Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

ریڈ زون” اور عوامی حکومت کا اپنی عوام سے خوف ؟ ‘ کالم ‘ اعجاز احمد

October 30th, 2008 · No Comments

Ejaz Ahmed

ارسطو کہتے ہیں ،
you cannot be a leader and ask other people to fallow you unless you know how to fallow too
کہ آپ اس وقت تک اچھے راہنما اور لیڈر نہیں بن سکتے اور لوگوں کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ آپکے نقش قدم پر چلیں جب تک آپ کی اپنی سمت درست نہ ہو ۔18 فر وری 2008کے عام انتخا بات میں پاکستان پیپلز پا رٹی اور اتحا دیوں کی جو حکومت بر سر اقتدار آئی۔ لوگوں کی بڑی توقعات تھی کہ عوامی حکومت لوگوں کے فلاح و بہبود کے لئے ہت کچھ کر ے گی مگر بدقسمتی سے 8 مہینے گزر نے کے بعد بھی عام لو گوں کی سماجی اور اقتصادی حالت میں کوئی مُثبت پیش رفت نہیں ہوئی، بلکہ حا لات بد سے بد ترین ہو تے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت زندگی کی ہر ڈگر اور ریا ستی معا ملات اور امورمیں بُری ناکامی کا سامنا کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ملک کو آج کل انتہا پسندی اور دہشت گر دی کا سامنا ہے مگر بد قسمتی سے دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی موجودہ لہر امریکہ کی منفی پالیسیوں اور پاکستانی حکومت کا امریکہ اور اتحا دیوں کے ساتھ دینے کا ردعمل ہے۔ موجودہ عوامی حکومت اپنی عوام سے اتنی ڈری ہوئی ہے کہ اے این پی کے رہبر اور خا رجہ کمیٹی کے چیر مین اسفند یار ولی خان لندن چلے گئے ۔جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین انگلینڈ سے اپنے پا رٹی کار کنان کو ہدایات اور انسٹرکشن دے رہے ہو تے ہیں۔ادھر ہمارے حکمران کبھی اسلام آباد کے ار د گر د 9 ارب روپے کی لا گت سے دیوار کی تعمیر جبکہ 6ارب روپے کی لا گت سے 19 مقامات پر سکینر لگانے کے منصوبے سوچ رہے ہیں۔دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی نام پر اسلا م آباد پولیس اسلام آباد اور پیوستہ علاقوں میں دا ڑھیوں والوں کی تذلیل کرنا، گا ڑیوں اور مسافروں کو بلا جواز تنگ کر نا او عام لوگوں سے بھتے لینا ایک عام معمول بن گیا ہے ۔ خاص طو ر پر صوبہ سر حد سے اسلام آباد آنے والوں کے ساتھ تو ایسا نا زیبا سلوک کیا جاتا ہے جیسے بھارت میں شودر اور یورپ میں سیاہ فاموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔اسلام آباد میں چیکنگ سے کسی کو فا ئدہ ہو یا نہ ہوکم ازکم اسلام آباد پو لیس کو لوگوں کو تنگ کر نے کا اور اُنکو لو ٹنے کا مو قع تو مل گیا۔موجودہ حکمران اتنے خو ف زدہ ہیں کہ انہوں نے سپریم کو رٹ، قومی اسمبلی اور سینیٹ، سی بی آر، آڈیٹرجنرل آفس ، ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی وژن،زرعی ترقیاتی کو نسل، سر سید یو نیو ر سٹی، سیرینا ہو ٹل ، بری امام اور دوسرے بُہت دفتروں کے پبلک ٹرانسپورٹ روٹ تبدیل کئے ۔ اور اس سے خا ص طو ر پر چھوٹے طبقے کے لو گ متا ثر ہو رہے ہیں۔ملازمین کو اپنے دفتروں تک پہنچنے کے لئے کافی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔ میں خود رو زانہ ریڈیو پاکستان جا تا ہوں ۔ پہلے میں فیض آباد سے بری امام کی گا ڑی بیٹھ کر جا تا تھا مگر ابھی مُجھے آب پارہ سے 50یا 60 روپے ٹیکسی کو دینے پڑ تے ہیں۔ اگریہ را ستے صد پر ویز مشرف کے دور حکومت میں بند ہو تے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ ایک غیر منتخب حکومت تھی مگر ایک عوامی اور مُنتخب حکومت کو اس قسم کے حر کت کر نا زیبا نہیں دیتا۔کیونکہ عوا می نمائنندے کبھی بھی اپنی عوام سے بھاگنے والی نہیںبلکہ اُنکے ساتھ گھلتے ملتے اور مسائل حل کر نے والے ہو تے ہیں۔ اگر دیکھا جائے توہمارے حکمران موت سے بُہت ڈر تے ہیں۔ وہ یہ سمجھ اور سوچ رہے ہیں کہ اگر اسلام آباد کے ر استے بند کئے جائیںتو گو یا وہ مو ت یا دہشت گر دی کا راستہ روک سکیں گے۔ مگر ہو گا وہی جو منظورِخدا ہو گا ۔ا للہ تعالی سورۃ جمعہ میں فر ما تے ہیں کہہ بے شک وہ موت ، جس سے تم بھاگتے ہو ضرور تمہیں ملنی والی ہے۔ سورۃ نساء میں ار شاد خداوندی ہے تم جہاں کہیں ہو نگے موت تمھیں آہی پکڑے گی، اگر چہ مضبو ط قلعوں میں ہو۔مومن کبھی مو ت سے نہیں ڈر تا بلکہ وہ ہمیشہ نیک اور اچھے کام کرکے اللہ پر توکل کر تا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ار شاد ہے میں اللہ پر توکل کر تا ہوں اور اللہ کے سوا کوئی بچاؤ اور طاقت کا مالک کوئی نہیں۔سورۃ ما ئدہ میں ارشا د خداوند ی ہے اور اللہ ہی پر پر بھروسہ کرو اگر تُم ایمان والے ہو۔جون ملٹن جو کہ ایک بُہت بڑے سکالر گز رے ہیں، کہتے ہیں کہ مو ت ابدی زندگی کے لئے سونے کی چابی ہے۔ ارسطو کہتے ہیں سب سے بڑا بُزدل وہ ہے جو موت سے ڈرتا ہو۔ونسٹن چرچل کہتے ہیں کہ حو صلہ انسان کا پہلا اوزا ر ہے اور یہ ایک ایسی خوبی ہے جو دوسروں کی زندگیوں کے ضامن ہے۔ اب یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ کیا اسلام آباد کے ارد گر دہم ارب روپے کی لاگت سے تین فٹ کی دیوار کھڑی کر کے اور 6 ارب روپے کی لاگت سے سکینر لگا کر اپنے آپکو تحفظ دے سکیں ہیں۔ کیا اس سے دہشت گر دی اور انتہا پسندی کا قلعہ قمع کیا جائے گا۔ کیا اس سے خود کش اپنے حملوں سے باز آئیں گے۔ کیا اسلام آ باد کے سیکور ہو نے سے پو را ملک سیکیور ہوجائے گا۔کیا موجودہ حکومت کا مقصد ریڈ زون قائم کر کے اپنی تحفظ کر نی ہے؟ جب تک ہم دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی بنیادی اسباب کو ختم نہیں کریں گے یہ توقع کر نا عبث ہے کہ دہشت گر دی اور انتہا پسندی پر قابو پا یا جائے گا۔ملک آج کل حکمرانوں کی منفی پالیسیوں کی وجہ سے مالی اور اقتصادی طو ر پر بُحران کا شکار ہے اس قسم کے منصوبوں سے ملکی خزانے پر مزید بو جھ پڑیگا ،جسکی وجہ سے عام لوگ مزید غربت اور دوسرے اقٹسادی مسائل سے دو چار ہو نگے۔ہمارے حکمرانوں کو ایسی داخلہ اور خا رجہ پالیسیا ں بنانی چاہئے کہ ہمیں اپنی حفا ظت کے لئے نہ تو دیواروں کی اور نہ سکینرز کی ضرورت پڑے۔بلکہ ہمارا ایسا نظام حکومت ہو نا چاہئے کہ ہم حضرت عمر اور حضرت ابو بکر کی طرح رات کو بلا خوف خطر پھر کر لو گو ں کے مسائل پتہ کر کے ، انکو حل کرتے رہیں۔ا س ریڈ زون سے کوئی بھی گاڑی والا، بڑا سیاست دان اور بیورو کریٹ متا ثر نہیں ہوا بلکہ اس سے وہ غریب سرکاری ملازم متا ثر ہوئے جو اپنی ملاز مت کے سلسلے میں پبلک کنونس سے اس ایریا میں اپنی ڈیوٹی اور کاروبار کے آتے ہیں۔ خدارا موجودہ حکومت کو ہو ش کے نا خن لینے چاہئے اور ایسے کام نہیں کر نے چاہئے جس سے لوگوں کا حو صلہ اور پست ہوں۔ بری امام جس میں زیادہ تر غریب لوگ رہائش پذیر ہیں لمبا سفر اور زیادہ کرایہ دے کر وہاں پہنچتے ہیں۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو