Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 2

زندہ گوشت کی تجارت صہیونیوں کا لازوال کارنامہ ‘ کالم ‘ روف عامر پپا بریار

October 30th, 2008 · No Comments

Rauf Amir

اسلام نے عورت کو مقدس ترین مقام سے سرفراز کیا ہے۔مشرقی روایات اور اسلامی تعلیمات نے عورت کو جتنے تقدس اور احترام سے نوازا ہے دنیا کا کوئی اور مذہب اور تہذیب اسکا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ مغرب میں عورتوں کے حقوق کا ڈھنڈورا تو خوب پیٹا جاتا ہے ۔عورتوں کی اذادی کے نام پر فحاشی و عریانی کا بول بالا کیا جاتا ہے۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ عورت کے نام پر شائیں شائیں کرنے والے مغربی معاشروں میں عورت کو ٹشو پیپر سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہے۔وہاں عورتوں کی حثیت جنسی عیاشیوں کے گل دان سے بڑھ کر نہیں۔اسرائیل نام کی ناجائز ریاست گو کہ مڈل ایسٹ میں قائم ہے لیکن وہاں عورتوں اور لڑکیوں پر ایسے ایسے ظلمت کدوں کے کوڑے برسائے جاتے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔انسانیت کا دم بھرنے والا ملک چاہے اسرائیل ہو یا سپین برطانیہ ہو یا امریکہ وہاں انسانی سمگلنگ کا کاروبار عروج پر ہے۔انسانی تجارت کا پیشہ قدیم ترین ہے۔گلوبلائزیشن کے اس دور میں بھی اس تجارت کی وحشت کو روکنا تو درکنار بلکہ اس کے روز افزوں کاروبار کے طوفان کی طغیانی کو کم تک نہیں کیا جاسکا۔انسانی تجارت کا سب سے گھناوئنا کاروبار اسرائیل میں کیا جاتا ہے۔اسرائیل سے تعلق رکھنے والی خاتون وکیل ( دوریت شموئیلی) جو انسداد انسانی تجارت کے حوالے سے کافی سرگرم ہیں نے یروشلم پوسٹ کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ دنیا کا کوئی ملک۔ فرقہ۔ مذہب انسانی سمگلنگ اور عورتوں کے انسانی تشخص کو داغ داغ کرنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن صہیونی مملکت کے چپے چپے پر حوا کی بیٹیوں کی عظمت کے لباس کو تار تار کرنے کا کاروبار عروج پر ہے۔ اسرائیل میں ایسے حوالوں سے حکومتی قوانین خاصے غیر مبہم اور انسانی سمگلروں کو قانونی سپورٹ دینے میں ممدون ثابت ہوتے ہیں۔اسرائیل پاکستان کے بعد دنیا کا دوسرا ملک ہے جو نظریاتی عقائد کی بنیاد پر عالمی نقشے پر ابھرا۔اسرائیل میں جنسی فلمیں بنانے اوربادہ وجام کی رنگینیوں کے دلدادہ حکمرانوں یا افسروں کو رام کرنے کے لئے کئی بنک ادارے اور کلب قائم ہیں۔ گزرے دنوں میںاسرائیل میں ایلات نام کا شہر عورتوں کی تجارت میں خاصا مقبول تھا لیکن بعد میں تل ایب ایلات پر بازی لے گیا۔تل ایب اب دنیا میں عورتوں کی لوٹ سیل ڈپوووں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔اسرائیلی وکیل شموئیلی نے میڈیا کو اس حوالے سے سنسی خیز انکشافات سے اگاہ کیا۔شموئیلی کا کہنا ہے کہ یہاں درامد کی جانیوالی لڑکیوں کو اس وقت تک رکھا جاتا ہے جب تک تاجر اپنا منافع کھرا نہیں کرلیتے۔کاروباری تماش بینوں سے نصف گھنٹے کے تیس ہزار شیگل(اسرائیلی روپے) وصول کرتے ہیں۔حاصل شدہ رقم میں سے نصف گاہک کی شراب اور سگریٹ نوشی پر خرچ کردی جاتی ہے۔ جب بقیہ عورت اور کلب کے مالکوں کا مقدر بنتی ہے۔یوں حوا کی بیٹیاں صہیونیت کے علمبرداروں کی ہر ص و ہوص کی بھینٹ چڑھ کر ہر قدم پر اپنے قبائے ارزو کا جنازہ نکالنے پر مجبور کرردی جاتی ہیں۔اسرائیل یوں ملک کم اور عالمی نصرانیت کا قحبہ خانہ بن چکا ہے۔پچھلے ماہ مصر میں ہونے والی عالمی ویمن کانفرنس میں مغرب کی لفنٹر ٹائپ فیشن ایبل خاتون لیڈران اسلامی دنیا پر عورتوں کے حقوق کے معاملے پر کڑکتی رہیں لیکن ان عقل کی اندھی اور گانٹھ کی پوری میڈیموںکو اسرائیل نظر نہیں ایا حالانکہ مصر اور اسرائیل پڑوسی ہیں اور مصر کے صحرائی راستوں سے ہی تل ایب میں عورتوں کی درامد و برامد ممکن بنائی جاتی ہے۔عورتوں کی تجارت کے حوالے سے عالمی سطح پر جو رپورٹ مرتب ہوئی ہے کے مطابق اس وقت یونان بلغاریہ روس ہالینڈ چین جاپان یوگوسلاویہ میں یہ دھندہ عروج پر ہے لیکن اس فہرست میں بھی اسرائیل نمبر ون ہے۔یوں اسرائیل کے چہرے سے انسانی حقوق کا نام نہاد میک اپ اور غازہ اتر چکا ہے۔پچھلے دنوں روسی پارلیمنٹ کی ممبر میزولینا نے اپنی رپورٹ میں کف افسوس ملتے ہوئے لکھا تھا کہ کتنے شرم کی بات ہے کہ اسرائیل و یورپ میں سب سے زیادہ لڑکیوں کی سمگلنگ روس سے ہوتی ہے۔عالمی سطح پر اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کے بعد تیسرا نفع بخش کاروبار عورتوں کی لوٹ سیل کا ہے اور اس نفح بخش کاروبار پر بھی یہودیوں کا غلبہ ہے۔تل ایب میں لڑکیوں کی تجارت کو زندہ گوشت کہا جاتا ہے۔حوا کی بیٹی کی زلالت کی سب سے بڑی منڈی تل ایب میں سجتی ہے۔یہودی سرمایہ دارروسی اخباری صنعت پر بے دریغ دولت لٹاتے ہیں ۔میڈیا کے زریعے خوبصورت لڑکیوں کو تل ایب میں پرکشش نوکری کی افرز دی جاتی ہیں اور پھر وہاں انہیں زبردستی قحبہ خانوں کی جہنم میں جھونک دیا جاتا ہے۔روس اور یورپ میں بااثر مافیا کے حواری اور ایجنٹ لڑکیوں سے شادی کرکے ہنی مون منانے کے بہانے اسرائیل لے جاکر یہودی بھیڑیوں کے بستروں کو گرم کرتے ہیں۔این جی اوز اور خواتین تنظیمیں تمام قسم کی معلومات کے باوجود چپ سادھے رہتی ہیں کیونکہ انہیں جو گرانٹ ملتی ہے اسکے تانے بانے ان اداروں سے جاکر ملتے ہیں جو عالمی صہیونیت کے قبضہ میں ہیں۔اسرائیل عربوں کے وسط میں قائم مصنوعی ریاست ہے جس کی بنیادوں میں عالمی سامراج کا ظلم اور یواین او کی ناانصافی شامل ہے۔مصنوعی ریاست کی ساٹھ سالہ زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہودیوں نے مال کمانے کے لئے ماں بہن اور بیٹی کا مہذب ترین رشتہ رکھنے والی عورت کو بھی مالیاتی ایجنڈے کا حصہ بنا رکھا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق خام مال کی ترسیل سابق روسی ریاستوں سے فریب و فسوں کاری کے بل بوتے پر ممکن بنائی جاتی ہے۔میڈیا میں بیس سے بائیس سالوں کی نوخیز و پر کشش حسیناوں کو فضائی کمپنیوں ہوٹلوں اور اشتہاری اداروں میں جاب کرنے ماڈل ویٹر یا رقاصہ کا پیشہ اپنانے اور بالی وڈ میں اداکاری کے جوہر دکھانے کا جھانسہ دیکر ہمیشہ کے لئے صہیونی جال میں جکڑ لیا جاتا ہے۔سویت یونین کی شیرازہ بندی کے بعد روسی ریاستوں میں غربت کا طوفان چھا گیا ۔پرکشش معاوضوں کے عوض میڈیا میں چھپنے والے اشتہارات پر غریب و خوبصورت لڑکیوں کے انبار لگ جاتے جنہیں دھوکہ دہی سے آگے بھیج دیا جاتا۔روس سے کم عمر طالبات کی سمگلنگ شروع ہوئی تو یوں سفید فام غلاموں کی تجارت کا کاروبار شروع ہوگیا جس کی سرمایہ کاری کا گڑھ تل ایب بن گیا۔اسرائیل نے دولت کی لالچ میں اپنے ائین و مذہب میں ترامیم کر ڈالیں اور عورت کے تجارتی استعمال کو قانونی لبادہ پہنا کر اپنی خباثت کا ثبوت ہی خود عیاں کردیا۔تاریخی اعتبار سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہودیت میں غیر اخلاقی کاروبار کرنے کا اختیار انہیں عطا کیا گیا ہے۔اسرائیل کے علاوہ امریکہ یورپ مشرق وسطی میں عورتوں کی خرید فروخت کرنے والے عورت گردوں کا تعلق اسی گروہ یا مذہب کے پیروکاروںسے ہوگا کیونکہ دنیا کے کسی اور مذہب قانون اور سماج میں عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح زلیل و رسواکرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن یاد رہے کہ اصل یہودی مذہب میں ایسا کرنا گناہ اور غیر قانونی ہے۔اسرائیلی حکام جب کسی دوسرے ملک کے اعلی حکام سے کوئی کام نکلوانا چاہتے ہیں تو وہ حسین و جمیل تیز و طرار لڑکیوں کو استعمال کرتے ہیں۔اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں اور موساد میں جازب نظر لڑکیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے اور پھر انکی ٹریننگ کے لئے وہاں جدید قسم کے انسٹی ٹیوٹ قائم ہیں جہاں انہیں جاسوسی کے مختلف طریقے اوازیں ریکارڈ کرنا تصویریں بنانا اسرائیل مخالف نامی گرامی رہنماوں کو اپنی زلف گرہ گیر کا اسیربنا کر تماشہ عبرت بنانے اور فلمیں بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔جاسوس لڑکیوں کو روانی کے ساتھ عربی سکھائی جاتی ہے۔جولڑکیاں سخت ترین تربیت اور جاسوسی کا کورس پاس کرلیتی ہیں تو انہیں باقاعدہ موساد کے اعلی عہدوں پر فائز کردیا جاتا ہے اور جو حسینائیں فیل ہوجاتی ہیں انہیں اسرائیلی فوج کے شعبہ انسانی سمگلنگ کے سپرد کردیا جاتا ہے جو ان سے جسم فروشی کا دھندہ کرواتے ہیں اگر چند باضمیر لڑکیاں جسم فروشی سے منکر ہوجاتی ہیں انہیں ازیت دی جاتی ہے قید کی تنہائیوں کے سپرد کردیا جاتا ہے۔تاریخ کئی ایسے ابواب سے بھری ہوئی ہے جس میں موساد سے تعلق رکھنے والی ایجنٹ حسینوں نے دشمنوں کو سرعام رسوا کیا۔اسرائیلی پولیس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ لڑکیوں کی تجارت کرنے والے مافیاز کی سرپرستی کرتی ہے۔یہودیوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ لڑکیوں اور عورتوں کو استعمال کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔پوری دنیا کے یہودی اپس میں گہرے روابط رکھتے ہیں روس میں رہنے والے یہودی تل ایب کے تاجروں کو اڈر پر مال پہنچاتے ہیں۔دنیا کی تجارت اور عالمی معیشت پر یہودیوں کا قبضہ ہے بھلا جو قوم دولت کی لوٹ مار کے لئے ماں ایسی مقدس ہستی بہن ایسی سرتاپا وفا شخصیت اور بیٹی ایسے گرانقدر اثاثے کو بلاتامل استعمال کرنے کا گورکھ دھندہ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی بھلا وہ دنیا کی امیر ترین قوم کا اعزاز برقرار رکھنے میں کیونکر کامیاب نہ ہوگی ۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو