
امریکن پالیسی ساز دنیا بھر میں تبدیل ہونے والی سیاسی انتظامی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں اور وہ ہر خطے میں امریکی مفادات کے حصول و تحفظ کے لئے نت نئی پالیسیاں مرتب کرتے رہتے ہیں۔یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یورپ ہو یا جنوبی ایشیا لاطینی امریکہ ہو یا خطہ عرب ہر جگہ امریکن خارجہ پالیسیوں کی تہہ میں سامراجیت و اٍستعماریت کا مطمع نظر صاف دکھائی دیتا ہے۔امریکہ کی بین اقوامی امور کے لئے تشکیل کردہ خارجہ پالیسی کےSCHOOL OF THOUGT میں سمارٹ پاور کا نظریہ گردش کررہا ہے۔اٍس تھیوری کے روح رواں ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جوزف نائے ہیں اور یہ وہی صاحب ہیں جو قبل ازیںsoft power نام کی خارجہ پالیسی کے معمار ہیں۔سمارٹ پاور کی تشریح یوں کی جارہی ہے کہ کسی کو سرنڈر کرنے یا ہتھیار ڈالنے پر قائل کرنے کے لئے سختی اور مذاکرات کو بیک وقت بروئے کار لایا جائے۔سافٹ پاور کسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے کوئی شرط مانے بغیر الفاظ کی یورش سے قائل کرلینے کا فن ہے نہ کہ رقم و جبر کے استعمال سے۔باراک اوبامہ نے سمارٹ پاور کو أس وقت تقویت دی جب وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے سینیٹ میں تقریر کے دوران بھاشن دیا کہ امریکہ انتہائی کٹھن مسائل کو حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں جبکہ دنیا اپنے طور پر اٍن ہوشربا مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ہمیں سمارٹ پاور کا نسخہ کیمیا اٍستعمال کرنا ہوگا اور ہمیں ایسی طاقت کا بروقت استعمال کرنا ہوگا جسکے ہم حامی ہیں۔سفارتی،معاشی، پولیٹیکل طورو اطوار اور ملٹری پولیٹیکل لیگل اور کلچرل طریقوں کو استعمال کرنا چاہیے۔ہر خطے کی مطابقت سے ہمیں صیح حربوں یا حربوں کے مرکب پر غور کرنا ہوگا۔امریکہ سافٹ پاور کی نقاب کشائی کے لئے تمام وسائل استعمال کرے گی۔ محسور کن کلچر ازادی کے حیران کن مظاہرے اور بیرونی دنیا کے لئے ڈپلومیسی معاشی امداد دوستی اور جدید مواصلاتی زرائع کے زریعے خارجہ پالیسی کو أن خطوط پر استوار کیا جائے گا کہ امریکی مفادات فروغ پزیر اور محفوظ ترین بن جائیں۔سافٹ پاور کا جادو أن علاقوں و ملکوں میں اپنے کمالات دکھائے گا جہاں امریکہ کی مہیب فوجی طاقت یا جنگ و جدال امریکی مفادات کی نگہبانی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ ہارڈ اور سافٹ پاور کا متوازن استعمال کیسے اور کہاں ممکن ہوگا اور اٍسکی کوکھ سے کونسے منفی و مضر اثرات جنم لیں گے۔اٍس میں کوئی شک نہیں کہ جنوب مشرقی ایشیا کی جغرافیائی سیاست ایک جنجال بن گئی ہے۔اوبامہ کیمپ کی خارجہ پالیسی کی دستاویزات میں پاکستان اور افغانستان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔وائٹ ہاوس اپنی نئی پلاننگ کے مطابق افغانستان اور پاکستان میں ہارڈ و سافٹ پاور کو بیک وقت استعمال کرنے کا فیصلہ لے چکا ہے۔یہاں زور دیکر یہ بات کہی گئی ہے کہ افغانستان میں القاعدہ قیادت کے خلاف آخری دم تک جنگ کی جائے گی۔گو کہ پاکستان کے لئے اٍن دستاویزات میںsoft power کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر ساتھ ہی شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ قبائلی علاقوں سے افغانستان جا کر اتحادی فوجوں کو زک پہنچانے کے حادثات کا زمہ دار بلکہ جواب دہ ہوگا۔پاکستان کی فوجی اور مالی امداد میں اضافے کا متن بھی دستاویزات کا حصہ ہے۔امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ اٍن دستاویزات کے مطابق ہم تین اہداف حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔افغانستان کے مشرقی و جنوب مشرقی علاقوں پر کابل سرکار کی دوبارہ حاکمیت قائم کی جائے کیونکہ یہ علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔افغانستان کی سیکیورٹی کو مذید بہتر بنایا جائے۔تیسرا افغان ابادی کو بہتر سہولیات فراہم کرنا۔رابرٹ گیٹس نے للچائی ہوئی نظروں سے آہ بھری کہ ہمارے لئے سب سے بڑا خطرہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجود پٹی یا قبائلی علاقے سے ہے۔امریکہ افغانستان کو بھی أسی طرح ترجیح دے رہا ہے جیسے قبل ازیں عراق کے معاملے میں دی گئی تھی۔رابرٹ گیٹس نے بتایا کہ عراق کی طرز پر کابل میں امریکی فوجیں اور جدید ترین اسلحہ بھجوایا جارہا ہے۔رابرٹ نے صدر اوبامہ کے نمائندے البروک کی سفارت کاری کے حوالے سے امریکی پالیسی کو یوں بیان کیا کہ ہم دونوں البروک اور فوجی استعمال ملکر ہی مسائل کا حل ڈھونڈھ سکتے ہیں یعنی دونوں ہی لازم ملزوم ہیں۔علاقے میں دیر پا امن کے لئے ایک طرف ہمیں (امریکہ) کو القاعدہ و طالبان کو ختم کرنا ہوگا جبکہ دوسری طرف افغانیوں و پاکستانیوں کی معاشی خوشحالی کے لئے کام کرنا ہوگا تاکہ عوامی صفوں میں امریکی نفرت کو کم کیا جائے۔اوبامہ کا ایک بیان پاکستان کے لئے بڑا درس آموز ہے۔اوبامہ نے کہا ہے کہ ہم نائن الیون کے بعد امریکہ پر دہشت گردوں کے دوسرے حملے کے منتظر ہیں کیونکہ القاعدہ کے کئی رہنما اور دہشت گرد گوریلے روپوش ہیں جو کسی وقت بھی ہمیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔اوبامہ کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کے لئے سمارٹ پاور کلیہ استعمال ہوگا۔شائد اٍسی لئے اوبامہ نے پاکستان کے سخت احتجاج کے باوجود امریکی فوجوں کو فاٹا میں ڈرون حملوں کی تاحال اجازت دے رکھی ہے۔یار لوگوں کا ایک اہل قلم طبقہ کہتا ہے کہ ہماری عسکری و سیاسی قیادت البروک کو سر انکھوں پر بٹھاتی ہے اور أسکی نوکری کا یہ دھندہ مستقبل میں جاری رہے گا۔پاکستان نے أسی کی دہائی میں جنیوا میںDIGOCOR DAVIS کی نگرانی میں منعقد ہونے والے کانفرنس شو میں بھی ایسا ہی کھیل کھیلا تھا جب افغانستان کے معاملہ پر امریکی صدر ریگن اور روسی منتری گورباچوف مصالحت کرنے پر تیار ہوگئے تھے مگر ضیاالحق نے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ جب تک پشاور میں مقیم جہادی لیڈروں کو تخت کابل پر شعلہ افروز نہیں کروایا جاتا تب تک ہم جنیوا چارٹر کا کوئی فلسفہ قبول کرنے پر تیار نہیں۔اٍس ساری صورتحال پر ایک لکھاری نے تجزیہ کیا ہے کہ اٍس بار پاکستانی جنرلز کے لئے مسٹر اوبامہ کو سخت پیام ہے کہ اب کوئی بہانہ بازی نہیں چلے گی۔تمھیں وہی کچھ کرنا ہوگا جو ہم کہیں گے اور اب بڑی بڑی سودے بازیوں کا دور نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی بات ہوگی۔امریکی قصر صدارت پر کوئی بش براجمان ہو یا اوبامہ ریگن ہو یا کسنجر پاکستان کے معاملے پر سارے ایک ہی سکے کے رخ ہیں۔امریکہ پاکستان کو أسکی جوہری طاقت سے محروم کرنا چاہتا ہے۔وائٹ ہاوس کی طرف سےsoft power پالیسی کے نزول کے لئے لرزاں و ترساں اربابٍ بزرجمہرز کو ایسی فریب کاریوں سے بچنا ہوگا کیونکہ وقت انے پر ہمارے خلاف سمارٹ پاور سے بھی شدید تر پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔جہاں تک امریکی وزیر دفاع کا افغانیوں اور پاکستانیوں کی خوشحالی کی نوید دی گئی ہے تو یاد رہے کہ دونوں ملکوں کی نناوے فیصد ابادی کو اپنی خود مختیاری اور ازادی سے والہانہ عقیدت ہے اگر رابرٹ گیٹس خطے میں امریکی نفرت کو ختم کرنے کی نیت رکھتے ہیں تو پھر امریکی و اتحادی فوجیوں کو اپنی سمارٹ و سافٹ پالیسیوں کے سرنامے أٹھا کر جلد از جلد کابل سے نکل جانا چاہیے ورنہ افغانستان میں برسرپیکار اسلام پسندوں کی ایمانی حرارت کے سامنے ہارڈ پاور کی بلند قامت پالیسیوں کے چٹانی پہاڑ پگھل کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment