Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 2

دہشت گردی کے وائرس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے ؟ کالم‘ ضمیر آفاقی

October 5th, 2008 · No Comments

zameer afaqi

اس بات کی سچائی میں اب کوئی گنجائش نہیں رہ گئی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب کسی اور کی جنگ ہے بلکہ یہ اب سوفیصد ہماری جنگ بن چکی ہے جو لوگ اس طرح کا شور مچا رہے ہیں کہ یہ ہماری نہیں امریکہ کہ جنگ ہے انہیں ملک میں ہونے والے مسلسل خود کش حملوں اور ان کے نتیجے میںہونے والی ہلاکتوں کے بعد ہی اپنے “فہم اور تدبر”سے لوگوں کی راہنمائی سے باز آجانا چاہیے کہیں سے کوئی چنگاری آکر ہمارے گھر کو آگ لگا دے تو اس وقت ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ آگ ہماری نہیں ہے اگر ہم اس چکر میں پڑئے رہے اور بحثوں میں الجھتے رہے تو ہمارا گھر جل چکا ہو گا اس لئے ہمارے گھر کو لگی آگ ہماری ہی ہوئی اور اسے ہم نے ہی بھجانا ہے،القائدہ نامی وائرس کہیں سے بھی آیا ہے یہ دیکھنے کا اب وقت نہیں ہے بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ اس کی کوکھ سے طالبان کی شکل میں کتنے اور وائرس جنم لے چکے ہیں اور یہ بیماری کس قدر پھیل چکی ہے،کیا ہمارے پاس اس کا کوئی علاج ہے ؟ جبکہ میریٹ ہوٹل بم دھماکے کے بعد یہ سوال اور بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ پاکستان اس جنگ کے خلاف اکیلا نہیں لڑسکتا اس لئے پاکستان کو بیرونی اور اندرونی امداد کی ضرورت ہے کیونکہ طالبان ہمارے گھروں میں گھس کر ہمارے معصوم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور قاتلوں سے مذاکرات نہیں کئے جاتے، مذاکرات تو بالغ اور عقل و فکر والے لوگوں سے کئے جاتے ہیں جبکہ طالبان اور القائدہ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی دلیل اور اسلام کے کسی اصول کو نہیں مانتے وہ تو صرف بے گناہوں کا خون بہانا جانتے ہیں جس کے لئے وہ آزاد ہیں یہ اس ملک کو کھنڈر بنا دینا چاہتے ہیں یہ سوچنا اب ہما راکام ہے کہ ملک کو کھنڈر بننے دینا چاہیے یا بیس کروڑ لوگوں کے لئے امن و سکوں کا مسکن؟ اسفند یار ولی خان کی ہمت اور حوصلے کو داد دینی چاہیے کے انہوں نے یقینی موت کا سا منا کرنے کے با و جود چارسدہ میں اپنی رہائش گاہ پر خود کش حملے کے بعد واضح کیا ہے کہ ان کی پارٹی اپنی حالیہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف آخری دم تک لڑیگی۔یہ بات انہوں نے ولی باغ پر ہونے والے حملے کے تھوڑی دیر بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔اے این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ’میں میڈیا کی وساطت سے ان لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے حملوں سے انہیں اپنی راہ سے نہیں ہٹایا جاسکتا اور چاہے ان کی جان چلی جائے مگر جہاں پر بھی دہشتگردی اور انتہا پسندی ہو گی اے این پی آخری دم تک اس کے خلاف لڑے گی۔ان کے مطابق’ پشتوں سر زمین ہمارے لیے ماں کی مترادف ہے جس کی حفاظت کے لیے ہم آخری وقت تک خون بہانے کے لیے تیار ہیں۔‘ ان کے بقول عوامی نینشل پارٹی اپنی حالیہ پالیسی برقرار رکھے گی اور اپنی دھرتی کو مبینہ دہشتگردوں کے حوالے نہیں کرے گی۔القائدہ یا طابان کسی فرد ہوٹل یا ادرے پر نہیں بلکہ پورے پاکستان پر حملہ آور ہو چکے ہیں ان کے اس نام نہاد جہاد کا نتیجہ پاکستان کو تباہی کی شکل میں دیکھنا پڑ رہا ہے ان کی حمایت کرنے والوں کو ملکی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ان سے لا تعلقی کا نہ صر ف اظہار کرنا چاہیے بلکہ ان کی ہر سطح پر مذمت کرنی چاہیے ورنہ یہ سانپ اپنے دودح پلانے والوں کو بھی نہیں بخشے گا ،سوات اور قبائلی علاقوں کے لوگ اس کی واضح مثال ہیں جنہوں نے انہیں پناہ دی ان کی مدد کی اور آج وہ در بدر ہو چکے ہیں اور ان علاقوں میں اب ویرانی ،بھوک اور دہشت کا راج ہے ،پاکستان کی سیاحت کی صنعت تباہ ہو چکی ہے دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی تعدادنہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ۔ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے خودکش حملے سے سیاحت کی صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے جہاں عوام میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے وہیں غیر ملکی سیاح بھی پاکستان کا رخ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ لال مسجد کے واقعے کے بعد غیر ملکی سیاحوں نے پاکستان آنا بہت کم کر دیا تھا جبکہ اس سال صورتحال کچھ بہتر ہونا شروع ہی ہوئی تھی کہ میریئٹ ہوٹل پر خودکش حملہ ہو گیا۔

اس سے پہلے کبھی سیاحوں پر براہ راست حملہ نہیں ہوا تھا۔’اب چونکہ سیاحوں کے ٹھہرنے کی سب سے محفوظ جگہ کو نشانہ بنایا گیا ہے اس لیے کوئی شک نہیں ہے کہ میریئٹ خودکش حملہ پاکستان کی سیاحت کی صنعت کے لیے نائن الیون ثابت ہوا ہے جس کے اثرات لمبے عرصے تک غیر ملکی سیاحوں کے ذہنوں میں رہیں گے‘۔ یہاں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ ہمارا میڈیا پ بھی کوئی بہت زیادہ مثبت رول ادا نہیں کر رہا قبائلی علاقوں اور شمالی علاقوں میں کوئی تمیز نہیں کرتا ۔ جس کی وجہ سے بیرون ملک اور اندرون ملک شمالی علاقوں کو بھی شورش زدہ تصور کیا جاتا ہے۔ سیاحت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ اگر حکومت ملک میں سیاحت کی صنعت کو بچانا چاہتی ہے تو شمالی علاقوں کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ملانے والے کارگل لداخ روٹ کو سیاحت کے لیے کھولا جائے۔ ایسا ہونے سے سرحد پار سالانہ آنے والے ہزاروں غیر ملکی سیاح مختصر فاصلہ ہونے کی وجہ سے لداخ سے شمالی علاقوں کا رخ کریں گے۔ سیاحت کی صعنت کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر سے ایک ارب سیاح مختلف ملکوں کا رخ کرتے ہیں جبکہ ایک سروے کے مطابق ان کی تعداد میں آئندہ دس سال میں پچاس کروڑ کا مزید اضافہ متوقع ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی سیاحوں کے لیے سہولتوں کا فقدان تھا لیکن دہشت گردی کے واقعات کے بعد حکومت کو سنجیدگی سے سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کرنے ہونگے ورنہ سیاحت کی صنعت ختم ہو جائے گی۔پاکستان کی عوام کو اس بات کی ادراک ہو جانا چاہیے کہ طالبان نامی وائرس سے بچے بغیر ہم امحفوظ نہیں رہ سکیں گے اس لئے اس کے تدارک کے لئے ہمیں متحد ہوکر ہی کچھ کرنا پڑئے گا دوسری جانب قبائلی علاقوں کے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ انہیں کسی بھی صورت پناہ اور کوئی سہولت نہ دیں کیو نکہ اس کا نتیجہ وہ اور ان کی اولا دیں تک بھگت رہی ہیں

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو