میڈیا کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ عوام جو کچھ دیکھتی اور سنتی ہے وہ میڈیا ہی کے ذریعے ان تک پہنچتا ہے۔ اسی سے لوگوں کو اطلاعات ملتی ہیں وہ حالاتِ حاضرہ سے باخبر ہوتے ہیں ۔ اپنے ارد گرد اچھے اور برے ،غلط اور صحیح کے بارے میں ان کو علم ہوتا ہے اسی باخبری سے رائے عامہ بنتی ہے ۔ اس سے نہ صرف عوام اپنے ارد گرد کے ماحول سے باخبر رہتے ہیں بلکہ انتخابات میں صحیح امیدوار چننے میں انہیں مدد ملتی ہے۔ جس سے معاشرہ بحیثیت مجموعی اور جمہوریت بالخصوص پروان چڑھتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں آزاد اور ذمہ دار میڈیا عام لوگوں کو نہ صرف باخبر رکھتا ہے بلکہ لوگوں کی آواز بن کر ایوانِ اقتدار تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے میڈیا اور اخبارات معاشرے کے لئے جتنے اہم ہوتے ہیں وہ اتنے ہی ذمہ دار بھی ہوتے ہیں ۔کیونکہ ان کی غلط رپورٹنگ سے نہ صرف کسی شخص ، کسی گروپ یا کسی ملک کانقصان ہو سکتا ہے بلکہ عام لوگوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس طرح کی رپورٹنگ سے معاشرے میں مثبت کی بجائے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
وطنِ عزیز میں میڈیا کبھی بھی مکمل طور پر آزاد نہیں رہا ۔ یہی وجہ ہے وہاں جمہوریت بھی نہیں پنپتی ۔ میڈیا کی آ زادی اور جمہوریت کی کامیابی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی مکمل نہیں ہوتا اور نہ وہ اصلی اور خالص جمہوریت ہوتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان میں میڈیا کو کسی حد تک آزادی ملی ہے اس کا نتیجہ فروری میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ جنرل مشرف ، شوکت عزیز ، چوہدری برادران اور شیخ رشید کے ڈھول کے پول میڈیا نے کھول کر رکھ دئیے ۔ حکمران پارٹی تمام تر جھوٹے دعووں کے باوجود منہ کے بل جا کرگری اور آج اس کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔جنرل مشرف کی مضبوط کرسی الٹ چکی ہے اور وہ منظرِ عام سے ہٹا دئیے گئے ہیں۔ یہ سب جموریت اور آزاد میڈیا کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ آزاد میڈیا نہ صرف لوگوں کو باخبر رکھتا ہے بلکہ وہ حکمرانوں اور ذمہ دار لوگوں کی رہنمائی بھی کرتا ہے ان کی کارکردگی پر نظر رکھتا ہے ۔جہاں کہیں ان سے لغزش ہو یا ان کے قدم بہکنے لگیں میڈیا ان کی لگامیں کھینچ کر واپس پٹڑی پر لے آتا ہے۔ اس طرح معاشرہ اور جمہوریت پروان چڑھتی ہے اور ملک ترقی کے زینوں پر اوپر سے اوپر بڑھتا رہتا ہے۔
یہ تو تھیں آز اد اور ذمہ دار میڈیا کی برکات ۔ لیکن اگر اس کے برعکس میڈیا آزاد نہ ہو یا پھر وہ ذمہ داری سے درست رپورٹنگ نہ کر رہا ہو تو اس کے نتائج تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس سے معاشرہ بگاڑ سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ا س ماحول میںجمہوریت پنپ نہیں سکتی ۔ غلط لوگ اقتدار کی کرسی پر قبضہ کرلیتے ہیں جو ملک و قوم کے لئے تباہی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اخبارات حکمرانوں کی رہنمائی یا مثبت تنقید کی بجائے جیبوں میں لفافے ڈال کر ان کی تعریف میں رطب السان ہو جاتے ہیں ،جس سے کرپٹ حکمرانوں کو مزید کھلی چھٹی مل جاتی ہے اور وہ ملک کا بیڑہ غرق کرنے لگتے ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان میں اچھے اور ذمہ دار صحافیوں کے ساتھ ساتھ میڈیا میں ایسی کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں۔ جس سے نہ صرف ملک اور عوام کونقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اچھے اور ذمہ دار صحافیوں کا امیج بھی خراب ہو رہا ہے۔ کالی بھیڑوں کا یہ سلسلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ یہ دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں۔
یہاں آسٹریلیا میں کیمونٹی اخبارات ، ریڈیو اور ٹی وی کے کرتاؤں دھرتاؤں میں جہاں اچھے، ایماندار اور سچ بولنے والے لوگ بھی موجود ہیں ۔ بدقستی سے ان کے ساتھ ساتھ خوشامدی اور جانبداررپورٹنگ کرنے والے لوگ بھی ہیں ۔ جس سے ابھی تک آسٹریلیا میں ہمارا کیمونٹی صحافتی امیج درست نہیں ہوا ۔ یا تو ہم تنقید میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے لگتے ہیں ۔ بے سروپا الزامات سے لوگوں کی عزت پر غلط حملوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف خوشامد، کاسہ لیسی،فرقہ پرستی ، شخصیت پرستی ، سرکاری افسروں کی ناجائز تعریف و توصیف اور جائز اور حقدار لوگوں کو نظر انداز کر نے کی غیر ذمہ دار صحافت کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ اکثر چھوٹی چھوٹی گھریلو تقریبات کو نمایاں جگہ دے دی جاتی ہے اور دوسری طرف کیمونٹی میں بڑے بڑے اور نمایاں فنکشنز یا کسی ایک فرد کی نمایاں کارکردگی کو اس لئے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق صاحبِ اخبار کے فرقے ، برادری یا دوستوں کے حلقے سے نہیں ہوتا ۔ اگر انہیں تھوڑی بہت کورنگ دی بھی جاتی ہے تو اس میں ڈنڈی مار کر رنگ میںبھنگ ملا دی جاتی ہے۔ اسے ہر گز ذمہ دار صحافت نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ یہ صحافت کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے ۔
خبر ، تبصرہ ، رپورٹ، فیچر،انٹرویو،کالم اور اعلان سب مختلف صنفِ صحافت ہیں۔ کچھ اخبار نویسوں کے لئے ان سب میں کوئی فرق ہی نہیں۔کچھ لوگ خبر اور تبصرے کا فرق بھول جاتے ہیں۔ خبر میں خبر لکھنے والا کہیں نہیں ہوتا ،نہ اس کا تبصرہ اس میں شامل ہوتا ہے۔ لیکن کچھ ’ کوالیفائڈصحافی‘ ہر خبرمیں جوتوں بلکہ بال بچوں سمیت موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح ادب اور صحافت دو بالکل مختلف میدان ہیں۔ خبروں سے کتابیں نہیں بنتیں چاہے ان میں دروغ گوئی کا جتنا مسالہ ملایا جائے۔ کہنے کو میں یہ بھی کہ سکتا ہوں کہ صدر بش میری تحریریں پڑھتا ہے اور باراک ا ُبامہ میرا دوست ہے لیکن میرے پاس اگر اس بڑ گوئی کا کوئی ثبوت نہ ہو تو یہ مضحکہ خیز بات ہو گی جس کا نہ ادب سے تعلق ہے اور نہ صحافت سے۔
سچی اور کھری صحافت معاشرے اور کیمونٹی کے لئے نعمت ہوتی ہے تو اس کے مقابلے میں اس طرح کی ادھوری ،آدھی تیتر آدھی بٹیر والی صحافت پوری کیمونٹی کے لئے سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ جس سے فائدے کی بجائے معاشرے کو نقصان ہی پہنچ سکتا ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ بُرا رونے سے چپ رہنا بہتر ہے اس طرح ادھوری رپورٹنگ سے نہ کرنی بہتر ہے۔ اس سے بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ میرا مقصد کسی ایک شخص یا کسی ایک اخبار پر تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ مجھ سمیت سب صحافیوں پر لاگو ہونے والے اصولی مؤقف کا اعادہ ہے۔ جس طرح ہماری کیمونٹی میں اور بہت سارے مسائل ہماری توجہ چاہتے ہیں اسی طرح صحافت اور اخبار نویسی بھی اصلاح اور بہتری کی گنجائش رکھتی ہے۔ کیونکہ صحافت اچھی، ایماندارانہ ، سچی اور بے باک ہو تو معاشرے میں اصلاح کا موجب بن سکتی ہے لیکن اسی صحافت میں کھوٹ، دروغ گوئی،جانبداری اور ادھورا پن ہو تو وہ پورے معاشرے کے لئے ضررساں ثابت ہو سکتی ہے۔
خدا ہمیں حق اور سچ کہنے، سمجھنے اور اسے برداشت کرنے کی توفیق دے ۔آمین

















0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment