
پاکستان کو ناقص پالیسیوں اور نا اہل حکمرانوں کی شخصی ترجیحات کی وجہ سے نہ صرف معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑرہاہے بلکہ ساتھ ہی ملک پر خارجی دباؤ میں بھی اضافہ ہونے کی توقع ہے ۔اس وقت جب ملک کو معاشی اور اقتصادی امداد کی ضرورت ہے پاکستان کے دوست ممالک اس کو قرض کی فراہمی سے ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں ۔ہمارے محترم صدر صاحب نے فرینڈز آف پاکستان کی جانب سے پاکستان کی مشکلات میں ہم قدم ہونے کا دعوی کیا تھا ۔صدر صاحب کی امریکہ یاترا قبول ہونے کی نوید کا سب سے اہم پہلو ہی یہی تھا کہ ہمارے جمہوری صدر کو امریکی حکمرانوں کی جانب سے فقط مسکراہٹوں کے علاوہ اقتصادی امداد کی بھی طفل تسلی دی گئی ہے۔وزیر اعظم محترم بھی انہیں کے پیچھے بیان بازی کے زریعے ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے میں مصروف ہیں ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے بجا فرمایا ہے کہ ملک کے حکمران اگر جھوٹ بولتے ہیں تو کم از کم ماہرین کو تو سچ آشکار کرنا چاہیے۔قوم کو حقائق سے بے بہرہ رکھ کر قوم کو اندھا اورگونگا بنانے سے کون سی قومی و ملی مفاد حاصل کرنے کی پلاننگ ہے ۔عوام کو یہ معلوم نہیں کہ انکے حکمران قرضے کیوں لیتے ہیں ؟انہیں یہ معلوم نہیں کہ یہ قرضے کہاں خرچ کیے جاتے ہیں ۔ہمارے حکمران آتے ہیں اور جاتے ہیں ۔آنے والے کی تعریف اور جانے والے کی ہجو سے پاکستان کی ترقی کیونکر جوڑی جاسکتی ہے ۔آج امریکہ کی ہمراہی میں دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے کا خمیازہ حکمران نہیں عوام بھگت رہے ہیں ۔پچھلے کالم میں دہشت گردی کی اس جنگ کے محرکات اور اسکے فوائد کا امریکہ اوراسرائیل سے براہ راست جڑا ہونا ثابت کیا تھا ۔آخر ہمارے حکمران امریکی مفادات کی تکمیل کو کیو ںاولیت دیتے ہیں ۔امریکہ نے معاشی اوراقتصادی طور پر پاکستان کو مفلوج بنانے کیلئے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروںکا باجگذار بنادیا ہے ۔نرم اور آسان اقساط کے ساتھ کم شرع سود پر قرضوں کی فراہمی کی آڑ میں پاکستان کو معاشی گداگر بنا کر حکمرانوں کو بلیک میل کرنا مقصود تھا ۔آج ان اداروں کے ڈائریکڑ امریکی پالیسی کو پاکستان میں اپلائی کرنے کی شرط پر مزید امداد دینے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہیں ۔ہمارے حکمرانوں نے نہ تو اپنے پیشرؤں کی غلطیوں سے سبق حاصل کیا اور نہ ہی راہنمائی لی۔جنرل مشرف کی غلط پالیسیوں کو ختم کرنے کی کون سی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔چہرے بدل گئے ہیں لیکن نظام میں ذرابھی فرق نہیں پڑا ۔ملک کو آٹے اوربجلی کے بحران کا سامنا ہے ۔وزیر اعظم صاحب کا طرز تکلم یہ ہے کہ میں چین سے بجلی لاد کر لاتا۔محترم ملک کے صدر آپ ہیں اور اس ملک کے عوام کیلئے آپ لاد کر لائیں یا چرا کرلائیں یہ آپکی ذمہ داری ہے ۔وزرات اعظی کیلئے خواہش آپکی ہوگی تب ہی یہ منصب آپکے سپرد کیا گیاورنہ عوام نے آپکی منت نہیں کی تھی کہ آپکے بغیر ہمارا گذارا نہیں ۔میاں نواز شریف نے صدارتی انتخاب کیلئے بلوچستان کی ایک برگزیدہ شخصیت کو دعوت دی تو انہوں نے سختی سے منع کردیا کہ میرا نام بھول کر بھی نہ لیا جائے۔محترم وزیر اعظم یہ ایک بھاری ذمہ داری ہوتی ہے جس کو آپ نے پھولوں کا گلدستہ جان کر کلیجے سے لگانے میں کسی تامل سے کام نہیں لیا اب اس کی کسک بھی تو برداشت کریں ۔فرات کے کنارے پر اگر کتے کی نگہبانی خلیفہ کی ذمہ داری تھی تو پاکستان کے عوام کیلئے ہر گھر میں بجلی کی فراہمی آپکی ذمہ داری ہے ۔پاکستانیوں کیلئے آٹا مہیا کرنا بھی آپکی ذمہ داری ہے۔ایک بھی بھوکا مر گیا یا اس نے بھوک سے خود کشی کر لی اپنا بچہ فروخت کر دیا ،اپنی بیٹی کسی بوڑھے کے ساتھ بیاہ دی چوری کی ڈاکہ ڈالا غضب کیا رشوت لی سب آپکے ذمہ ہے ۔اگر خاتون جنت کے اعمال ان کیلئے روز محشر کا م آئیں گے تو حضرت پیران پیر کے جانشین کیونکر اس مبرا ہوسکتے ہیں ۔ملک کو معاشی استحکام کیلئے حضور ذور بیان کی نہیں عمل پیہم کی ضرورت ہے ۔لوگ مذاق میں کہتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگرصرف آپ کے قائد اپنے اثاثے اندرون ملک لے آئیں تو پاکستان گرکر بھی اٹھ سکتا ہے ۔ہمارے ملک میں ارب پتیوں کی کوئی کمی نہیں لیکن ہر کوئی خود کو فقیر منش ہی ظاہر کرتاہے۔کیاجنرل مشرف کے تمام اثاثے یہیں ہیں ۔چوہدری برادران کا سرمایہ ملک میں ہے۔چھوٹی سی مثال ہے کہ اگر بحریہ ٹاؤن کے ارباب اختیار اوران کے گرد نو اح میں دیکھا جائے ۔ڈیفنس اور کلفٹن میں نظر دوڑائی جائے تو ٢ سے ٣ کروڑ مالیت کی رہائش گاہوں کے مالک اور ہر گھر میں ایک عدد سگنس پراڈو مرسیڈیز اوربی ایم ڈبلیو کیا غربت کی نشانیاں ہیں ۔ملک میں نہ پیسے کی کمی ہے اور نہ ہی پیسے والوں کی کمی اور قحط ہے ۔فقط دل اور دل والے مفقود ہیں ۔طبقہ اشرافیہ کی سوسائٹیاں اور ان میں موجود سہولیات سے یہی اندازہ ہوتاہے کہ ملک میں دولت کی کمی نہیں ۔یہ دولت صرف ایک مخصوص طبقے ہی کے مفادات کی نگہداشت کیلئے استعمال ہورہی ہے ۔اگر ان سوسائیٹوں کے مکین صیح معنوں میں زکوہ ہی ادا کر دیں تو مجھے یقین ہے کہ ملک میں معاشی بحران کی کیفیت ختم ہوجائے گی ۔بیرون ملک مقیم اور بیرون ملک میں اثاثہ جات کے حاملین کو فقط اپنے جاہ و جلال کیلئے رعایا کی ضرورت ہے ۔جب تک ذہن اور دل انہیں رعایااسے بڑھ کر مقام دینے پر رضا مند نہیں ہو گاانسانوں اور بھیڑو ںکے گلہ میں فرق نہیں کیا جاسکتا ۔ہمارے راہنما قوم کی راہنمائی کرنے پر قوم کو احسان مند دیکھنے کے خواہاں ہیں ۔راہنمائی خدمت کے جذبے سے قطعا میل نہیں کھاتی ۔خدمت کا تصور ہی خال خال نظر آتاہے ۔اس کے صلے میں انہیں حاصل فوائد سے نہ صرف و ہ بخوبی اگاہ ہیں بلکہ اب تو ہر خاص عام کوبھی اس سے اگاہی ہے۔گلہ بان جدھر چاہے اپنے جانور کو ہانک سکتاہ ے ۔چارا مرضی سے اورفوائد کے حصول میں بھی اس کی مرضی شامل ہوتی ہے ۔خواہ وہ اسکا دودہ نکالے گوشت یا سواری کچھ بھی اس فائد ہ حاصل کرے احسان گلہ بان ہی جتائے گا۔ہمارے راہنما بھی اسی طرح عوام کے دئیے ہوئے مینڈیٹ اور عزت کی وجہ سے سب کچھ ہیں لیکن ان کا احسان ہے کہ وہ حلقہ میںسے انتخاب لڑتے ہیں ۔ایک دولت و اختیار کا پجاری دوسرے کو شکست دینے کیلئے کروڑو ںروپے خرچ کر کے دوسرے کو شکست سے دوچار کرکے ذاتی تسکین حاصل کرتاہے۔جہاں سیاست سماج کی خدمت کیلئے نہیں سماج پر حکومت کیلئے کی جاتی ہو وہاں پر معاشرتی ترقی کا خواب ریت کے قلعے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔الیکشن کے دوران اگر پارٹیوں اور امیدواران کے اخراجات کو سامنے رکھا جائے تو بھی ملک کے معاشی بحران کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔کروڑوںروپے ایک بندہ خرچ کرتا ہے تو کتنے امیدوار تھے اور کتنی دولت ہے ۔اداروں کے اخراجات کو سامنے رکھا جائے تو نظر آتا کہ یہ ملک اقتصادی طور پر کسی طرح بحران کی زد میں ہے ۔سڑکو ںپر گاڑیوں کے لیے سپیڈ سے چلنا ناممکن ہے ۔کھوئے پر کھوا چلتا ہے۔ادارو ںکی گاڑیاں سبزی منڈی سے لیکرسٹاک ایکسچینج تک میں عام لوگوں کیلئے پارکنگ خالی نہیں کرتیں ۔محکموں کے ٹیلی فون خاموش نہیں ہوتے ۔ائیر کنڈیشن بند نہیں ہوتے ۔اداروں میں دن رات بجلی کا استعما ل جاری رہتا ہے۔تقریبات منعقد ہو رہی ہیں ۔غیر ملکی دورے تواتر سے جاری و ساری ہیں ۔کہاں پر دولت کی کمی کا اشارہ ہے۔یہ جھوٹ اور سفید جھوٹ ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ عوام کیلئے کوئی پیسہ نہیں ۔غریب کیلئے کوئی سبسڈی نہیں ۔یہ دنیا ہے دولت والوں کی لیکن آخر کب تک ۔امریکہ کی مثال سامنے ہے کہ سارہ پالین کے ملبوسات اور اخراجات جو کہ ایک اوسط امریکی کی آمدنی سے تجاوز کیے تو میڈیا نے عوام کو اگاہ کر دیا ۔ہمارے حکمرانوں کیلئے شاید یہ باعث تقلید نہ ہو ۔ہم فقط اخراجات کے علاوہ اپنے رویوں سے بھی انسانیت کی بجائے فرعونیت کی طرف جارہے ہیں ۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment