Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

مسلم حکمران سچ کو سچ مانیں ورنہ ‘ کالم ‘ رؤف عامر پپا بریار کوٹ ادو

October 27th, 2008 · No Comments

Rauf Amir

ٹیگور نے کہا تھا کہ سچ کو سچ جان کر بھی اپنی بداعمالیوں کی بروقت اصلاح نہ کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا جاہل اور نادان ہے ۔ ا مریکہ پر شہاب ثاقب کی طرح نازل ہونے والے مالیاتی بحران نے وائٹ ہاوس کی سپرپاوری کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔مغرب کے معاشی ماہرین نے پیشین گوئیاں کی ہیں کہ ایک طرف دہشتگردی کے خلاف عراق و افغان جنگ نے امریکیوں کو نہ صرف شکست سے دوچار کردیا ہے بلکہ جنگوں کے اہداف کے حصول کے لئے پھونکی جانیوالی اربوں ڈالر کی دولت نے امریکہ کی اقتصادی برتری کے بت کو خش و خاک کی طرح تہہ بالا کردیا۔امریکی زوال کے تجزیوں مالیاتی بریک ڈاون کی داستانوں اور دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی سات سالہ وحشیانہ جنگ کے متوقع نتائج اور عالم انسانی کے سیاسی و سماجی حالات پر طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو یہ سچائی روز روشن کی طرح عیاں نظر اتی ہے کہ عالمی حالات کا دھارا غیر قطبی دنیا کی شروعات کا ڈنکا بجارہا ہے۔اور ایسے دانشوروں کے تجزیوں قیافیوں اور زائچوں سے انکار کرنا قلم و قرطاس سے زیاتی ہوگی جو اس نکتے پر اصرار کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں عالمی قوت کا سرچشمہ واشنگٹن کی بجائے اس جہان و رنگ و بو کے دیگر خطوں میں روانیوں و جولانیوں کے ساتھ محو خرام ہوگا۔ایسی پیشین گوئیوں کے موجد مسلمان نہیں بلکہ مغرب اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے دانشور اور لکھاری ہیں جو مستقبل قریب میں ایسی انہونیوں کو درست ثابت کرنے کے لئے پورا زور قلم صرف کررہے ہیں۔دنیا کے سیاسی امور پر بالغ نظری سے گہری نظر رکھ کر مستند تجزیات کی ترجمانی کرنے والے مغربی تجزیہ نگار نے روزنامہ ڈرشپیگل میں لکھے جانیوالے ارٹیکل(غیر قطبی دنیا کی شروعات) میں ایسی ہی پیشین گوئیوں کو صد فیصد برحق اور اظہر من التمش قرار دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں عالمی طاقت کسی ایک ہاتھ میں نہیں رہے گی بلکہ مختلف علاقوںمیں نئی قوتیں ابھریں گی اور اقوام متحدہ بھی اپنا موجودہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب نہ ہوگی۔امریکہ کے سابق صدر بش سینئر نے1992 میں سٹیٹ آف نیشن سے خطاب کے دوران احساس تفاخر کا غلغلہ بلند کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے سرد جنگ کا معرکہ سر کرلیا ہے اور اب دنیا کی سربراہی امریکہ کے سپرد ہے۔سردجنگ میں دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوچکی تھی جو سقوط ماسکو کے بعد امریکہ کے زیر نگین ہوچکی تھی۔ایڈم رابرٹس نے بش سےئنیر کے اس اعلان کو غفلت کا درجہ دیا ہے کہ امریکن ارباب ایک نکتے کو فراموش کر بیٹھے کہ عالمی لیڈرشپ کیلئے قوت کے ساتھ زمہ داری بھی ناگزیر تھی۔اگر دنیا نے امریکہ کو قوت فراہم کی تو انکی سب سے بڑی توقع یہ تھی کہ ہم انہیں انصاف بھی فراہم کریں گے شائستگی سے نوازیں گے لیکن امریکن پالیسی ساز عدل و انصاف مہیا کرنے میں ناکام ہوئے۔سینئر بش کی تقریر پر طنز کے نشتر چلاتے ہوئے ایڈم کہتاہے کہ بش صاحبان کے لہجے کی شائستگی رفو جبکہ دنیا پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کرنے کی خواہشات ہوا میں بکھر چکی ہیں۔یہ بش سینئر کے دعوے کا نتیجہ تھا کہ انکے سپوت لٹلل بش نے طاقت کے زعم میں نائن الیون کے بعد افغانستان اور 2003 میں عراق پر عواقب و نتائج کی پرواہ کئے بغیر فوجی ہلہ بول کر بغداد نام کے تاریخی شہر کو کھنڈرات میں بدل ڈالا اور پھر نہایت عجلت میں اپنی فتح من گھڑت نقارہ بھی بجادیا۔ایڈم نے سوال اٹھایا ہے کہ بغداد کی ہر سرکاری عمارت کو بھسم کردیا گیا لیکن تیل کی وزارتوں سے متعلقہ عمارتوں کو نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا؟اس عمارت پر امریکی ایجنٹوں کا پہلے ہی قبضہ ہوچکا تھا۔امریکی بالادستی کے چراغ کی لویوں تو کلنٹن دور سے ہی ٹمٹمارہی تھی لیکن مکمل اندھیروں کا اغاز 2008 میں اس وقت ہوا جب روس نے جارجیا پر لشکر کشی کی امریکن فوجیں من انم و من دانم کی تصویر بنکر کچھ کرنے سے قاصر رہیں۔اور اسکے ساتھ ایٹمی اسلحہ کا پھیلاو تھا۔برصغیر اسکی زندہ و تابندہ مثال ہے۔دوسری طرف صومالیہ میں امریکی مداخلت کی وجہ سے یہاں عسکریت پسندوں کا سیلاب امڈ ایا۔واشنگٹن نے ہر دور میں اسرائیل کی طرف داری میں یہودیوں کی سفاکیت و بربریت کی پردہ پوشی کی۔یوں وہ عالمی لیڈر کے طور پر اسرائیل و فلسطین تناذعہ حل کرنے میں ناکام ہوا۔سلامتی کونسل میں امریکہ کو اپنی غیر منصفانہ قراردادوں کو منظور کرانے کے لئے ویٹو کا کلہاڑا استعمال کرنا پڑا ۔امریکہ نے پوری دنیا میں اپنے ساحلوں سے بہت دور قریہ قریہ شہر شہر اپنے فوجی اڈے قائم کررکھے ہیں جو امریکیوں کے نذدیک انکا مضبوط ترین اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔امریکہ کے اتحادیوں کی لسٹ بھی طویل ہے لیکن ایک سچ تو یہ بھی ہے کہ اپنے ہاں جمہوریت کو سکہ رائج الوقت بنانے والا وائٹ ہاوس تیسری دنیا میں کرپٹ حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کا نجات دہندہ بنا ہوا ہے۔ امریکہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کرتا ہے۔جارجیا ایسے نان نیٹو اتحادی پر روسی قبضے کے دوران امریکیوں کی بے بسی اسکے زوال کی مکمل غمازی کرتی ہے۔امریکہ کے نئے صدر کو بش انتظامیہ کی ناعاقبت اندیشیوں اور خطاوں کو سدھارنے میں بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔عراق اور افغان جنگ ہی دو ایسے بڑے مسائل ہیں جنکی سلجھن کے لئے صدر امریکہ کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا یوں اسکا عالمی کردار محدود ہوجائے گا اور یوں ایک کثیر القطبی دنیا کا اغاز نوشتہ دیوار ہے۔سرد جنگ کے زمانے میں طاقت کے دومراکز قائم تھے لیکن اب یہ طاقت کہاں اور کدھر منتقل ہوگی اسکے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔چین اس صف میں سب سے اگے ہے۔روس انے والے وقتوں میں کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرنے میں کامیاب ہوتا نظر نہیں اتا ۔ ماسکو کے پاس اب دنیا کو دینے کے لئے کوئی نیا فلسفہ و منشور نہیں ۔غیر قطبی ورلڈ کے اپنے گونا گوں مسائل اور رکاوٹیں ہونگی۔کونسل آف فارن ریلیشن کے صدر رچرڈ باس کا یہ انتباہ بھی قابل غور ہے کہ غیر قطبی دنیا اور زیادہ خطرناک ہوجائے گی۔اس طرح بدنظمی کو فروغ ملے گا اور غیر قطبی دنیا میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہوجائے گا۔ اور بین القامی طور پر دنیا میں پائی جانیوالی انارکی کو مہمیز ملے گی۔دوسرے ملکوں کے تحفظ کی اڑ میں ناجائز فوائد حاصل کئے جائیں گے جس سے دنیا میں توسیع پسندانہ عزائم کو رواج ملے گا۔عالمی تعلقات کی شکل بگڑ جائے گی اور انے والے پچاس سالوں تک دنیا کا جن خطرات سے پالا پڑے گا ان میں موسموں کا تغیر بھوک و ننگ ابادی کا دباو، وسائل کے حصول کی دوڑ نئی طاقتوں کا ظہور ایٹمی اسلحہ کا پھیلاو کی جانب توجہ کم ہوگی جس سے عالمی تصادم کو ہوا ملیگی۔اج دنیا کو جن خطرات کا سامنا ہے ان میں امریکہ اور بڑی طاقتوں کی ناانصافی ہے جو عالم انسانیت کے امن پسند لوگوں کے لئے سوہان روح بنی ہوئی ہے۔ایٹمی پھیلاو اسکی بڑی مثال ہے۔ایران کے جوہری توانائی کے حق سے محروم کرنے کے لئے مغربی طاقتیں یہودیوں اور انتہا پسند نصرانیوں کی شہہ پر تہران کو نشٹ سکرنے کا ارداہ باندھے ہوئے ہیں لیکن واشنگٹن اور دوسرے بڑے یورپی ممالک یہ بتانے سے گریزاں ہیں کہ اسرائیل کے دہشت گردی کے ہول سیل ڈپووں اور پانچ سو سے زائد جوہری ہتھیاروں کو کیوں اور کس لئے طاق نسیان کی زینت بنایا جاتا ہے؟ اور کوئی یہ بھی تو نہیں بتاتا کہ امریکہ روس برطانیہ بھارت فرانس اور دوسرے ایٹمی ملک ایٹمی توانائی ایجسی کے جوہری پھیلاو روکنے کے منشور کے چارٹر پر دستخط کرنے کے باوجود جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے سے گریزاں کیوں ہیں؟ اگر اب دنیا غیر قطبی تشکیل کی طرف دھکیلی جارہی ہے تو یہ کڑوا کسیلا سچ بھی تسلیم کیا جانا ضروری ہے کہ مستقبل میں ایٹمی پھیلاو کو روکنا ناممکنات میں شامل ہوجائے گا مزید براں اب بین القوامی جنگوں کی وہ تباہ کاریاں موجود نہیں جو دوسری جنگ عظیم کی زنبیل سے برامد ہوئی تھیں۔بین الاقوامی تعلقات کے فروغ کو بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد مہمیز ملی تھی۔ایڈم رابرٹ کا یہ نکتہ درست ہے کہ امریکہ اصلاح کے بعد ابھی بھی عالمی قائد کا کردار ادا کرسکتا ہے۔جس کے لئے وائٹ ہاوس کو درج زیل نکات کا پاس کرنا ہوگا1۔مسلم علاقوں کو تخت و تاراج کرنے کے لئے بھیڑیوں کا لبادہ پہن کر کابل سے بغداد اور غزہ سے لیکر دریائے دجلہ تک مسلمانوں کو بھنبوڑنے اورنچوڑنے والی امریکی و اتحادی فورسز کو یہاں سے نکل جانا چاہیے2۔یہودیوں کی جنبش ابرو پر تہران پر جنگ مسلط کرنے کے گھناوئنے منصوبوں کو ترک کردیا جائے3۔دہشت گردی نام کی لاحاصل جنگ کو فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ وائٹ ہاوس کے اس پلان نے دنیا کو جنگوں دنگوں اور فتنوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔3۔یواین او امریکہ کی لونڈی و رکھیل کا کردار ہمیشہ کے لئے تلف کردے۔امریکی زوال اور مالیاتی بحران کے نت نئے قصوں اور عراق اور افغانستان میں زندہ جاوید حقیقت کے روپ میں نظر انیوالی شکست کی پشین گوئیوں کے اس دور میں مسلمانوں کے پاس گولڈن چانس ہے کہ وہ اتحاد و اتفاق کا نعرہ لگا کر یکسو ہوجائیں۔مسلم حکمران ایران پر متوقع یہودی شب خون کو ناکام بنانے کے لئے ایک متحدہ مسلم فورس تشکیل دیکر بے خطر اتش نمرود میں کود جائیں۔یاد رہے کہ فطرت اپنی غلطیوں کی اصلاح کے لئے روز بروز مواقع مہیا نہیں کرتی اگر اب بھی مسلم حاکموں نے خواب غفلت سے انگڑائی نہ لی تو یاد رہے کہ پھر کبھی ایسے ثمر اور مواقع میسر نہیں ہونگے۔شائد ٹیگور نے ایسے وقت کے لئے مسلمانوں کو تباہی کے گڑھوں سے نکل کر سامراج غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے یہ کہا ہو کہ سچ کو سچ نہ ماننے والا ہی گھمبیر غلطی کا ارتکاب کررہا ہوتا ہے۔حجاز مقدس سے لے کر ارض فلسطین تک اور امراکش سے لیکر سوڈان تک کے مسلم بادشاہ حکمران اور ڈکٹیٹرز کو چاہیے کہ وہ زہنی خلجان سے باہر ائیں طاغوت کو للکاریں اورٹیگور کے جملے سے درس عبرت حاصل کریں ورنہ وہ جہالت کی چوٹیوں سے سرفراز کئے جائیں گے۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو