Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

مذہب ، ریاست اورسیاست ‘ کالم ‘ عباس ملک

October 25th, 2008 · No Comments

پاکستان کو درپیش خطرات کی بنیاد اگر اس وقت دیکھی جائے تو سب سے پہلے دہشت گردی کا عنصر اہم ترین ہے۔پاکستان کو خارجہ اورداخلہ طور پر مشکلات کی دلدل میں سے نہ نکلنے دینے والا غیر مرئی ہاتھ بھی دہشت گردی ہی کا پشت پناہ ہے ۔دہشت گردی اور دہشت گرد نہ صرف پاکستان کیلئے خارجہ طور پر تنہائی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں بلکہ داخلہ طور پر قومی یکجہتی کو بھی چرکے لگاکر کمزور کرنے میں مصروف کار ہیں ۔گوناں گوں مشکلات کی تفصیلی فہرست اور ان سے متعلقہ ضمنی مسائل کو بیان کرے کیلئے پرنٹ میڈیا کے قلم کار اور لیکڑانک میڈیا سے ان کے الفاظ کو صوتی شکل میں حکومت اورعوام تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔کالم نگار ملک و قوم کی مشکلات کو لفظوں کی شکل میں پیش کرنے پر تو قادر ہیں لیکن قلم کی نوک سے ان مسائل کو حل پذیری کی شکل دیناایک امر محال ہے۔اوبامہ ہو یا مکین یا پھر ان کا باس بش اور اس سے اگے ان کے مربی ہوں کیلے سب سے بڑا مسلہ اسلام ہے ۔اسلام کی مخالفت اور اسے نیچا دکھانے کی کوشش میں یہ لابی مسلمانوں کو ہر طر ح سے زک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔پچھلے دنوں ایک لطیفہ سننے کو ملاجس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ مسلمان ہونا کتنا بڑا جرم قرار پاتا ہے۔امریکہ کی ایک سٹیٹ میں ایک کتے نے کسی خاتون پر مہلک حملہ کردیا ۔اس خاتون کو امداد غیبی کی صورت میں ایک نوجوان نے کتے سے نجات دلائی ۔میڈیا نے خبر لگائی کہ ایک بہادر نوجوان نے موذی کتے سے خاتون کو بچا لیا ۔نوجوان نے میڈیا کو بتایا کہ وہ غیر ملکی ہے تو میڈیا نے نے غیر ملکی نوجوان کی تعریف کردی ۔میڈیا کو دوبارہ بتا یا گیا کہ وہ غیر ملکی نوجوان مسلمان بھی ہے ۔میڈیا نے خبر لگائی کہ ایک مسلمان دہشت گرد نے وحشیانہ تشدد سے معصوم کتے کو ہلاک کر دیا۔غیر ملکی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کی تکذیب و توہین کیلئے کسی بھی اخلاقیات کا قائل ہی نہیں ۔میڈیا ہی میں یہودی لابی کے عنوان سے امریکن حکمرانوں کی یہود نوازی کی تفصیلات کے ساتھ مسلمان دشمنی کو بھی حقیقی انداز میں اشکار کیاگیا ہے ۔امریکہ اوراسکے اتحادی دہشت گردی اورامن کی لئے دنیا میں قتال کی کریہہ مثالیں قائم کررہے ہیں ۔مغربی معاشرو ں میں انسانی حقوق امن اور جمہوریت کیلئے فوج کشی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتاتو مسلمان ممالک کو بزور ڈنڈہ یہ سبق یاد کرنے کی وجہ کیا ہے۔اپنے معاشروں میں تبدیلی لانے کیلئے وہ سائنسی انداز میں کام کرتے ہیں جبکہ مسلمانوں کیلئے چنگیزی روایات ہی کیوں معقول قرار پاتی ہیں ۔یہ تو پایہ ثبوت تک پہنچی ہوئی حقیقت ہے کہ یہودی لابی کے زیر اثر نصرانی مسلمانوں کی بیخ کنی میں مصروف ہیں ۔اس کے بعد یہی اصول مسلمانوں کو شخصی مفادات اور لادینیت کا مرتکب قرار دیتا ہے ۔ہمارے حکمران اورراہنما اپنے معاشروں کو بے مہار بنانے میں کردار ادا رکررہے ہیں ۔دین اسلا م میں کہاں اورکس جگہ پر دہشت گردی کی تعلیم دی گئی ہے ۔آخر ای کبے بنیاد الزام کی سزا مسلمان کب تک بھگتے رہیں گے ۔اسلام نے اپنے پیروکاروں کو جو ضابطہ حیات دیا ہے وہ مداخلت او ر شخصی دفاع کی تعلیم ہے۔اسے انسانی حقوق ک علم بردار بھی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں ۔انسان کو اپنی زندگی کے دفاع کا حق ہے کہ زندگی کے دم قدم سے ہی ساری دنیاوی رونقیں اور تمام حقوق و فرائض جڑے ہوئے ہیں۔مذہب بھی انسانی حقوق میں اہم ہے کہ انسان اپنی سوچ اور فکر میں آزاد ہے ۔داڑھی اور ٹوپی نہ تو سائنس کی راہ میں حائل ہے اورنہ ہی دنیا کو تیاگ دیتی ہے ۔اگر ایسا ہے تو پھر مسلمانوں کے ساتھ یہودی بھی برابر ک شریک ہیں کیونکہ یہودیت کی اصل بھی کچھ اسی سے مماثل ہے۔یہودی ربی ہو یا عیسائی راہبب ان کی تعلیمات اورمسلمانوں کے مولوی کی تقریروں کے اقتباس اکھٹے کیے جائین تو ان میں اتنی خلیج حائل نہیں کیونکہ تمام مذاہب یکساں اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں ۔