
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے دریافت کیا کہ اصل حکمران کی کیا پہچان ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جو اپنی ذات کی فکر چھوڑ کر لوگوں کی فکر میں دن رات لگن سے کام کرتا ہو۔آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ منصف کون ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ منصف( انصاف کرنے والا)وہ ہے جو سب سے پہلے اپنی ذات پر انصاف کرنے کے قابل ہو یعنی پہلے خود کو انصاف کیلئے پیش کرے۔آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ عادل کون ہے؟ فرمایا کہ جو رات کی تاریکی میں بھی اکیلا گھوم پھر سکتا ہو یعنی اس کا عدل ایسا برابری کی سطح پر ہو کہ کوئی شخص اس سے تنگ نہ ہو۔آپ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا کہ جو حکمران صاحبانِ عدل ہوتے ہیں انہیں مسلح محافظوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ عوام سے دور نہیں بھاگتے بلکہ عوام کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شخص کو فیصلے کا حق حاصل ہے جو پہلے محاسبہ نفس یعنی اپنی ذات کا احتساب کرنا جانتا ہواور جو خود ہی مجرم ہو اور عوام الناس کے خون پسینے کی کمائی پر عیاشی کرتا رہا ہو ایسا شخص مصلح اور منصف نہیں بلکہ عوام کی عدالت میں لانے کے قابل ہے۔مذکورہ بالا اقوال و ارشادات اس ذات کے ہیں جس نے ایک تاریخی جملہ کہا تھا کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو روزِ محشر عمر سے اس کے بارے میں بھی باز پرس کی جائے گی۔اس شخص کو تاریخ عمر ثانی رضی اللہ عنہ کے نام سے بھی یاد کرتی ہے۔آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں شرق تا غرب اسلام کا سورج طلوع رہتا اور معاشی پالیسیوں کا یہ عالم تھا کہ کوئی شخص زکوٰۃ لینے والا نہ تھا۔اتنی وسیع و عریض سلطنت کا انتظام و انصرام ایسا تھا کہ ہر طرف امن و سکون کی فضا قائم تھی اس لئے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی عوامی پالیسیوں سے غیر مسلم اقلیت بھی خوش تھے۔اب اگر اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت ملک پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو ٦٢ سالہ تاریخ خون آشام مناظر،بھوک و افلاس،قتل و غارت گری،ہوسِ اقتدار،اقربا پروری،غریب کش اقدامات،امیرو وزیر پرور پالیسیوں،انتہا پسندی و دہشت گردی،مایوسی و قنوطیت،دھندلے سیاسی مناظر اور اقتدار کی رسہ کشی سے عبارت نظر آتی ہے۔اس قوم کی بدقسمتی کہ ٦٠ سال قبل ہونے والی سازش کے نتیجے میں بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی موت کے اصل محرکات نہ مل سکے۔قائدِ ملت لیاقت علی خان کے قتل کی وجوہات تا حال پردہ اخفاء میں ہیں ۔محترمہ فاطمہ جناح کی پراسرار موت آج تلک ایک سوالیہ نشان ہے؟ذوالفقار علی بھٹو کی موت کے پسِ پردہ حقائق بھی طاقِ نسیان کی زینت بن گئے۔یہ قوم حکیم سعید کے قاتلوں کو نہ پہچان سکی۔اس قوم نے ابھی تک محترمہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کے بارے میں نہ جانا۔یہ ایک ایسی قوم ہے کہ جس کی ایک بیٹی کو نام نہاد جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبردار امریکیوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا اور یہ قوم صرف سراپا احتجاج ہی رہی۔اس قوم کا ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے۔اس قوم کا چیف جسٹس خود منتظر ہے کہ کوئی اس کے دکھوں کا مداوا کرے۔بقول شاعر ،
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
ابھی تو اس ملک کے نہ جانے کتنے سائنسدان،انجینئرز،سکالرز اور قوم کے سپوت گوانتا ناموبے کی کال کوٹھڑیوں میں محبوس ہیں۔اور ١٨ اگست کے دن ان سب مظلومین نے جنہیں چند ڈالروں کے عوض مغربی سامراج کے ہاتھوں بیچ دیا گیا تھا یہ نعرہ قید خانے سے ضرور بلند کیا ہو گا کہ اےآمرِ و جابر حاکمِ سابق ،
درِ زنداں سے دیکھیں یا عروجِ دار سے دیکھیں
تمہیں رسوا سرِ بازارِ عالم ہم بھی دیکھیں گے
کتنی بھولی قوم ہے جس نے ١٢ اکتوبر ١٩٩٩ کو مٹھائی تقسیم کی اور پھر ١٨ اگست ٢٠٠٨ کو بھی مٹھائی تقسیم کی کہ شاید اب ان کی تقدیر بدلنے والی ہے تو یہ ایک دفعہ پھر اس ملک کے عام آدمی کی خام خیالی ہے۔جس ملک کی آدھی سے زائد زمینوں پرجاگیردار اور وڈیرے قابض ہوں اور غریب کسان اور اس کی نسلیں ان کی غلام ابن غلام ہوں اور بنیادی سہولیات اور تعلیم و صحت سے محروم ہوں وہاں امید رکھنا عبس ہے۔جس ملک کی دولت ٢٢ خاندانوں تک محدود ہو،ملیں وزیروں کے پاس ہوں وہاں گندم اور گنا اپنی مرضی کے ریٹ پر لینا ہی ان وزیروں کی عادت ہے چاہے غریب کسان کی گندم اور اس کا غلہ سوکھ ہی کیوں نہ جائے۔جہاں ملک کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے سیاستدان فیکٹریوں اور ملوں کے مالک ہوں وہاں آٹے کا بحران کیوں ہوتا ہے؟سمگلنگ کون کرتا ہے؟ حتیٰ کہ جیک سٹرا نے بھی یہ کہا تھا کہ پاکستان کی حکومت کا ایک اہم وزیر انسانی سمگلنگ میں ملوث ہے۔اس قوم نے بڑی قربانیوں کے بعد برطانوی غلامی کا طوق اپنے گلے سے اتارا ہی تھا کہ اسے امریکی غلامی کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا۔حیرت کہ انتہا تو یہ ہے کہ جو بھی سیاستدان اور وزیر ٹی وی کی سکرین پر آتا ہے وہ بڑے اعتماد اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولتا ہے اور یہ رونا روتا ہے کہ ہمیں موقع ملے تو ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔سوال یہ ہے کہ ماضی میں اقتدار پر کئی دفعہ براجمان رہنے کے باوجود انہوں نے قوم کو کیا دیا؟کئی وزراء تو ایسے ہیں کہ ان کے حلقے میں کالج تو درکنار پکی سڑک تک موجود نہیں اس لئے کہ لوگ پڑھ لکھ کر با شعور ہو جائیں گے اور ان وزراء کی آنے والی نسلوں کی غلامی کون کرے گا؟لہذٰا ان کے منافقانہ رویے پر شاعر یوں کہتا ہے کہ ،
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
سرا سر موم یا پھر سنگ ہو جا
قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی جتنی قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے وہ سب معاف اور آئندہ کیلئے توبہ کیا خوب احتساب ہے اور کتنے شاندار عدل کی مثال ہے۔خود تو سینکڑوں کیسز سے بری لیکن ایک معمولی مجرم اڈیالہ اور کوٹ لکھپت جیل کی سلاخوں کے پیچھے۔اب تو موصوفانِ اقتدار جیسے گنگا نہائے ہوئے ہیں جیسے ایک مثال یہ بھی دی جا سکتی ہے کہ ١٠٠ چوئے کھا کے بلی حج کو چلی۔قانون ہر شخص کیلئے برابر ہے تو پھر ان غریب قیدیوں کو بھی این۔آر۔او سے حصہ ملنا چاہیے۔یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ایک امیدوار الیکشن میں ٥ کروڑ لگاتا ہے تو اس دگنا عوامی دولت سے پورا بھی کر لیتا ہے۔ایک مخصوص طبقہ جس نے عوام کو بے وقوف بنا کر ابدی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔بقول شاعر،
میسر گوشت کی یخنی ہے کتوں کو وزیروں کے
دوا کے واسطے مزدور کا بچہ سسکتا ہے
یہ ملک اب جاگیرداروں،وڈیروں،سرمایہ داروں اور عیاش و مکار حکمرانوں کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا ۔جہاں آمریت نے اس دھرتی کی جڑوں کو کھوکھلا کیا وہیں سیاستدانوں نے جی بھر کے لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔ان کی صبحیں اور شامیں شباب و کباب اور رقص و سرود میں گزرتی ہیں۔یہ اپنے ٹکے کے مفاد کیلئے ملک و قوم کا سودا کرنے سے بھی گریزاں نہیں ہوتے اور اپنے مخصوص مفادات کی طوالت کیلئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں ۔بقول شاعر ،
وحشت لٹا رہے ہیں یہ سفاک راہبر
باہم ہوئے ہیں ہم کو مٹانے کے واسطے
پہلے گھروں کو آگ لگاتے ہیں اور پھر
سیلاب بھیجتے ہیں بجھانے کے واسطے
کتنوں نے خود کشی و خود سوزی کی؟ کتنے تاریک راہوں میں مارے گئے؟کتنے رات کو بھوکے سوتے ہیںَ، روٹی ٥ سے ٧ روپے کی صرف ایک عدد ملتی ہے۔چائے کا ایک کپ ٨ سے ١٠ روپے تک ملتا ہے۔صرف ایک دال یا سبزی کی پلیٹ کھانے والا غریب مزدور ٢٠ سے ٣٠ روپے کی پلیٹ کیسے کھا سکتا ہے ۔یہ تو صرف ایک وقت کا کھانا کم از کم ٥٠ سے ٦٠ روپے وہ بھی عام کھانا جس میں دو روٹی اور ایک سبزی اور ایک کپ چائے شامل ہے۔دودھ ٤٥ سے ٥٠ روپے کلو یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ کہیں بھی چلے جائیں آپ کو ایک ریٹ کہیں بھی نہیں ملے گا۔ہر کسی نے اپنا پیمانہ رکھا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔وفاقی و صوبائی سیکرٹریوں کی فوجِ ظفر موج لیکن کارکردگی صفر ہے۔کروڑوں روپے تو صرف حکمرانوں کی حفاظت پر معمور محافظوں ،اعلٰی نسل کی گاڑیوں اور پٹرول پر صرف ہوتا ہے۔اگر انصاف اور عدل کیا ہوتا تو اتنے محافظوں کی ضرورت نہ پڑتی۔نظام تعلیم ہو یا صحت کی سہولیات،امن و امان ہو یا روزگار،کہیں بھی حکومت کی کارکردگی نظر نہیں آتی۔ہر کوئی اپنے من پسند افراد کی تعیناتی میں مصروف ہے اور اپنے مفادات کی تگ و دو میں لگا ہے ۔سوال یہ ہے کہ ١٩٩٨ تک قبائلی ٹھیک تھے اور محب وطن تھے اب وہ دہشت گرد کس نے بنائے؟ اتنا اسلحہ کہاں سے آیا اور آتا ہے؟کون سرحد اور بلوچستان میں سرگرم ہے قوم کو آگاہ کیوں نہیں کیا جاتا؟اس ملک کا ایک مذہبی طبقہ محض اقتدار کی ہوس میں غریب کش افراد کی حاکمیت کا ساتھ دینے میں ہر دور میں پیش پیش رہا ہے۔اس ملک کے کچھ گدی نشین محض دولت کے حصول اور شہرت کے لالچ میں پڑھ گئے اور خانقائی نظام کو ترک کر دیا۔اس قوم کو اٹھنا ہو گا ایک انقلاب کیلئے جو ان غاصبوں اور مغرب نواز حکمرانوں کو تازیانہ عبرت بنا دے۔یعنی ، اے ظلم و ستم کے پروردو ،
ہم بپھری تند ہواؤں سے ہر لمحہ لڑتے جائیں گے
تم پیچھے ہٹتے جاؤ گے ، ہم آگے بڑھتے جائیں گے
اگر یہ قوم اپنے ضمیر اور شعور کو جگانا چاہتی ہے تو پھراسے حقیقت پسندانہ انداز اپنا کر آگے بڑھ کر اپنا حق لینا ہو گا وگرنہ اس شہر میں اس وقت یہی کہنا کافی ہے کہ ،
عبس ہے حاکمِ وقت سے انصاف کی امید
منصف ہے یہاں آگ ،گواہوں میں دھواں ہے

1 response so far ↓
1 qasim nawaz // Oct 28, 2008 at 11:01 am
good kalum by abbasi sab it is based on fact and we need such brave writers for the nation.congrats to editor of newsurdu to publish such columns.qasim nawaz chief reporter daily jinnah ibd
Leave a Comment