
حضرت بابا فرید گنج شکر کا جملہ ہے ( جو سچائی جھوٹ کے مشابہہ ہو اسے کبھی اختیار نہ کرو)۔ عربوں کے دلوں میں نشتر کی طرح پیوست یہودی ریاست اسرائیل کو اج کل سیاسی بحران نے گھیر رکھا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم یہود المروٹ نے اپنی سرکار پر لگنے والے مالی کرپشن کے الزامات کی غوغہ ارائی پر سرنڈر کرتے ہوئے استعفی دے دیا جس پر صدر شمعون پریز نے المروٹ دور کی وزیرخارجہ اور برسراقتدار پارٹی قدیمہ کی روح رواں زپی لیونی کو حکومت سازی کی دعوت دی مگر وہ مخلوط حکومت سازی کے جان گسل کام کو عملی روپ میں ڈھالنے کی ناکام کوششوں سے بدل ہوکر نئے انتخابات کا بگل بجانے لگیں۔۔کرپشن کے روز روشن الزمات نے جہاں ایک طرف یہودالمروٹ کے سر سے قدیمہ پارٹی کے تاج کو سرکا دیا تو وہاں دوسری طرف وزارت عظمی بھی ان سے روٹھ گئی۔پارٹی ساکھ کی بحالی کے لئے قدیمہ پارٹی نے صدارت کا ہما وزیرخارجہ زپی لیونی کے سرپر سجادیا۔اسرائیلی پارلیمنٹ کی ایک سو بیس سیٹوں میں سے قدیمہ پارٹی کا سکور صرف انتیس سیٹوں تک محدود ہے۔زپی لیونی کو حکومت سازی کے لئے اکسٹھ کا ہندسہ کراس کرنا تھا۔زپی نے سابق وزیراعظم نیتن یاہو کی پارٹی سے اتحاد کرکے حکومت تشکیل دینے کے مذاکرات کا ڈول ڈالا مگر وہ اکسٹھ اراکین کو اپنے کیمپ میں نہ لاسکی اور نئے انتخابات کا اعلان کردیا ۔حکمران جماعت کی سربراہ زپی لیونی اور اسرائیل کی ائندہ متوقع وزیراعظم نے نئے انتخابات کا مشورہ اس وقت دیا جب قدامت پسند پارٹی شعت نے مذاکراتی عمل سے دوری اختیار کرلی۔قدیمہ پارٹی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل کی شریک کار جماعتیں مطالبات کے نام پر بلیک میلنگ کا اتوار بازار سجا بیٹھیں جس سے بچاو کے لئے زپی لیونی نے اسرائیلی پارلیمنٹ کو نیو الیکشن کا مشورہ دیا جسے اسرائیلی پارلیمنٹ نے شرف قبولیت بخشتے ہوئے دس فروری کو نئے الیکشن کے انعقاد کا اعلان کیا۔امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ صدر شمعون پریز کسی اور جماعت کو حکومت سازی کا کام سونپ سکتے ہیں مگر حتمی نتیجہ نئے انتخابات کے فیصلے پر متنج ہوا۔اسرائیل کا سیاسی نظام انتہائی گنجلک و پیچیدہ ہے اور یہاں مخلوط حکومت بنانا کٹھن اور مشکل ترین کام ہے۔زپی لیونی نے صدر شمعون پریز کو بتایا کہ مخلوط اتحاد کی تمام کوششیں رائیگاں ہوگیں ۔زپی نے یہودیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے منتخب نمائندگان کا انتخاب خود کریں۔زپی لیونی موساد کی ایجنٹ رہ چکی ہیں انکا مقابلہ سابق وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکیوڈ پارٹی کے ساتھ ہوگا۔زپی لیونی نے حکومت سازی کے لئے لیکیوڈ پارٹی کو افر دی تھی جو انہوں نے مسترد کردیں۔یوں اسرائیلی انتخابات میں اصل مقابلہ زپی لیونی کی قدیمہ پارٹی اور نیتن یاہو کی لیکیوڈ پارٹی کے درمیان ہوگا اور مستقبل میں وزارت عظمی کی دوڑ بھی زپی لیونی اور نیتن یاہو کے درمیان ہوگیء۔اسرائیل اس وقت مڈل ایسٹ کی جوہری قوت اور دنیا کا اہم ترین ملک بن چکا ہے جس کی اقتصادی قوت اور عسکری طاقت پر دورائے نہیں سکتیں۔وہ طاقت کے نشے میں چور ہے۔اسرائیل اپنی ازادی کی سالگرہ کو پوری شان و شوکت سے مناتا ہے اور اپنی مظلومیت سے دنیا کو اگاہ کرتا رہتا ہے تکہ مظلومیت کی اڑ میں وہ فلسطینیوں کی ماڑ دھاڑ کرتا رہے مگر سچ تو یہ ہے کہ فلسطینیوں کو حق ارادیت تفویض کئے بغیر اسرائیل کی چوہدراہٹ ممکن نہیں۔یہودالمروٹ نے تو جاتے جاتے سچ کی ترجمانی کی کہ اسرائیلی سلامتی کا قیام ازاد فلسطینی ریاست کے احیا سے ہی ممکن ہے۔ اور یہی وہ پہلو ہے جس کی حقیقت کا احساس زپی لیونی کو بھی ہے۔المروٹ کا شمار اسرائیل کے انتہاپسندوں میں ہوتا ہے جو کسی زمانے میں جنگی طاقت کے بل پر فلطینیوں کو قیمہ بنانے پر ایمان رکھتے تھے لیکن اسرائیلی فوجیوں کی جو درگت حزب اللہ کے ہاتھوں بنی اس پر المروٹ کے فلسفے میں بالغ نظری کا احساس ابھر انہوں نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستوں کے وجود تسلیم کرنے کا معاہدہ نہیں ہوتا اور مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں تو اسرائیل ختم ہوجائے گا وہ اپنے استدلال کو وزن دار بنانے کے لئے افریقہ کی مثال دیتے ہیں اگر فلسطینوں کو انکے جائز حقوق نہیں دئیے جاتے تو یہاں افریقن طرز کی خانہ جنگی شروع ہوجائے گیاور اسرائیل کو عبرت ناک شکست کی بیڑیاں جکڑ لیں گی۔وائٹ ہاوس کے نیو راجکمار اوبامہ سے مسلمانوں نے خیر و انصاف کی امیدیں باندھ رکھی ہیں۔کیا اوبامہ اپنے عہد میں فلسطین و اسرائیل کا تنازعہ منصفانہ طور پر حل کراسکیں گے جب دنیا بھر کی یہود نواز لابیوں نے گریٹر اسرائیل کا خواب پروان چڑھا رکھا ہے؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کئے بغیر کوئی رائے قائم کرنا دشوار ہوگا۔اوبامہ کی جیت پر اسرائیل میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔اسرائیلی وزیرخارجہ زپی لیونی نے کہا ہے کہ انہوں نے اوبامہ سے کافی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں ۔اوبامہ نے اپنے دورہ اسرائیل اور انتخابی کمپئین کے دوران بار بار ایک جملہ کہاتھا ( وہ اسرائیل کے ساتھ دوستانہ روابط رکھیں گے مگر یہودی ایجنسیوں اور اعلی یہودی عہدیداروں کے گلے سے یہ بات نہیں اتر پارہی کہ اوبامہ ایک مسلمان کا بیٹا ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے اوبامہ کی ہمدردیاں فلسطینی باشندوں کے ساتھ ہوسکتی ہیں۔امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ کے اٹھتر فیصد یہودی ووٹروں نے اوبامہ کو ووٹ دئیے۔اوبامہ نے یہودیوں کا قرض چکانے کے لئے وائٹ ہاوس کے چیف اف جنرل سٹاف کا عہدہ مسلم کٹر دشمن کانگرس کے ڈیمو کریٹRAHAM AMANUAL کی جھولی میں ڈال کر اسرائلیوں میں پائی جانے والی بیقراری کا خاتمہ کردیا۔اوبامہ کی مہربانی سے چیف اف سٹاف بننے والے ایمانول مشہور عالم انتہا پسند یہودی رہنما ڈکٹرBENJAMAN AMANUAL کے صاحبزادے ہیں۔FOX NEWS نے تجزیاتی رپورٹ میں ایمانول کی تعیناتی کو اوبامہ کے پیغام بنام مشرق وسطی کا طرہ امتیاز کہا ہے کہ اس کا مقصد مشرق وسطی کو یہ بتانا ہے کہ اوبامہ یہودیوں کے خیر خواہ ہیں۔اسرائیل کے معروف اخبار (حانز) نے24 اکتوبر کو ایک مضمون شائع کیا جس میں مشہور صہیونی رہنماbernad baruch نام کے شدت پسند یہودی کے اس بیان کو فوکس کیا گیا ہے۔برناڈ باروش نے چند برس پہلے نیویارک میں ایک انتخابی کنونشن میں کہا تھا اگر تمام یہودی میری پسند کے صدارتی امیدوار کو ووٹ دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں یہودیوں کو ال سعود کے سر کاٹ کر پیش کرونگا۔امریکہ کے تاریخ ساز محقق جعفر سید تجزئیے میں لکھتے ہیں کہ اوبامہ نے الیکشن سے پہلے تل ایب کو پیغام بجھوایا کہ وہ مشرق وسطی میں پہلے اسرائیل کے مفادات کو فوقیت دیں گے جبکہ امریکی مفادات دوسرے نمبر پر فروکش ہونگے۔ اوبامہ کی جانب سے DENIS ROSEنام کے یہودی کو مشیر بنانا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔تل ایب کے اخبار (حانز) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوبامہ کی حمایت کے عوض یہودیوں نے انکے سامنے تین نکاتی ایجنڈہ رکھا تھا۔.1 ایران کے ساتھ کس طرح اور کب دودوہاتھ کئے جائیں گے اور مشرق وسطی میں مذاکرات کو کس طرح نمٹائیں گے۔2 اوبامہ بتائیں کہ وہ اسرائیل اور امریکی انتظامیہ کے درمیان کس طرح کا تعلق رکھنا پسند کریں گے؟3 اوبامہ بتائیں کہ وہ حماس کو کسطرح رگڑا دیں گے اور فلطینی انتہاپسندوں کو کچل ڈالنے کی یہودی کاوشوں کو کس طرح سپورٹ کریں گے؟اوبامہ کے نمائندے ڈینس روس نے جوابی سیشن میں اعتراف کیا ہم ایران کو جوہری طاقت نہ بننے دیں گیاور حماس کے پرکاٹ دیں گے۔اوبامہ کے مشیر برائے مشرق وسطی کی ڈینس روس نے پریس کانفرنس میں یہودیوں پر جان چھڑکتے ہوئے فاسد خیالات کا اظہار یوں کیا اوبامہ اینڈ کمپنی اسرائیل کو تین بلین ڈالر کی امداد کا خصوصی پیکج دینے کے لئے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کریں گے۔امریکی دانشور جعفر سید کہتے ہیں کہ اس سال جون میں اسرائیل امریکہ پبلک افیرزAIPAC کے اجلاس میں اوبامہ نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اسرائیل کے اچھے دوست ثابت ہونگے۔اس کانفرنس کی رودادJEWISH WORLD REVIEW نامی صہیونیت کے علبردار جریدے میں شائع ہوچکی ہے۔اسرائیلی اخبار حانز لکھتا ہے کہ اوبامہ کے دور میں یہودیوں کو ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جنکی پل صراط سے انہیں بشی دور میں گزرنا پڑا تھا۔بل کلنٹن انتخابی جلسوں و سیمیناروں سے مخاطب ہوکر یقین دہانیاں کرواتے رہے کہ اوبامہ اسرائیل کا ہمدرد ہے۔اسرائیل اور امریکہ ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں۔اسرائیل میں دس فروری کو الیکشن ہورہے ہیں جبکہ اوبامہ وائٹ ہاوس کو پہلے ہی فتح کرچکے ہیں۔یوں اسرائیلی انتخابات میں کوئی ایسی جماعت فتح کی پہنچ سے دور ہے جو تنازعہ فلسطین کو حل کرنے میں معاون کا کردار ادا کرے۔یوں اسرائیلی انتخابات کے نتیجے میں متقبل کی حکمران جماعت اور اوبامہ کیمپ سے فلسطینیوں اور مسلمانوں کو کوئی ریلیف نہیں مل سکتا۔امریکہ کے نئے صدر سے لیکر خونی درندے بش تک اور امریکی تھنک ٹینکوں سے لیکر اسرائیل کی تمام سیاسی جماعتوں کے مہاراجوں تک جو بھی ہر وقت اسرائیل فلسطین تنازہ کے حل کے لئے اپنے اپنے حل جھاڑتا ہے وہ سب جھوٹ اور فیب کاری ہے۔مسلم حکمرانوں کو حضرت گنج شکر کے قول پر تحقیق و جستجو کرنے کی ضروت ہے۔ تاکہ وہ مریکی لاروں کی اصل سچائی سے اگاہ ہوں۔امریکی یا اسرائیلی وعدوں کی حثیت معشوق کے وعدوں کی طرح جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے۔بابا گنج شکر نے درست ہی تو کہا تھا کہ جس سچ میں جھوٹ کی امیزش شامل ہے اسے کوئی نہ اختیار کرے۔

















0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment