
کیا پاکستان کا قائم رہنا یقینی ہے ؟جس ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں ا س سے متعلق ایسے خدشات پیدا ہونا فطری سی بات لگتی ہے مگر کہتے ہیں کہ ناکامی کامیابی کی سیڑھی ہے اور ناکامی کامیابی کا سبب بنتی ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو ماضی میں ملک کی دو تین جنگوں کو چھوڑ کر کوئی ایسا وقت نہیں آیا ہوگا کہ ہر شہری کو ملک کی سلامتی کی فکر لاحق رہی ہو ہاں البتہ بڑے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اب ایسا وقت ہے کہ ملک کے ہر شہری کو ملک کی سلامتی کی فکر دامن گیر ہو گئی ہے کسی بھی ملک کے لیے یہ لمحہ انتہائی قیمتی ہوتاہے‘ برسوں کی منصوبہ بندی ،اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور ساری حکومتی مشینری اس کام پر لگا دینے سے بھی پوری قوم میں حب الوطنی کے جذبات پیدا نہیں کیے جاسکتے۔
آج پاکستان اس دور سے گزر رہا ہے کہ اس کے حکمرانوں کو کسی اعلان کسی تشہیر کی چنداں ضرورت نہیں حب الوطنی کے جذبات پوری قوم میں جیسے کوٹ کوٹ کر بھر دیے گئے ہیں یہ سارا کام کن لوگوں نے کیا ؟سچی بات تو یہ ہے کہ اس معاملے کی وضاحت پر درجنوں اوراق کالے کیے جاسکتے ہیں مگر مختصر بات یہ ہے کہ حب الوطنی کے ان جذبات کی آبیاری کچھ تو امریکی ڈرون حملوں نے کی ہے اور حب الوطنی کے قوم میں پیدا ہونے میں جوکسر رہ گئی تھی وہ خودکش حملوں نے پوری کر دی ہے بادی النظر میں امریکا اور عسکریت پسند دونوں آپس کی لڑائی میں پاکستان کا نقصان کررہے ہیں نہ امریکا کو پاکستان کے مستقبل کی فکر ہے اور نہ عسکریت پسندوں کو پاکستان کے نقصان کاکوئی غم ہے ان دونوں کی باہمی جنگ میں پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ہے ایک فریق اپنی بقاء کی جنگ لڑرہا ہے اور دوسرا دجال کے خلاف اسلامی تاریخ کی سب سے مشکل جنگ میں برسر پیکار ہے اس دشمنی میں جب شدت آتی ہے تو امریکا پاکستان کی بے پناہ قربانیاں فراموش کر جاتا ہے دوسری جانب اگر امریکا ڈرون حملوں میں تیزی پیدا کردے توعسکریت پسند یہ بھول جاتے ہیں کہ افغانستان نہیں پاکستان ہے یہ ان دونوں کی دشمنی تھی کہ یہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں داخل ہوگئی آج صورت حال یہ ہے کہ ان دونوںکی جنگ نے پاکستانی عوام کو تنگ کردیا ہے بات دلائل کی نہیں بات نقصانات کی ہے دلائل امریکا کے بھی وزنی ہوسکتے ہیں اور عسکریت پسندوں کے بھی بھاری ہوسکتے ہیں ہم دلائل کی بات نہیں کرتے ہم تونقصانات کی بات کرتے ہیں کل کا مورخ دلائل کی بات نہیں کریگا مورخ جنگ میں ہار جیت اور نقصانات کا جائزہ لیتے ہیں ‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مورخ جب بھی نتیجہ اخذ کرے گا اور دونوں میں سے کسی کو نہ تو فاتح قرار دے گااور نہ ہی شکست خوردہ اس لیے کہ جنگ دوطاقتوں اور ملکوں کے درمیان ہوا کرتی ہے
یہ جنگ سپر پاور اور زیر زمین چند عناصر کے درمیان ہے کل کا مورخ جب ان دونوں طاقتوں میں توازن کا ادراک کرے گا وہ اسے سپر طاقت کی توہین قراردے گااور کمزور فریق کو جنگ کا فاتح قرار دے گا مورخ یہ کہے گا کہ چیونٹی نے ہاتھی کو پچھاڑ دیا امریکا کے خلاف جنگ کرنے والوں کی اپنی زمین ہے نہ آسمان اس لیے وہ لوگ اس جنگ کو ہر خطے میں پھیلانا چاہتے ہیں اور یہ امریکا کی نادانی ہے کہ وہ ہر جگہ ان کے مرضی کے میدان جنگ میں کود پڑتا ہے امریکا کی طاقت کے مقابلے میں القاعدہ کی مثال چیونٹی سے زیادہ نہیں ۔امریکہ اس وقت صرف 50ریاستوں کا نام نہیں یہ پوری دنیا کے 2سو 45ممالک میں پھیلا ہو اہے اس کے ساری دنیا میںسفارت خانے قونصل خانے بحری بیڑے اور ہوائی مستقر ہیں یہ اس وقت وہ ہاتھی بن گیا ہے کہ چیونٹی کو ہاتھی کی سونڈ تک پہنچے کے لیے اس کی اس غذا کا راستہ اپنانا ضروری نہیں جسے وہ کھنگال ‘ ٹٹول اور جھاڑ پونچھ کر کھاتا ہے بلکہ چیونٹی کے ہاتھی کی سونڈ تک پہنچنے کے ہزار رستے ہیں اس کے چار پاؤں وہ راستہ ہیںجن سے چیونٹی بآسانی چل کر اس کی سونڈ تک پہنچ سکتی ہے اس سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ شکار جتنا بڑا ہو، اسے دور سے گولی مارنا اتنا ہی آسان ہے کچھ ایسی ہی صورت حال سے امریکا دوچارہے اس کی معیشت جنگی اخراجات کا مزید بوجھ نہیں جھیل سکتی جہاں امریکا کی یہ صورت حال ہے وہاں امریکا کے خلاف دنیا بھر میں جاری مزاحمت بھی کچھ ایسی ہی کمزورصورت حال کی غمازہے ان دونوں کے انجام میں زیادہ دیر اب باقی نہیں دوچار سال میں اس جنگ کی نوعیت بدلنے کو ہے کل کا مورخ ان کا جو انجام لکھے گا وہ رہاایک طرف یہ دونوں فریق ہمارے لیے جو کام کرکے جارہے ہیں وہ قابل رشک ہے وہ کام ان دونوں کا کارنامہ نہیں بلکہ سیاہ کارنامہ ہے۔
مگر جس طرح ناکامی کے پردے میں کہیں نہ کہیں دور پار ایک کامیابی چھپی ہوئی ہوتی ہے ویسی ہی وہ کامیابی یہ ہے کہ جس ملک کو خستہ حال بنانے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ان کی یہ پاکستان مخالف سرگرمیاں لاکھ نقصان اوربرائیوں کے ساتھ جو فائدہ دے کر جارہی ہیں وہ یہ ہے ان کی پاکستان مخالف سرگرمیوں سے ملکی سلامتی کو جو خطرات لاحق ہوئے اس نے پوری قوم میں اجتماعی حب الوطنی کے جذبے کو جنم دیا اجتماعی حب الوطنی انقلاب بسیاراور برسوں بعد پیدا ہواکرتی ہے یہ ہمیں ان کی چند برسوں کی جنگ میں مل گئی ہے جس قوم میں اجتماعی حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوجائے وہ قومیں زندہ رہتی ہیں اور ملک قائم رہا کرتے ہیں امریکا سپر پاور رہے یا نہ رہے اس کے خلاف مزاحمت شدت پکڑے یا دم توڑ جائے یہ سب غیر یقینی ہے مگر پاکستان کا قائم رہنا یقینی ہے اس لیے کے اجتماعی حب الوطنی کا جذبہ ملک اور اس قوم کو مرنے نہیں دیا کرتا ۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment