Urdu News - Online Urdu News Paper

Latest Articles,Columns,Features,Interviews and Analysis

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 2

مشرق و مغرب ‘ کالم ‘ عباس ملک

October 5th, 2008 · No Comments

امریکہ میں جوں جوں انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے ویسے ہی ان کے آئیندہ لیڈر شپ کا اصل چہرہ بھی واضح ہوتا جارہاہے ۔پاکستان جو کہ اس وقت خارجہ و داخلہ مسائل میں گھرا ہو ا ہے اس کا بنیادی سبب ہماری لیڈر شپ کا خارجہ امور کو داخلہ امور پر ترجیح دینا ہے ۔پاکستانی لیڈر شپ ہمیشہ سے ملک کے داخلہ معاملات کو خارجہ معاملات کے تابع بناتی آئی ہے ۔یہ سکم ہر دو امور کے درمیان انکی اصل حیثیت کو پوری طرح نہ سمجھنے اور ان پر پوری مہارت اور گرفت نہ ہونے کے سبب ہے ۔خارجہ امور میں اگر گرفت مضبوط رکھی جانے کی خواہش کو پرکھ کر دیکھا جائے تو داخلہ امور کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ۔داخلی طور پر کمزور ملک کسی طرح بھی خارجی معاملات میں ایک سرو قد حیثت حاصل نہیں کرسکتا۔داخلہ امور میں خود مختاری اور خود کفالت کا حامل ملک بنکاک اور تائیوان ہو کر بھی سپر پاورز کیلئے ایک چیلنج بن جاتا ہے ۔دوسری طرف داخلہ امور میں خارجہ امور کو اولیت دینے کے جرم میں عراق اور افغانستان جیسے ملک مختلف ممالک کی ترجیحات مفادات کی تکمیل کا راستہ اور میدان جنگ قرار پاتے ہیں ۔ہمارے راہنما ہمیشہ یہی سوچتے اور عمل کرتے چلے آئے ہیں کہ اگر انہوں نے غیر ملکی مفادات کے اگے مزاحم ہونے کی کوشش کی تو ان کا انجام عبرت ناک بنادیاجائے گا۔بلاشبہ غیر ملکی استبداد کے اگے روکاٹ ڈالنے کے جرم میں شاہ فیصل شہید صدام بھٹو کو اپنی جان کی قربانی دینا پڑی ۔دیکھنا یہ ہے کہ انہی کے ہم عصر قذافی اور فیڈرل کاسترو کیونکر ابھی انجام سے دوچار نہیں ہوسکے ۔وینزویلا کے ہیوگو شاویز آخر کس طرح امریکہ کی بالادستی سے انکار کے باوجود ملک کو چلانے میں مصروف ہیں۔وجہ صرف یہی ہے کہ بھٹو اور فیصل کے پیشرو ان کی سوچ کو اگے بڑھانے اور ان جیسا حوصلہ دکھانے میں ناکام رہے ۔آج امت مسلمہ جن حالات سے گذر رہی ہے اس کے اگے بند بندھنے کی کوشش میں ان عظیم راہنماؤں نے جان کی قربانی پیش کی ۔آنے والے ان کے جانشین اپنی جان کو ملک اور ملت سے مقدم جان کر اس مشن سے دستبردار ہوگئے ۔ان کی جان بھی خارجہ امور نے لے لی اور ملک اور ملت بھی تنہارہ گئے ۔یہ ایک سیدھی سادھی حقیقت ہے کہ وزن اٹھانے کیلئے طاقت کے ساتھ تکنیک بھی ضروری ہے ۔اپنے سے بھاری بوجھ کو صرف طاقت سے نہیں تکنیک سے اٹھانا ممکن ہوتاہے ۔داخلی امور کسی بھی ملک کیلئے اس کی طاقت و توانائی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جبکہ خارجہ امور کو تکنیک سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔تکنیکی اعتبار سے مہارت اس وقت حاصل کی جاسکتی ہے جب اس پر کنڑول اور مہارت کیلئے پوری توجہ جوش اور جذبے سے کام کیا جائے ۔ہمارے راہنماجب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو وہ اقتدار و اختیار کی تقسیم کو ملکی ملی قومی نکتہ نگاہ سے دیکھنے کی بجائے شخصی مفادات کی تکمیل کا موقع جان کر بندر بانٹ میں بدل ڈالتے ہیں۔اس بندر بانٹ میںانکا پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن اصل مستحق عوام اسی طرح بھوکی اور ننگی رہ جاتی ہے ۔یہ حقیقت تسلیم کرنے میںکوئی عار نہیں کہ ایک بھوکی اور ننگی قوم کو روٹی اور پہننے کیلئے کسی بھی اخلاقی اقدار کی تعلیم دینا ممکن نہیں۔اخلاقیات کی تویج وہیں ممکن ہے جہاں زندگی کی بنیادی ضروریات کی ترسیل ممکن ہے ۔ہر معاشرے کی تہذیب و تمدن میں موسمیاتی نوعیت سے فرق ہوتا ہے ۔معاشرے میں بنیادی اقدار جو کہ اخلاقیات پر مبنی ہیں کا دارومدار بھی اسی کے تابع ہے ۔اخلاقی اقدار ہر معاشرے میںایک ہی ہے ۔حق و کذب کے درمیان فرق بالکل اسی طرح واضح ہے جیسے روشنی اور تاریکی میں ہے ۔کوئی بھی معاشرہ ان کو اچھائی کے پرتو بنا کر ان سے مطلوبہ مقاصد حاصل کر سکتاہے ۔جھوٹ کی پیروی معاشرے میں انتشار اور سچ کی تقلید امن و سکون کی پیامبر ہوگی ۔مغربی معاشروں میں راہنماانہی خطوط اوراصولوں کے زیر اثر اپنی حکمت عملی طے کرتے اور اپنے معاشروں کیلئے توانائی اور طاقت کا حصول ممکن بناتے ہیں۔اسی ایک واضح مثال امریکی مالیاتی بحران ہے ۔خارجہ امور کو اولیت دیکرداخلی امور کو ثانوی حیثت دینے کی نتیجے میں امریکی معیشت پر بوجھ پڑا ۔دہشت گردی کے خلاف دہشت گردی کے اصول کو اپنانے کے نتیجے میں جنگی مصارف نے امریکی معیشت کی کمر دھری کر دی ۔حکومت نے اس بوجھ کو سہارا دینے کیلئے فوری ردعمل ظاہر کیا اور چند روز کے اندر ان اداروں کیلئے مالیاتی پیکج امداد کی صورت میںتیار کر کے داخلی انتشار کو روکنے کا فوری بندوبست کیا ۔یورپ اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے ۔ان کے معاشی ماہرین اس کا سامنا کرنے کیلئے پوری طرح تیارہیں ۔اصل چیز جو سامنے آتی ہے کہ ان راہنماؤں کو اپنے ملک وملت سے محبت ہے ۔وہ اپنی ذات میں مگن رہنے کی بجائے ملک و قوم کیلئے سوچتے ہیں۔جابان کے وزیر اعظم خوزمی نے سیاست سے دستبرداری کااعلان کردیا کیونکہ انہوں نے محسوس کیا کہ وہ اور انکے ہمراہی ملک وقوم کیلئے راہنمائی فراہم کرنے میں ناکام رہے۔یہاں صورتحال یہ ہے کہ ملکی سرحدوں کے اندر غیر ملکی افواج دندناتی پھر رہی ہیں اور حکومت سوائے بیان بازی کے کچھ کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ملک کو وار زون قرار دے دیاگیا لیکن ہمارے ہاں اس کے سد باب کیلئے حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا جاسکا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ لڑ رہا ہے لیکن اس کیلئے قربانیاں پاکستان دیکر بھی معتوب ٹھہرا ۔امریکہ اور یورپ کو جب بھی خطرہ محسوس ہوا تو وہ یک جان دو قالب ہوگئے لیکن امت مسلمہ کو انہوں نے متفرق بلاکس میں تقسیم کر کے منظم ہونے سے روک رکھا ہے ۔امریکہ اورروس کے درمیان سرد جنگ جاری رہی کل روس ایک معذور جسم تھا لیکن اس کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دینے کیلئے سب سے پہلے ہاتھ امریکہ ہی نے بڑھایا ۔اسرائیل جو کہ ا یک غاضبانہ قبضہ کا نا م ہے کو دوا م بخشنے کیلئے امریکہ اور پورا یورپ ساری دنیا کے مسلمانوں کو مقہور ٹھہرائے ہوئے ہیں۔مشرق وسطی امریکہ کو تیل مہیا کر کے اس کے طیاروں اوراسکی اکانومی کو افغانستان اور عراق کے ساتھ پاکستان میں تباہی کیلئے توانائی مہیا کر رہا ہے۔اسی توانائی کے باعث پاکستان اور ایران کو دہمکیاں دی جارہی ہیں ۔ہمارے مسلمان راہنما کبھی یہ نہیں سوچتے کہ وہ امریکہ کے طفیلی کا کردار ادا کر کے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کیلئے تباھی اوربربادی کا سامماں کیوں بن رہے ہیں ۔ِملک میں خارجی اور داخلی امور کے درمیان توازن قائم کرنے میں تب ہی کامیابی ہو سکتی ہے کہ جب ان امور کو اہل افراد کے حوا لے کیا جائے ۔جہاں جیل میں کھانا پہنچانے کا انعام سفارت اور مقدمات میں پیش ہونے پر وزارت سبب ہوگی وہاں پر ملک و قوم کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے ۔ٹین پر سنٹ اگر ایک سو دس پرسنٹ بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے گی تو عوام کیلئے کیا بچے گا۔مشرق تو حیا او روفا کا نا م ہے آپ نے اسے کیا بنا دیا ۔ملکی اور ملی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے خارجہ اور داخلہ امور پر غیر ملکی گرفت کو کمزور بنانے کیلئے داخلہ امور کو اولیت دی جائے ۔ملک میں اقتصادی معاشی و مالیاتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کیلے انصاف اور قانون کی بالا دستی کو یقینی بنایا جائے ۔ہماری افواج کو عالمی سطح پر ایک افتخار حاصل ہے اگر پچھلے ساٹھ سال ان کی تربیت کیلئے غیر ملکی فوجی ماہرین کی ضرورت محسوس نہیںہوئی تو آج کیونکر ایسا ہے ۔قبائلی علاقوں میں غیر ملکی فوجی ماہرین کی آمد غلط سمت کی طرف پیش قدمی ہے۔ایف سی کے اہل کا روں کو تربیت دینے کیلئے ہمارے اپنے فوجی ماہرین کافی ہیں۔غیر ملکی ماہرین کی آمد امریکی مداخلت بڑھ جانے اور امریکی اڈو ںکے قیام کے ساتھ ان کیلئے پلیٹ فارم مہیا ہونے کا تاثر اور خدشات ظاہر کرتی ہے ۔داخلہ امور میں غیر ملکی ڈکٹیشن اور انکے اپنے مفادات کی تکمیل کا سبب تو ہو سکتی ہے لیکن پاکستان اور پاکستانیوں کے دفاع میں ہر گز ممد د نہیںہو سکتی ۔ ان راہنماؤں اور خود میںتقابل کر کے خدا را دیکھیں کہ کس طرح اپنے قوم و ملک کیلئے ہمارے خلاف صف آرا ہیں ۔ہمارے قائدین ان کے اگے مؤدب ہاتھ باندھنے پر کیوں مجبور کر اور ہو رہے ہیں۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو