صدر پاکستان آصف علی زرداری کے دورہ بیجنگ میں پاکستان اور چین کے درمیان ایٹمی توانائی کے معاہدہ کی خبریں اب منظر عام پر آچکی ہیں۔جس کے مطابق پاکستان چین کی مدد سے چشمہ تھری اور فور پاور پلانٹس تعمیر کرے گا۔پیش نظر رہے کہ چشمہ ون پہلے ہی کام شروع کرچکاہے جو کہ ایک کامیاب تجربہ شمار کیا جاتاہے۔چشمہ ٹو کام شروع کرنے قریب ہے۔ان دونوں پاور پلانٹس کی تعمیر لگ بھگ ڈھائی برس میں مکمل ہوگی جو ٧٠٠ میگاواٹ بجلی پیدا کرے گی۔ بیجنگ میںہونے والی تقریب کو دونوں حکومتوں نے ذرائع ابلاغ سے چھپا کررکھا ہے تاکہ پاکستان ،امریکہ ،چین اور امریکہ کے مابین تعلقات میں ایک نیا تنازعہ نہ اٹھ کھڑا ہو۔اس لیے فی الحال نیا معاہد ہ کرنے کے بجائے چشمہ تھری اور فورپلانٹ تعمیر کیے جائیں۔علاوہ ازیں یہ بھی طے پایا کہ اس معاہدے کی تشہیر امریکہ بھارت معاہدے کی طرز پر کی جائے اور نہ ہی اس معاہدے کو ان دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے ردعمل میں پیش کیا جائے۔
یہ بھی کہا جاتارہا ہے کہ پاکستان پر امریکہ کی جانب سے بے پناہ دباؤ ہے لہذا زرداری چین کے ذریعے اس دباؤ کو کم کرنے کے خواہش مند ہیں۔۔چین کی دولت اور وسائل پر نہ صرف پاکستان کی نظر یں جمی ہوئی ہیں بلکہ امریکہ اور مغرب بھی چاہتا ہے کہ چین عالمی مالیاتی بحران کو حل کرنے کی خاطر اپنی تجوریوں کے منہ کھول دے مگر چینی قیادت بڑے تحمل اور سکون کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔وہ مغربی نظا م معیشت کو مفلوج ہوتے بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ اس کے منفی اثرات اس کی اپنی اقتصادی ترقی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔چینپاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے آصف زرداری کو چینی حکومت اور اس کی کمپنیوں نے پاکستان میں مختلف منصوبوں میں پانچ بلین ڈالر تک سرمایہ کاری کا عندیا دیا ہے۔چینی کمپنیاں پاکستان میں مزید سرمایاکاری کریں گی اور بینک بھی اپنی شاخیں قائم کریں گے جن میں سرمایہ رکھا جائے گا تاکہ پاکستان کے اقتصادی مسائل کو کم کیا جاسکے۔آج بھی چین پاکستان کے اندر سرمایاکاروں کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔اعداد وشمار کے مطابق ٤٠ بلین ڈالر تک چینی سرمایا پاکستان میں جاری مختلف منصوبوں پر لگایا گیاہے۔٦٠ کے قریب چینی کمپنیاں مختلف تعمیراتی منصوبوں اور دفاعی اداروں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔نومبر ٢٠٠٤ ء میں دونوں ممالک کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کرنے کی تقریب میں دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا تھاکہ٢٠١٠ء تک تجارتی حجم ١٥ بلین ڈالر تک لے جایا جائے گا،اسی پس منظر میں دونوں ممالک کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے باعث اس وقت تجارتی ججم سات بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔جو کافی حوصلہ افزاء پیش رفت ہے۔
چین نے پاکستان کے بابت ایک نہایت ہی عملی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے کہ وہ ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتاہے۔اس نے بہت ساری دوسری عالمی طاقتوں کے برعکس پاکستان کے حکمرانوں کے بجائے پاکستان کی ریاست کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کیے ہیں۔اسی لیے عالمی سطح پر آنے والی تبدیلیوں اور خود پاکستان کے اندرجاری سیاسی نشیب وفراز کے باوجود دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کی گرم جوشی کو برقرار رکھا۔لیکن پاکستان کے اندر امن وامان کی صورت حال نے چین کی حکومت اور سرمایا کاروں کو ایک مخمصے سے دوچارکررکھا ہے کہ وہ آئندہ کا کیا لائحہ عمل اختیارکریں۔اس وقت تک نو چینی باشندے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔لال مسجد والوں نے دن دھاڑے اسلام آباد سے سات چینی مساج ورکرز کو اغوا کیا ۔جب کہ آج بھی ایک چینی دہشت گردوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔اسلام آ باد میں چینی امور پر نگاہ رکھنے والے ایک تحقیق کار عرفان شہزاد نے بتایا ہے کہ میریٹ ہوٹل میں ہونے والے بم دھماکے بعد کئی ایک اعلیٰ سطحی چینی سرمایا کاروفودنے پاکستان کا دورہ ملتوی کردیا ہے،کیونکہ کوئی بھی اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
آج کے چین کا دینا میں ایک منفرد مقام ہے ۔ پوری دنیا ان کی منصوعات اور سرمائے کے لیے منڈی بن چکی ہے۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے جس چین کو امریکہ اور مغرب محض چند ماہ قبل تک حقارت کی نظرسے دیکھتا تھا اور اس کی اقتصادی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے تھے آج دنیا ا سے امیدبھری نظروں سے دیکھ رہی ہے کہ وہ اپنے خزانے کا منہ کھولے تاکہ دنیا موجودہ کسادبازاری سے باہرنکل سکے۔چین کی قیادت اور سرمایا کاروں کو اپنے نئے مقام کا احساس ہے۔اس تناظر میں اگر حکومت نے پاکستان میں امن وامان کی صورت حال کو کنڑول نہ کیا تو محض ماضی کی یادوں اور ایک دوسرے پر کیے جانے والے احسانات کے سہارے چینی سرمایاکاروں کو پاکستان نہ لایا جاسکے گا۔
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت چین کے لیے پہلے کے مقابلے میں کافی محدود ہوچکی ہے۔تاہم اب بھی پاکستان کئی ایک اہم امور میں چین کی خارجہ اور داخلی پالیسی میں اہمیت رکھتاہے۔چین کے مسلم اکثریتی صوبے سکنیانگ میں جاری علیحدگی پسندگی کی تحریک کو دہشت گروں کے ہاتھ لگنے سے روکنے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیاہے۔علاوہ ازیں کئی ایک عالمی طاقتیں جو سکنیانگ میں جہاد شروع کرانا چاہتی ہیں۔ پاکستان اور اس کے اداروں نے ان کا راستہ روکا ہے۔اس کے برعکس ترکی کے شہرانقرا میں یہاں کے علیحدگی پسندوں کے دفاترقائم ہیں۔پاکستان چین کو نہایت ہی اہم امور پر خفیہ معلومات فراہم کرتاہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان چین کو مسلسل رابطے میں رکھے ہوئے ہے اور اسے اپنے تجربات سے مستفید کرتاہے۔علاوہ ازیں پاکستان کی بدولت چین کا مسلم دنیا میں ایک امن پسند مسلم دوست ملک کا امیج ابھراہے،جو چین کی حکومت کے لیے ایک اثاثہ ہے ۔
پاکستان میں نہ جانے کہاں سے یہ غلط مفروضہ جڑپکڑچکا ہے کہ پاکستا ن کے چین کے ساتھ تعلقات کا مطلب ہے امریکہ کو انگوٹھا دیکھنا یا چین امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ مراسم کو نہ پسند کرتاہے ۔جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، دنیا کے کئی ایک ممالک کے سفارت کار پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اس نے چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ گہرے دوستانہ مراسم استوار کیے ہیں۔ باوجو د اس کے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی کیفیت رہی ہے مگر پاکستان نے تعلقات میں توازن برقرار رکھا جو ایک زبردست سفارتی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔اس بحث میں نہ جانے کیوں یہ حقیقت فراموش کی دی جاتی ہے کہ چین نے امریکہ کی مختلف کمپنیوں کو ایک کھرب ڈالر تک کا اھار دے رکھاہے۔وہ کسی بھی صور ت میں امریکہ کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتاہے بلکہ اس کی پالیسی یہ ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے ساتھ کسی تنازعے میں نہ الجھے تاکہ اس کی اقتصادی ترقی کی رفتاربرقرار رہے۔چین نے سابق سوویت یونین اور امریکہ کے تجربات سے یہ سبق سیکھا ہے کہ توسیع پسندانہ عزائم اقتصادی طاقتوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔اسی حکمت عملی کے باعث چینی کبھی بھی یہ دعوے نہیں کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی سپرپاور بننے جارہے ہیں بلکہ عاجزی کے ساتھ چینی صدر ہوجن تاؤ نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ چین پچاس سال بعد بھی امریکہ کی ہمصری نہیں کرپائے گا۔تائیوان میں امریکی اشتعال انگیزی کو بھی بیجنگ برداشت کررہاہے تاکہ اقتصادی سپرپاور کا ہدف نظر وں سے اوجھل نہ ہوپائے۔اس پس منظر میں چین نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے بلکہ وہ پاکستان کو بھی مسلسل مشورہ دیتارہاہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تنازعات کا پرامن حل تلاش کرے۔ پاکستان کو چین سے دو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ۔پہلا یہ کہ قوموں کو ترقی کے لیے امن کا ایک طویل وقفہ ناگیریزہے اور کسی بڑے ہدف کے حصول کی خاطر طویل عرصہ تک جم کر محنت کرناہوتی ہے۔آج چین جہاں کھڑا ہے وہ تنازعات سے گریز اور جم کرمحنت کا ثمر ہے۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment