
انسانی جان کی حرمت سے ہر ذی شعور بخوبی اگاہ ہے ۔ایک مسلمان کیلئے انسانی جان کا تقدس کیا ہے وہ حدیث قدسی سے بخوبی اجاگر ہوتا ہے ،،جس نے ایک انسان کوقتل کیا اسنے پوری انسانیت کا قتل کیا ،،۔معاشرے نظم و ضبط ایثار قربانی رواداری کی بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں ۔معاشرے میں ایک دوسرے کی اغراض اور ضروریات ایک دوسرے سے وابستہ ہوتی ہیں ۔انسان ایک دوسرے کے کام آئے تو معاشرتے حسن اور نظم و ضبط برقرار رہتا ہے ۔اگر دوسروں کے ساتھ بھلائی نہ کی جائے تو دوسروں سے بھلائی کی تو قع کیونکر کی جاسکتی ہے۔اگر میں نفس کا غلا م ہوں تو کیا اسی معاشرے میں بسنے والے دیگر افراد فرشتوں کی سیرت لیکر پیدا ہوئے ہیں۔یہ بنیادی تضاد ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں نفسا نفسی کو ترویج حاصل ہو رہی ہے ۔زندگی معاشرے میں مختلف شعبہ زندگی میں تقسیم ہوتی ہے ۔ہر شعبہ اپنے حصے کا فرض اد کر کے معاشرے کی خدمت سر انجام دیتا ہے ۔اگر معاشرے کو زندگی بخشنے والے ہی زندگی چھیننے کے درپے ہو جائیں تو معاشرے میں مسیحا کا کردار مفقود ہو جائے گا۔زندگی کو بچانے والی ادویات ایک انسان کو نہیں پوری انسانیت کو بچانے کا کا م سر انجام دیتی ہیں ۔اگر یہ ادویات ہی جعل سازی دو نمبری کا شکار ہونے لگیں تو یہ ایک ادارہ جاتی معاملہ نہیں پوری انسانیت کے ساتھ دشمنی اور دو نمبری ہوگی ۔معاشرے میں مسیحا کے روپ میں قاتل گھس آئیں تو کون ہے جو اس معاشرے کی اکھڑی ہو ئی سانسوں کو دوام بخشے ۔ادویات میں جعل سازی انسانیت کے خلاف انتہائی گھناؤنا جرم ہے ۔معاشرے میں چھپے ہوئے اس ناسور کیلئے سزا تجویز کرنا زیادہ مشکل نہیں لیکن ان پوشیدہ ہاتھوں کو بے نقاب کرنا انتہائی دشوار عمل ہے ۔اس مافیا کو بے نقاب کرنے کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے لیکن انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کوئی نہ کوئی آواز تو بلند کرے ۔ایسا مسیحا بھی موجود ہو گاجو تمام تر روکاوٹوں کو عبور کر کے انسانیت کے چہرے کا یہ کلنک دور کرے گا۔زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اورعزت کی موت اور انسانیت کی فلاح میں جان کا نذرانہ ایک صحافی ہی کے شایان شان منصب ہے ۔پنجاب کے خادم اعلیٰ انسانیت کے ان دشمنوں کے خلاف ابھی تک کاروائی کر رہے ہیں ۔یہ کاروائی کا نہیں بلکہ اس مافیا کے خلاف جہادی طریق پر اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔انسان کیلئے مسیحا کا درجہ رکھنے والا یہ شعبہ زندگی جس پراگندگی کا شکار ہو چکا ہے اس کی عکاسی کرنے کی جسارت ان الفاظ سے شایدہی ممکن ہو البتہ اندازہ لگانے اور سمت کے تعین میں یہ ضرور ممدد ہو نگے ۔
فارماسوٹیکل پراسس میں پائے جانے والے ابہام اور خامیاں بنیادی طور پر انسانیت کے خلاف اس گھناؤنے کھیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔کسی بھی فارما سوٹیکل کمپنی کو منسڑی آف ہیلتھ میں رجسڑڈ کرانا یا لائسنس لینا اولین کا م ہے۔اس کیلئے کوالفیکشن ہونا ضروری نہیں فقط کوئی بھی انوسٹر کاروباری نقطہ نگاہ سے اگے آسکتاہے۔فارماسوٹیکل کپنی کا ایک مخصوص پروٹوکول دیتاہے۔اب یہ انوسٹر پر ہے کہ وہ اس کو پورا کرے یا آنے والے وقتوں میں ڈرگ انسپکڑ کے ساتھ شریک کا ر ہو جائے ۔فارماسسٹ ملازم اور انہی پر سب انحصار ہوتاہے ۔کوالٹی کنڑول وہ زریعہ ہے جو اس مکروہ دھندے کو آڑ مہیا کرتاہے یا پھر اسے بے نقاب کر سکتاہے۔کسی بھی دوا کی کوالٹی کا اصل معیار چیک کرنے کیلئے حکومتی لیب ‘‘ پی سی ایس آئی آر ‘‘ ذمہ دار ہے۔باخبر ذرائع جانتے ہیں کہ بنیادی جزائیات جو کہ ادوایات سازی میں استعمال ہوتی ہیں وہ درآمد کی جاتی ہیں۔یہاں ہی معیار کا اصل فرق پیدا ہو جاتا ہے ۔یورپین یا امریکن خام مال مہنگا ہوتا ہے لیکن اسکی کوالٹی اسکا مہنگا ہونے کا سبب بیان کی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ چائنا اور انڈیا سے بھی ‘‘ را میٹیریل ‘‘ درآمد کیا جاتاہے ۔اس مال میں اسکا حیاتیاتی جز بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔اس کا فریش سٹاک سے ہونا اور اسکی معیاد اسکی قیمت کے تعین میں اہم ہیں ۔اسے‘‘ اے بی سی ‘‘ گریڈز میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔نزدیک ‘‘ ایکسپائیری ‘‘ والامال سستا اور فریش سٹا ک جس کی ایکس پائیری دور ہوتی ہے مہنگاہوتاہے۔کیٹگری بی کا مال سستا ہونے کی وجہ سے انوسٹر کیلئے زیادہ منافع کی وجہ سے قابل ترجیح ہوتاہے۔یہ زیادہ تر سائنسی فارمولا پر مشتمل میٹریل ہوتا ہے ۔ہربل میٹریل پروسسنگ اور دیگر اخراجات کی وجہ سے زیادہ مہنگا ہونے کے سبب پہلی ترجیح نہیں ہوتا۔درآمد کندگان مزید بچت کا خانہ ‘‘ انڈر انوائس ‘‘ شو کر کے نکالتے ہیں ۔جس میں کسٹم کا عملہ ان سے تعاون کرکے انسانیت کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالتاہے ۔لوکل ،نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیز کا خام مال زیادہ تر ‘‘ اے بی سی ‘‘ کیٹگریز کے فرق میں ہوتاہے۔ملٹی نیشنل کمپنی کی ادویات کے مہنگا ہونے میں لیبر چارجز اور اسکی ایڈوٹائز اور پیکنگ کے اخراجات مزید کردار ادا کرتے ہیں ۔دو نمبر یا جعلی ادویات کے سائیڈ افیکٹس میں سب سے اہم ان کا کم کارآمد ہونا یا غیر فعال ہونا اور مریض کو اسکی اصل ضرورت سے کم مقدار میں پوٹینسی ملنا ہے ۔جس کی وجہ سے اس کے مرض میں افاقہ نہیں ہوتا ۔جعلی ادویات کا سب سے مکروہ کردار گلی محلوں میں قائم ملٹی نیشنل ادویات کے نام پر بنائی جانی والی اورپیک کی جانی والی ادویات ہیں۔گولیاں اورکیپسول آٹا یا اسی طرح کی مواد سے فل کر کے انہیں معروف برانڈز کی پیکنگ دیکر مارکیٹ میں سپلائی کیا جاتا ہے ۔اب اس میں کیپسول کا خول ،پرنٹنگ پریس اور اسکے ڈیلر قومی خدمت میں شامل ہوتے ہیں ۔انسانیت کے خادم اپنی ادویہ کو مارکیٹ میں مارکیٹنگ کے زریعے جس طرح سے پہنچاتے ہیں اس کی جھلک بھی انسانیت کی آنکھیں نیچی کرنے میں ضرور ممدد ہے۔مارکیٹنگ سیلز ریپ جو ملٹی نیشنل کمپنیز سے تعلق رکھتے ہیں مسیحاؤں کی مسیحائی کیلئے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں ۔مسیحاؤں کیلئے ٹور پروگرامز جو کہ اکثرکانفرنسز کے نام پر ارینج کیے جاتے ہیں۔غیر ملکی کانفرنسز میں شرکت کیلئے اکثر ملٹی نیشنل کمپنیاں سپانسر کرتی ہیں ۔پارٹیز کا اہتمام مختلف طریقوں سے کیا جاتاہے۔کلینک کی ترہین و آرائش کے نام پر اندرونی تعشیشات ‘‘ اے سی ‘‘ اورفرنیچر وغیرہ کی فراہمی بھی انتہائی رازداری سے کی جاتی ہے۔پرائیویٹ ہسپتالوں کو مہیا کی جانی والی ادویہ کی کھیپ پر فیصدی ڈسکاؤنٹ مارکیٹ سے بھی زیادہ دینا شامل ہے ۔ڈاکٹر کی فیصدی طے کر دی جاتی ہے کہ وہ کمپنی کی دوا تجویز کرے اسکا مخصوص اور طے شدہ کمیشن ادا کیا جائے گا۔اسے ڈیلی ویجز ڈیل کا نام بھی دیا جاتا ہے۔لوکل ،نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیز کی نسبت زیادہ منافع کا لالچ دیکر اپنی کم ویلیو ادویات صرف اسی مارکیٹنگ کے سہارے چلا رہی ہیں ۔سرکاری ہسپتالوں کے ‘‘ او پی ڈی ‘‘ میں تعینات ہاؤس جاب کرنے والے اور ایم او تو ڈنر لنچ اور موبائیل کارڈز تک وصول کرتے ہیں ۔اس کے عوض وہ متعلقہ کمپنی کی ادویات ہی تجویز کرتے ہیں ۔یہ وہ ماحول ہے جس میں انسانیت کے مسیحا انسانیت کی خدمت کرنے میں مصروف ہیں ۔
جنرل مشرف کی اہلیہ کو تجویز کی گئی دوا کی کوالٹی غیر معیاری نکلی تھی ۔جس کے سبب متعلقہ کمپنی کچھ روز سیل بھی رہی تھی۔باوجودیکہ یہ کمپنی ابھی تک اسی آن بان سے کام کر رہی ہے ۔خادم اعلی پنجاب کے خادمین میں بھی اس مثل کی نشاندہی کی گئی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ خادم اعلی پنجاب اس مافیا ء کو کس طرح انسانیت کے دائرے میں لاتے ہیں ۔میں نہ مانوں کا اصل روپ کیا ہے انتظار رہے گا۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment