
روز ویلٹ نے کہا تھا کہ دلوں کو فتح کرنے کے لئے بارود نہیں بلکہ لطیف جذبات کی ضرورت ہوتی ہے۔دنیا بھر کی نظریں چار نومبر کو امریکی صدارتی الیکشن پر جمی ہوئی ہیں۔وائٹ ہاوس کے نئے ولی عہد کے لئے مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار بارا ک اوہامہ اور ریپبلکن پارٹی کے نعمت خواناں جان مکین کے درمیان ہے۔دنیا کے تمام ممالک کو نتائج کے متعلق تشویش ہے کیونکہ سپرپاور ہونے کی وجہ سے امریکی صدر کا عہدہ اس کائنات کا سب سے مضبوط عہدہ ہے۔امریکی صدر اپنے اپکو دنیا کا صدر تصور کرتا ہے۔عالمی میڈیا میں شائع ہونے والے تجزیوں اور سروے رپورٹوں میں اوبامہ کو جان مکین کے مقابلے میں مضبوط سمجھا جارہا ہے۔اوبامہ کی جیت کی پیشین گوئیاں پورے زور شور سے کی جارہی ہیں۔ دنیا کے ہر کونے کے لئے زحمت بننے والی سپرپاور کے عہدے کا انتخاب538 الیکٹول ممبرز کرتے ہیں اور270 ووٹ سمیٹنے والا وائٹ ہاوس کا نیا چنگیز خان بن جاتا ہے۔ امریکی جریدے “ فارن آفیر “ نے اپنے تازہ ترین سروے میں تجزیہ نگاری کا فن استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اوبامہ کی پاکٹ میں 258 پکے ووٹ ہیں جبکہ وہ مذید27 ووٹ لیکر286 کا ہندسہ کراس کرنے میں کامیاب ہونگے۔جان مکین اور نائب صدارتی امیدوار سارہ پالن کو137 اور ستائیس ممکنہ ووٹ ملنے کی تووقع ہے۔یوں بش کے ہم جماعت امیدوار کا کل مجموعہ160 ہوسکتا ہے۔نیویارک ٹائمز نے اپنے انتخابی نقشے میں رنگ بھرتے ہوئے کہا ہے کہ اوبامنہ کو واشنگٹن سے 11 اوریگن7 کیلی فورنیا55 نیو میکسیکو5 ہوائی5 منی سوٹا10 ائیوا 7 الی نوائے21 وسکو نسن10 مشی گن17 ورجینا13 میری لینڈ12 پنسلوانیا 21نیویارک 31 ورماونٹ3 نیو جرسی 15کنکیٹک 7میسو چیسٹس 12 نیو ہیپ شائر4 واشنگٹن ڈی سی 3میلان 4اور ڈیلاور سے3 ممبران کی حمایت ملنے کے قوی امکانات ہیں۔ریپبلکن پارٹی کے مہاراج جان مکین کو جن ریاستوں سے اکثریت ملنے کی امید ہے ان میں الاسکا 3 مونٹانا 3 ایڈاہو 4ایری زونا 10 اٹاوہ 5 وائی منگ 3 شمالی ڈکوٹا 3 جنوبی ڈکوٹا 5 انڈیانا ینیسی 6نیبراسکا 7کنساس 34اوکلوہاما 11ٹیکساس 6 میسوری 11ارکنساس 6 لوسیانا 9مسی پی6 کینٹیکی 8 الابامہ 9ورجینا 5اور جنوبی کیرولینا8 شامل ہیں۔ ان ریاستوں جنکے ووٹرز کی تعداد کولوراڈو 9 اوہائیو 20 فلوریڈا 27 اور شمالی کیرولینا15 ہے کی صورتحال ابھی تک غیر مبہم اور دھندلی ہے۔نیویارک ٹائمز کے انتخابی زائچوں کے مطابق اوبامہ اور ہائیڈن کی جوڑی کو اپنی پارٹی کے196 اور ممکنہ یا اتفاقی ووٹرز میں سے86 جبکہ میکین اور پالن کی جوڑی کو 135 اور تیس کی خیرات ملنے کا امکان ہے۔انتخابی تجزئیے کرنے والے عالمی شہرت یافتہ اداروں اور چوٹی کے مدبروں کی ارا کی روشنی میں یہ اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ امدہ الیکشن میں ڈیموکریٹ امیدوار اوبامہ ہی امریکہ میں سربرائے سلطنت ٹھریں گے۔دونوں امیدواروں کی جیت سے امریکی پالیسیوں میں تبدیلی کے خواہشمندوں کو عقل کا علاج کروانا چاہیے ۔امریکی پالیسیاں شخصیات کی بجائے جمہوری اداروں کے تابع ہوتی ہیں۔ہنری کسنجر نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ غیر ملکیوں کے نذدیک بے چین کردینے والا معاملہ یہ ہے کہ ہر نئے صدرکی زاتی ترجیحات امریکی پالیسیوں کو تبدیل کردیں گی۔کسنجر کے اس جملے کا سادہ الفاظ میں ترجمہ یوں ہوسکتا ہے کہ نیا صدر تن تنہا خارجہ پالیسیوں کو بدلنے کا اختیار نہیں رکھتا۔والڈو ایمرسن کا نظریہ تھا کہ تاریخ بذات خود کچھ نہیں ہوتی بلکہ شخصیات کی سوانحی عمری ہوتی ہے۔امریکی مصنفین چارلس اور یوجین نے ایک کتاب امریکن فارن پالیسی مرتب کی ہے جس میں امریکی صدور کی شخصیات اور پالیسیوں کے میلان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصنفین نے لکھا ہے گو کہ امریکی پالیسیوں کا سارا دارو مدار اداروں پر منحصر ہے لیکن اس کا یہ مطلب یہ بھی نہیں کہ امریکی صدر کی شخصیت کے نفسیاتی میلانات زہنی رحجانات کا پالیسی سازی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کتاب میں یہ ایشو بھی ریز کیا گیا ہے کہ بعض صدور تو اپنی قابلیت جادوئی اثرات پر مبنی شخصیت کی وجہ سے خارجہ پالیسی پر حاوی تھے کہ انکے نام سے کئی اصلاحات منسوب ہیں جیسا کہ ٹرومین اور کینڈی وغیرہ ۔جیمز باربر ایک معروف تجزیہ نگار ہیں جنہوں نے ماضی کے امریکی صدور کو دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے۔باربر کی سوچ کے مطابق ٹرومین روز ویلٹ کینڈی فورڈ جارج بش سینئر اور کلنٹن کا شمار ایکٹو صدور میں ہوتا ہے جبکہ منفی سوچ رکھنے والے سرداران وائٹ ہاوس ولسن ،ہور لنڈا جونسن اور رچرڈ نکسن شامل ہیں۔ولیم ٹیفٹ ریگن اور ہارڈنگ چڑچڑا مزاج اور خاموش طبع، گھٹی ہوئی اداوں کے مالک تھے لیکن انکا زہنی رقبہ یعنی مثبت عادات کی فصل سے ہمیشہ سرسبز و شاداب رہا۔کولون ،کولیج ائزن ہاور منفی میلانات کے علمبردار سمجھے جاتے تھے۔ٹرومین اور نکسن چیف ایگزیٹو کے طور پر کام کرتے رہے۔ جونسن، فورڈ، کارٹر ٹیم ورک کے قائل تھے اور تمام امور اپنی کابینہ اور مشیروں کی رہبری پر نمٹاتے تھے۔روز ویلٹ تخلیق کار اور دانشور تھا ریگن نظریات پسند تھا۔باربرنے دوباپ بیٹوں جارج بش اور موجودہ امریکی صدر بش جسے قاتل اعظم کا تاج پہنایا جائے تو بے جا نہ ہوگا کے سامراجی مقاصد کو طشت ازبام کرنے میں ڈنڈی ماری ۔ مڈل ایسٹ کو دنگوں جنگوں فسادوں اور جارہیت کے سپرد کرکے لاکھوں معصوم انسانوں کو اگ و خون کے کنویں میں دھکیلنے کا اعزاز چھوٹے اور بڑے بش کو حاصل ہے۔امریکہ کے اگلے متوقع صدر اوبامہ کے متعلق جتنی معلومات میڈیا کے توسط سے منظر عام پر ائی ہے اسکے مطابق وہ دوہری شخصیت کے مالک ہیں۔ماہرین نفسیات ثابت کرچکے ہیں کہ کسی انسان کی شخصیت تین چیزوں سے بنتی ہے۔ ماحول جہاں وہ پرورش پاتا ہے خاندانی وراثتی عادات اور زندگی کے ناقابل فراموش واقعات جو بعض اوقات فوبیا کا سبب بن جاتے ہیں۔ اوبامہ عیسائی اور سیاہ فام نسل سے تعلق رکھتا ہے ۔اوبامہ کے اباو اجداد ماضی قریب میں اسلام کے دائرے سے خارج ہوئے اور عیسایت کو سینے میں اتار لیا۔امریکہ کی تاریخ میں اب سیاہ فام صدر گوری اکثریت کی نمائندگی کرے گا۔اوبامہ کے ابتدائی حالات نہ تو اچھے تھے اور نہ ہی جوانی کا دور متوازن تھا۔یوں وہ امریکہ کی سفید فام اکثریت اور عیسائی مذہب کے خاقانوں کو خوش رکھنے کی بھر پور کوشش کرے گا۔ریپبلکن پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ اس نے دنیا بھر میں امریکی اعجاز و افتخار کا جنازہ نکالا۔دہشت گردی کے نام نہاد تصور کی سیڑھی پر چڑھ کر عراق افغانستان میں لاکھوں لوگوں کو موت کے سلگتے ڈھیر میں بھسم کرنے کی پاداش میں بش اینڈ کمپنی عوامی حمایت سے تہی داماں ہوچکی ہے۔یوں قرائن سے صاف نظر ارہا ہے کہ خود امریکہ میں بش انتظامیہ اپنے جنگی دھنون کی وجہ سے نشان عبرت بن جائے گی اور بش کے امیدوار کا بھی وہی حشر ہوگا جو پاکستان میں اٹھارہ فروری کے الیکشن میں مشرفی مریدین کا ہوچکا ہے۔بش کے دور میں تاریخ کا بدترین مالیاتی بحران ابھرا جس نے سپر پاور کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیا جس پر معروف دانشور جوناتھن پاور جم لوپ اور جان گرے نے تو امریکی زوال کو نوشتہ دیوار قرار دے ڈالا ۔اوبامہ کا نام پاکستان میں اس وقت گونجنے لگا جب اس نے اس سال کے شروع میں فاٹا پر براہ راست حملہ کرنے کا مشرقانہ اعلان کیا تھا۔چند روز قبل بھی اوبامہ نے ٹی وی مزاکرے میں جگالی فرمائی کہ اگر وہ وائٹ ہاوس تک رسائی حاصل کرنے میں سرفراز ہوئے تو وہ القاعدہ کے عسکریت پسندوں کو پسپا کرنے کے لئے امریکی فوجوں کو فاٹا میں داخل ہونے کا حکم دیں گے۔ہوسکتا ہے کہ اوبامہ کو معاشی دیوالیہ پن کی اندھیری کھائیوں سے امریکہ کو نکالنے کے لئے جنگوں سے دور رہنا پڑے۔پاکستان کے ارباب اختیار کو اوبامہ کی شخصیت کا تجزیہ کرکے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی تاکہ اگر وائٹ ہاوس ہمارے لئے بہاروں کا سامان پیدا نہیں کرتا تو کم ازکم ہماری سرحدوں کی حرمت کو روندنے سے گریز کرے لیکن ایک کڑوا سچ تو یہ بھی امریکہ کے تمام صدور کی رگوں میں کمزور قوموں کا استحصال سارے جہاں کی دولت کو اینٹھنے کی ہرص و ہوس اور اگ و خون کی بارش برسانے کی تڑپ کا زہر دوڑتا رہا ہے۔مسلم دشمنی انکی رگوں میں خون بنکر دوڑ رہی ہے۔یوں ابامہ کی جیت پر جشن منانے والوں کو خوش فہمیوں کے رنگین جال سے باہر انا چاہیے۔امریکی سارے جہان میں نفرت کا شکار کیوں بنتے ہیں۔یہ وہ گلا ہے جو عام امریکی مسلمانوں سے کرتے ہیں۔امریکہ کی بیوروکریسی سے لیکر عوام تک جرنیلوں سے لیکر وائٹ ہاوس کے مالکان تک کو اپنے سابق صدر روز ویلٹ کے درج بالا ابتدائی جملے کی روشنی کہ دلوں کو محبت سے فتح کرو اگر بارود کا بیج کاشت کروگے تو پھر انتہاپسندی کی فصل بھی تم ہی کاٹو گے۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment