Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے ۔۔ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی ‘ کالم ‘ یونس مجاز

October 30th, 2008 · No Comments

اس مٹی کے خمیر سے اٹھنے والے کل کے کنگال آج کے رئیس زادو ،ذرا گریبان میں جھانک کرتو دیکھو! جب یہ ماں دھرتی انگریزوں کے پاؤں تلے روندھی جاتی تھی ۔تو اس مٹی کے غیور بیٹے اس وقت بھی قربایناں دے رہے تھے ۔ اورتمہارے آباؤاجداد کی حثیت ایک مالشی کے سوا کچھ بھی نہ تھی ۔جو اس وقت کے حاکموں کے ان گھوڑوں کی سیوا ،اور حریت پسندوں کی مخبری کرکے نہ صرف جان بخشی بلکہ انعام اکرام کے حقدار ٹھہرتے تھے ۔لیکن جب اس دھرتی کو غیروں کے شکنجے سے آزاد کرا لیا گیا۔ تو ان مالشیوں نے غداری کے صلے میں حاصل کی گئی جائیدادوں کے بل پوتے پر اس ملک کے بانی کو بیماری کی حا لت میںویران سڑک پر مرتا چھوڑ کر اقتدار پر ایسا قبضہ کیا ۔کہ آج تک یہ پاک دھرتی ان کی حریص اولادوں کے بوجھ تلے سسک رہی ہے ۔اور اب نزع کے عالم میں اپنے ان بیٹوں کو پکار رہی ہے ۔جن کے آباؤاجدادکی قربانیوں سے اس نے دنیاں کے نقشے پر جنم لیا تھا ۔اس وقت وطن عزیز کی حالت یہ ہے ۔کوئی ہمیں قرض دینے کے لیے تیار نہیں ۔جو دینے کے لیے بے تاب ہیں ۔وہ اس ملک کی سالمیت پر آخری ضرب لگانے کے درپے ہیں ۔عالمی بینک نے بھی اپنے آقا ا مریکہ کی باندی آئی ایم ایف کے اعتراض پر معاشی استحکام کے لیے دئیے جانے والے تیس کروڑ ڈالر کے قرض کی ادائیگی روک لی ہے ۔کیوں کہ آئی ایم ایف صاحبہ جس کو ہم نے پانچ سال پہلے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا ۔کہ ہمیں تمہارا مکرو ہ کردار پسند نہیں ۔کا اعتراض ہے۔ کہ یہ شکار ہمارا ہے اس لیے ورلڈ بینک اس کو قرضہ دے کر ہمارے شکنجے سے بچانے کی سعی لاحاصل نہ کرے ۔سو اس قرضہ کے رکنے کے ساتھ ہی جاں حکمرانوں کے سانس رک گئے ہیں ۔وہاں نیشنل کوریڈور منصوبہ جس میں 50 سے زاہد منصوبہ جات شامل ہیں بھی التوا کا شکار ہوگئے ہیں ۔جنم جنم کے ناہل حکمرانوں نے ملک کو اپنی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے صرف چھ مہینوں میں اس سطح پر لا کھڑا کیا ہے ۔کہ’’ نہ جائے رفتند نہ پائے رفتند‘‘ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔اور شوکت ترین نے اس جولائے کی ماں کی طرح جس نے بکری کاسر ڈولے میں پھنس جانے کے بعد اپنا فرمان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بکری کی گردن کاٹ دی جائے ۔جب سر پھر بھی نہ نکلا ۔تو پھر حکم دیا ڈولا توڑ دیا جائے ۔جو آپشن پیش کرکے سیانا ہونے کا ثبوت اور نوکری پکی کرنے کی کوشش کی تھی ۔ان میں سے پہلے دوآپشن ناکام ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔پہلے آپشن دوستوں سے مدد کی ناکامی کے بعددوسرا آپشن جس میں پاکستان کی پبلک سیکٹر کمپنیاں پانچ پانچ ارب روپے سے فنڈز قائم کریں گی ۔بھی کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیو نکہ اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ممکن تھا جب حکمران طبقہ خود اپنا سر مایہ جو بیرون ملک پڑا ہوا ہے ۔اور جس کے بل پوتے پر دشمن ہمیں نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا ہے ۔واپس لا کر پاکستانی بینکوں میں رکھنے کا نہ صرف اعلان کرتے بلکہ عملی طور پر اب تک لا چکے ہوتے ۔تو پھر ہی ممکن تھا کہ دیگر لوگ یا کمپنیاں بھی یہ نیک کام کرنے میں ان کی پیروی کرتیں ۔حکمرانوں کو یہ کہنے میں ہار محسوس نہیں ہوتی کہ چین اپنے دوہزار ڈالر ریزرو میں سے چند ارب ڈالر محض چند ماہ کے لیے پاکستانی بینکوں میں رکھ دے تو پاکستان کی گرتی ہوئی معاشی ساکھ کو سہارا مل سکتا ہے ۔تو کیا صدر زردزری سپین کے بینکوں میں پڑے ہوئے ملین ڈالر پاکستان لا کر اس ملک کا وہ قرض نہیں چکا سکتے ۔جس کی رگوں سے خون چوس کر مزکورہ ڈالر جمع کیے گئے ۔یہ وہی منی لارنڈرنگ کیس والے ڈالر ہیں ۔جن کو واپس لانے میں سابقہ حکومتوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔اب جب کی موصوف اسی ملک کے سب سے بڑے عہدے پر براجمان ہیں ۔تو وہ یہ فریضہ خود ادا کرکے اس عوام کے سامنے سر خرو ہو سکتے ہیں ۔جس کی بدولت وہ صدر بنے ہیں ۔ورنہ یہ تو کبھی ان کے خواب میں بھی نہ آیا ہو گا ۔کہ وہ ایسے کسی عہدے پر پہنچ سکتے ہیں ۔اسی طرح پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے وہ تمام حکومتی اور اپوزیشن ارکا ن یہ کیون بھول گئے ۔ان کی یہ ٹھاٹھ باٹھ بھی اسی ملک کے طفیل ہے خدا ناخواستہ یہ ملک ہی نہ رہا ۔تو پھر کہاں کی پارلیمنٹ اور کیسے ارکان اسمبلی اسی طرح ملک کے وہ چھوٹے بڑے سرمایہ دار، کارخانہ دار بھی ذرا اپنے ماضی کی طرف نظر دوڑا کر دیکھ لیں کہ وہ کیا تھے۔ ان کے آباؤاجداد کی کیا حثیت تھی۔ اب اس ملک کے طفیل کیا ہیں ۔جو کچھ ان کے پاس ہے وہ اس ملک کی امانت ہے جس کے لوٹانے کا وقت آگیا ہے ۔ورنہ نہ یہ عہدے رہیں گے نہ سرمایہ اور نہ کوئی کارخانہ ۔پھر وہی گھوڑوں کی مالش ان کا مقدرہوگی ۔اس لیے بچاس ارب ڈالر سے زاہد بیرون ملک غیروں کے یبنکوں میں پڑا وہ سرمایہ پاکستان واپس لایا جائے ۔جو اس ملک کی سانسیں چلانے کے لیے ضروری ہے ۔ورنہ ان کی اپنی سانسوں کے بند ہونے کا وقت قریب سے قریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔میں پہلے بھی ان کالموں میں کہہ چکا ہوں کہ اس وقت کا انتظار مت کرو جب ’’ ہر گھر سے خود کش نکلے گا تم کتنے خود کش ماروگے‘‘ کا نعرہ حقیقت کا روپ دھار لے ۔ آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑے جانے کے بعد یہ وقت بھی ان کے پاس ختم ہوجائے گا ۔کیونکہ کارخانے بند اور سرمایہ لٹنا شروع ہوجائے گا ۔بجلی مزید مہنگی ۔دفاعی بجٹ میں کمی ۔ٹیکسوں کی بھرمار ۔اور سب سے بڑھ کر ہمارے ان اثاثوں کا کیا ہوگا ۔جن کو بنانے اور پھر ان کی حفاظت کے لیے ہر پاکستانی نے اپنی زندگی کے تلخ لمحات کو بھی ہنس کر گزارنے کا خود کو عادی کر لیا ہے ۔ایک ایٹمی قوت کو کیوں باند کر مروایا جا رہا ہے ۔اس سازش کے پیچھے کون سے عناصر ہے ۔حکمرانوں سے عوام کا اعتماد کیوں اٹھ گیا ہے ۔راقم اپنے گزشتہ کالموں میں بھی تسلسل سے یہ کہتا چلا آرہا ہے ۔کہ لگتا یوں ہے کہ ہمیں باندھ کر مروایا جا رہا ہے ۔اور حکمران اس کے ہراول دستے کا کام کر رہے ہیں ۔اس لیے انھیں فوری طور پر اپنا سرمایہ پاکستان لانے کا اعلان کر نا چائیے پھر دیکھیں اس قوم کا بچہ بچہ خزانہ بھر دے گا ۔لیکن حکمرانوں کو سب سے پہلے اپنے اوپر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ وہ انھیں پہلے کئی بار آزما چکے ہیں ۔اور ہر بار لٹنے کے باوجود ایک بار پھر اگر انھوں نے ان حکمرانوں پر اعتماد ووٹ کے ذریعے کیا ہے۔اور شریک جرم ٹھہرے ہیں ۔ تو پھر حکمرانوں کو بھی اس پر پورا اترنے کی ضرورت ہے ورنہ بلاول بھٹو اور حسین نواز کا شاہد کبھی نمبر نہ آسکے گا ۔کیونکہ حکمرانی کے لیے سیٹیٹ کا ہو نا ضروری ہے ۔

ادھر حمید گل صاحب کا فارمو لا بھی دل کو لگتا ہے ۔جن کا یہ کہنا بجا ہے ۔کہ اگر بین الا اقوامی برادری پاکستا ن کو اس مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے مدد کے بجائے مزید اپنے شکنجے میں جکڑنے کوشش کر رہی ہے ۔تو پھر ہمیں بھی کسی قانون اور اصول کی پاسداری کرنے کی چندا ضرورت نہیں ۔کیونکہ ہم آج اس مقام پرہوس زر کے بجاری اپنے حکمرانوں کی نااہلیوں اور ان مہربانوں کی سازشوں کے طفیل پہنچے ہیں ۔جو نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں پہلے ہمیں تھپکیا ں لگاتے رہے اور شاباش کے ڈونگرے برساتے رہے ۔اب جب کہ ہم ہر طرف سے ان کے شکنجے میں آگئے ہیں تو کوڑے بھرسانے شروع کر دیے ہیں ۔اور ہماری حالت اس بلی کی مانند ہے جس کو بند گلی میں روک لیا جائے ۔ایسے میں بلی کے ضروری ہوجاتا ہے ۔کہ وہ اپنے پنجوں کا ستعمال کرے ۔چاہے روکنے والے کی آنکھ جائے یا ناک کا حلیہ بگڑ جائے ۔حمید گل کا یہ کہنا بھی درست ہے ۔کہ ان قرضوں کے عوض ہم آج تک سو ارب ڈالر ادا کر چکے ہیں ۔جو کبھی ہم نے لیے ہی نہیں جن حکرانوں نے لیے ہیں ۔اور لوٹ کا مال سمجھ کر اپنے نام سے ان ہی ساہوکاروں کے خزانہ میں جمع کروائے ہوئے ہیں ۔اس لیے ان سو کاروں سے کہہ دیا جائے ۔پاکستان کی غریب عوام نے نہ ان سے قرضے لیئے ہیں اور نہ واپس کرنے کے پابند ہیں ۔ان کے خزانوں میں موجود ان لٹیروں کے سر مائے کو ضبظ کر کے پاکستانی عوام کی جان خلاصی کر دی جائے ۔اس لیے پاکستانی عوام کو قرضے واپس کرنے سے انکار کا اعلان کر دینا چائیے۔ اور لٹیروں کو ملک سے بھاگنے نہیں دینا چائیے ۔ اس شعر کے ساتھ جو عوام کی موجودہ حالت کی یقینا ترجمانی کرتا ہے۔ اجازت چاہوں گا


شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو