Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 2

پاکستان میں تشدد کی تازہ لہر ، امت مسلمہ کا نقصان ‘ کالم ‘ ضمیرآفاقی

October 5th, 2008 · No Comments

zameer afaqi

پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے پورئی دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے ، جب سے میرٹ ہوٹل میں بم بلاسٹ ہوا ہے اور اس کی تباہی نے دنیا کو اور زیادہ فکر مند کر دیا ہے،اس کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو القائدہ کی ان دہشت گردانہ حرکتوں سے پورا پاکستان اپنی اقتصادی اور معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے منجمند نظر آتا ہے میرٹ دھماکے کا سارے کا سارہ فائدہ القائدہ اٹھاتی نظر آتی ہے اس کی ان حرکتوں کے بعد تو یہ بات اور واضح ہونا شروع ہو گئی ہے کہ یہ لوگ پاکستان کو پتھر کے زمانہ میں دھکیلنا چاہتے ہیں یہ اسلام کا چہرہ بھی مسخ کر رہے ہیں اور اپنے نقطہ نظر کا جس طرح اظہار کر رہے ہیں اس سے اسلامی تعلیمات کا منفعی پیغام دنیا کو جا رہا ہے اور دنیا اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کرتی نظر آتی ہے بہر حال پاکستانیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ القائدہ ہو یا نام نہاد طالبان یہ شیطان کے چیلے چانٹے ہیں جنہوں نے ایک نئے فتنے کی بنیاد رکھی ہے جو امت مسلمہ کو ہی نقصان پہنچا رہا ہے،جہاد اور خلافت کا نام لے کر یہ لوگ معصوم لوگوں کو ورغلانے کے عظیم گناہ میں مشغول ہیںیہ لوگ نہ ہی معصوم بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں پر رحم کھاتے ہیں اور نہ ہی املاک اور سر سبز علاقوں کو بخشتے ہیں بلکہ ہسپتالوں ،مسجدوں،سکولوں اور گھروں تک کو تباہ و برباد کر رہے ہیں جواللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامات کے سرا سر منافی عمل ہے ان کی ان حرکتوں کے بعد کیا یہ گنجائش رہتی ہے کہ ان کی امداد خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو کی جائے؟ ہمیں دنیا میں تنہا کرنے ، ہماری معشیت برباد کرنے اور پاکستان کو دنیا بھر میں دہشت گرد ملک ثابت کرنے کی مہم جو انہوں نے شروع کر رکی ہے اس کے نتیجے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ،یہاں سے غیر ملکی کوچ کر رہے ہیں اپنا سرمایہ یہاں سے نکال رہے ہیں اور اب اقوام متحدہ جیسے ادارے نے انتباہ کرتے ہوئے پاکستان میں کام کرنے والے اپنے ڈیڑھ سو غیر پاکستانی کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ دہشتگردی کی تازہ لہر کے سبب احتیاطاً اپنے اہلِ خانہ کو ملک سے باہر منتقل کر دیںاقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی ترجمان مشل مونتاس نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ ادارہ تمام رکن ممالک میں سلامتی کی صورتحال کا حسب معمول جائزہ لیتا رہتا ہے اور پاکستان میں تشدد کی تازہ لہر کے سبب وہاں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں سمیت اپنے اہل خانہ کو پاکستان سے عارضی طور باہر منتقل کر لیں۔ ترجمان مشل نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں حالیہ تشدد کی لہر کی وجہ سے اقوام متحدہ نے اپنے سلامتی کے جائزے میں سکیورٹی الرٹ کی سطح بڑھا لی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ترجمان نے اسلام آباد کے علاوہ ملک کے مخصوص علاقوں میں اقوام متحدہ میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کو احتیاطی لیکن عارضی طور پر اپنے بچوں سمیت اپنے خاندان کو پاکستان سے باہر منتقل کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ڈیڑھ سو کارکن پاکستان میں بچوں کے لیے پولیو کی مہم، امیونائزیشن اور خوراک کی ترسیل تک کے شعبوں سے منسلک ہیں۔ پاکستان سے اقوام متحدہ کے ڈیڑہ سو کارکنوں کے خاندانوں کے باہر منتقل ہوجانے کی وجہ سے پاکستان میں یو این کے صحت ، خوراک اور دیگر شعبوں میں کام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دنیا اب یہ کہنا شروع ہو گئی ہے کہ ہشت گردی کا اصل سرچشمہ عراق نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد ہے اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے امریکی سرزمین کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،دوسری جانب امریکہ کی دونوں جماعتوں ریپبلکن اور ڈیمو کریٹ کے نائیب صدارتی امیدواروں نے بھی مندرجہ بالا خیالات کا اظہار کیاہے یہ صورت حال جہاں عام پاکستانیوں کے لئے تشویش ناک ہے وہاں یہ بیروں ممالک پاکستانیوں کے لئے بھی فکر مندی لئے ہوے ہے بیروں ملک مقیم اکثر قارئین یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں جہاد یا خلافت کے نام پر جو کچھ کیا جا رہا ہے اس نے ہماری زندگیوں کو بھی مشکلات میں ڈال دیا ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ سب مل کر اس فتنے کا تدارک کریں اور اسلام کی اصل تعلیمات جو قرآن ہمیں بتاتا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے جو کسی کی ناحق جان لینے کو گناہ عظیم سمجھتا ہے اور جس کی مثالیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے کر کے دکھائی ہیں کو دنیا کے سامنے لایا جائے اس وقت ضرورت بھی اس بات کی ہے کہ اسلام کی اصل تعلیمات کو پھیلایا جائے جس کے لئے روائتی ملا کا سہارا نہ لیا جائے بلکہ ان سکالر کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جو اسلام کو اس کی روح کے مطابق سمجھتے ہیں ۔

یہ ہماری ذمہ داری ہے جیسے ہم سب کو نبھانا ہے ورنہ القائدہ اور طالبان کی شکل میں جو عذاب ہمارے معاشرے پر نازل ہو چکا ہے اس سے نجات نہیں ملے گی ہمارے فاٹا اور سرحد کے علاقے ان کے زیر کنٹرول آچکے ہیں جہاں وہ اپنی من مرضی کی تعبیرات لوگوں پر مسلط کر رہے ہیں اور یہ لوگ اب دوسرے شہروں کی طرف بھی بڑھنا شروع ہو گئے ہیں بم بلاسٹ اور خود کش دھماکوں کے ذریعے ان لوگوں نے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے اس سے نجات بہت ضروری ہے اور اس کے لئے قوم کو متحد ہونا پڑئے گا کیونکہ ان دھماکوں کا فائدہ انہیںاس صورت بھی پہنچ رہا ہے کہ پورا معاشرہ ان کے خوف کا شکار نظر آتا ہے اور خوف بذات خود ایک بیماری ہے جس کا علاج خوف سے نجات میں ہی منحصر ہے،ہمارے یہاں ایک المیہ یہ بھی چل رہا ہے کہ ایک مخصوص طرز فکر کے لوگ خود کش حملوں کا جواز فراہم کرتے نظر آتے ہیں جن کا یہ استدلال ہے کہ امریکہ بے گناہ لوگوں کو مار رہا اور اس لئے امریکہ کو سبق سکھانے کا یہ ہی طریقہ احسن ہے اس استدلال کی پزیرائی کسی طور نہیں کی جا سکتی کہ خود کش حملوں کا شکار عام اور معصوم پاکستانی اور مسلمان ہی ہو رہے ہیں اور صرف وطن عزیز کا ہی نقصان ہو رہا ہے ،مجھے دھمکی آمیز ای میل اور فون موصول ہوتے ہیں جس میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے اسے کم سے کم لفظوں میں بھی شریفانہ نہیں کہا جا سکتا اور جب اس میل کے جواب میں ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ بات دلیل سے کی جائے جس کا ہمیں قرآن حکم اور ہدایت دیتا ہے تو اکثر اوقات خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے ۔میرا یہ کہنا ہے کہ ردعمل کا اظہار سب کا حق ہے مگر ردعمل میں شائشتگی کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے اسلام پر کسی کی اجارہ داری نہےئں ہے بلکہ اسلام تو اجارہ داریوں کو توڑنے اور انہیں ختم کرنے کے لئے آیا ہے جبکہ ہمارے بھائی بند اسلام کی اصل تعلیمات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے اس میں قصور اسلامی تعلیمات کا نہیں ہماری ہٹ دھرمی کا ہے اور اسلام کو نقصان بھی ہم لوگ یعنی مسلمان ہی پہنچا رہے ہیں کیا اس بات پر بھی غور کرنے کے لئے کوئی تیار ہے؟

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو