Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

شرائین بورڈ کو زمین الاٹ کرنے کا وعدہ ‘‘‘ فاروق عبداللہ کا تازہ انکشاف ‘‘‘ کالم ‘ اشرف حماد

November 20th, 2008 · No Comments

نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے گذشتہ دنون مراد آباد یوپی میں ایک سمینار میںبولتے ہوئے یہ انکشاف کیا اگر ان کی پارٹی یعنی نیشنل کانفرنس برسراقتدار آئی تو وہ امرناتھ شرائین بورڈ کو 800سو کنال اراضی زمین الاٹ کرے گی۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ نہ صرف بال تل بلکہ جہاں بھی شرائین بورڈ کو زمین درکار ہوگی نیشنل کانفرنس اراضی فراہم کرے گی اور اس معاملے میں کوئی دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے مراد آباد میںاخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے تاؤ میںآکر کہا کہ بورڈ کو ریاست میں جہاں بھی زمین ضرورت پڑے گی ان کی حکومت فراہم کرنے میں کوئی پس وپیش نہیں کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی نیشنل کانفرن سیکولر ازم میںیقین رکھتی ہے۔ خبررساں ایجنسیوں کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ شیولنگم کے یاتریوں کے درش کے لئے جہاں بھی زمین بورڈ کو ضرورت پڑے گی وہ فراہم کریں گے۔ انہوں نے مراد آباد میںایک سمینار میںعسکری تنظیموں جن میں حزب المجاہدین ، جیس محمد ، لشکر طیبہ وغیرہ شامل ہیں کی جم کر مخالفت کی اور سمینار میں’’بم بم بھولے ‘‘ کے پرزور نعرے لگا کر سامعین کو حیران کردیا۔4! نومبر کے ’’امر اجالا‘‘ نامی ہندی روزنامہ کی ایک خبر کے مطابق ڈاکٹر فاروق نے شرائین بورڈ کو زمین مختص کرنے کی پرزور وکالت کی۔ انہوں نے شرائین بورڈ کو زمین الاٹ کرنے کے خلاف کشمیر میںعوامی تحریک کی کھل کر مخالفت کی اور اس کو بقول ان کے خود غرض عناصر کی کارستانی قراردیا۔قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سربراہی میںنیشنل کانفرنس حکومت نے 2000؁ء میںشری امرناتھ شرائین بورڈ(SASB)کاقیام قانون ساز اسمبلی میں ایک بل پیش کرکے عمل میں لایا تھا اور شرائین بورڈ کو یادتریوں کی آمد کے حوالے سے بہت سے اختیارات دائے اور پھر امسال سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کی مخلوط سرکر نے بورڈ کو 800کنال زمین الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے خلاف وادی میں سڑکوں پر عوامی انقلاب رونما ہوا اور یہ تحریک مہینوں چلتی رہی جس کے حوالے سے مخلوط سرکار کی اکائی پی ڈی پی حکومت سے علیحدہ ہوئی۔اس کے بعد ریاستی کابینہ نے مذکورہ بالا فیصلہ واپس لیا۔ ریاستی کابینہ کے فیصلے کے خلاف جموں میں انتہا پسند ہندو تنظیموں نے آندھولن چلایا اور ان فرقہ پرست تنظیموں نے اسرائیل کی طرح کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی(Blockade)کی۔ انتہا پسندوں نے کشمیری گاڑیوں اور ٹرکوں کو لوٹا اور تذر آتش کیا اور کئی ڈرائیوروں کو زندہ جلادیا۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ بیان کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہیں سیاسی پینترہ بازہ میںکمال حاصل ہے ۔ وہ نئی دہلی میں ایک بیان دیتے ہیں اور کشمیر میںدوسرا بیان داغتے ہیں۔ ان کے والد صاحب بھی دہلی میں موم کی گڑیا بنتے تھے اور کشمیر میںگرجتے شیر۔ اسی طرح فاروق عبداللہ بھی دہلی یا ہندوستا ن کے کسی اور شہر میںہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے ان کے حق میں بیان بازی کرتے ہیں اور کشمیر آکر ہندوستان کو مکے دکھاتے ہیں۔ان کی اور ان کی پارٹی کی سرشت میںہی یہ بات موجود ہے لہٰذا اس حوالے سے کوئی حیرانی بجائے خود حیرانی کی بات ہے۔ ان کا سارا ماضی اس طرح کے بیانات سے بھرا پڑا ہے۔ 12! نومبر کو انہوں نے سرینگر میںاخباری نمائندوں کو بتایا کہ علیٰحدگی پسند 60سال سے بائیکاٹ کرتے آئے ہیں اب کی بار بھی وہ بائیکاٹ کریں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اور ان کی جماعت بھی علیٰحدگی پسند جماعت تھی۔ 22! سوال تک انہوں نے بھی انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ خود ڈاکٹر فاروق نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر مین مرحوم مقبول بٹ کے ساتھ ’’چون دایش میون دیش کاشر دیش‘‘ کانعرہ لگا کر اپنی سیاست کا آغاز کیا اور بعد میں اپنی علیحدگی پسند سیاست کو لپیٹ کر انہوں نے ہندوستان کے سامنے سرنڈر کیا اور ہندوستان نواز ہوگئے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک وہ اور ان کی جماعت کشمیریوں کی آنکھوں میںدھول جھونکے گی۔ عوامی حلقے ڈاکٹر عبداللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی پالیسی واضح کریں کہ وہ کشمیرنواز ہیں یا کشمیر دشمن۔

ڈاکٹر فاروق کے اپس بیان نے ان کے صاحبزادے عمر عبداللہ کے اُس بیان کا چور اہے پر پول کھولدیا ہے جو عمر عبداللہ نے پارلیمنٹ میںدیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ عمر عبداللہ نے ہندوستان کی پارلیمنٹ میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر یہ کہا تاھ کہ وہ شرائین بورڈ کو ایک ایچ زمین بھی فراہم نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ ماضی میںانہوں نے سنگھ پریوار کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہاتھ ملا کر غلطی کی تھی لیکن اس قسم کی غلطی وہ مستقبل میںنہیں کریں گے۔عمر عبداللہ کے بیان کے خلاف جموں میںایک نوجوان نے امرناتھ سنگھرش سمیتی کے اجلاس میںخود کشی کی تھی۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے مبصرین یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ان کے صاحبزادے عمر عبداللہ ایک انچ زمین دینے سے مکر رہے ہیں تو فاروق عبداللہ 800کنال زمین دینے کی بات کیوں کررہے ہیں۔ یہ تضاد بیانی کیوں۔ کیا باپ بیٹے میںبھی اتفاق نہیں ہے یا یہ سیاسی Mileageاٹھانے کی کوشش تو نہیں۔اگر عمر عبداللہ چیخ چیخ کر پارلیمنٹ میںکہہ رہے ہیں کہ وہ شرائین بورڈ کو ایک انچ زمین دینے کے لئے بھی آمادہ نہیں ہیں اور کسی بھی صورت میں نہیں ہیں لیکن ان کے ابا حضور یہ آٹھ سو سو کنال کی راگنی کیوں الاپ رہے ہیں۔ کیا باپ بیٹے نے بھی پارٹی پالیسی کبھی متفقہ طور پر مقرر نہیں کی ہے۔ آخر یہ تضاد بیانی کویں ؟سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام عمر عبداللہ پر یقین کریں گے یا فاروق عبداللہ پر ۔ا گر ماضی کو دیکھا جائے تو کشمیری فاروق عبداللہ پر ہی یقین کریں گے کیونکہ ان کی پارٹی نے لینڈ گرانٹس بل پاس کیا۔ان کی پارٹی نے اٹانومی پر سرنڈر کیا۔ ان کی پارٹی نے رائے شماری کو ڈبہ بند کیا اور اب یہ امرناتھ شرائین بورڈ کے معاملے کو بھی لپیٹ دیں گے اور بورڈ کے سامنے بھیگی بلی بن کر اس کو 800کنال اراضی فراہم کریں گے بلکہ ریاست میںجہاں چاہیں وہ بورڈ کو ان کے مطالبے پر مزید زمین فراہم کریں گے۔فاروق عبداللہ کا بیان اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اگر نیشنل کانفرنس اقتدار میںآئی تو وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو بننا ہے نہ کہ عمر عبداللہ کو ۔ اس لئے ظاہر سی بات ہے کہ فاروق عبداللہ اپنے بیان پر عمل کرکے دکھائیں گے اور بورڈ کو زمین فراہم کریں گے۔ ویسے بھی وہ پارٹی سرپرست ہیں اور ان کی ہر بات پارٹی میںایک قانون کی حیثیت رکھتی ہے ۔لہٰذا وہ وہی کریں گے جو وہ چاہتے ہیں۔ اس طرح سے فاروق عبداللہ کشمیری عوام کی آرزوں اور امنگوں پر کند چھری چلا کر ، انہیں زبح کریں گے۔ وہ نیشنل کانفرنس کی تاریخ کو پھر داہرائیں گے۔زمین کے مختص کرنے کے خلاف عوام نے تحریک چلائی اور 70لوگ قربان کئے۔ کیا کشمیریوں کو یہی صلہ ملے گا؟

نیشنل کانفرنس پر ان کی حریف جماعت پیوپلز ڈیموکریٹک پارٹی یہ الزام عائد کرتی ہے کہ ان کے بقول نیشنل کانفرنس نے کشمیریوں پر الیکشن تھونپ دئے ۔ بظاہر یہ انتخابی پراپیگنڈا ہے اور پارٹی نیشنل کانفرن سکو کمزور کرنے کے لئے ایسا کہتی ہے۔ لیکن حالات وہ واقعات پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو مبصرین کا ماننا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے انتخابات کے حوالے سے اتاولے پن کا مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ کہان کہ اگر انتخابات میںدو فیصد ووٹ بھی ڈالے گئے تو یہ انتخابات موقر ہیں، کامیاب ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ فاروق عبداللہ اقتدار پر جتنا جلد ہوسکے قبضہ کرنا چاہتے ہیں ورنہ وہ اس قسم کی بات نہ کہتے ۔ ویسے بھی 1996؁ء کے انتخابات میں 5فی صد ووٹ بھی نہ پڑے لیکن پھر بھی فاروق عبداللہ اقتدار پر براجمان ہوئے۔ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ یہ کون سی جمہوریت ہے جس میں صرف دو فی صد لوگ فیصلہ ساز کے مختار ہیں۔ آخر وہ حکومت کیسے جمہوری حکومت کہلائے گی جس کے خلاف 98فی صد عوام ہیں اور محض دو فی صد کی اقلیت اس کے ساتھ ہے۔ جمہوریت ایک اکثریتی حکومت ہویت ہے ۔ یہ اقلیتی حکومت نہیں ہوا کرتی۔اصل میں آمریت اقلیتی حکومت ہوتی ہے جس میں فردواحد مختار کل ہوتا ہے جبکہ جمہوریت اکثریتی لوگوں کی رائے (vote)سے بنی ہوئی حکومت ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ 2فی صد ووٹوں پر مبنی حکومت کو دنیا کا کوئی جمہوری قانون یا آئین اکثریتی حکومت نہیں کہہ سکتا کیوں کہ اس میںدو فی صد کی اقلیت مل کی 98فی صد اکثریت کے خلاف فیصلے صادر کرتی ہے۔

عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس وقت کشمیرمیں انتخابات کسی بھی صورت میں موزون نہیں تھے۔ اس رائے کے حق میں بیشتر ہندنواز یا پارٹیاں بھی ہیں لیکن جن حلقوں یا پارٹیوں نے خراب سیاسی موسم اور خراب موسم میںانتخابات کو عوام پر مسلط کئے وہ عوام کی رائے میں ہر گز کشمیریوں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتی۔ ویسے بھی زمینی صورت حال اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ کشمیر میں انتخابات روایتی انداز میں منعقد نہیں ہور رہے ہیں۔ عوام کا موڈ انتخابات کے حوالے Reserveہے۔ کوئی عوامی سرگرمی نہیں، نہ جلسے ہیں نہ جلوس نہ انتخابی بخار اور نہ انتخابی گہماگہمی۔ 17!نومبر کو پہلا انتخابی مرحلہ انجام پارہر اہے اور اب تک کوئی بھارتی انتخابی سرگرمی نظر نہیں آئی۔

کشمیر کی صورت حال کچھ عجیب عجیب سی ہے۔ اگر اس صورت حال کو مبصرین کے مطابق علیحدگی پسندوں کے حق میںسمجھا جائے تو بے جاہ نہ ہوگا۔عوام انتخابات سے زیادہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے حق میں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں بشمول اقوام عالم مل بیٹح کے اس مسئلہ کا حل نکالیں ۔ کشمیر کی صورت حال نے ایک بین الاقوامی رخ اختیار کیا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے نو منتخبہ صدر بارک اوباما نے اس مسئلہ کو حل کرنے پر زور دای ہے۔ انہو ں نے مسئلہ کشمیر کو سیاسی مسائل کی ترجیحی فہرست میںشامل کیا ہے۔ انہوں نے سابق صدر امریکہ بل کلنٹن کو کشمیر مسئلہ کے حوالے سے نمائندہ خصوصی مقرر کردیا ہے اور ان سے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اس میلہ کو حل کرنے میںاپنا تجربہ بروئے کار لا کر اپنا رول ادا کریں۔اس مرحلہ پر واقعی کشمیر کے حوالے سے مذاکرات منعقد ہونے چارہیں تھے۔ ہندوستان اور پاکستان کو اپنا رول اس مرحلہ پر اد اکرنا ہے ورہ اگر موقعہ ڈھل گیا تو ان کی جگہ کوئی اور فریق لے سکتا ہے۔ جو امریکہ کی صورت میںنمایاں ہورہا ہے اور اگر دونوں ممالک نے یہ موقعہ گنوادیا تو بعد میں اُن کو امریکہ کے Dictatsسننا پڑیں گے۔ ان حالات میں انتخابات کا انعقاد عوامی موڈ کو خود ہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ کیا ہے اور کشمیری عوام کیا چاہتی ہے۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو