Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

امریکہ ، چین اور آئی ایم ایف کے علاوہ بھی ایک راستہ ہے ‘ کالم ‘ میر خلیل الرحمن قادری

October 29th, 2008 · No Comments

من حیث القوم ہمارا حال اس بھکاری کی مانند ہو گیا ہے جو زیادہ خیرات دینے والے سخی کو لمبی لمبی دعائیں دیتا ہے اور ہاتھ جھٹک دینے والے کو گھورنے لگتا ہے اسے ہر بڑی گاڑی والی سے بڑی امیدیں ہوتی ہیںاور وہ پیشگی اس کی سخاوت کے قصیدے پڑھنے شروع کر دیتا ہے وہ جس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے اسے اپنا سب سے بڑا ہمدرد خیال کرتا ہے لیکن جب وہ سخی اس کی باتوں پر توجہ دیئے بغیر اپنی نشست پر خاموش سے بیٹھا رہتا ہے یا اسے جھڑک دیتا ہے تو وہ کشکول گدائی اٹھائے نئی امیدیں لے کر دوسری گاڑی والے کے پاس چلا جاتا ہے۔

ہمارے صدر آصف علی زرداری نے جب امریکہ جاکر اپنے حالات کا رونا رویا تو انہیں فرینڈزآف پاکستان کے قیام کا لالی پاپ تھمادیا گیا ۔یار لوگوں نے اس سے بڑی بڑی توقعات وابستہ کیں لیکن واقفان حال جانتے تھے کہ یہ محض لالی پاپ ہی ہے چنانچہ چارہ گری کی تلاش میں ہم کشکول گدائی اٹھائے چین جا پہنچے ۔چین جانے سے پہلے دیرینہ پاک چین دوستی کی یادوں کو جی بھر کر تازہ کیاگیا۔چین کی سخاوتوں اور عنایات کے خوب تذکرے بھی کیے گئے۔لیکن زمینی حقائق یہی بتلاتے ہیں کہ ہمارے اس ہمدم دیرینہ کو بھی ہماری حالت زار پر کوئی خاص ترس نہیں آیا امریکہ کی بے اعتنائی تو کسی حد تک قابل فہم ہے کیونکہ وہ خود شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے بلکہ ہمارے اقتصادی بحران کا ایک سبب بھی امریکہ کا اقتصادی بحران ہی ہے امریکہ اپنی بگڑتی ہوئی اقتصادی صورت حال کو سنبھالا دینے کے لیے 700ارب ڈالر کا حاجت مند ہے جب کہ ہماری فوری ضرورت صرف 5ارب ڈالر ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کوچین کی سرد مہری سمجھ میں نہیں آسکی کہ اس نے ہمارے کشکول گدائی میںچند ارب ڈالر کی خیرات کیوں نہیں ڈالی ؟چین 2006سے ان 5ممالک میں سر فہرست ہے جن کے پاس ڈالرز کی صورت میں زر مبادلہ کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں 2006میں چین کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا اندازہ 10کھرب 68ارب 50کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا۔2007میں چین کے زر مبادلہ کے ذخائر میں 4کھرب 59ارب اور 70کروڑ ڈالرز کا ریکارڈاضافہ ہوااور یوں یہ ذخائراب 15کھرب 18ارب 20کروڑ ڈالرتک جا پہنچے ہیں ور اس بنا ء پر چین دنیا کا زر مبادلہ کے ذخائر رکھنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے پاکستانی حکمرانوں کو یہ بات ضرور سوچنی بھی چاہیے کہ جب چین جیسا قابل بھروسہ دوست جس کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر کی کوئی کمی نہیں ہے وہ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں بھی پاکستان کو چند ارب ڈالرکی خیرات دینے سے کیوں گریزاں ہے ؟

لطف کی بات یہ ہے کہ امریکہ جیسی عالمی طاقت بھی چین سے قرضوں کی صورت میں امداد پر انحصار کرتی ہے امریکی کانگریس کو بھیجی گئی مالیاتی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2007تک امریکی بجٹ کا مجموعی خسارہ 90کھرب ڈالر تک پہنچ گیا تھا اور امریکہ کو اس خسارہ کو پورا کرنے کے لیے جو ن 2007تک 92کھرب 20ارب ڈالر کے تمسکات جاری کرنے پڑے تھے چین سمیت کئی ممالک نے یہ امریکی تمسکات خرید کر امریکہ کی مدد کی تھی چین دنیا کے ان پانچ ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جنہوں نے سب سے زیادہ امریکی تمکات خرید رکھے ہیں جب کہ جاپان ان ممالک میں سر فہرست ہے چین نے مجموعی طور پر 5کھرب 18ارب 70کروڑ ڈالر کے تمسکات خرید رکھے ہیں۔یہ سارے تمسکات ایل ۔ٹی ٹریژری کے ذیل میں آتے ہیں جن کی ادائیگی کے لیے کوئی تاریخ متعین نہیں ہوتی البتہ ان کی ادائیگی کے لیے ایک سال سے زائد کی مدت ہوتی ہے۔امریکہ بعض دیگر ذرائع مثلاً ایل ۔ٹی گورنمنٹ ایجنسی،ایل ۔ٹی کارپوریٹ ایکویٹی قلیل مدتی تمسکات بونس اور سیکیورٹی وغیرہ کی فروخت کی صورت میں بھی دنیا بھر سے ڈالر حاصل کرتا ہے۔

ہمارے حکمرانوں کے لیے سوچنے کی دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ نے چین کے ساتھ کبھی بھی اچھا سلوک نہیں کیا اس نے چین کو ہانگ کانگ ،تائیوان اور تبت میں الجھائے رکھا ہے اور جاپان تو ابھی تک ہیرو شیما اور ناگاساکی میں امریکہ کے انسانیت سوز سلوک کو نہیں بھول سکا اور اس کے لگائے ہوئے زخموں کو سہلا رہا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ جب اسی امریکہ پر افتاد پڑتی ہے تو اس کے تمسکات خریدنے میں یہ دونوںممالک پیش پیش ہوتے ہیں اور ادھر پاکستان جیسے دوست ہمسایہ ملک کو 5ارب ڈالر کی معمولی سی خیرات دینا بھی ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے اس کا واضح سبب یہ ہے کہ اقوام عالم کسی بھی قوم کی مدد محض اس پر ترس کھانے کی بناء پر نہیں کرتیں اگر ان کے سٹرٹیجک مفادات متقاضی ہوں تو وہ پریشان حال قوموں کی طرف نگاہ التفات کرتی ہیں چین اور جاپان دونوں قومیں اگرچہ ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی اور صلاحیتیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایٹمی طاقتیں بھی بن چکی ہیں اور جدید ترین اسلحہ سے لیس ہیں لیکن پھر بھی وہ امریکہ یا کسی اور عالمی طاقت کے ساتھ تصادم سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔

وہ امریکہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے امریکہ کے تمسکات خرید کر اس کی مدد اس لیے کر دیتے ہیں کہ اس کی نگاہیں نیچی رہیں اور وہ ان پر جارحیت کا ارادہ نہ کر سکے اسی خیال سے چین نے امریکی کمپنیوں کو اپنے ہاں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے ہیں تاکہ امریکہ اپنے سرمایہ کاروں کے مفادات کے پیش نظر چین کے ساتھ پر امن دوستانہ تعلقات قائم رکھنے پر مجبور رہے چین کو پاکستان کی سٹرٹیجک پوزیشن کا بخوبی اندازہ ہے اسی لیے اس نے گوادر پورٹ پر سرمایہ کاری کی ہے تاکہ وہ پاکستان کے ذریعے اپنے اموال تجارت کو افریقہ کی منڈیوں تک پہنچا سکے ۔چینی دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ گوادر پورٹ شروع ہونے کے بعد بلوچستان میں کوئی شخص بھی غریب نہیں رہے گارزق کمانے کے مواقع زیادہ ہوں گے اور افراد کم پڑ جائیں گے ان پر کشش مواقع کو دیکھتے ہوئے خود چین جیسے ملک سے لوگ نقل مکانی کر کے بلوچستان میں آباد ہونے کو ترجیح دیں گے اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے شاہراہ قراقرم اور چشمۂ بیراج جیسے مرئی ترقیاتی منصوبوں کا کون انکار کر سکتا ہے اور کون ان کی اہمیت اور افادیت کو جھٹلا سکتا ہے پاکستان کو چاہیے کہ وہ چین سے چند ارب ڈالروں کی خیرات مانگنے کی بجائے اس کے سٹرٹیجک مفادات کے پیش نظر اپنی اہمیت کو سمجھیں اور ایسے معاملات کو فروغ دیںجن کے باعث ملک میں حقیقی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے یہ توقع بھی ہے کہ چین اپنی روایات کے مطابق ایک دو ارب ڈالر پاکستان کو خاموشی سے دے بھی دے لیکن حکومت کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ سٹرٹیجک اعتبار سے امریکہ اور چین دونوں کے لیے اہم ہونے کے باوجود دونوں ممالک ہمیںگھاس ڈالنے پر کیوں تیار نہیں؟اور ہمیں اپنی مشکلات کے ازالہ کے لیے دوبارہ آئی ایم ایف کے چنگل میں کیوں پھنسایا جا رہا ہے؟ حکومت کے لیے ان اسباب کو تلاش کرنا بے حدضروری ہے ۔

ہماری دانست میں اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ یہ بڑی طاقتیں بخوبی آگاہ ہیں کہ ہمارے اپنے حکمران اور امراء اپنے اربوں ڈالرز غیر ملکی بینکوں میں منتقل کر چکے ہیں اگر وہ اپنا یہ سرمایہ ملکی بینکوں میں واپس لے آتے ہیں تو پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں حیرت انگیز اضافہ ہو سکتا ہے اوور سیز پاکستانیوں نے ان مشکل حالات میں زر مبادلہ پاکستان بھجوانے کی مہم شروع کی ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق اب تک بیرون ملک پاکستانیوں نے اپنے وطن عزیز کو آئی ایم ایف کے چنگل سے بچانے کے لیے ہزاروں ڈالرز پاکستان میں منتقل کر بھی دئیے ہیں بعض اوور سیز پاکستانیوں نے ایک ہزار ڈالر فی کس اور بعض نے 350ڈالر فی کس پاکستان بھجوانے کی مہم شروع کر رکھی ہے جس سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ پاکستان کو نومبر کے آخر تک ڈیڑھ ارب ڈالر کازر مبادلہ مل جائے گا۔

کاش ہمارے امراء اور متمول حضرات ان اوور سیز پاکستانیوں سے سبق حاصل کر سکیں جنہوں نے سابقہ حکومت کی کمزور پالیسیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اربوں ڈالر دوسرے ملکوں میں منتقل کر دئیے ہیں بعض اطلاعات کے مطابق پاکستانیوں کے پاس دوسرے ممالک میں مجموعی طور پر 250ارب ڈالر موجود ہیں جن پانچ ارب ڈالروں کے لیے ہم آئی ایم ایف کے سامنے ماتھا ٹیکنے پر مجبور ہو گئے ہیں وہ تو ہمیں چند امیر شخصیات سے ہی میسر آسکتے ہیں ایک اطلاع کے مطابق پاکستان کے معروف بینکار میاں محمدمنشاء کے پاس اڑھائی ارب ڈالر کے اثاثے موجود ہیں خود آصف علی زرداری کے پاس تقریباً دو ارب ڈالر کے اثاثے موجود ہیں اسی طرح شریف برادران اور دیگر متمول حضرات اپنے ان اثاثوں میں سے نصف بھی حکومت پاکستان کو بطور قرضہ دے دیں تو یہ اقتصادی بحران ٹل سکتا ہے جو اپنے بھیانک جبڑے کھولے پوری قوم کو مسلسل ڈرا رہا ہے اس امر کی بھی اشد ضرورت ہے کہ ہم ڈالرز کی بیرون ملک منتقلی پر پابندیاں عائد کردیں اور ایسے قابل عمل اقدام کریں جن کے لیے بیرون ملک رکھے گئے ڈالر ایک مقررہ مدت کے اندر واپس منتقل کروائے جا سکیں ضروری نہیں کہ کوئی سخت قانون کے ذریعے ہیں یہ مقصد پورا کیا جا سکتا ہے باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ بیرون ملک ڈالرز رکھنے والوں کے تحفظات اور خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے حکومت اگر معمولی سی سنجیدگی سے اس جانب توجہ دے تو باہمی افہام وتفہیم سے کوئی ایسا درمیانی راستہ نکل سکتا ہے اوراربوں ڈالر پاکستان میں منتقل ہو سکتے ہیں عالمی طاقتیں یہ بھی سمجھتی ہیں کہ ان کی طرف سے جو بھی امداد دی جاتی ہے اسے صحیح طور پر استعمال نہیں کیا جاتا انسداد دہشت گردی کی مد میں ملنے والی10ارب ڈالر کی امریکی امداد پر اسی طرح کے تحفظات کا اظہار خود امریکہ بھی کر چکا ہے آصف علی زرداری بھی اس امداد کے غلط استعما ل کی نشاندہی واشگاف الفاظ میں کر چکے ہیں عالمی طاقتیں اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ ہمارے حکمران فضول خرچیوں میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے اس لولی لنگڑی معیشت پر ہم نے 41وفاقی وزراء کابوجھ ڈال رکھا ہے وزرائے مملکت مشیروں اور وزیر کا درجہ رکھنے والوں کی فوج ظفر موج الگ ہے۔19پارلیمانی سیکرٹریز اورمختلف مجالس قائمہ کے 46چئیرمین ہیں ان میں سے ہر ایک نے معیشت پر تقریباً ایک کروڑ ڈالر کاسالانہ بوجھ ڈالا ہوا ہے صدر اور وزیراعظم کے بھاری بھرکم دوروں کے اخراجات الگ ہیں امریکی ریاست معیشت کے اعتبار سے ہم سے 100گنا بڑی ہے لیکن اس عالمی طاقت کی کابینہ صرف 16افراد پر مشتمل ہے اس اسراف وتبذیر میں ہمارے حکمرانوں کی خاموش رفیقہ یعنی ہماری بیوروکریسی کے ٹھاٹھ باٹھ الگ ہیں ۔بعض ضلعی اور ڈویژنل افسران کی کوٹھیاں پانچ پانچ ،دس دس اور بیس بیس ایکڑ اراضی پر محیط ہیں بعض اعلیٰ افسروں کے پاس پانچ پانچ،سات سات فاضل قیمتی گاڑیاں ہیں جن پر قومی وسائل بے دردی کے ساتھ خرچ کیے جا رہے ہیں کیا کشکول گدائی اٹھا کر در بدر بھیک مانگنے والا ملک اس اسراف وتبذیر کا متحمل ہو سکتا ہے اقوام عالم میں اپنا وقار بلند کرنے کے لیے ہمیں ان پہلوؤں پر بھی خوب غور کرنا ہو گا اگر ہم اعلیٰ سرکاری افسران کے زیر استعمال ایکڑوں پر مشتمل گھروں کی زمینوں کو اور فاضل گاڑیوں کو فروخت کر دیں تو ہمارے خزانے میں اربوں روپے جمع ہو سکتے ہیں بصورت دیگر اگر ہمارے پاس آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تو ہم دوبارہ ذلت اور پستی کی انہیں اتھاہ گہرائیوں میں گر جائیں گے جن میں 90ء کی دہائی میں پڑے ہوئے تھے آئی ایم ایف کبھی بھی ہمیں ہماری شرائط پر قرضہ نہیں دے گی بلکہ ان نازک حالات میں توقع یہ کی جا سکتی ہے کہ وہ پاکستان پر اور بھی کڑی شرائط عائد کر دے پہلے تو یہ ادارہ پاکستان کا بجٹ بناتا تھا اب کہ وہ حکومت پاکستان کو دفاعی بجٹ کم کرنے کا بھی کہہ سکتا ہے حتیٰ کہ یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں کہ وہ معیشت کی مانیٹرنگ کی آڑ میں پاکستان کے جوہری پروگرام اور جوہری اثاثوں کے بارے میں بھی کئی نامعقول شرائط عائد کردے۔جب کہ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ وہ امریکہ کے ایماء پر ’’وار آن ٹیرر‘‘میں مزید کچھ کرنے کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ بڑھاتا رہے گا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی حالیہ قرارداد سے جزوی انحراف کے لیے بھی دباؤ پیدا کرے ان حالات میں فیصلہ پاکستانی حکومت اور عوام نے کرنا ہے۔

دل کی آزادی شہنشاہی شکم سامان موت
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو