
میں پاکستان ہوں۔۔۔ میں اپنی تاریخ کے نازک ترین موڑ سے گزر رہا ہوں۔۔۔میں مشکلات اور چیلنجز میں گھر گیا ہوں۔۔۔میری معیشت بُری طرح ڈگمگا رہی ہے۔۔۔میری سیاسی قوتیں تعصبات میں گھری ہوئی ہیں۔۔۔مجھے بیرونی حملہ آور فوج سے خطرے کا سامنا ہے۔۔۔میرا ہمسایہ میرے حصے میں آنے والے دریاؤں کا پانی روک رہا ہے اور وہ ڈیم پہ ڈیم بنا رہا ہے۔۔۔جبکہ میرے حکمرانوں نے میرا سب سے بڑا منصوبہ کالاباغ ڈیم روک دیا ہے۔۔۔میں ایک زرعی ملک ہوں اور اناج کے معاملے میں خود کفیل بھی لیکن بدقسمتی سے یہاں کے عوام دانے دانے کو ترستے ہیں ۔۔۔میری فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو بدنام کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔۔۔ماضی میں مجھے لوٹنے والی طاقتیں ایک بار پھر متحرک ہو گئی ہیں۔۔۔خطرناک بات تو یہ ہے کہ میری عوام شکست خوردہ نظر آنے لگی ہے۔لانگ مارچ،ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ روز کا معمول بنتا جا رہا ہے ۔۔۔میری نظریاتی اور جغرافیائی سرحدیں غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہیں۔۔۔کسی کی جان مال عزت محفوظ نظر نہیں آ رہی۔۔۔محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان قید میں ہیں۔۔۔کمر توڑ مہنگائی،بیروزگاری،ناخواندگی،غربت اور نا انصافیوں نے میری عوام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔۔۔
اب بھوک کی دیوی کا سایہ ہے میرے گھر پر
بچوں کے مقدر میں کھانا نہ کپڑاہے
بیچتا پھرتا ہوں بچوں کی دوائی کے لئے
شہر والو! میں نے اپنا خون سستا کر دیا
جب کوئی بھی قوم لُٹ رہی ہو تو وہاں کی فضا دھواں دھواں نظر آنے لگ جاتی ہے اور شام کا سورج دِل پر بوجھ لے کر ڈوب جاتا ہے ،وطن کے بیٹے شکستگی سے بے حال ہو جاتے ہیں،گیت نوحوں میں بدل جاتے ہیں اور غم و حزن مسکراہٹ کی جگہ لے لیتے ہیں اور زندہ لاشوں کے بے جان پیکر بے کسی کی چادر اوڑھ کر سو جاتے ہیں پر اُن میں سے کچھ آنکھیں ایسی ہوتی ہیں جو جاگ رہی ہوتی ہیں۔ایسی آنکھیں جنرل اشفاق پرویز کیانی جیسے خوش قسمت لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں۔پاکستان کو تاریخ کے نازک موڑ،مشکلات اور چیلنجز سے نکالنے،بیرونی حملہ آور فوج کو للکارنے ،پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو بدنامی سے بچانے اور پاکستانی سرحدوں کے دفاع کا تحفظ کرنے کے لئے میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اِس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ یہ نیک کام بخوبی سر انجام دے سکیں گے ۔
یہاں میں جنرل کیانی صاحب کو چند مشورے دینا چاہتا ہوں یہ کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست میں آئی ایس آئی کی مداخلت رہی ہے جسکی کی وجہ سے بعض اوقات پر یشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے جسکے باعث فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو سیاست سے دور جانا پڑا اور عوام نے آپکا یہ اقدام پسند بھی کیا لیکن موجودہ ملکی صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ فوج اور خفیہ ایجنسیاں بے شک سیاست میں مداخلت نہ کریں لیکن اُنہیں حکمرانوں اور سیاستدانوں کی مکمل مانیٹرنگ کرنی چاہئے کیونکہ میں اِس بات پر اندھا یقین رکھتا ہوں کہ پاکستانی فوج کی وردی پہنے ایک سپاہی اپنے ملک کا جتنا درد رکھتا ہے اُتنا اُن سیاستدانوں کو درد نہیں ہو سکتا جو ملک میں سرِ عام لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں۔اِس لئے موجودہ حالات بالکل اِس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ داخلی اور خارجی امور میں فوج مداخلت نہ کرے ۔یہاں تک تو میں ٹھیک سمجھتا ہوں کہ ملک میں ہونے والے ہر قسم کے انتخابات میں فوج کی مداخلت نہیں ہونی چاہئے لیکن باقی امور میں فوج کی مداخلت بے حد ضروری ہونی ضروری ہے
فوج کو یہ علم ہے کہ ہمارے ملک میں جب بھی حالات خراب ہوتے ہیں تو ہم اُسی سے مدد طلب کرتے ہیں ۔پس آج ہم اپنی فوج سے مدد طلب کرتے ہیں یہ مدد نہیں کہ اقتدار سنبھالے بلکہ یہ مدد کہ انتہائی ناگفتہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکومت کو مانیٹر کرے۔ملک میں عدلیہ کی آزادی کے لئے،کرپشن کے خاتمہ،قانون کی پاسداری،لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر بنانیاور دیگر اداروں میں بہتری لانے کے لئے فوج عوام کی مدد کرے۔
میرے خیال میں اب عوام کو بھی سمجھ آ گئی ہے کہ ہر مشکل وقت میں فوج نے ہمارا ساتھ دیا ہے اور بہت سارے سیا ستدانوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے ۔ہاں ایک بات سے میں اتفاق ضرور کروں گا کہ فوج کے ایک سابق سربراہ نے فوج اور فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے لیکن اُسکی زمہ دار پوری فوج نہیں بلکہ فردِ واحد تھا ۔
آئیے ہم آج مل کر پاکستان کو بچائیں ۔پاکستانی معیشت کو بچانے کے لئے ہمیں رضا کارانہ طور پر سائیکل جیسی سواری کو پرموٹ کرنے کے لئے ایک مہم چلانی ہوگی۔آصف زرداری ،یوسف رضا گیلانی،جنرل اشفاق پرویز کیانی،چیف جسٹس آف پاکستان ،میاں نواز شریف،قاضی حسین احمد،عمران خان،چوہدری شجاعت،شیخ رشید اور دیگر تمام لیڈرز اور بیوروکریٹ کو ملک کا مستقبل بچانے کے لئے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ایک بار سائیکل پر سواری ہوکر اِس سواری کو پرموٹ کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔پاکستانی ہوتے ہوئے بھی مجھے بعض اوقات چین اور جاپان کے حکمرانوں اور عوام پر فخر ہوتا ہے جو اتنی وسیع ٹیکنالوجی کے حامل ہونے کے باوجود اپنے ملک میں سائیکل سواری کو پروموٹ کر رہے ہیں۔آئیے عہد کریں کہ ہم نے پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک دیکھنا ہے۔

















0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment