
بھلے وقتوں میں کہا جاتا تھا کہ خوشی پیسے سے نہیں ملتی۔پیسے والے کیا جانیں کہ سکھ کس چڑیا کا نام ہے ؟یہ تو پیسہ بنانے اور اسے چھپانے کے چکر میں ہی دن رات ہلکان رہتے ہیں۔مرغن غذائیں کھا کھا کر بیماریاں مول لیتے ہیں۔ہر دم چور ڈاکوؤں کا دھڑ کہ لگا رہتا ہے۔ٹیکس بچانے کے لیے سو سو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے عمر ڈھل جاتی ہے اور پھر یہ غم ستانے لگتا ہے کہ دولت کے ڈھیر یہیں پڑے رہ جائیں گے۔غربت میں جو سکھ چین ہے وہ امیروں کو بھلا کہاں نصیب؟جینے کا اصل لطف تو غربت میں ہی ہے۔
نہ کوئی غم نہ فکر۔محنت کرو اور چٹنی روٹی کھا،ٹھنڈا پانی پی سو رہو۔رہنے کو جھونپڑی اور پہننے کو موٹا جھوٹاکپڑا کافی ہے۔نہ چور ڈاکو کا کھٹکا نہ ٹیکس بچانے کی فکر ۔جسم پر چربی چڑھتی ہی نہیں اس لئے کسی خوف ناک بیماری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چھوٹی موٹی بیماریوں میں خود ہی لوٹ پیٹ کر تند رست ہو جاتے ہیں۔ایسی قابلِ رشک زندگی کی تو غالب نے بھی خوائش کی تھی۔
لیکن گردشِ دوراں نے کیا دن دکھائے ہیں کہ چرخِ کج رفتار کو غریب کی چھوٹی چھوٹی معصوم خوشیا ں بھی نہ بھائیں۔امیرِ شہر غریب کے تن پر پھٹے پرانے چیتھڑے اور پیٹ میں روکھی سوکھی روٹی بھی نہ برداشت کر سکا۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جاں توڑ محنت کے باوجود غریب کو نہ روٹی میسر ہے نہ پانی۔جھو نپڑی ڈالنے کا ارادہ ہو تو پتہ چلتا ہے کہ زمین اللہ کی نہیں بلکہ بلدیہ کی ملکیت ہے کہ وہ جب چاہے بلڈوزر لے کر آ جائے اور غریب کی کٹیا کو ملیا میٹ کر دے۔
گذشتہ دورِ حکومت میں بیکار ہی یہ غم کھایا جاتا رہا کہ اگر ہم نے کچھ ایسا ویسا کیا تو پتھر کے دور بھیج دیئے جائیں گے۔چند لوگوں کے سوا پوری قوم قبل از تاریخ کے دورِ جہالت میں ہی تو جی رہی ہے۔نئے دور کی آسانیوں میں سے ایک بلب بھر بجلی ہی تو غریب کے حصے میں آئی تھی ۔ اس کا بھگتان بھی اسے یوں بھگتنا پڑا کہ جان دے کر بھی قیمت ادا نہ ہو سکی۔بھلا پانچ ہزار کمانے والے کی جان کی قیمت کیا ہو سکتی ہے؟بیس ہزار روپے؟ نہیں نہیں۔ بیس روپے بھی نہیں۔
گزرنے والے تو جہاں سے گزر گئے۔سینہ کوبی کے لئے پیچھے رہ جانے والے ماتم میں مصروف ہیں۔صورتِ حال بہت خوفناک ہے۔خدا نہ کرے کہ وہ خدشات مجسم صورت میں سامنے آ کھڑے ہوں جن کی دہائی اہلِ درد مدتوں سے دیتے آ رہے ہیں۔لیکن اس کا کیا کیجئے کہ چیونٹی بھی پاؤں کے نیچے آئے تو کاٹ لیتی ہے۔اپنی جان خطرے میں پا کر بلی بھی پنجے نکال لیتی ہے اور چیتے کی طرح لپک کر آنکھ پر نوچ لیتی ہے یا حلقوم پر حملہ آور ہوتی ہے۔
ہجومِ غم میں نہیں عشرتوں کی تاب مجھے
نہ مسکرا کے عطا ہو کوئی جواب مجھے
خدارا ان خاک نشینوں کے حال پر رحم کھاؤ انہیں یوں دیوار کے ساتھ نہ لگاؤ۔ان سوئے شیروں کو نہ جگاؤ۔ان خوابیدہ طوفانوں کو نہ چھیڑو ۔بلکہ اے بلند ایوانوں کے مکینوں خود بیدار ہو جاؤ۔شائد کہ آنے والے طوفان تھامنے میں کامیاب ہو سکو ۔ شائد۔۔۔۔۔۔
رہزنوں سے تو بھاگ نکلا تھا
اب مجھے رہبروں نے گھیرا ہے

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment