
چند برس پہلے جب دنیا کے کلاسک ادب پر ڈرامہ نویسی کے مقابلے کا اعلان ہو اتو ہم نے بھی کہانیاں پڑھناشروع کیں بہت سی کہانیاں پڑھیں ڈرامہ تو ہم نہ لکھ سکے مگر کہانیاں بہت پڑھیں ان دنو ںعدنان مندریس کے بارے بھی اپنے اساتذہ سے کافی تذکرہ رہا تھا اور بچپن سے جس معتبر شخصیت کے بارے میں پڑھتے آرہے تھے مصطفی کمال اتاترک انکے چھ اصول جو پہلے معلوم نہ تھے اور جنھیں ترک ‘ آلٹیوک ‘ کہتے ہیں وہ چھ اصول ہی ہر پارٹی کے اصول ہیں۔ کوئی نیا منتخب ہو کر آنے والا ترمیم نہیں کرتا بلکہ انھی اصولوں کو مشعل راہ جان کر ملک کی ترقی کے لیے کوشاں ہو جاتا ہے ۔ جمہوریت ، قوم پرستی، عوام پسندی، قومی ملکیت ، سیکولرازم اورانقلابیت جیسے لازوال اصولوں میں ترکی کی ترقی پنہاںہے۔ بات ہو رہی تھی عدنان مندریس کی وہ ایک عام سا انسان ایک عا م سے گھر کا چشم و چراغ جسے پڑھنے کا شوق تھا اسکی لگن اور حوصلہ دیکھ کر اسکے والد نے ازمیر کالج میں داخل کرایا تھا و ہ 1950پھر 1954اور پھر1957میں ترک وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوا پھر1960کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا پھر عدالتی کارروائیوں کے بعد حکمرانی پر فائز جرنیل نے اسکی پھانسی کی سزا معاف نہ کی ستمبر 1961میں ایک دور دراز جزیرے امرالی میں اسے پھانسی دے دی گئی 29برس بعد 1990میں عدنان مندریس کی پھانسی کو سیاسی قتل قرار دیا گیا اسکی نعش کو جزیرے سے نکا ل کراستنبول میں خوبصورت مقبرے میں دفن کیا گیا پھر ازمیرکے ہوائی اڈے کا نام اسی کے نام سے منسو ب ہوگیا ۔ یونیورسٹی اسکے نام سے ہے ،سڑکیں بھی ، اور نجانے کیا کیا ہے جو اس کے نام سے منسوب ہے عدنان مندریس کی ساری کہانی بہت خوبصورت اتا ر چڑھاؤ کی کہانی ہے پہلے یہی خیال آیا کہ اس کہانی کو علامتی کہانی کے طور پر ڈرامائی تشکیل دے دی جائے مگر کیا کیجئے کہ ایسے ہی دنوں میں سعید فائق کا ایک مقولہ پڑھنے کو ملا کہ ’’انسانی محبت ہی سے ہر شے کی ابتداء ہوتی ہے‘‘ اس مقولہ کی وسعت اور معنوبیت نے اپنے حصار میں لے لیا بہت تگ و دو کے بعد سعید فائق کی دو تین کہانیاں پڑھیں پھر برادرم گلزار آفاقی نے سمیع پاشا زادہ سزائی کی ایک کہانی دی جو رومان سے نکل کر حقیقت پسندی کی طرف تھی ۔ اب جس شخص کے دل و دماغ میں رومانس بھرا ہو حقیقت پسندی کی کہانیاں پڑھتا تو بہت شوق سے ہے مگر محبت کے لطیف جذبو ںسے باہر نہیں نکل سکتا وہ تو حقیقت پسندی میں بھی محبت کے جذبو ں کی عکاسی چاہے گا پھر مجھے ممدوح شوکت اسندال کی کہانی ملی۔ اس ادیب نے بھی عجیب کاکمال کیاتھا جو ترکی کا ادب محلوں کی سازشوں، شہزادوں اور شہزادیوں کے عشق کی داستانوں سے عبارت تھا اسے شاہی محلوں سے باہر نکا ل کرعوامی کردیا اس نے بتایا تھا کہ عشق صرف امرا کی نہیں بلکہ غریب کا بھی حق ہے مگر کیا کیا جائے کہ انوکھے کی تلاش بھی بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔ میں نے ناظم حکمت کو اس لئے بھی شوق سے پڑھا تھا کہ فیض احمد فیض نے ان کی نظموں کا ترجمہ کیا ہے۔
میرے بہت ہی محترم ڈاکٹر یٰسین رضوی جو فارسی ادب پر بہت عبور رکھتے تھے انہوں نے ایرانی ادب پڑھنے کو دیا کچھ تحریریں بھی دیں اس دوران میرے محترم عتیق اﷲشیخ نے بھی بہت کچھ پڑھنے کودیا دونو ںپڑھے لکھے اشخاص کے اﷲتبارک درجات بلند کرے کہ اب دونوں کی علمی و ادبی معاونت سے میرے جیسے بہت سے لوگ محروم ہیں کہ دونوں ہی اب اس دنیا میں نہیں ہیں میں ایرانی ادب پڑھنے کے باوجود ترکی کے ادب سے ہی کہانی تلاش کرتا رہا میں نے نجیب فاضل قصہ کودک کو پڑھا ، خلدون تانیر پھر یشار کمال کو پڑھا تو بہت لطف آیا کہ جس کی کہانیوں نے نہ صرف ترکی بلکہ پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا ۔
سب کچھ پڑھ لیا بہت سارا ادب پڑھا لیکن مجھے یاد ہے کہانیاں بہت پڑھیں مگر ڈرامہ نہ لکھ سکا کہ شاید ڈرامہ لکھنا مشکل کام ہے اس وقت میں نے یہی سوچا تھا کچھ دوستوں نے بھی حوصلہ افزائی کم کی لیکن یہ تو بہت بعد میں پتہ چلا کہ میںڈرامہ لکھ سکتا ہوںبلکہ ہر وہ شخص جس کو افسانے سے شغف ہو ، کردار سازی کر سکتا ہو، لکھ سکتا ہے یا پھر لطیف شیخ جیسے کسی دوست کا ساتھ ہو جو حوصلہ افزائی کرتا رہے تو یقینا ڈرامہ لکھا جاسکتا ہے۔
ڈرامہ تو نہ لکھا جا سکا اور نہ مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو سکا لیکن یہ ضرور ہوا کہ میں نے ترکی ادب بہت سا پڑھ لیا۔ اس پڑھائی میں یہ بات بھی مکمل طور پر سامنے آئی کہ ترکی کی ترقی میں جو راز پنہاں ہے وہ مصطفی کمال اتا ترک کے سنہرے اصول ہیں جنہوں نے سارے ترکی عوام کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے۔ ان کی سوچیں جمہوری ہیں۔ انہوں نے جو بھی سوچا جمہوری انداز سے سوچا۔ انہوں نے اپنے ملک کی ترقی کے لئے انتھک محنت کی انہوں نے جمہوریت کے فروغ کے لئے سوچا۔ جب سوچ مثبت ہو جائے تو منزل خود بخود قدموں میں آجاتی ہے۔ پھر اس بات میں ذرا برابر شک و شبہ نہیں ۔ جن ممالک نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔ ان میں قوم پرستی کا جذبہ بہت شدید تھا۔ چینی ہوں، جاپانی ہوں، کوریا کے لوگ ہوں اور ترکی کے لوگ ہوں ان میں اپنی قوم کے لئے بہت نیک جذبات ہیں۔ جو لوگ ترکی دیکھ کر آتے ہیں۔ اکثر بتاتے ہیں دنیا بھر میں ایسا خوبصورت ریلوے کا انتظام نہیں جس طرح کا انتظام ترکی میں ہے۔ ایسا ریلوے نظام کہ جو استنبول سے شروع ہو کر پورے یورپ کو چھوتا ہے۔ پھر عوام پسندی کا جذبہ بھی وہاں کے حکمرانوں میں بہت زیادہ ہے بلکہ حکمران بھی عوام کے دوست ہے۔ اور جب عوام کے نمائندے ان کا خیال رکھیں گے تو یقینا عوام بھی انپے نمائندوں کے ساتھ ہوں گے۔ اگر ایک لیڈر کے کہنے پر ایک افیون زدہ قوم ترقی کے اس مقام پر آجاتی ہے کہ چین کی ترقی دیکھ دیکھ کر دنیا انگشت بدندان رہ جاتی ہے۔ اسی طرح ترکی کی ترقی میں ان کے ہر فرد کا بھرپور حصہ ہے۔ وہاں فرد واحد امیر نہیں بلکہ ملک امیر ہے۔ ترقی کی دوڑ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 1923 میں ترکی میں صرف 118 صنعتی یونٹ تھے جو 1941 میں یعنی صرف 18 سال میں ایک ہزار سے زائد صنعتی یونٹ ہوگئے تھے۔ پھر خوش نصیب ہے ترک عوام ترکی سربراہ اور وہ لوگ جو ترکی میں جا کر تبرکات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں ان آنکھوں کو سلام کہ جنہوں نے پرچم محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیکھا ہے۔ جنہوں نے فرقہ سعادت میں رکھی اکیس تلواریں دیکھی ہیں۔ جن میں سے دو آقائے دوجہاں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک سے منسوب ہیں پھر خرقہ شریف کی زیارت کی ہے۔ اور پھر ان آنکھوں اور ان زہنوں کو سلام کہ جنہوں نے میرے آقا کی تحریر نامہ سعادت جو جناب رسالت مآب نے والی مصر کو لکھا تھا دیکھا ہے۔ پھر جناب رسالت مآب کا موئے مبارک ہے۔ یہاں خلیفہ سوئم جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا وہ قرآن پاک بھی ہے جسے وقت شہادت آپ تلاوت فرما رہے تھے۔
قومیں وہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جن کے ادارے پختہ ہوں جن میں علم و اادب اور شوق آگہی ہو۔ جن کے دکھ سکھ سانجھے ہوں۔ جن کے کتب خانے آباد ہوں۔ جہاں رکھی کتابوں پر مٹی نہ پڑی ہو بلکہ کتابوں سے محبت کرنے والے ہر دم کتاب دوست نظر آئیں۔ مقام افسوس یہ ہے کہ ہم بھی آزاد وطن کے آزاد شہری ہونے کے دعویدار ہیں۔ ہمارے حکمران ہمیں پاکستانی بنانے کی سعی کرتے رہتے تو یقینا آج صرف اکسٹھ سال بعد اس عوام سے یوں دور ہونے کے ہے کنکریٹ کی دیوار بنانے کے بارے میں نہ سوچا جاتا۔ وہ کیوں پہلے سے ہی موجود فاصلوں میں ایک اور فصیل کا اضافہ کررہے ہیں۔ خدا کے لئے فاصلوں اور فصیلوں کو سمیٹنے کے لئے غور کریں۔ ملکوں کی ترقی عوام اور حکمرانوں کی میں باہمی محبت سے ہی آسکتی ہے۔ اور جو حالات ہمارے ہیں۔ ایسے موقع پر تو حکمرانوں کو عوام کو ساتھ رکھنا چاہیے۔
اور سنو اے مسند اقتدار کے رکھوالو سنو اگر دوری کی فصیلیں کھڑی ہوجائیں تو پھر فاصلے سمٹتے نہیں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اور اگر عوام دور ہو جائے تو خود کو دنیا کی واحد سپر پاور سمجھنے والا بش بھی اپنی کرسی نہیں بچاسکتا۔ اور یہ جو چھوٹے سے قد کا بہت بڑا انسان احمدی نژاد نام نہاد سپر پاور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ آقائے احمدی نژاد کے کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملائے ان کی عوام ان کے ساتھ ہے۔ یہاں ’’بند کمرے‘‘ میں چند سو متفق نہیں ہو رہے؟؟؟ بس فاصلے گھٹاؤ محبتیں بڑھاؤ۔ ملک بچاؤ۔ ایسا کوئی نظریہ ہی استحکام ترقی اور خوشحال پاکستان بنا سکتا ہے۔ عوام اور حکمرانوں کی محبتوں کے ثبوت ہم سے بعد آزاد ہونے والے کئی ممالک کی ترقی کے ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment