
قیامت وہی نہیں ہے جس کا اکثر ذکر ہوتا رہتا ہے اور اور کئی لوگ اس کا انتظار بھی کرتے ہیں ،قیامت یہ بھی ہے جو ہر روز اس وطن کے با سیوں پر گزر جاتی ہے دنیا کے اڑھائی تین سوملکوں میں پاکستان واحد ملک ہے جس کے حکمران ، اشرافیہ اور ریاستی مشینری فطرت کے بھی اور جو دنیا بھر میں رائج قانوں ہیں کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ اپنے آپ کو کسی بھی طرح اور کہیں بھی جواب دہ ہی نہیں سمجھتی، اس کے علاوہ یہ “خدائی مخلوق” اپنے وطن میں بسنے والے کروڑوں ان انسانوں کو جنہیں خدا نے “بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے” کو انسان سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں ۔ورنہ کم از کم یہ تو ہوتا کہ اس قوم کو یہ ہی بتا دیا جاتا کہ تمہارے ساتھ جو وارداتیں ہم کر رہے ہیں وہ تمہارے فلاں گناہوں اور جرموں کی سزا ہیں ،حالیہ لوڈشیدنگ کی دہشت گردی کے بعد کی اطلاعات ہیں کہ اس وقت ملک بھر میں دو کروڑ سے زیادہ لیبر کلاس بے روزگا ر ہو چکی ہے اور باقی کے کروڑوں بھی اس میں شامل ہونے ہی والے ہیں ،فیکٹریاں ،ملیں اور کارخانوں والوں نے اپنی مشینری کے جلنے کے ڈر سے انہیں بند کر دیا ہے کیونکہ چوبیس گھنٹوں میں بارہ سے اٹھارہ گھنٹے بجلی دستیاب نہیں ہے بلکہ جس طرح بجلی فراہم کرنے کا طریقہ واپڈا کے بقراطوں نے شروع کر رکھا ہے ان حالات میں تو کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا ملک کے کاروباری اور دیگر حلقوں نے حکومت اور واپڈا سے ہاتھ باندھ کر منت کی تھی کہ اگر بجلی کا بحران واقعہ ہی” حقیقی” ہے تب بھی کوئی ایسی صورت نکالی جائے جس سے کاروبار زندگی چلتا رہے مختلف تجاویزوں میں ایک تجاویز یہ بھی سامنے آئی تھی کہ حکومت اور واپڈا قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا وقت اس طرح بھی مقرر کر سکتے ہیں کہ یہ جو روزانہ ایک گھنٹہ بجلی آتی ہے (کئی علاقوں میں وہ بھی نہیں آتی ) اور ایک گھنٹہ بند رہتی ہے اس “دانشمندانہ” طریقے سے ملک بھر کے کاروبار بند ہو چکے ہیں ،کوئی اور طریقہ اختیار کیا جاے جو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بارہ سے چودہ گھنٹے مسلسل بجلی فراہم کی جائے اور باقی وقت میں شا ٹ فال کو پورا کرنے کے لئے بجلی کو بے شک بند رکھا جائے اور تاکہ لوگوں کے کاروبار تو چلتے رہیں اور لوگوں کو بھی یہ پتہ ہو گا کہ بجلی جاری اور بند رہنے کا کوں سا وقت ہے اس طرح وہ اپنی کاروباری زندگی کا شیڈول ترتیب دے لیں گے اور یہ تجویز کوئی بری بھی نہیں ہے،قوموں ،اداروں اور حکومتوں کی بہتر کارکردگی اور صلاحیتوں کا پتہ ہی بحرانوں میں چلتا ہے ،مگر یہاں یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور اس کے انتظامی ادروں کے افراد میں بحرانوں سے نپٹنے کی نہ ہی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ عقل اور شعور ہے جس کا وقت اور حالات تقاضا کر رہے ہیں،ان حالات مین قوم اپنے “ان داتاوںاور قسمتوں پر قابض” حکمرانوں سے یہ دہائی دیتی سنائی دے رہی ہے کہ
منزل نہ دے چراغ نہ دے حوصلہ تو دے
تنکے کا ہی سہی مگر آسرا تو دے
بے شک میرے نصیب پر رکھ تو اپنا اختیار
لیکن میرے نصیب میں کیا ہے پتہ تو دے
ملک بھر میں بجلی کی قلت اور مس مینجمنٹ کی وجہ سے جو صورت حال پیدا ہو چکی ہے اسے ابھی تک معمولی ہی سمجھا جارہا ہے اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے پیارے حکمراں اور انتظامی ادارے بیس کروڑ عوام کو کیا سمجھتے ہیں ،لوگوں کے گھروں میں فاقے ناچ رہے ہیں اور اس پر ظلم کی انتہا دیکھیے حکومت لوڈ شیڈنگ کا خسارہ پورا کرنے کے لئے مری ہوئی عوام کو اور مارنے کے لئے زائد بل بھیج رہی ہے اور جب لوگ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ان پر اندھا دھند لاٹھی چارج کرنے کے ساتھ ان پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کر دےئے جاتے ہیں جبکہ حکومت خود جو دہشت گردی عوام کے ساتھ کر رہی ہے یہ کسی کھاتے میں ہی نہیں ہے اس وقت اگر دیکھا جائے تو عملاً عوام پر ہر طرف سے یلغار ہو رہی دہشت گردی کی وارداتوں اور دہشت پھیلانے والی افواہوں سے ہی عوام سنبھل نہیں پارہی کہ حکومت نے بجلی کی دہشت گردی شروع کر رکھی ہے اور یہ ایسی دہشت گردی ہے جس سے عوام کا ہی ستیاناس نہیں ہو رہا حکومت کا بھی سوا ستیا ناس ہونے والا ہے لوگوں کی اکثریت میں تاجر برادری اور دیگر کارباری حلقوں کی طرف سے یہ آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ وہ واپڈا کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہیں کریں گے اور بجلی ہی کٹوا دیں گے نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری، یہ صورت حال حکومت کے لئے الارمنگ ہونی چاہیے ،بند کمرے کے اجلاس میں اس مسلے کو بھی پہلی فرصت میں حل کرنے کی طرف توجہ دی جاے ورنہ حکمرانی ایک ڈراونا خو اب بن جائے گی ،کہا جاتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کی پالنہار ہوتی ہے اور اس کے دکھ درد دور کرنے کا ذریعہ کیا ریاست کو اپنے اس فرض کا احساس ہے؟حقوق و فرائض کی اس تقسیم میں کیا حقوق سب کے سب حاکموں کے لئے ہیں اور فرائض سب کے سب عوام کے لئے؟ کہا جا رہا تھا کہ موجودہ حکومت عوام کی حکومت ہے اور اسے یہ بھی داعویٰ ہے کہ یہ “عوام دوست ” بھی ہے کیا عوام دوستی اسی کا نام ہے کہ چند مہنیوں کے اندر اندر عوام کا برے سے بدتر حال کر دیا جائے۔

0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment