
کسی نے یہ بات سچ ہی کہی ہے کہ انسان کا دشمن اور کوئی نہیں بلکہ وہ خود ہی اپنا سب سے بڑا دشمن ہے اسی طرح ہم جب ملکوں کی تباہی و بربادی کی تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیںتو ان کی تباہی کے اسباب میں سر فہرست ہمیں ایسی ہی سوچ کار فرما نظر آتی ہے کہ کس طرح چند لوگوں کی وجہ سے ملکوں اور معاشروں پر زوال آیا اور ملک تباہ ہوئے ماضی کی یہ تاریخ پاکستان میں دہرائی جاتی نظر آرہی ہے ،دنیا اس وقت ایک گاوں کا درجہ اختیار کر چکی ہے اور اس گاوں میں رہنے والے تمام افراد کے مفادات ایک دوسرے سے جڑئے ہوئے ہیں اس لئے کوئی بھی ملک تنہا پرواز نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ دوسروں کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے لیکن پاکستان میں چند لوگ اور گروہ یہ تصور کر بیٹھے ہیں کہ ہم دنیا سے الگ تھلگ مخلوق ہیںاور ہمیں دنیا کی کوئی ضرورت نہیں اس لئے ہم جو بھی مرضی میں آئے کر گزرنے کے لئے تیار ہیں جس کا اظہار وہ اکثر اپنی حرکتوں سے کرتے رہتے ہیں جس کا خمیازہ پوری پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑتا ہے تو دوسری جانب پاکستان دنیا کی نظر میں ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آرہا ہے جو دنیا کے امن ،استحکام اور بقا کے لئے خطرہ ہے ور اس بات کا ثبوت ہمارئے یہاں موجود کچھ لوگ فراہم بھی کر رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو تو پتھر کے زمانے میں لے جانا چاہتے ہی ہیں انہیں دنیا کی ترقی بھی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور یہ لٹھ لے کر دنیا کے پیچھے بھی پڑئے ہوئے ہیں ،چلتے پھرتے کام کرتے انسان انہیں اچھے نہیں لگتے بلکہ یہ لولے لنگڑے اور خون میں رنگے ہوئے انسانوں کو پسند کرتے ہیں اور جبھی تو یہ آئے دن کسی نہ کسی شہر میں بم دھماکے کر کے اپنی سفلی خواہشات کو تسکین پہنچاتے ہیں اس طرح کی حرکتیں کرنے والے تمام افراد انسان ،انسانیت،اچھائی،سچائی اور ترقی کے دشمن ہیں ۔ہمارا یہ المیہ ہے کہ یہ لوگ ہم جیسے ہی حلیے اور وضع قطع رکھتے ہیں اور معاشرے اور ریاستی ادروں میں اپنے حمائتی بھی رکھتے ہیں جو ان کی ان مذموم کاروائیوں کی حمایت میں اسلام جیسے عالمگیر دین سے جواز تراشتے نظر آتے ہیں اور ان کی کاروائیوں کی حمائیت کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں یہ ایک ایسا طرز فکر رکھتے ہیں جس کی جدید دنیا میں بھی کہیں پزیرائی نہیں ہے اور نہ ہی دین اسلام میں سے انہیں کوئی سند میسر ہے مگر ہٹ دھرمی کا علاج اب کہا ں سے کوئی لائے ۔مجھے اس وقت بہت زیادہ دکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب بیرون ممالک مقیم پاکستانی ہم سے یہ استفسار کرتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے ان کی ان حرکتوں کی وجہ سے ہمارئے لئے مشکلیں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں ۔ ہم کیا جواب دیں اور کیا کہیں پاگل پن کا علاج تو شائد ممکن ہو مگر خود ساختہ نظرئیوں اور عقیدوں کی آگ پھیلانے والوں کا علاج اس وقت تک دریافت نہیں ہو سکتا جب تک قوم خود یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ ایسے لوگوں کی کسی بھی بات کو کسی طور بھی تسلیم نہ کیا جائے کیونکہ یہ کام کسی اکیلے فرد یا اکیلی حکومت کے بس میں نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں پر قابو پاسکے اس کے لئے ضروری ہے کہ قوم متحد ہو کر اس ذہنیت کے خلاف اعلان جنگ کر دئے اور انسانیت کے ان دشمنوں کے خلاف صف آرا ہو جائے ۔ پاکستان میں پے درپے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات نے پاکستانی عوام کو اس حقیقت سے آشنا کر دیا ہے کہ وطن دشمن اور اسلام کے نام کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے والے القائدہ اور اس کے حواری ہماری ثقافت‘ ہماری پہچان‘ ہمارے رہن سہن اور ہماری آزادی کے درپے ہیں۔ آج جبکہ ہم اس بحث میں مبتلا ہیں کہ ہماری آزادی کو ایک مکمل تحفظ چاہئے اور اپنے لوگوں کو ان کے وحشیانہ حملوں سے بچائیں‘ یہ عناصر جو صوبہ سرحد میں اپنے قدم محفوظ بنانا چاہ رہے ہیں۔ ہمیںباتوں کے علاوہ عملی طور پر ان کی حرکتوں سے چوکنا‘ ہوشیار اور متحد ہوکر ان خطرات سے نمٹنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ یہ لوگ ہماری جان و مال اور ملکی سلامتی کے درپے ہیں۔ یہ لوگ جن سے بچنے کیلئے پاکستانی قوم اربوں روپے ان کے تشدد سے بچاؤ کیلئے خرچ رہی ہے اور یہ لوگ پاکستانی معیشت کو گہرا نقصان پہنچا رہے ہیں‘ یہ لوگ ہماری معیشت کو بھی ہزار سال پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ اتحاد اور اتفاق کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اس برائی کی جڑ کو اکھاڑ پھینکیں اور وطن عزیز کو معاشی ترقی کی نئی راہ پر ڈال سکیں اور دوسرے اہم مسائل کو حل کرنے کی سعی کریں۔یہ بھی سچ ہے کہ کوئی بھی فرد معاشرہ اور ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اسے امن اور استحکام میسر نہ ہو ،ہمیں اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ ہمارے امن اور استحکام کو کون نقصان پہنچا رہا ہے جب ہم اس بات کا ادراک کر لیں گے تو حل بھی نظر آجائے گا ۔پاکستانی قوم غیور اور بہادر ہے اور اب شعور کی پختگی بھی حاصل کرتی جا رہی ہے اس لئے امید واثق ہے کہ یہ اپنی شعوری پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے خلاف متحد ہوکر ان کی مذموم حرکتوں کو ناکام بنائے گی ،یہ وقت اور حالات کی بھی ضرورت ہے اور ہماری بقا اور ترقی کا بھی دارومدار اسی بات پر ہے کہ ہم ان خود ساختہ نظریات کے پپجاریوں کو ہر سطع پر ناکام کریں ،دنیا کہاں سے کہاں پنچ گئی ہے اور ہمارے یہاں ابھی تک سکول ،ہسپتال اور دیگر املاک کو جلایا جا رہا ہے سرف اس لئے کہ خواتین تعلیم حاصل نہ کر سکیں کیا کوئی قوم اپنی خواتین کو علم کی روشنی سے محروم رکھ کر ترقی کر سکتی ہے ؟

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment