
بات سیدھی سی ہے ملک ہو یا قومیں وہ ترقی اس صورت کر سکتی ہیں جب ان کی راہ میں کم سے کم مشکلات ہوں پاکستان کی عوام اگر بھوکوں مر رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہاں کسی مظبوط نظام کہ نہ ہونا ہی ہے جن ملکوں اور معاشروں میں نظام مظبوط ہیں اور ریاست کے اندر خود ساختہ ریاستیں نہیں ہیں وہ ملک اور معاشرے نہ صرف ترقی کر رہے ہیں بلکہ دنیا کی ترقی میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ہمارے ملک کہ عوام اس وقت تین بنیادی مسائل میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں جن میں پہلے نمبر پر مہنگائی ،دوسرے نمبر پر لوڈ شیڈنگ اور تیسرے نمبر پر ان خدائی فوج گاروں کا خوف جنہوں نے ملک کے کافی بڑے حصے کو خوف کا شکار کر رکھا ہے جہاں مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کررکی ہے وہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے رہے سہے کس بل نکال دئے ہیں, عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ طلب اور رسد کے اصول کے مطابق بجلی کا بحران پیدا ہوا طلب اور رسد کا صول اپنی جگی مگر جب طلب بڑھ رہی ہو اور رسد میں اضافہ نہ کیا جائے تب اس طرح کی صورت حال پیدا ہوتی ہے جس کا شکار ہم ہیں اگر طلب کے ساتھ رسد کے اضافے کی طرف توجہ دی جاتی تو آج ملک اندھیرے میں ڈوبتا اس وقت عملاً یہ صورت حال ہے کہ شہروں میں بارہ گھنٹے اور دیہاتوں میں سولہ سے اٹھارہ گھنٹے بجلی کی بندش جاری ہے اس بے ترتیب لوڈ شیڈنگ نے ملک بھر کا کاروبار زندگی معطل کر کے رکھ دیا ہے اور بے روز گاری میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے اسلام باد ،کراچی مردان، پشاور اور دیگر شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے تک بجلی بند رہتی ہے بجلی کی بندش اپنی جگہ وبال جان تھا کہ واپڈا نے جو بل بیجھے ان وہ اتنے زیدہ تھے کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ سڑکوں پر نکل آئے ملک کا کوئی شہر کوئی گاوئں ایسا نہ رہا جہاں کے لو گوں نے حکومت کے اس ظلم اور ستم کے خلاف شدید مظاہرے نہ کئے ہوں ظلم کی انتہا یہ ہوئی کی ایک عام صارف جس کا ماہنہ بل اگر پانچ سو آتا تھا اسے ہزار بارہ سو کے قریب بل بیھج دیا گیا ،ایک طرف لوگوں کو بجلی نہیں دی جارہی تو دوسری جانب حکومت کی جانب سے ظالمانہ اضافے کے ساتھ بھیجے گئے بلوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور لوگ گھروں ،دفتروں اور فیکٹریوں سے باہر نکل آئے بل جلا دئے گئے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر حکومت نے ایسا ہی کرنا ہے تو ان کے گھروں ،مکانوں، دفتروں اور فیکٹریوں سے واپڈا اپنے میٹر ہی اتار لے روز روز کے جینے سے ایک بار کا مرنا ہی بہتر ہے ۔
یہ بات طے ہے کہ بجلی کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور ہی محال ہے لیکن ہم دن بدن بجلی کے مذید بحران کی طر جا ریے ہیں ،بجلی کا یہ بڑھتا ہوا بحران ہمیں کس طرف لے کر جا رہا ہے؟ نہ بجلی ہوگی نہ فیکٹریاں چلیںگی نہ پیداوار ہوگی اور نہ سرکار کو محصولات حاصل ہوں گے۔ کارخانے ٹھپ ہوں گے اور مزدور کو مزدوری نہیں ملے گی اور لوگ بھوک سے بلبلائیں گے اور بیروزگاری اپنے عروج پر ہوگی؟ جو کہ ہو چکی ہے اس وقت ملک بھر میں کروڑوں مزدور بھوک اور بیماری کا شکار ہو رہے ہیں یہ تو حقیقت کی طرف ایک استعارہ ہے‘ مگریہ لوڈشیڈنگ ایک تلخ اور بھیانک تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھاتی ہے کہ یہ ایک ایسا راستہ بھی ہے جو القاعدہ اور اس کے نام نہاد حواری مسلم دنیا اور پاکستان کو ان حالات میں رکھنا چاہتے ہیں‘ جہاں پر سکول ہو نہ کالج‘ ہسپتال ہو نہ سڑک اور اپنے مسلمان بھائیوں کو مکمل تاریکی اور گمراہی میں رکھا جائے اور صرف ان مدرسوں میں رونق ہو‘ جہاں یہ لوگ اپنے مخصوص نظریات اور تصورات کو دین اسلام کا نام دے کر معصوم لوگوں کو گمراہ کرسکیں تاکہ پاکستانی شہری اپنے گھروں میں محصور رہیں اور دہشت گرد عناصر اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھا سکیں۔یہ عناصر جو سوات اور دیگر علاقوں میں سکولوں‘ کالجوں کو بارود لگا کر ملبے کا ڈھیر بنا رہے ہیں‘ ہسپتالوں‘ پلوں اور دیگر ذرائع مواصلات کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور پاکستان کے شہریوں اور صوبہ سرحد کے غیور عوام کو بالخصوص اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ یہ عناصر اپنے عوام کو ان حالات میں دیکھ کر کتنا خوش ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں ان پاکستان دشمنوں نے سوات کے عوام کو بجلی سے محروم کرنے کیلئے سوات میں واپڈا کے گرڈ اسٹیشن کو بم دھماکوں سے تباہ کردیا اور ساتھ ہی ساتھ گیس پائپ لائن کو بھی دھماکوں سے اڑا دیا جس کی وجہ سے سوات کے غیور عوام رمضان مبارک کے دوران ان سہولتوں سے نہ صرف محروم ہوئے‘ بلکہ شدید ترین مصائب کا شکار ہوکر رہ گئے۔ حکومت پاکستان نے کروڑوں روپے کا نقصان ہونے کے باوجود ہنگامی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے نہ صرف گرد اسٹیشن کی مرمت کرکے بجلی بحال کی‘ بلکہ گیس بھی لمبی پائپ لائن ڈال کر سوات کے علاقہ میں بحال کیا‘ تاکہ عوام کو مشکلات سے نجات دلائی جاسکے اور ان کی روزمرہ زندگی کو بحال کیا جائے۔
جبکہ ملک میں فساد فی الرض کو ہوا دینے والے نام نہاد تحریک طالبان سوات کے ترجمان مسلم خان نے کہا ہے کہ انہیں بجلی‘ پانی اور گیس کی فراہمی نہیں چاہئے‘ بلکہ اپنی مرضی کی شریعت چاہئے۔ جب ان کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کروائی گئی کہ وہ خود بھی پڑھے لکھے ہیں اور ان کا اپنا بیٹا بھی پشاور یونیورسٹی میں فارمیسی کی تعلیم حاصل کر رہا ہے‘ مگر وہ پھر بھی سکولوں اور کالجوں کو بم دھماکوں سے اڑا رہے ہیں‘ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام صحت کی تعلیم کی اجازت دیتا ہے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ اسلام کھلے عام تعلیم کی اجازت دیتا ہے‘ تو ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ جب انہیں کہا گیا کہ وہ حکومت سرحد کی طرف سے نافذ کردہ شریعت کے احکامات کا انتظار کریں‘ تو انہوںنے کہا کہ وہ اس کا انتظار نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا رنج ہے۔ جب انہیں کہا گیا تو پھر اس وقت انہیں وہاں پر جانا چاہئے تھا‘ جس پر مسلم خان نے کہا کہ کیا آپ لوگ چاہتے تھے کہ ہم وہاں پر جاتے ہوئے راستے میں مارے جاتے۔ جس کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ اس طرح آپ کی شہادت کی خواہش تو پوری ہو جاتی‘ تو وہ اس کا بھی کوئی جواب نہ دے سکے۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس فہم اور فکر کے حامل ان خدائی فوج داروں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں بے روزگاری پیھلتی ہے یا ملک تباہ ہوتا ہے انہیںتو اپنی خواہشوں کی تکمیل درکا ر ہے جس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار رہتے ہیں بلکہ اپنے گمراہ کن بیانات کے ذریعے سے پاکستانی قوم کو بھی گمراہ کر رہے ہیں یہاں صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ جس طرح قوم اپنے اس دکھ بجلی اور بلوں میں اضافے کے خلاف متحد نظر آئی اور حکومت کو احساس دلا دیا اور نتیجتاً حکومت کو بجلی کی قیمت میں اضافے کا اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا اور بنکوں سے کہا گیا کہ وہ عوام سے بل کی کل قیمت کا ساٹھ فیصد وصول کریں ایسے ہی قوم کو ان تمام عناصر کے خلاف بھی متحد ہونا پڑئے گا جن کی وجہ سے ملک آج بحرانوں کی زد میں ہے کہتے ہیں کہ اگر چڑیاں بھی اتحاد کر لیں تو وہ شیر کی کھال کیھنچ سکتیں ہیں ۔یہاں ہم یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ حکومت کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے جہاں ریاست کی رٹ کو بحال کرنا چاہیے وہاں اسے بجلی کے بحران کی طرف بھی فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ لوگوں کا روٹی روزگار کا مسلہ حل ہو سکے

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment