
بی بی زینب نے شہادت اہل بیت کے بعد یذیذی دربار میں ولولہ انگیز خطاب میں کہا تھا۔پروردگار تو ان ظالموں سے ہمارا حق دلادے اور ستم گروں سے ہمارے بدلے چکا دے۔ جن جفا شعاروں نے ہمارا لہو بہایا ہے اور ہمارے طرف داروں کو قتل کیا ہے ان پر عذاب نازل فرما۔آئے یذیذ تو نے اپنی کھال نوچی ہے اور اپنے ہاتھوں سے اپنے گوشت کی تکہ بوٹی کی ہے۔ بہت جلد وہ وقت انے والا ہے تجھے انتہائی زلت و خواری کے ساتھ اللہ کے رسول کا سامنا کرنا پڑیگا۔تو نے نبی کی ذریت کو خاک و خون میں غلطاں کیا۔یذیذ تیرے لئے اتنا جان لینا ہی کافی ہے کہ بہت جلد خدائے ذواجلال فیصلہ دیں گے خدائی دربار میں حضرت محمد مدعی ہونگے اور جبرئیل امین گواہی دیں گے۔ اسرائیل جہاں ایک طرف بیت المقدس کو ڈھاکر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لئے اتاولہ بنا ہوا ہے تو دوسری طرف یہودی مڈل ایسٹ اور ارض مقدس پر صدیوں سے قائم کعبہ کی بیٹیوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے جارہیت کا ظالمانہ ارتکاب کرر ہے ہیں۔۔ریڈیو نیدرلینڈ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے حال ہی میں حماس کے عسکریت پسندوں کی موجودگی کا من گھڑت ڈھنڈورہ پیٹ کر غزہ کی معروف مسجد کو بارود برسا کر تہس نہس کردیا۔عالمی میڈیا نے اسرائیلی بربریت کو دور حاظر کا سب سے بڑا انسانی المیہ قرار دیا۔امریکہ اسرائیل کی دامے درمے قدمے و سخنے مدد کررہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس نے استعماری دیوی کے روپ میںجنگ بندی کروانے کی اپیلوں کو مسترد کر رہی ہیںاور دہشت گردی کی کالک حماس پر ملنے کی اداکاری کررہی ہیں کہ حماس دہشت گردی ترک کردے۔حماس نے سرنڈر کرنے کی بجائے اسرائیل کی ظلمت کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کردیا ۔حماس کی ملٹری ونگ کے کمانڈر ابو القاسم نے بیانگ دہل کہا ہم اسرائیلی حملوں کا جواب خود کش حملوں سے دیں گے۔شام میں مقیم حماس کے رجال کار خالد مشعل نے فلسطینی قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ مادر وطن کی اذادی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور اسرائیل کے خلاف تیسری تحریک انتقاضہ شروع کی جائے۔اسرائیلی اخبار دی وائی نیسٹ نیوز نے اسرائیلی وزارت دفاع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیلی انفنٹری سے تعلق رکھنے والے ٹینکوں ہیلی کاپٹروں و بکتر بند گاڑیوں اور اسپیشل فورس کو حماس کے ٹھکانوں کو تباہ برد کرنے کے لئے تیاریوں کا حکم دے دیا گیا ہے۔اخبار کے مطابق اسرائیل حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کرنا چاہتا ہے ۔ اسرائیل کو ایسی کاروائیوں کے لئے اردن و مصر کی خاموش حمایت جبکہ امریکہ ،برطانیہ اور الفتح کے محمود عباس کی کھلی حمایت حاصل تھی۔اگلے سال فلسطین میں انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔امریکہ اور اسکے حواریوں جن میں محمود عباس و اسرائیل شامل ہیں ہر صورت میں حماس کی سیاسی و عسکری قوت کو پاش پاش کرنے کی راہ پر گامزن ہیں تاکہ فلسطین نام کی کاغذی ریاست کے تخت پر حماس کی بجائے الفتح کے امریکی جغادریوں کو جلوہ گر کیا جاسکے۔اسی تناظر میں یہودی بھیڑئیے فلسطین پر اگ برسارہے ہیں۔برطانوی ٹی وی چینل اسکائی سے بات چیت کرتے ہوئے یہودی وزیر دفاع یہود بارک نے کہا کہ اسرائیل حماس پر شب خون مارنے کے لئے تیار ہے۔یہود بارک کہتے ہیں کہ اسرائیل کے فلسطین پر حالیہ حملوں کے بعد عرب دنیا کے رد عمل کو گہرائیوں سے پرکھا جارہا ہے اور اسی رد عمل کے بعد ہی غزہ پر مذید حملوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔بارک نے میڈیا کو چکمہ دیتے ہوئے کہا کہ فوجی کاروائیوں میں اس نقطے کا خاص اہتمام کیا گیا کہ صرف حماس کی مچان گاہوں کو تباہ کیا جائے تاکہ معصوم شہری نقصان سے بچ سکیں مگر یہود بارک کی انسانیت پرستی کا بھانڈا برطانوی اخبار ٹائمز ان لائن نے بیچ چوراہے میں چور چور کرتے ہوئے ثابت کیا کہ اسرائیلی حملوں میں شہریوں کو جان بوجھ کر ہدف بنایا گیا تاکہ اگلے الیکشن میں وہ حماس کی حمایت سے دستکش ہوجائیں۔ٹائمز کا استدلال ہے کہ اسرائیلی جارہیت سے ایک طرف حماس مذید قوت کے ساتھ ابھرے گی تو دوسری طرف اسکی عوامی حمایت میں روز افزوں اضافہ نوشتہ دیوار ہے۔ٹائمز نے اسرائیلی قیادت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حملوں کی صورت میں حماس کی مقبولیت و شہرت کا گراف بڑھ رہا ہے مگر اسرائیل کے امدہ الیکشن میں موجودہ حکمران شکست سے دوچار ہونگے۔فلسطینی نوجوان اسرائیل کی طرف سے غذائی ضروریات بند کرنے ، غزہ و دیگر علاقوں پر یہودیوں کے خون آشام حملوں کے بعد مشتعل ہوچکے ہیں اور اب انکے پاس حماس کا دامن تھامنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نظر نہیں اتا۔اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے لکھا ہے کہ حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی کا نتیجہ ہیں۔یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیلی ایجنسی شن بیت پچھلے ایک مہینے سے حماس کے خلاف معلومات اکٹھی کررہی تھی جبکہ غزہ میں اسرائیلی جاسوس ایک سال سے حماس کے عسکری ٹھکانوں تربیتی کیمپوں اور انفراسٹرکچر کی کھوج لگا کر معلومات تل ایب کو بھیج رہے تھے مگر جئب ہفتہ کو حملہ کیا گیا تو اس کی ز د میں معصوم لوگ ائے۔یروشلم پوسٹ نے تل ایب کی خونخواری کی تفصیل عیاں کرتے ہوئے اپنے ادارئیے میں لکھا کہ اسرائیل کے پچاس سے زائد ہیلی کاپٹروں و گن شپ ہیلی کاپٹروں نے اپریشن میں حصہ لیا اور اخری معلومات کے مطابق تین سو فلسطینی صہیونیت کی درندگی کی نذر ہوگئے۔ابتدائی حملے کے فوری بعد اسرائیلی فوج نے مذید ساٹھ گن شپ ہیلی کاپٹر غزہ کو خون کے قبرستان میں بدلنے کے لئے روانہ کئے۔یروشلم پوسٹ کی نامہ نگار برینڈا گازر نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں لکھا کہ مصر حماس کو تختہ مشق بنانے کے لئے بے چین تھا مگر اب وہ نتائجء سے خوف زدہ ہوکر اسرائیلی انتظامیہ سے ہاتھ ہلکا رکھنے کا طلبگار ہے تاکہ مصر کی اسلامی تحریکیں اسرائیل نوازی کی پاداش میں حکومت کا تختہ گول نہ کردیں۔اسرائیلی خاتون صحافی گازر اپنے مضمون میں رقم طرازہیں کہ مصر کے صدر حسنی مبارک نے پچھلے جمعرات اسرائیلی وزیراعظم زپی لیونی سے ملاقات کرکے حماس پر حملے کی اجازت دی تھی۔ادھر جمال عبد الجواد چیر مین الاھرام سنٹر برائے سٹریٹیجک اسٹڈیز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مصری قوم کی اکثریت فلسطین کاز سے ہمدردی رکھتی ہے۔جمال عبدالجواد کا کہنا ہے کہ تل ایب کی حمایت کرنے پر عوام مصری حکومت سے شاکی ہے۔مصر پر پہلے ہی فلطینیوں پر غذائی اجناس کی بندش کے صہیونی و غیر انسانی اقدامات نے اشتعال انگیزی کی فضائیں چھائی ہوئیں تھیں مگر اب صہیونی حملوں و خونی کشت و قتال سے مصریوں میں امریکہ اسرائیل اور امریکن نواز مصری حکومت کے خلا ف نفرت و حقارت کے جذبات طوفانوں کی شکل میں مچل رہے ہیں۔مصری تجزیہ نگاروں نے رائے زنی کی ہے کہ اگر اخوان المسلمین چاہے تو اسرائیل کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتی ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق لبنان اردن مصر سعودی عرب عراق و شام ہنوستان پاکستان بنگلہ دیش میں اسرائیلی جارہیت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ مسلم امہ ابھی تک خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ کے خلاف مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق، یکجہتی و باہمی اشتراک کی لڑی میں پرو ہوکر اواز حق بلند کرنے کی ہمت کرنی چاہیے۔مغرب کی خوشنودی کے لئے یہود نوازی میں سرفہرست مصر اردن عرب ملکوں اور مسلمان حکمرانوں کو ہر صورت میں یہودی بربریت کے خلاف سربکف بن کر حماس کی حمایت کرنی چاہیے ورنہ غزہ عراق و کابل میں امریکی و اسرائیلی حملوں کی زد میں اکر شہادت کے رتبے پر فائز ہونے والی فلسطینی مائیں بیٹیاں اور بہنیں بروز قیامت حضرت زینب کے ہمراہ یذیذ کے ساتھ ساتھ مسلم حکمرانوں کے خلاف وہی دہائی اور گواہی دے رہی ہونگی جو اج سے چودہ سو سال پہلے یذیذی دربار میں دے رہی تھیں۔ یا اللہ ان ستم گروں( امریکن خوشہ چین مسلم حکمرانوں ) سے ہمارا حق واپس دلادے۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment