Urdu News – Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News – Online Urdu News Paper header image 2

بارود کے بیوپاری انسان نہیں درندے ‘ کالم ‘ خالد مجید

October 24th, 2008 · No Comments

ستمبر 2008 میں ایمنٹی انٹرنیشنل نے 125 صفات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ جنوری 2008 سے لے کر ستمبر2008 تک تقریباً ڈھائی لاکھ سے زیادہ انسانوں کو، انسانوں ہی نے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ امریکہ نے 2003 سے صرف عراق میں پانچ لاکھ تیس ہزار مقامی فوجیوں میں دس لاکھ سے زیادہ رائفلیں، پستول اور دوسرے ہلکے ہتھیار تقسیم کیے ہیں اور ساتھ ہی ہلکے ہتھیاروں کی ترکیب کچھ اس طرح بیان کی ہے کہ اس میں ٹی ٹی، ماؤزر، رپیٹر ، کلاشنکوف، مشین گن، مارٹر، سب مشین گن، باروددی سرنگیں، گرنیڈ اور کندھے پر رکھ کر دشمن پر داغنے والا میزائل بھی چھوٹے ہتھیاروں میں شامل ہیں۔ ایمنٹی انٹرنیشنل کا کہنا یہ بھی ہے کہ پوری دنیا میں ہر سال تقریباً دس لاکھ سرکاری ہتھیار چوری ہوجاتے ہیں، چھن جاتے ہیں یا پھر گم ہوجاتے ہیں۔ حکومتوں کے اعلیٰ منصبوں پر بیٹھے لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ چوری شدہ یا چھنے ہوئے ہتھیار کن کن لوگوں کے ہاتھوں میں کیا کیا کام سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔ آج کی لہولہان انسانیت کے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے رپورٹ یوں سچ اگلتی ہے کہ دنیا کے صرف چند ممالک میں روزانہ ’’بارہ ارب‘‘ گولیاں تیار ہوتی ہیں۔ مقام افسوس یہ ہے کہ شہروں کی سڑکوں کو انسانی خون سے غسل دینے والے، تڑپتی خون میں نہائی دم توڑتی لاشوں کی سسکیوں پر فتح کے شادیانے بجانے والے اس غیر قانونی تجارت سے سالانہ دو ارب ڈالر سے دس ارب ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں۔ دنیا کے اٹھانوے ملکوں میں 1134 کمپنیاں اسلحہ بنانے کا کام کررہی ہیں۔ ذرا دیر کو رکیے اور یادوں کے دریچوں کے در کھولیے تو یہ منظر نظر آئے گا کہ 80 کی دہائی سے قبل اسلحہ نما چیزیں صرف انگریزی فلموں میں نظر آتی تھیں جبکہ ہمارے ہاں پاکستان بھر میں بڑے شوقین گھروں میں چھوٹے موٹے شکار کے لئے چھرے والی بندوقیں ہوتی تھیں یہ بھی پورے پاکستان بھر میں کوئی چار پانچ فیصد ہی لوگ ہوں گے کہ جن کے گھروں میں کارتوس والی دو نال کی بندوق ہوا کرتی تھی۔ جن گھروں میں یہ لائسنس یافتہ دو نالی بندوقیں ہوتی تھیں انہیں بھی لوگ ذرا حیرت سے دیکھا کرتے تھے جبکہ علاقہ غیر کی روایات کے بارے حیران کن باتیں سننے میں آیا کرتیں تھی۔ اسی لیے بہت زیادہ شرارتی اور شریر بچوں کو انہی انسانوں سے اور ان کے اسلحوں سے ڈرایا جاتا تھا۔ بچے راہ میں آتے جاتے کسی پشتو بولنے والے انسان کو دیکھ لیتے تو سہم سے جاتے تھے اور انہیں نہ پکڑوانے کی یقین دہانی پر آئندہ شرارتوں سے توبہ بھی کر لیا کرتے تھے۔ ان علاقہ غیر لوگوں میں غیر قانونی اسلحہ رکھے اور اسلحہ بنانے کی باتیں بھی زبان زد عام ہوا کرتی تھیں جو حیرانی سے شروع ہو کر پریشانی پر ختم ہوتی تھیں۔

پھر 80 کی دہائی میں مسند اقتدار پر قابض ’’عقل قل‘‘ کی کچھ غلط پالیسیوں کے نتیجے میں پورے ملک میں اسلحے کا سیلاب آگیا۔ وہ خود قانون اور قانونی تقاضوں کے منافی کام کرتے تھے۔ اس لئے احترام قانون کو بالائے طاق رکھنے کا کام انہوں نے خوب پسند کیا۔ اسلحہ بھی بلا لائسنس پاکستان میں پھرنے لگا اور پھر ایسا ایسا اسلحہ دیکھا اور دکھایا گیا کہ اللہ کی پناہ! ! پھر اسلحہ پکڑنے والے معصوم ہاتھوں نے اس پکڑے اسلحے کواپنے لئے روزگار کے حصول کا ذریعہ بنا لیا۔ اپنی ضرورت کے پیسے کسی کی بھی جیب سے چھینے اور انگریزی میں ’’شکریہ‘‘ ادا کرکے رفوچکر ہوگئے پھر یہ بلیک میل ہونے والے معصوم بچوں کے ناپختہ ذہنوں کو اور چھوٹی عمر کے نابالغوں کو بہت جلد جوان کر دیا گیا۔ انہیں اسلحہ، شراب اور شباب کے ساتھ ساتھ پیسے کا ایسا نشہ دیا کہ ان چیزوں کے حصول کے لئے سب کام کر گزرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنے لگے۔ ان ننھے ہاتھوں نے پرس چھیننا شروع کیا۔ پیسے چھیننے پھر موبائل چھیننے رفتہ رفتہ یہی ننھے منے ناپختہ ہاتھ پختہ مجرم بن گئے۔

اسی دور بے دستور میں کہ جس میں آئین کی کتاب کو پھاڑنے کی بات بھی ہوئی تھی۔ کلاشنکوف، ہیروئن وارد ہوئی پھر دہشت ملک میں آئی۔ یہی دہشت پھر دہشت گردی بن گئی۔ خود جانے والے بستی لال کمال کی مٹی کو لال کے فضا سے قضا عدم ہوئے مگر سب لعنتیں ملک کو د ے گئے اور اب دہشت گردی کا عفریت پورے ملک میں دندناتا پھر رہا ہے اور کسی کے قابو میں نہیں کیونکہ جو لوگ اسلحہ بنا کر اربوں روپے اسی کاروبار سے کماتے ہیں وہ کیونکر اپنے کاروبار بند کریں ان کی دولت میں اضافہ تو ان کے بنائے اسلحے کو استعمال کرنے والے کرتے ہیں۔

کاش یہ سب نہ ہوا ہوتاکیونکہ بستیاں کوئی پل دو پل میں آباد ہوتیں اور نہ ہی قومیں ہفتوں مہینوں میں بنتی ہیں اور بستیوں کو ختم کرنے کا عمل ہو یا قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا عمل ہو۔ ان کے لئے ایک ساعت ہی کافی ہے۔ یہ سب لوگ جنون، نفرت، وحشی پن اور بے حسی کے مجسم لوگ درحقیقت عدم برداشت اور عدم تحفظ کے مرض سے بندھے ہوئے ہیں۔ وہ جنہیں پڑھنے لکھنے کے بعد کوئی ملازمت نہیں ملی، جنہیں کسی کارخانے میں مزدوری نہیں ملی پھر انہی پڑھے لکھے نوجوانوں نے جہل کا سہارا لے کر ہٹ دھرمی تعصب اور جنون کو ہی سچ جانا روپے پیسے کی ریل پیل کے لئے آگ اورخون کی ہولی کو اپنا اوڑھنا، بچھونا بنا لیا اور بارود باندھ کر انسانوں کے درمیان زندگی کو موت میں بدلنے لگے۔ زمین انسانی خون سے غسل کرنے لگی۔ آج پورے ملک کا کوئی حصہ ان کے عذاب سے محفوظ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بارود کی موت انسانوں کو بے دریغ نگل رہی ہے اور انسانی خون زمین سیراب کررہا ہے۔ جس میں بارود بونے والے وحشیوں سے کوئی جگہ محفوظ نہیں۔

ریاست اورریاستی ادارے ان چند درجن یا چند سو درندوں کے سامنے بے بس ہیں۔ ان کی بے بسی ہی کی وجہ سے ہزاروں گھروں میں اندھیرے مسلط ہیں۔ بچے یتیم ہیں، سہاگنیں بیوہ ہیں، ماؤں کے بیٹے، بہنوں کے بھائی اپنے دلوں میں سب ارمان دفن کرکے زمین اوڑھ کر چپ کی چادر تانے سو گئے ہیں لیکن بے شمار ہیں جن کو نہ چپ کی نیند مل ہے نہ زمین کی چادر جسم پر تان سکنے کی مہلت!! وہ تو بارود کے ساتھ ہی ہوا کا رزق ہوگئے ہیں۔

کاش تعصب و جہالت، لسانی و علاقائی برتری جیسے بدبودار نظریات کو فروغ دینے والے درندے معصوم انسانوں کو یوں بارود کا رزق نہ بنائیں۔ میں کتنی ہی دیر سے میریٹ ہوٹل کے سامنے گڑھے کے سامنے کھڑا ان بارود فروشوں اور ان کے آلہ کاروں کے بارے میں سوچتا رہا کہ چند سو خاص لوگوں نے تو ’’فصیل پناہ‘‘ کے اندر زندگی گزارنے کا فارمولہ دے دیا ہے تو پھر سولہ کروڑ ’’عام لوگ‘‘ کب تک وحشی درندوں کے ہاتھوں یرغمالی بنے زندگی گزاریں گے؟ ان کے گرد تو کوئی فصیل نہیں۔ انہیں تو ہردم خوف کے حصار نے دبوچ رکھا ہے جو ان کی آنکھوں اور چہرے میں چسپاں ہے۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو