Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

انجام ۔عبدالقدوس محمدی

November 30th, 2008 · No Comments

ممبئی میں جو کچھ ہو اوہ قطعی طور پر غیر متوقع نہ تھا کیونکہ ایک ایسا ملک جہاں کوئی اقلیت محفوظ نہ ہو ،جہاں عیسائیوں کا جینا دوبھر کر دیا جائے ،جہاں مسلمانوں کی بستیاں جلا کر انہیں خاک کا ڈھیر بنا دیا جائے ،جہاں عورتوں کی عصمت دری روز کا معمول ہو ،جہاں مظلوم طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہو ،جہاں چھوت چھات کا کلچر آج بھی رائج ہوموہاں ستم رسیدہ لوگوں کے ہاتھ ممبئی کے آسودہ حالوںاور سرمایہ کاروں کے گریباں تک پہنچا ہی کرتے ہیں ۔

جہاں خود ہندو انتہاء پسندی اور اعتدال پسندی کے خانوں میں بٹے ہوئے ہوں ،جہاں غیر ملکی مداخلت پر ایک عرصے سے شور مچایا جا رہا ہو ،جہاں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جائے ،جو ملک کشمیر سمیت کئی ریاستوں کے عوام کو آزادی سے جینے اور اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حق د ینے کے لیے تیار نہ ہو وہاں حق چھیننے کے لیے کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ جس ملک کے 12ہزار فوجی افغانستان میں تعینات ہوں ،جن فوجیوں کی افغانستان کے صوبے نمروز سمیت دیگر علاقوں میں طالبان سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہوں ،جس ملک کے غنڈے افغانستا ن کے دیہاتوں میں عورتوں اور بچوں پر تشدد کریں اور وہاں کے طالبان بدلہ لینے کی قسمیں کھائیں اس ملک کو انتقام کا سامنا تو کرنا ہی پڑتا ہے ۔ ۔ ۔ جو ملک دوسروں کے گھروں میں آگ بھڑکانے کے لیے پاکستان کی مغربی سرحد پر قونصل خانوں کا جال بچھا دے ،جس کے ایجنٹ پڑوسی ریاستوں میں فرقہ وارانہ اور دہشتگردانہ سرگرمیوں کو منظم کرتے ہوں ،جو ملک بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے نظریے پر عمل پیرا ہو ،جس کے بیوروکریٹ مذاکرات کر رہے ہوں اور وزراء خیر سگالی کے جذبات کا تبادلہ کر رہے ہوں اور اس کی خفیہ ایجنسیاں خیبر سے لے کر کراچی تک دہشتگردی ،سازش،شرارت اورشرانگیزی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی ہوں اس ملک میں ایک دن آگ اور خون کا کھیل ضرور کھیلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ جو ملک مستقبل میں سپر پاور بننے کے خواب دیکھتے ہوئے علاقے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے کوشاں ہو ،جس ملک نے اپنے تمام پڑوسیوں سے بگاڑ رکھی ہو ،جو عالمی طاقتوں کی آپس کی لڑائیوں میں جانبداری کا مظاہرہ کرتا ہو اس ملک کوعالمی سطح کے کسی ڈرامے کے لیے سٹیج کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس میں کون سی اچنبھے والی بات ہے ۔ ۔ ۔ جس ملک میں انتخابات کی آمد آمد ہے اور جہاں کی انتہاپسند جماعتوں کو نائن الیون ایساکوئی سوانگ رچانے کی ضرورت اور کسی انتخابی ایشو کی تلاش تھی وہاں ممبئی میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آ جانا کون سا بعید از قیاس ہے ؟۔ ۔ ۔ جس ملک کی فوج کے حاضر سروس افسران پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے خون کی ہولی کھیلنے سے نہ ہچکچاتے ہوں ،جس ملک کے ہندو انتہا پسندوں کو فوج میں موجود اپنے ہمدردوں کی پشت پناہی حاصل ہو،جس ملک میں درجن بھر ریاستوں میں علیحدگی اور حریت وعسکریت کی تحریکیں چل رہی ہوں وہاں بم دھماکے اور فائرنگ تو ہوا ہی کرتی ہے ۔ ۔ ۔ جو ملک یہودی لابی کی سرگرمیوں کا اڈہ بن جائے ،جس کے ملک کا قادیان نامی شہر ان غداروں کی پرورش کرے جو سینکڑوں کی تعداد میں اسرائیلی فوج میں بھرتی ہوکر عالم اسلام کی پشت میں چھرا گھونپ رہے ہوں ،جس ملک کی سرزمین قادیانی اسرائیلی گٹھ جوڑ اور مشترکہ آپریشنز کے لیے استعمال ہوتی ہو وہاں ’’آتنک واد ‘ ‘ نہ ہو تو اور کیا ہو ؟

جن ہوٹلوں کو عالمی استعماری قوتوںنے ٹھیکے پر لے رکھا ہو ،جہاں بیٹھ کر پورے خطے کو سرنگوں کرنے کے منصوبے بنتے ہوں ،جن ہوٹلوں میں ممبئی اینٹی ٹیرارازم سکواڈ کے چیف ہیمنت کرکرے جیسے لوگ قیام کرتے ہوں وہاں گولیاں تو برستی ہیں ۔ ۔ ۔ انڈیا عجیب ہے وہ چاہتا ہے کہ وہ تو دوسروں کو چین سے جینے نہ دے اور خود سکون سے رہے ،دوسروں کے گھر آگ میں جلتے رہیں اور اس کے دیش پر پھولں کی پتیاں نچھاور کی جاتی رہیں۔پڑوسی ممالک میں کشت وخون کا بازار گرم رہے اور اس کی دھرتی پر راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہو ، وہ امریکہ اور اسرائیل سے مفادات سمیٹتا رہے،معاہدے کرتا رہے اور نفع اٹھاتا رہے اور اسے امریکہ واسرائیل کی طرف آنے والی گولیوں اور نفرتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ،کتنی عجیب بات ہے ،کیسی احمقانہ سوچ ہے

کچھ لوگ بچھا کرکا نٹوں کو گلشن کی توقع رکھتے ہیں

شعلو ں کو ہوائیں دے دے کر ساون کی توقع رکھتے ہیں

حالات کی اجڑی شاخوں سے ماحول کے تپتے صحرا سے

کچھ اہل چمن پھولوں سے بھرے دامن کی توقع رکھتے ہیں

انڈیا کے ساتھ تو جو ہوئی سو ہوئی، یہ واقعہ جہاں انڈیا کے لیے ایک اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کے لیے ایک وارننگ کی حیثیت رکھتاہے وہیں یہ واقعہ پاکستان کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے ۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ بھارت کے حکمرانوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤاور پاکستان کے سر الزام تھوپ دیا،پورا بھارتی میڈیا اس واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کی مالاجپ رہا ہے ،کبھی کشتیوں کا افسانہ گھڑا جاتا ہے ،کبھی جہازو ں کی رام کہانی بیان کی جاتی ہے ،کبھی پاکستانی شہریوں کی گرفتاری کا ڈھونگ رچایا جا تا ہے ،کبھی پاکستانی آئی ایس آئی کے چیف کو بلایا جا تا ہے جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم گزشتہ چند برسوں سے بڑی سے بڑی واردات کے بعد بھی بھارت کا نام لینے کی جرات نہیں کرتے، جن واقعات میں ہمیں براہ راست بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد مل بھی جاتے ہیں تب بھی ہم بھارت کی طرف انگلی اٹھانے سے گریزکرتے ہیں ،ہم آنکھیں بند کرکے سارا ملبہ طالبان اور القاعدہ پر ڈال دیتے ہیں اور جیسے آج بھارت پاکستان کو پھنسانے اور عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے ہم اپنے ہاں ہونے والے واقعات میں بھارت کو ہر قسم کی بدنامی سے بچانے کے لیے فوری طور پر طالبان اور القاعدہ کا کور دے دیتے ہیں۔ ۔ ۔ آج بھارت میں جتنا شور مچا ہے وہ سب ’’چور مچائے شور‘‘ کا مصداق ہے چونکہ انڈین خود بدنیت ہیں ،خود پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اسی لیے اب وہ اس شدومد سے واویلااور پروپیگنڈہ کر رہے ہیں تاکہ وہ خود بے نقاب نہ ہوجائیں ۔

ڈرگ افئیر بمقابلہ خادم اعلیٰ ‘ کالم ‘ عباس ملک

انسانی جان کی حرمت سے ہر ذی شعور بخوبی اگاہ ہے ۔ایک مسلمان کیلئے انسانی جان کا تقدس کیا ہے وہ حدیث قدسی سے بخوبی اجاگر ہوتا ہے ،،جس نے ایک انسان کوقتل کیا اسنے پوری انسانیت کا قتل کیا ،،۔معاشرے نظم و ضبط ایثار قربانی رواداری کی بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں ۔معاشرے میں ایک دوسرے کی اغراض اور ضروریات ایک دوسرے سے وابستہ ہوتی ہیں ۔انسان ایک دوسرے کے کام آئے تو معاشرتے حسن اور نظم و ضبط برقرار رہتا ہے ۔اگر دوسروں کے ساتھ بھلائی نہ کی جائے تو دوسروں سے بھلائی کی تو قع کیونکر کی جاسکتی ہے۔اگر میں نفس کا غلا م ہوں تو کیا اسی معاشرے میں بسنے والے دیگر افراد فرشتوں کی سیرت لیکر پیدا ہوئے ہیں۔یہ بنیادی تضاد ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں نفسا نفسی کو ترویج حاصل ہو رہی ہے ۔زندگی معاشرے میں مختلف شعبہ زندگی میں تقسیم ہوتی ہے ۔ہر شعبہ اپنے حصے کا فرض اد کر کے معاشرے کی خدمت سر انجام دیتا ہے ۔اگر معاشرے کو زندگی بخشنے والے ہی زندگی چھیننے کے درپے ہو جائیں تو معاشرے میں مسیحا کا کردار مفقود ہو جائے گا۔زندگی کو بچانے والی ادویات ایک انسان کو نہیں پوری انسانیت کو بچانے کا کا م سر انجام دیتی ہیں ۔اگر یہ ادویات ہی جعل سازی دو نمبری کا شکار ہونے لگیں تو یہ ایک ادارہ جاتی معاملہ نہیں پوری انسانیت کے ساتھ دشمنی اور دو نمبری ہوگی ۔معاشرے میں مسیحا کے روپ میں قاتل گھس آئیں تو کون ہے جو اس معاشرے کی اکھڑی ہو ئی سانسوں کو دوام بخشے ۔ادویات میں جعل سازی انسانیت کے خلاف انتہائی گھناؤنا جرم ہے ۔معاشرے میں چھپے ہوئے اس ناسور کیلئے سزا تجویز کرنا زیادہ مشکل نہیں لیکن ان پوشیدہ ہاتھوں کو بے نقاب کرنا انتہائی دشوار عمل ہے ۔اس مافیا کو بے نقاب کرنے کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے لیکن انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کوئی نہ کوئی آواز تو بلند کرے ۔ایسا مسیحا بھی موجود ہو گاجو تمام تر روکاوٹوں کو عبور کر کے انسانیت کے چہرے کا یہ کلنک دور کرے گا۔زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اورعزت کی موت اور انسانیت کی فلاح میں جان کا نذرانہ ایک صحافی ہی کے شایان شان منصب ہے ۔پنجاب کے خادم اعلیٰ انسانیت کے ان دشمنوں کے خلاف ابھی تک کاروائی کر رہے ہیں ۔یہ کاروائی کا نہیں بلکہ اس مافیا کے خلاف جہادی طریق پر اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔انسان کیلئے مسیحا کا درجہ رکھنے والا یہ شعبہ زندگی جس پراگندگی کا شکار ہو چکا ہے اس کی عکاسی کرنے کی جسارت ان الفاظ سے شایدہی ممکن ہو البتہ اندازہ لگانے اور سمت کے تعین میں یہ ضرور ممدد ہو نگے ۔

فارماسوٹیکل پراسس میں پائے جانے والے ابہام اور خامیاں بنیادی طور پر انسانیت کے خلاف اس گھناؤنے کھیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔کسی بھی فارما سوٹیکل کمپنی کو منسڑی آف ہیلتھ میں رجسڑڈ کرانا یا لائسنس لینا اولین کا م ہے۔اس کیلئے کوالفیکشن ہونا ضروری نہیں فقط کوئی بھی انوسٹر کاروباری نقطہ نگاہ سے اگے آسکتاہے۔فارماسوٹیکل کپنی کا ایک مخصوص پروٹوکول دیتاہے۔اب یہ انوسٹر پر ہے کہ وہ اس کو پورا کرے یا آنے والے وقتوں میں ڈرگ انسپکڑ کے ساتھ شریک کا ر ہو جائے ۔فارماسسٹ ملازم اور انہی پر سب انحصار ہوتاہے ۔کوالٹی کنڑول وہ زریعہ ہے جو اس مکروہ دھندے کو آڑ مہیا کرتاہے یا پھر اسے بے نقاب کر سکتاہے۔کسی بھی دوا کی کوالٹی کا اصل معیار چیک کرنے کیلئے حکومتی لیب ‘‘ پی سی ایس آئی آر ‘‘ ذمہ دار ہے۔باخبر ذرائع جانتے ہیں کہ بنیادی جزائیات جو کہ ادوایات سازی میں استعمال ہوتی ہیں وہ درآمد کی جاتی ہیں۔یہاں ہی معیار کا اصل فرق پیدا ہو جاتا ہے ۔یورپین یا امریکن خام مال مہنگا ہوتا ہے لیکن اسکی کوالٹی اسکا مہنگا ہونے کا سبب بیان کی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ چائنا اور انڈیا سے بھی ‘‘ را میٹیریل ‘‘ درآمد کیا جاتاہے ۔اس مال میں اسکا حیاتیاتی جز بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔اس کا فریش سٹاک سے ہونا اور اسکی معیاد اسکی قیمت کے تعین میں اہم ہیں ۔اسے‘‘ اے بی سی ‘‘ گریڈز میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔نزدیک ‘‘ ایکسپائیری ‘‘ والامال سستا اور فریش سٹا ک جس کی ایکس پائیری دور ہوتی ہے مہنگاہوتاہے۔کیٹگری بی کا مال سستا ہونے کی وجہ سے انوسٹر کیلئے زیادہ منافع کی وجہ سے قابل ترجیح ہوتاہے۔یہ زیادہ تر سائنسی فارمولا پر مشتمل میٹریل ہوتا ہے ۔ہربل میٹریل پروسسنگ اور دیگر اخراجات کی وجہ سے زیادہ مہنگا ہونے کے سبب پہلی ترجیح نہیں ہوتا۔درآمد کندگان مزید بچت کا خانہ ‘‘ انڈر انوائس ‘‘ شو کر کے نکالتے ہیں ۔جس میں کسٹم کا عملہ ان سے تعاون کرکے انسانیت کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالتاہے ۔لوکل ،نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیز کا خام مال زیادہ تر ‘‘ اے بی سی ‘‘ کیٹگریز کے فرق میں ہوتاہے۔ملٹی نیشنل کمپنی کی ادویات کے مہنگا ہونے میں لیبر چارجز اور اسکی ایڈوٹائز اور پیکنگ کے اخراجات مزید کردار ادا کرتے ہیں ۔دو نمبر یا جعلی ادویات کے سائیڈ افیکٹس میں سب سے اہم ان کا کم کارآمد ہونا یا غیر فعال ہونا اور مریض کو اسکی اصل ضرورت سے کم مقدار میں پوٹینسی ملنا ہے ۔جس کی وجہ سے اس کے مرض میں افاقہ نہیں ہوتا ۔جعلی ادویات کا سب سے مکروہ کردار گلی محلوں میں قائم ملٹی نیشنل ادویات کے نام پر بنائی جانی والی اورپیک کی جانی والی ادویات ہیں۔گولیاں اورکیپسول آٹا یا اسی طرح کی مواد سے فل کر کے انہیں معروف برانڈز کی پیکنگ دیکر مارکیٹ میں سپلائی کیا جاتا ہے ۔اب اس میں کیپسول کا خول ،پرنٹنگ پریس اور اسکے ڈیلر قومی خدمت میں شامل ہوتے ہیں ۔انسانیت کے خادم اپنی ادویہ کو مارکیٹ میں مارکیٹنگ کے زریعے جس طرح سے پہنچاتے ہیں اس کی جھلک بھی انسانیت کی آنکھیں نیچی کرنے میں ضرور ممدد ہے۔مارکیٹنگ سیلز ریپ جو ملٹی نیشنل کمپنیز سے تعلق رکھتے ہیں مسیحاؤں کی مسیحائی کیلئے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں ۔مسیحاؤں کیلئے ٹور پروگرامز جو کہ اکثرکانفرنسز کے نام پر ارینج کیے جاتے ہیں۔غیر ملکی کانفرنسز میں شرکت کیلئے اکثر ملٹی نیشنل کمپنیاں سپانسر کرتی ہیں ۔پارٹیز کا اہتمام مختلف طریقوں سے کیا جاتاہے۔کلینک کی ترہین و آرائش کے نام پر اندرونی تعشیشات ‘‘ اے سی ‘‘ اورفرنیچر وغیرہ کی فراہمی بھی انتہائی رازداری سے کی جاتی ہے۔پرائیویٹ ہسپتالوں کو مہیا کی جانی والی ادویہ کی کھیپ پر فیصدی ڈسکاؤنٹ مارکیٹ سے بھی زیادہ دینا شامل ہے ۔ڈاکٹر کی فیصدی طے کر دی جاتی ہے کہ وہ کمپنی کی دوا تجویز کرے اسکا مخصوص اور طے شدہ کمیشن ادا کیا جائے گا۔اسے ڈیلی ویجز ڈیل کا نام بھی دیا جاتا ہے۔لوکل ،نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیز کی نسبت زیادہ منافع کا لالچ دیکر اپنی کم ویلیو ادویات صرف اسی مارکیٹنگ کے سہارے چلا رہی ہیں ۔سرکاری ہسپتالوں کے ‘‘ او پی ڈی ‘‘ میں تعینات ہاؤس جاب کرنے والے اور ایم او تو ڈنر لنچ اور موبائیل کارڈز تک وصول کرتے ہیں ۔اس کے عوض وہ متعلقہ کمپنی کی ادویات ہی تجویز کرتے ہیں ۔یہ وہ ماحول ہے جس میں انسانیت کے مسیحا انسانیت کی خدمت کرنے میں مصروف ہیں ۔

جنرل مشرف کی اہلیہ کو تجویز کی گئی دوا کی کوالٹی غیر معیاری نکلی تھی ۔جس کے سبب متعلقہ کمپنی کچھ روز سیل بھی رہی تھی۔باوجودیکہ یہ کمپنی ابھی تک اسی آن بان سے کام کر رہی ہے ۔خادم اعلی پنجاب کے خادمین میں بھی اس مثل کی نشاندہی کی گئی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ خادم اعلی پنجاب اس مافیا ء کو کس طرح انسانیت کے دائرے میں لاتے ہیں ۔میں نہ مانوں کا اصل روپ کیا ہے انتظار رہے گا۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو