
زمانہ بدل گیا ۔ اکیسویں صدی آگئی ۔ مگر پاکستان کے بیشتر حصے میں ابھی بھی جنگل کا قانون ہے وہاں رہنے والی حوا کی بیٹی اب بھی غیر محفوظ ہے۔ لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کے واقعات کتنے ہوئے ہیں، کوئی اعداد و شمار نہیں۔ سامنے آنے والے واقعہ سے اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔ کتوں کے آگے لڑکیوں کو پھینکنے کے بھی لاتعداد واقعات ہوئے ہونگے کیونکہ یہ سلسلہ صدیوں سے چل رہا ہے۔ رک اس لئے نہیں سکا کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد انتہائی بااثر لوگ ہیں۔ روشن خیال سابق صدر پرویز مشرف نے جب خواتین کا بل پاس کرنا چاہا تو اس وقت سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب رحیم نے واضح طور پر کہا کہ ہم کاروکاری کو ختم نہیں کر سکتے۔ قانون بنتا ہے تو بن جائے مگر کاروکاری کبھی نہیں رکے گی۔ وہ سچ تھا۔ سلسلہ جاری ہے۔ خواتین کو زندہ دفن کرنے کے معاملہ میں موجودہ سینٹر جو بلوچستان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ ہماری قبائلی روایات ہیں۔ ایسے واقعات کا تسلسل رکنا مشکل ہے۔ کیونکہ حکومت ایسے درندوں پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔ اس لئے یہ وحشی دندناتے پھرتے ہیں۔ زندہ لڑکی کو بھوکے کتوں کے آگے ڈالنا کتنا گھناؤنا جرم ہے۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے مگر اس پر ملزمان فخر کررہے ہیں۔ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں کچھ دنوں بعد دو لڑکیوں ماں اور 8ماہ کی بیٹی کو بھی بھوکے کتوں کے آگے ڈال دیا جائے گا کیونکہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
محمد عیسیٰ ولد خداداد قوم ڈہر ساکن گوٹھ، خداداد تحصیل و تھانہ ڈہرکی، ضلع گھوٹکی، سندھ کا رہائشی ہے۔ اس کے بھائی اسحاق ڈھر نے صوبیہ نامی ایک لڑکی کے ساتھ کورٹ میرج کی ہے۔ لڑکی کا تعلق داندھوں قبیلے سے ہے۔ جس قبیلے کا سردار سابق صوبائی وزیر میر منظور احمد پنور ہے۔ میر منظور احمد پنور کے فون کرنے پر اس وقت کے ڈی پی او اقبال دارا نے اس کے اور اس کے تین بھائیوں کے اوپر اغوا کی ایف آئی آر درج کروا دی اور 18-05-2007 کی شام کو اسے پکڑ کر ڈھر کی لاک اپ میں ڈال دیا جبکہ اس کی گرفتاری بھی ظاہر نہیں کی اور اسے مختلف تھانوں میں اور مختلف جگہوں میں چھپاتے رہے۔ 01-06-2007 کو سابق صوبائی وزیر میر منظور احمد پنور، ڈی پی اواقبال دارا، اے ایس آئی ارشاد راجپر، گل محمد دھاندھو، مولا بخش دھاندھو اور نواب دھاندھو نے جدید ہتھیاروں سے مسلح ستر آدمیوں کے ساتھ اس کے گاؤں پر صبح چھ بجے حملہ کردیا۔ صبح چھ سے گیارہ بجے تک اس کے گھر پر فائرنگ کرتے رہے اور اس کے بعد اس کے بیٹے شکیل احمد کو جو فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا، اغوا کرکے لے گئے۔ اس کے بچوں کو گھروں سے گھسیٹا گیا اور گھر سے نکال دیا ۔ دن دھاڑے اس کے گھر اور گاؤں کو لوٹا گیا۔ اس میں اس کی ملکیت تقریباً 35 لاکھ کے برابر مال لوٹا گیا جس میں بھینسیں، گائیں، سونے کے زیورات، فریج، اے سی، ٹی وی، تین بچیوں کے جہیز کا سامان، گھریلو کپڑے، برتن اور دوسرا گھریلو سامان اور لائسنس کے ہتھیار وغیرہ شامل ہیں۔ اس واقعہ کے فوراً بعد اس کے بھائی اسحاق اور صوبیہ دھاندھو ہائی کورٹ سکھر میں پیش ہوئے اور اپنے بیان قلم بند کروائے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی مرضی اور خوشی سے شادی کی ہے۔ جس پر کورٹ نے ان دونوں کو ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔ اور کیس ختم ہوگیا۔
محمد عیسیٰ 28 اگست 2007 کو جیل سے رہا ہوا اور رہا ہونے کے بعد اپنے گھر جانا چاہتا تھا۔ مگر سابق صوبائی وزیر میر منظوراحمد پنور اور ان کے کارندوں نے اسے گھر جانے نہیں دیا اور میر منظور نے کہا کہ کارو کاری پیش کرو اور میرے حوالے کرو اور جرگہ کرو ورنہ آپ کی لڑکیوں کو اٹھا لیں گے اور آپ کو جان سے مار دیں گے۔ اس نے زندگی کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لئے سندھ ہائی کورٹ سکھر جانے کی کوشش کی تو انہوں نے اسے جان سے مارنے کی غرض سے اس کے پیچھے مسلح آدمی لگا دیئے اور فون کیا کہ وہ سندھ سے نکل جائے ورنہ اس کو اس کے بچوں کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ وہ وہاں سے جان بچا کر دربدری کی زندگی بسر کرتا ہوا چھپتے چھپاتے اسلام آباد پہنچ گیا اور اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری کو سوموٹو ایکشن کے لئے 6 ستمبر 2007 کو زندگی کے تحفظ اور دادرسی کے لئے درخواست دی اور بطور احتجاجاً سپریم کورٹ کے سامنے بیٹھ گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اسے ایچ آر سی نمبر4473 بھی دیا ۔ وہ سپریم کورٹ کے سامنے دو ماہ تک احتجاج پذیر رہا کہ 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی لگ گئی اور اسے اور اس کے بال بچوں کو سپریم کورٹ کے سامنے سے اٹھا دیا گیا۔ اس کے بعد 7 ستمبر 2007 کو اس نے انسانی حقوق کے نگران وزیر انصار برنی صاحب کو زندگی کے تحفظ اور ملزمان پر ایف آئی آر درج کرنے کے لئے درخواست دی ۔ انہوں نے ڈی پی او، ڈی آئی جی اور آئی جی کو لکھا اور رپورٹیں منگوائیں لیکن انصاف نہ مل سکا۔ اب 15 ماہ سے بچوں سمیت دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس نے 09-04-2008 کو جناب آصف علی زرداری کو زندگی کے تحفظ اور ملزمان پر ایف آئی آر درج کرنے کے لئے درخواست دی۔ درخواست زرداری ہاؤس کے انچارج امان اللہ کو دی اور 20 اپریل 2008 کو زرداری ہاؤس کے سامنے بچوں سمیت دھرنا دیا اور احتجاج کیا وہاں سے اسے ڈی آئی جی (آپریشن) سکھر کے پاس بھیجا گیا اور زرداری ہاؤس میں سیکیورٹی انچارج ڈی ایس پی نذیر احمد نے ڈی آئی جی سکھر سے بات کی لیکن انہوں نے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا۔ 24-04-2008 کو پھر زرداری ہاؤس گیا۔ اور احتجاج کیا تو اسے سلطان محمود قاضی کے حوالے کیا گیا جس نے اسے فاروق ایچ نائیک وزیر قانون اور رحمان ملک مشیر داخلہ کے لئے دو خط دیئے۔ وہ ان دونوں وزیر صاحبان سے ملا ۔ وزیر داخلہ نے آئی جی سندھ سے بات کی اور ایک درخواست C/oعبدالوسیم MNA-243 کی معرفت فارورڈ کرکے دی۔ اس وقت وہ اسمبلی کے سامنے احتجاج کر رہا تھا کہ عبدالوسیم صاحب اور دوسرے دوچار MNA اسمبلی کے سامنے اس سے ملے اور انہوں نے فارورڈ کی ہوئی درخواست دے کر اسے آئی جی سندھ سے ملنے اور درخواست دینے کے لئے کہا۔
وہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی کھلی کچہری میں بچوں سمیت پیش ہوا اور ان کو اپنی زندگی اور پہلے سے دائر درخواست کے بارے میں بتایا تو وہاں سے اسے سینٹرل سیکریٹریٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے انچارج چوہدری منظور احمد کی طرف سے 9جون 2008 کو ذوالفقار مرزا صوبائی وزیر داخلہ کے لئے لیٹر دیا گیا۔ اور اسے کراچی جانے کا حکم دیا گیا۔ وہ کراچی گیا اور آئی جی سندھ سے بھی ملا ۔ آئی جی سندھ نے ایس پی تنویر احمد جو آئی جی آفس کے کمپلین سنٹر کا انچارج بھی تھا۔ ان کو حکم دیا کہ آپ اس کیس کی خود نگرانی کریں۔ اور وزیر داخلہ کی فارورڈ کی ہوئی درخواست پر نوٹ لگا کر ڈی پی او گھوٹکی کو بھیج دی گئی۔ اسے ایس پی تنور احمد نے اپنا فون نمبر بھی دیا اور کہا کہ آپ رابطہ کرتے رہیں۔
اس کے بعد میں صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے آفس کا چار پانچ دن مسلسل چکر لگاتا رہا۔ لیکن وزیر صاحب سے ملاقات نہ ہو سکی اور وہ واپس اسلام آباد آگیا۔
اس نے ہیومن رائٹس گروپ آف پاکستان کے چیئرمین بیرسٹر شیر علی رضوی اور جنرل سیکریٹری سید تسنیم عباس زہدی کی معرفت پہلے بھی وزیر اعلیٰ سندھ، ہوم سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ کو درخواستیں بھجوائی تھیں۔ سردار کے بااثر ہونے کی وجہ سے اسے کہیں سے بھی انصاف نہیں مل سکا۔ انصاف ملنے کی بجائے 23 مئی 2008 کو سابق صوبائی وزیر میر منظور پنور اور دوسرے مخالفوں کے کہنے پر سابق ڈی پی او گھوٹکی جاوید اوڈھو کے حکم پر ڈی ایس پی کی نگرانی میں پانچ سات موبائلیں بھر کر اس کے گاؤں پر پولیس نے ریڈ کردیا۔ اور اس کے دوبھائی جو زمینوں اور خالی گھروں کی نگرانی کرتے تھے۔ ان کو 13D کا کیس لگا کر لاک اپ کردیا۔
منسٹری آف لاء، جسٹس اور ہیومن رائٹس ڈویژن کی طرف سے سیکشن آفیسر سیکریٹری اور ڈپٹی سیکریٹری نے ہوم سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ڈی پی او گھوٹکی کو اسے قانونی طریقے سے زندگی کے تحفظ اور ملزموں پر ایف آئی آر درج کرنے اس کے لوٹے ہوئے مال مویشی کی واپسی کے لئے کتنے ہی سرکاری لیٹر لکھے ہیں۔ مگر متعلقہ حکام نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اور متعلقہ آفیسروں کو لیٹروں کے جواب بھی نہیں دیئے۔ اس لئے یہ 15 ماہ سے اپنے آٹھ بچوں سمیت دربدری اور فاقہ کشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اس کے چار بیٹے جو کالج اور سکولوں میں پڑھتے تھے ان کی 15 ماہ سے تعلیم ضائع ہو رہی ہے۔ چار بیٹیاں بھی پریشان ہیں۔ ابھی تک بااثر سردار کی دھمکیاں مل رہی ہیں کہ کاروکاری پیش کرو۔ ورنہ آپ کی بچیوں کو اٹھا لیا جائے گا آپ سب کو قتل کر دیا جائے گا۔اسے مشیر داخلہ نے 10 ہزار روپے کا چیک دے کر ٹرخا دیا۔ محمد عیسیٰ کی ہمت جواب دیتی جارہی ہے۔ آٹھ بچوں سمیت دونوں میاں بیوی ڈیڑھ سال سے اسلام آباد میں دھکے کھا رہے ہیں مگر کوئی سننے والا نہیں۔ آٹھ بچوں چار جوان بیٹوں اور چار بیٹیوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا خوف بھی ہے۔ ڈیڑھ سال سے اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے محمد عیسیٰ کو اس کے بچوں اور پسند کی شادی کرنے والے اسحاق ، اس کی بیوی صوبیہ اور ان کی آٹھ سالہ بچی کو اگر حکومت تحفظ نہیں دے سکتی۔ اگر محمد عیسیٰ نے ماں بیٹی (صوبیہ اور اس کی آٹھ ماہ کی بیٹی) کو واپس کردیا۔ پسند کی شادی کرنے کے گناہ کی سزا ماں بیٹی کو بھوکے کتوں کے آگے پھینکنا ہے۔ اگر ان دونوں کو بھی بھوکے کتوں کے آگے پھینک دیا گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ حکومت کو چاہیے کہ اس خاندان کو تحفظ فراہم کرے یا پھر ان وحشیوں کو اسلام آباد بلا کر دونوں لڑکیوں کو ان کے حوالے کرے اور ان درندوں کو کہے کہ پارلیمنٹ کے سامنے ان معصوم بچیوں پر بھوکے کتے چھوڑیں تاکہ آئیندہ کوئی اس وحشیانہ رسم کے خلاف آواز بلند نہ کرے اور چپ چاپ بھوکے کتوں کی خوراک بن جائے۔

















0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment