
تھیلیز ایشیائے کوچک بحیرہ روم کے ساحل پر ایک یونانی نوآبادی آئیونیا کے شہر مائیلٹس میں 546 سال قبل از مسیح پیدا ہوا تھا ،تھیلیز کو متفقہ طور پر دنیا کا پہلا فلسفی مانا جاتا ہے اس کے زمانے میں امیر و غریب طبقے کی کشمکش عروج پر تھی ، حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تھیلیز نے ’’ ابیون ازم‘‘ کا فلسفہ پیش کیا تھا ’’ابیون ازم ‘‘کے فلسفے کے مطابق ’’انسان کو ایسے قوانین ،اقدار اور معیارات اپنانے چاہئیںجن کی مدد سے جسمانی ،سماجی ،معاشی یا سیاسی طاقت سے قطع نظر ہر انسان کیلئے یکساں وقار، مواقع اور اشیائے ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے‘‘۔ معاشرے میں تبدیلی کیلئے تھیلیز نے غریب طبقے کے سرکردہ رہنما ’’اناکسی مینڈر‘‘ کو کہا تھا کہ وہ نظام تبدیل کرنے کیلئے تمام لوگوں کو جمع کرے اور لانگ مارچ کر کے عوامی طاقت سے حکومت کا تخت الٹ دے یا پھر حکومتی عہدیداران کے گھر کے سامنے دھر نا دے کر بیٹھ جائے اور جب تک غریبوں کے مطالبات کے سامنے طبقہ اشرافیہ ہتھیار نہ ڈال دے اس وقت تک وہ دھرنا جاری رکھے ،انہی دنوں ایرانیوں نے میسوپوٹیما، لیڈیا اور آئیونیا کو فتح کرلیا تھا اس لئے تھیلیز کے نظریات کو زیادہ پزیرائی نہ مل سکی لیکن تھیلیز کے زمانے کے ٹھیک دو ہزار چار سو 81 برس بعد ریاستی ظلم و جبر کیخلاف ایک لانگ مارچ ماؤزے تنگ نے کیا تھا اور ظالم و جابر حکومت وقت کا تخت الٹ کر چین میں انقلاب لایا تھا ۔اور یہی وہ وقت تھا کہ ہندوستان میں گاندھی نے اہنسا تحریک شروع کی تھی کہ ظالم کے گھر کے سامنے اس وقت تک دھرنا دے کر بیٹھے رہو جب تک وہ تمہیں تمہارا حق نہ دے ۔
تھیلیز،ماؤزے تنگ اور گاندھی مجھے اس لئے یاد آگئے کہ کراچی میں ’’ملین مارچ ‘‘اور ’’دھرنوں‘‘ کی چیمپئن ایک سیاسی جماعت نے ’’گو امریکا گو ‘‘مارچ کا انعقاد کیا تھا مذکوہ سیاسی جماعت کا موقف ہے کہ پاکستان میں امریکی موجودگی تمام مسائل کی جڑ ہے ،پاکستان سے امریکا کا مکمل انخلا ء ہوتے ہی تمام مسائل حل ہو جائیں گے ۔
ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس نان ایشوز کو ایشوز بنا کر عوام کو الجھائے رکھنے کے اس قدر طریقے ہیں کہ اگر آج میکاولی زندہ ہوتا تو وہ ’’دا پرنس ‘‘ کے بجائے ’’دا پاکستانی پالیٹکس ‘‘ لکھتا ۔کیونکہ ایک حد تک تو یہ بات صیح ہے کہ پاکستان کے بیشتر مسائل کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے مگر بنیادی طور پر ملک آج آتش و آہنگ کا ابلتا ہوا لاوا بنا ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری ہمارے سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے ۔ آج ملک اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے ایک جانب بم دھماکے اور دہشتگردی ہے اور دوسری طرف سیاسی مفاد پرستی کی یہ انتہا ہے کہ قوم معاشی ،سیاسی و سماجی بحرانوں کی زد میں ہے ،ملک کی چالیس فیصد آبادی بیروزگار ہے ،65 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ،16 سے 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے سبب 40 ہزار چھوٹی بڑی صنعتیں بند ہو گئی ہیں ،عوام کو بنیادی سہولیات ملنا تو درکنار روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور اس صورتحال میں سیاستدان سوات میں لڑکی کو کوڑے پڑنے کے واقعے پر احتجاج کر کے تو کبھی خود کش حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر کے تو کبھی گو امریکا گو تحریک چلا کر ترستی، بلکتی اور مرتی عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں ،اگر سیاستدان یہ ’’احتجاجی ڈرامے ‘‘ نہ کریں تو قوم جاگ سکتی ہے اس لئے سامراج کے اسکرپٹ پر احتجاجی ڈرامے کرنا ان سیاستدانوں کی مجبوری ہے ورنہ کہیں قوم جاگ گئی تو عشروں سے خوشنما وعدوں کے لالی پاپ دینے والے سیاستدانوں کو نشان عبرت بنا دیگی اس لئے یہ سیاستدان روزآنہ نت نئے تماشے اپنے جھولے سے نکالتے ہیں اور عوام کو بچہ جمہورا کی طرح نچاتے ہیں ۔
آج ملک جس مقام پر کھڑا ہے اس سے نکلنے کیلئے کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس کوئی ٹھوس لائحہ عمل موجود نہیں ہے دوسری طرف حقائق سے نظریں چرا کر نان ایشوز کو ایشو بنا کر قوم کی توجہ تبدیل کر کے تمام سیاستدان آج ملک کو ’’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘‘ پر لے آئے ہیں ۔ اگر ماؤزے تنگ کو لانگ مارچ میں کامیابی ملی تھی تو وہ اس لئے کہ وہ اپنی قوم سے مخلص تھا ،چےئر مین ماؤ نے لانگ مارچ کے دوران ہزاروں میل کا پیدل سفر طے کیا تھا اور جب تک منزل حاصل نہیں کر لی اس نے اپنا سفر ختم نہیں کیا تھا ۔گو امریکا گو مارچ کے تحت ہونیوالے ریلی و جلسے چند ہی گھنٹوں میں اختتام پذیر ہو گئے تھے،کیا ریلی سے امریکا اپنا بوریا بسترسمیٹ کر پاکستان سے نکل گیا ؟ کیا بھوکوں کو روٹی مل گئی؟ بیروزگاروں کو روزگار مل گیا؟ کیا اس ریلی کے ذریعے صرف قوم کو اتنا ہی پتا چل گیا کہ یہودی کس طرح ان کا معاشی استحصال کر ہے ہیں اور ان کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟ انہیں کیا جدوجہد کرنی چاہئے؟ اگر نہیں تو شہر بند کر کے ہزاروں کو افراد کو ریلی میں بلا کر ان کا وقت کیوں برباد کیا گیا؟ راستے بند ہونے کے سبب لاکھوں لوگوں کو جو تکلیف ہوئی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟
تھیلیز اور ماؤزے تنگ نے اپنی قوم کیلئے کام کیا تھا اس لئے تاریخ میں ان کا نام زندہ ہے مگر ان کی نقالی کرنیوالے پاکستان کے تمام سیاسی ٹٹ پونجئے، شکم پرست، ژولیدہ فکر ،منافق و دوغلے سیاستدانوں نے لانگ مارچ، ملین مارچ، دھرنے ،احتجاج و حقوق مانگنے کے نام پر ایک مسلمان قوم کولسانیت، صوبائیت ،فرقہ واریت و عصبیت کے تاریک ترین غار میں دھکیل دیا ہے ،ان سیاستدانوں کے دماغ حقوق و فرائض سے خالی ہیں یہ اپنی خواہشات و ہوس اقتدار کیلئے عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے ہر ممکن وسائل اور اثروثوق استعمال کر رہے ہیں ان لوگوں کا حال حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے کے بنی اسرائیلیوں جیسا ہے جو گفتار و تقریر میں شریعت موسوی کے دفاع میں جزیات اور فروعات کی باریکیوں پر جنون آمیز لمبے لمبے مناظرے کرتے تھے لیکن عملا حرام کے سالم اونٹ کو نگلنے میں شریعت موسوی کو آڑے آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔آج اسلام کے نام پر قائم ہونیوالے پاکستان کو ایک خالص اسلامی انقلاب ہی بچا سکتا ہے،پاکستانیوں کے اجتماعی مسائل اتنے پیچیدہ ہو گئے ہیں کہ ان مسائل کا احاطہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی جذباتی و روایتی رویوں سے ان پر قابو پایا جاسکتا ہے اس سلسلے میں مسلکی و گروہی عصبیت سے بالا تر علماء حق ،دانشور اور محقق ہی انجام دے سکتے ہیں۔

1 response so far ↓
1 Muhammad Hakeem Khan // Jun 30, 2009 at 6:43 am
Sir You are right but our nations don’t have any honest and brave leader to comes and lead our pakistani nation.Most of our leaders want his party and himself popular only to get chair nothing else.
Leave a Comment