
بچے کسی بھی ملک و قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اپنے مستقبل کو بہتر اور روشن بنانے کیلئے بچوں پر حکومتی اور والدین کی انتہائی توجہ ضروری ہوتی ہے۔ آج جو قومیں یا ملک ترقی یافتہ ہیں یا ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں انہوں نے بچوں کی تعلیم و تربیت ان کے حقوق اور والدین میں شعور اجاگر کیا جو ممالک آج مہذب ممالک کے نام سے جانے جاتے ہیں انہوں نے عملی طور پر بچوں کے حقوق اور تعلیم و تربیت پر توجہ دی ،تعلیمی اداروں سے سزاؤں کا مکمل خاتمہ کیا۔بدقسمتی سے پاکستان اس حوالے سے بہت پیچھے ہے۔ حکومتی سطح پر بچوں کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے کبھی کبھی بچوں کے حوالے سے پروگراموں میں اعلانات کر دیئے جاتے ہیں جن کو عملی شکل کبھی بھی نصیب نہیں ہوتی۔ پاکستان نے 1990ء میں اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق الطفال پر دستخط کیے اور اس کی توثیق کی اس کنونشن میں پاکستان کی طرف سے بچوں کے حق حیات، صحت، خوراک، معیار زندگی، کھیل تفریح، اوائل بچپن کے تحفظ ،تعلیم، بچیوں کے تحفظ، مساوات،زندگی اور آزادی، نام اور قومیت، اظہار میل ملاپ کی آزادی، پر امن احتجاج، حق خاندان اور اقتصادی استحصال سے تحفظ کے حقوق کی پاسداری کا عزم کیا گیا ہے۔ مگر آج تک حکومت پاکستان کی طرف سے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بچے بنیادی حق حیات سے بھی محروم ہیں۔ روزانہ بچوں کو ایسے بے شمار خطرات کا سامنا رہتا ہے جو ان کی افزائش اور ارتقامیں رکاوٹ بنتے ہیں۔ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ 15سال سے کم عمر بچوں کی شرح 43فیصد ہے۔ شدید غربت کے شکار بچوں کی شرح 51فیصد ہے۔ سب سے اہم تعلیم ہے مگر 2007ء کو پاکستان میں بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بدترین قرار دیا جا سکتا ہے۔ سوات اور شمالی علاقہ جات میں بچیوں کے سینکڑوں سکول جلائے گئے۔ اسلام آباد میں دینی درسگاہ کو بموں سے تباہ و برباد کر دیا گیا۔ اساتذہ کی ہڑتالیں، نصابی کتب کی ترسیل میں تاخیر، سکولوں میں تحفظ و سیکیورٹی کے مسائل اور جسمانی سزائیں ہیں۔ وہاڑی کے ایک مدرسے میں استاد نے ایک طالب علم کو سبق یاد نہ کرنے پر مار مارکے جان سے مار دیا۔ اسی طرح سندھ میں بھی استاد کے ہاتھوں زدوکوب ہونے والا پانچویں کا طالب علم جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ صرف پنجاب میں ہر سال تقریباً 200کے قریب مدارس میں تشدد سے ہاتھ کی ہڈیاں اور پسلیاں ٹوٹ جاتی ہیں، یا پھر کریک ہو جاتی ہیں۔ بچوں کے پاؤں میں زنجیریں ڈال کر بھی رکھا جاتا ہے۔ سکولوں میں جسمانی تشدد کے خلاف حکومت پاکستان نے ایکشن لیا تو کچھ امید بندھی کہ ان بچوں پر تشدد میں کمی آجائے گی مگرحکومت نے صرف سکولوں کی دیواروں کے باہر’’مارنہیں پیار‘‘ لکھوا کر جان چھڑوالی، نہ اساتذہ کے رویوں میں تبدیلی آئی اور نہ حکومت نے اس پر کوئی مزید کام کیا۔ صوبہ پنجاب کے ایک سکول کی بیرونی دیوار پر کوئی دس بار لکھا ہوا تھا ’’مار نہیں پیار‘‘ مگر چھٹی کلاس کے تمام بچوں کو ٹیچر ’’مرغا ‘‘بنا کر ڈنڈوں سے پٹائی کر رہا تھا۔ دو بچوں کے والدین نے دیکھا تو استاد کے پاس گئے، تو اس کو کہاکہ حکومت نے مارنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے تو آپ کیوں بچوں کو جانوروں کی طرح مار رہے ہیں تو اس ٹیچر نے کہا میں تو اسی طرح کروں گا اگر آپ کو پسند نہیں ہے تو اپنے بچوں کو لے جائیں کسی اورسکول میں داخل کرا دیں ان والدین نے ضلعی افسر تعلیم کو بھی شکایت کی مگر کچھ نہ ہوا اسی طرح 99فیصد سکولوں میں بچوں پر تشددکیا جاتا ہے۔ کہیں کم کہیں زیادہ پاکستان کی حکومت ہمیشہ قوانین بناتی ہے۔ اعلانات کرتی ہے مگر عملدرآمد کبھی نہیں ہوتا اس لیے قوانین اوراعلانات بے معنی ہو جاتے ہیں۔ خواندگی برائے زندگی کے موضع پرعالمی جائزہ رپورٹ 2006ء جن کی بنیاد 2005ء میں سرانجام دیئے گئے امور پر ہے نے پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ ناخواندہ افراد کا گھر قرار دیا۔ 2006ء میں ترقی کی بنیاد پر ترتیب دی جانے والی عالمی جائزہ رپورٹ 2007ء افسران مستحکم بنیادیں۔ اوائل بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم میں دنیا کے 164ممالک کی ترقیاتی رپورٹ میں پاکستان 163ویں نمبر پر ہے۔ دنیا کے کثیر آبادی والے تعلیمی ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ جو عالمی جائزہ رپورٹ 2008ء کے مطابق ان تعلیمی اہداف کو حاصل نہیں کرسکیں گے جو ڈاکار میں 2000ء میں منعقدہ عالمی تعلیمی فورم نے متعین کیے تھے۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم آج سب سے پیچھے کیوں رہ گئے ہیں کون لوگ ہیں جنہوں نے دنیا جہان کی سہولتیں اور بھاری تنخواہوں کے باوجود تعلیم سب کیلئے کا ہدف حاصل کیوں نہ کر سکے۔ ناقص کارکردگی کے حامل افسران کو سخت سزا دی جائے کیونکہ ان کی وجہ سے ایک تو ہم پوری دنیا کے سامنے شرمندہ ہوتے ہیں اور دوسرا ان کی وجہ سے لاکھوں بچے تعلیم سے محروم رہے اور ان بچوں کا مستقبل تباہ ہو گیا۔اس کے علاوہ بچوں کی سمگلنگ، چائلڈ لیبر، بچوں پر جنسی تشدد کو روکنے کیلئے موثر ترین اقدامات کرنے چاہیں سوسائٹی برائے تحفظ حقوق اطفال (Sparc) بچوں کے حوالے سے کام کرنے والی بڑی تنظیم ہے۔ اس تنظیم نے کالمسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور ممبران کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا۔ اس میڈیا ورکشاپ میں سپارک کے عہدیداروں جن میں قندیل شجاعت، فاضلہ گریز، آسیہ اور کاشف مرزا نے خطاب کیا مجھ سمیت بہت سارے لوگوں کو اس وقت خیال آیا کہ ہم بات بات پر بچوں کو تھپڑ مار دیتے ہیں بلا وجہ ڈانٹتے رہتے ہیں۔ اس کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔اس پر تفصیل سے بریف کیا۔ بہت سے کالم نگاروں نے اسی وقت عہد کیا کہ ہم آج سے اپنے بچوں کو تھپڑ نہیں ماریں گے اور بلاوجہ نہیں ڈانٹیں گے۔ آج تک انہوں نے سکول ٹیچرز کے ساتھ جو پروگرام کیے ان کے بارے میں بھی بتایا، سب نے سپارک کے کام کو سراہا۔ جس طرح حکومت اس اہم ترین مسئلے پر توجہ نہیں دے رہی اس کا نتیجہ آنے والے کل میں خوفناک نکل سکتا ہے۔ حکومت ایسی تنظیموں کے ساتھ ملکر بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرے۔ یہ کام کل سے نہیں آج سے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی ملک و قوم اس وقت تک مہذب، خوشحال، ذمہ دار، روشن خیال اور ترقی کی راہ پر نہیں چل سکتے جب تک تعلیم کے میدان میں تیز رفتاری سے آگے نہ بڑھیں۔ امریکہ کے معروف ماہر تعلیم جون ڈیوی کا کہنا ہے کہ تعلیم ایک سماجی عمل ہے تعلیم ترقی ہے۔ تعلیم زندگی کیلئے تیاری نہیں یہ بذات خود زندگی ہے۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment