
صدر پرویز مشرف کے جا تے ہو ئے ابھی زیادہ عر صہ نہیں گزرا۔ بمشکل 3 چارمہینے بھی نہیں گزرے ،مُجھے اچھے طر ح یاد ہے کہ جرنل صا حب جس وقت بھی کسی پبلک میٹنگ میں یا ٹی وی ٹاک میں بات کر ہے ہو تے تو بڑے فخریہ انداز میں کہہ رہے ہوتے کہ ملکی خزانہ بھرا ہے ملک کو کسی کی امداد کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پا س16ارب ڈالر کے ذخیرے موجود ہے۔ یہ بات حقیقت بھی ہے کہ ملک میں ترقیاتی کاموں کا ایک جال بچھا دیا گیا تھا۔ چونکہ میرا تعلق سائنس اور ٹیکنالوجی سے ہے ، میں پوری وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنے سائنس اور ٹیکنالوجی کی مد میں پی ایس ڈی پی اور ترقیاتی منصوبے صدر پر ویز مشرف کے دور حکومت میں شروع کئے گئے تھے، شاید ماضی میں اسکی مثال ملے۔وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کے پاس اتنی فنڈ تھی کہ وزارت کے اعلی حکام اپنے ما تحت اداروں سے بار بار استدعا کر رہے ہوتے کہ عوامی فلاح وبہبود کے لئے کوئی ایسے منصوبے بنائے جائیں جس کو جلدی ختمی شکل دے کر عملی شکل دی جائے۔ علاوہ ازیں علاوہ اسی وزارت اور کئی ما تحت اداروں میں کافی لوگوں کو نوکریاں فراہم کی گئی تھیں۔ 18فر وری2008کے عام انتخابات کے بعد جو نہی پاکستان پیپلز پا رٹی اور اتحادی حکومت معرض وجود میں آئی 6 مہینے کے اندر اندر 16 ارب ڈالر گھٹتے گھٹتے 2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔اگر حالات اور واقعات کا سنجیدگی سے اندازہ لگا یا جائے تو پاکستان پیپلز پا رٹی کے 6 مہینے کے دور حکومت میں نہ تو بھارت کے ساتھ لڑائی گئی اونہ کوئی قدرتی آفت آیا۔ بلکہ پی پی پی کے دور حکومت میں پچھلے سالوں کی بنسبت اچھی فصلیں اور بارشیں ہوئیں ۔ چنددن پہلے وزیر اعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین کی باتیں سُن رہا تھا ، کہہ رہے تھے کہ پاکستان کی اقتصا دیات انتہائی خراب ہے، اپنی معیشت اور اقتصادیات کو سہارا دینے اور مُستحکم کر نے کے لئے پاکستان کو10 ارب سے 15 ارب ڈالر تک فوری رقم در کا ر ہوگی۔اس سلسلے میں اُنہوں نے تین طریقوں سے اپنی اقتصادیات کو مضبوط کر نے کی وضا حت کی۔ نمبر(1 چین سے مدد لینے کی۔ نمبر2) فرینڈز آف پاکستان سے۔ نمبر 3) آئی ایم ایف سے امداد لینے کی۔ چین سے ہم تو امداد کی توقع کر سکتے ہیں ،مگر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قر ضہ لینا تو موت ہے۔ اگر ہم آئی ایم ایف سے قر ضے لیں گے تو ہمیں ایسے شرائط ماننی پڑے گی جو ملک اور قوم کے ساتھ انتہائی زیادتی ہو گی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرضے کے لئے جو شرائط رکھی ہیں، اس میں پاکستان کو دفاعی اخراجات میں 30 فی صد کمی کرنی پڑے گی۔ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں ساڑھے تین لاکھ نوکریوں کو کم کر کے ایک لاکھ بیس ہزار کی جائی گی ۔ اسی طرح پینشن میں بھی کمی کی جائی گی۔گندم کی پیداوار پر 7فی صد جبکہ دوسرے فصلوں پر4فی صد ٹیکس لگانی پڑے گی جبکہ اس قرضہ پر شرح سود 17فی صد ہوگی۔ اب عوام کی سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ صدر پر ویز مشرف کے دور اقتدار میں جو 16 ارب ڈالر تھے 6 مہینے بعد وہ کدھر گئے؟۔ کونسا اللہ کاا متحان اور آفت نا زل ہوا ،جسکی وجہ ملکی خزانہ خالی ہو کر ایک دفعہ پھر کچکول گلے میں ذلت آمیز طریقے سے اُٹھانا پڑا؟۔ اس سے دوباتیں ثابت ہوتی ہیںکہ یا تو صدر پر ویز مشرف غلط بیانی کر رہے تھے اور یا یہ ڈالر ملک میں سرے سے تھے نہیں۔ اگر بفرض محال صدر پر ویز مشرف صحیح اعداد و شمار پیش کر رہے تھے , تو پھر وہ ڈالر زمین کھا گئے یا آسمان۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کی وجہ سے اربوں ڈالر ملے ۔ علاوہ ازیں 2005 کے زلزلے کی وجہ سے پاکستان کو 6 ارب ڈالر ملے, مگر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ سارے وسائل کد ھر گئے ۔ زلزلہ زدگان کوتو فی گھرانہ چند ہزار روپے دئے گئے۔ وطن عزیز میں تو اب بھی لوگوں حالت انتہائی نا گُفتہ ہے۔اگر لوگوں کی سماجی اقتصادی حالت اچھی ہوتی اور ڈالر نہ ہو تے تو پھر ہم کہہ سکتے تھے کہ کچھ نہ کچھ ہو گیا ہے۔ مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ نہ تو اب لوگوں کی سماجی اقتصادی حالت اچھی ہے اور نہ ڈالر ہے بلکہ ہم فقیروں اور مسکینوں کی طرح در بدر کی ٹھو کریں کھا رہے ہیں۔کوئی ہمار سُننے ولا ہمارا نہیں۔جس طرح موجودہ حکومت نے ملکی بگڑتی صورت حال کی وجہ سے پارلیمان کا ان کیمرہ اجلاس بُلایا ہے اسی طرح ملک کی بگڑتی ہوئی اقتصادی اور معاشی صورت حال پر سیر حا صل گُفتگو ہو نی چاہئے اور عوام کو بتا نا چاہئے کہ ہماری معاشی اور اقتصادی بد حالی کے ذمہ دار کون ہیں۔علاوہ ازیں صدر پر ویز مشرف کو اپنی دور حکومت کی اقتصادی اور معاشی صورت حال کو واضح کر نے کے لئے ان کیرہ بریفنگ میں شرکت کر نی چاہئے۔ان بریفنگ کے بعد جوجو بھی ملکی اقتصادی اور معاشی بر بادی کے ذمہ دار ہوں انکو قرار واقعی سزا دی جائے اور انکے اثاثے منجمد کر کے ملکی خزانے میں جمع کی جائے۔ میری ملک کے تمام سیاسی پارٹیوں سے گزارش ہے کہ وہ ملک کی اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دیں تاکہ ملک چوروں اور لُٹیروں کا پتہ لگا سکے اور اسی طرح ملک اقتصادی اور معاشی بر بادی سے نکلیں۔ ہمارے سیاسی راہنماء جس میں قاضی حسین احمد، عمران خان ، نواز شریف اور پیپلز پا رٹی کے کئی لیڈر شامل ہیں ملکی لٹیروں اور قومی خزانے لوٹنے والوں کے خلاف ایکشن نہیںلیتے تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ جتنے قصور وار لٹیرے ہیں اس سے کئی چند ہمارے یہی راہنماء ہیں جو ان سے اس لوٹی ہوئی رقم کا مطالبہ نہیں کر تے۔ آخر کب تک سفاک اور ظالم این آر او اوردوسرے کئی ناجائز قوانین کا سہارہ لیکر ملک اور قوم کو چوروں کی طرح دن دیہاڑے لو ٹتے رہیں گے۔کڑے اورسخت احتساب کا یہی مو قع ہے ۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment