سی کو درخواست دی این آئی آرسی کی پر قانونی ذدمہ داری ہوتی ہے کہ یونین رجسٹرڈ ہونے تک اس درخواست کوخفیہ رکھے مگر این آئی آر سی میں موجود کالی بھیڑیں جوسرمایہ داروں سے بھتے لیتی ہیں نے نشاط ٹیکسٹائل ملز کے لوگوں کوآگاہ کردیا تو انہوں نے تما م ان مزدوروں کونکال دیا جن کے نام اس درخواست میں تھے۔وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی پہلی تقریرمیں اعلان کیا تھا کہ تمام یونینز پابندی ختم مگر اس تقریر کے بعد وزیراعظم بھول بھال گئے اوراس پرعملدرآمد نہ ہو ا یا پھرعملدرآمد ان قوتوں نے کرنے نہ دیا جو سرمایہ داروں کے مفاداتکے محافظ ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان اگراتنے ہی بے بس ہیں کہ وہ اپنے احکامات پرعملدرآمد کی نہیں کراسکتے تو پھرایسی باتیں کرتے کیوں ہیں؟ فیصل آباد سے پیدل چل کرآنے والا مزدوروں کایہ قافلہ اپنا قانونی حق مانگنے کے جرم میں بے روزگار کردیاگیاہے اس جرم کی سز ا صرف یہ ہی نہیں بھگتیں گے بلکہ ان کا پورا خاندان بھگتے گا۔ کیونکہ مزدوراگر ایک دن کا م پرنہ جائے تو فاقہ کشی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ اٹھارہ جون سے احتجاج پرہیں ۔یہ نکالے گئے ملازمین کو بحال کرانا چاہتے ہیں ۔ وزیراعظم صاحب، حکومتی رٹ کوسوات اوروزیرستان میں چیلنج نہیں کیا جارہا ،ہرسامایہ دار اپنی مل میں حکومتی رٹ کو چیلنج کررہاہے ۔ سرعام لیبر قوانین کی دھجیاں اڑا رہاہے ۔ ٹریڈ یونینز جومزدوروں کا بنیادی حق ہے مگرکوئی بھی صنعت کاراس حق کوتسلیم کر نے پرتیارنہیں اورنہ ہی اس کو کسی کا کوئی ڈرہے ۔ سرمایہ دارنے ہمیشہ مزدور سے جینے کا حق چھینے کی کوشش کی ہے ۔ مزدور کے استحصال کو مقصد بنالیاہے ۔ موجودہ حکومت پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اورپیپلز پارٹی مزدور وں کی پارٹی تھی مگرآج اس پارٹی میں مزدوروں کی پارٹی والی کو جھلک نظرنہیں آرہی ۔ تنگ آمد بجنگ آمد والا کام نہ ہو اگرمزدوراٹھ کھڑا ہوتو پھرحکومت بچے گی اورنہ کوئی سرمایہ دار

اپنے پسندیدہ پروگرام کے ساتھ بُک مارک کریں
  • Add to favorites
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • Live
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • LinkedIn
  • MySpace
  • Technorati
  • Digg
  • del.icio.us
  • Blogplay
  • blogmarks
  • Blogosphere News
  • MyShare
  • NewsVine
  • Ping.fm
  • Reddit
  • Simpy
  • Slashdot
  • Upnews

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