کسی بھی مذہب کی اخلاقی حدود ایک دوسرے سے ہر گز جدا نہیں ۔مذہب کو استعمال کرکے اس دنیاوی فوائد کا حصول اہل سیاست کی اولین ترجیح رہی ہے۔مذہب کو خطرے میں دکھا کر ہی یہودی سیاستدان عیسائیوں کو مجبورکر رہے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا مشترکہ دشمن مسلمان ہے۔حالانکہ مسلمان تو انہیں اہل کتاب مانتے اورانکے انبیاء پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔مذہب کو سیاسی میل کچیل نے گندا کر رکھا ہے۔مذہب ہی وہ اصل ہے جس کی بنیاد پر آج مغربی معاشرے اپنی اخلاقیات و قوانین کی بنیاد قائم کیے ہوئے ہیں ۔کیا مغربی دانشور اس سے انکار کریں گے کہ وہ مذہب کو راہنمائی کیلئے اولین اصول تسلیم کرتے ہوئے اپنی سوچ و فکر کیلئے زاویے اخذ نہیں کرتے ۔اگراہم لنکن نے خود تسلیم کیا تھا کہ امریکی آئین کی بنیاد میں مذہب سب سے اولین ترجیح ہے ۔مذہب کو ریاستکے معاملات سے علیحدہ کرنے کی بات دو طریقے سے کی جاسکتی ہے۔اول یہ کہ مذہب کا ریاست کے آئین سے اخراج اور دوسرا ریاست کی معاشرتی زندگی سے قطع تعلق ہے۔اب دونوں صورتوں میں بتایا جائے کہ مذہب کی بنیادپر پائی جانے والی اور قائم ہونے والی حدود کو کس خانے میں ایڈجسٹ کیا جائے ۔مذہب اور معاشرہ اسی طر ح ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے جیسے روح اور جسم ایک دوسرے سے الگ ہو کر مردہ ہو جاتے ہیں۔معاشروں میں اگر مذہبی روداری کو مدنظررکھا جائے تو معاشروں میں بسنے والے انسانوں کو اپنے حقوق تک رسائی میں زیادہ تگ ودو نہیں کرنا پڑتی ۔مذہب کبھی بھی امن کی راہ یا انسانی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہوتا۔مذہبی روایات سے روگردانی البتہ معاشروں میں شیطانی عناصر کی ترویج کا باعث بن کر معاشروں میں بگاڑ کا باعث ہوتی ہے ۔آفاقی مذہب خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو کبھی بھی اپنے پیروکار کو دوسرے انسان کے حقوق غضب کرنے اور اس پر غلبہ پانے کی ترغیب نہیں دیتا۔مذہب کو اپنی خواہشات کی تکمیل میں استعمال کرنے سے مختلف معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں ۔دہشت گردی بھی اسی خواہش کی تکمیل کا ایک زریعہ ہے۔سادہ سی حقیقت ہے کہ اگر طالبان کی حکومت کو چلنے دیا جاتااوراس کے ساتھ معاملات مذاکرات کے زریعے طے کیے جاتے تو ان کی خواہش کی تکمیل کیصورت میں امن کا خواب زیادہ حقیقت کے قریب ہوتا ۔اس کے برعکس طالبان کی حکومت کو کچلنے کیلئے طاقت کا استعمال ردعمل میں دہشت گردی کی لہر کا سبب بن گیا۔سیاسی اورسماجی بے اعتدالیوں کے نتیجے میں بدامنی کی صورت ھال پیدا کرے مذہب کو مورد الزام ٹھہرانے والے دانشور تانبے سے سونا بنانے کی ترکیب کہا ںسے لائیں ۔پارس پتھر صرف کہانیوں میں ملتا ہے اگر حقیقت میں ہوتا تو آج دنیا کی بیشتر اشیاء سونے کی ہوتیں ۔انسانی ذہن کو جلا بخشنے والا پارس پتھر مذہب ہی ہے۔مذہب کو چاہنے والو ںکو بھی یہ حق ہے کہ مذہب کے غلبے کی خواہش کا اظہار کر یں ۔مذہب کی اگر پابندی کی جائی تو امن اور معاشی استحکام کی صورت ممکن ہوگی ۔مذہبی غلبہ چاہنے والوں کو بھی یہ دیکھنا ہوگاکہ ہر شخص کو مذہبی رواداری کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی منزل کا تعین از خود کر سکیں ۔دونوں کے باہم ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی کشمکش میں بے قصور لوگ جان سے جارہے ہیں جو کہ مذہبی رو سے غلط ہے ۔مذہب اور سیاست کا تقابل بھی ایسے ہی ہے کیونکہ ریاست ہی سیاست کا منتہاہے ۔سیاست کیلئے اخذ کردہ اصولوں کو اگر مذہب کے تابع رکھا جائے تو سیاسی عمائدین میں پائی جانے والی بیشتر کو تاہیاں اورغلطیاں ان کیلئے ڈس کوالفیکشن کا باعث ہو کر سیاست کو پاک و صاف نبانے میں ممدد ثابت ہونگی ۔اس بحث سے یہ ثابت کرنے میں شاید زیادہ مشکل نہ ہو کہ مذہب دہشت گردی کا باعث نہیں بلکہ امن کی تباہی کا اصل سبب مذہب سے دوری ہے ۔تمام معاشرے اگر اپنی مذہبی روایات کے امین ہو جائیں تو دنیا میں امن وسلامتی کیلے راہ ہموار ہو جائے گی ۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو